"اگر جیل میں عمران خان کی جان کو نقصان پہنچا، تو اس کا سیدھا حساب ریاست کے ان تین طاقتور ستونوں سے لیا جائے گا!"
تحریکِ انصاف کے رہنما سہیل آفریدی نے ملک کی موجودہ سیاسی اور عدالتی صورتحال پر انتہائی دوٹوک اور سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے عمران خان کی حفاظت کی تمام تر ذمہ داری براہِ راست ملک کے ٹاپ ٹئیر (Top Tier) عہدیداروں پر عائد کر دی ہے۔
سہیل آفریدی کے مطابق، اس وقت چیئرمین پی ٹی آئی کی زندگی کو لاحق خطرات سے چشم پوشی نہیں کی جا سکتی، اور اگر خدانخواستہ کوئی انہونی ہوئی تو اس کے ذمہ دار درج ذیل تین افراد ہوں گے:
آرمی چیف: ملک کے عسکری سربراہ، جن کے پاس اندرونی و بیرونی سلامتی کے امور میں فیصلہ کن کردار ہے۔
وزیرِ اعظم: ملک کے چیف ایگزیکٹو، جو انتظامی امور اور قانون کے نفاذ کے حتمی ذمہ دار ہیں۔
چیف جسٹس آف پاکستان: ملک کے منصفِ اعظمیٰ، جن سے عدل و انصاف کی فراہمی اور آئین کی بالادستی کی توقع کی جاتی ہے۔
ہم نے 3 سال ہوگئے عدالتیں دیکھ لی ہیں ان عدالتوں میں سب بکاو لوگ بیٹھے ہیں
اب فیصلہ سڑکوں پر عوام کی عدالتوں پر ہوگا آپ تیار ہو نہ اب میں آگئی ہوں
علیمہ خان