کوئٹہ : مقتدرہ کو سمجھنا ہوگا کہ عوام مزید جبر تشدد جبری گمشدگیوں کو برداشت نہیں کریں گے
ایسا نہیں ہوسکتا آپ لوگوں کو جبری لاپتہ کرو انسانی حقوق کی پامالیاں کرتے جاؤ زیر حراست بلوچ نوجوانوں کی لاشیں پھینکتے جاؤ اپنے ہی ملک کے آئین اور قانون کو بوٹوں تلے روندتے جاؤ ڈیتھ اسکواڈ کے خاتمے کے بجائے انھیں اسمبلیوں میں ہمارے نمائندہ بتا کر ہم پر مسلط کرو ۔۔
گزشتہ 75 سالوں کے مظالم نے بلوچوں کو اس نہج پر پہنچایا ہے کہ اب تمہاری بربریت ظلم اور جبر اور مزید لاشیں اٹھانے سے ہم انکار کرتے ہیں
اب ہماری زندگیوں کا فیصلہ تم نہیں ہم خود کریں گے
مزاحمت ہی زندگی ہے مزاحمت ہی بقا ہے مزاحمت ہی شعور ہے
#MarchAgainstBalochGenocide
لوگوں کی بے انہتا محبت کو دیکھ کر کبھی کبھی آنکھیں بھر اتی ہیں جس طرح سے بلوچستان سے لے کر دنیا میں جہاں جہاں بلوچ آباد ہیں انکی جانب سے محبت کے پیغامات مل رہے ہیں انکے تہہ دل سے مشکور ہیں اور یہ محبتیں ہمارے کندھوں پر مزید زمہ دار یاں ہیں اور ہمارا یہ خود سے وعدہ ہے کہ انکی اس جدوجہد کے ساتھ وابستگی کو رائیگاں جانے نہیں دیں گے
اور اپنے وطن کو امن و محبت کا گہوارہ اور انسانوں کے لیے بسنے جیسی بستی بنائیں گے
اور انسانی حقوق کی پامالیوں کے خلاف ریاستی تشدد و جبر خلاف بولتے رہیں گے
اور ایک ایسے سماج کی تشکیل کریں گے جہاں ماؤں کی آنکھیں اپنے بچوں کی جبری گمشدگیوں کی وجہ سے نم نہ ہوں کسی حیات بلوچ کے ہاتھ پاؤں اسکے ماں کے سامنے اسی کے دوپٹے سے باندھ کر گولیاں نہ برسائی جائیں
کسی بالاچ کی بہن کو اپنے بھائی کی زیر حراست قتل پر قسطوں میں سسک سسک کر روز مرنا نہ پڑئے
#MarchAgainstBalochGenocide
آج اپنے سرزمین میں اپنے عوام کے درمیان ملنے والے محبت اور احترام اسلام آباد کی جبر سے ہزار گنا زیادہ طاقتور ہے۔
ہم اسلام آباد میں جس ظلم اور جبر کا سامنا کررہے تھے اس کے پیچھے ہماری حوصلہ ہماری عوامی طاقت، جذبہ اور محبت تھے۔ آج ہمارے عوام نے ثابت کیا کہ یہ خالص عوامی تحریک ہے، اس تحریک کے مطالبات عوامی ہے، اس تحریک کی قوت عوام ہے اور اس کو جبر سے شکست دینا ریاست کی خام خیالی ہے۔
اس جذبہ، شعور اور طاقت سے اپنے سرزمین سے اس جبر کے نظام کے آخری نشانی کو بھی صفحہ ہستی سے مٹائے گے۔
شکریہ میرے ہم وطنوں
شکریہ میرے باشعور عوام
#MarchAgainstBalochGenocide
#StopBalochGenocide
میری پیاری بلوچ راج!
ہم شکست خوردہ نہیں بلکہ بلوچ عوام کا مقدمہ جیت کر آرہے ہیں، ہم مزید حوصلہ، ہمت اور طاقت کے ساتھ اپنی سرزمین بلوچستان واپس آرہے ہیں۔ ہم بلوچ نسل لشی کے خلاف اب اس تحریک کو مزید حوصلہ، ہمت اور طاقت کے ساتھ گھر گھر پہنچائے گے، اپنے لوگوں کے آواز بنے گے، اپنے عوام کے ساتھ کھڑے ہونگے، اپنے ماؤں، بہنوں، بزرگوں اور نوجوانوں کو ساتھ لیکر چلے گے اور اپنی عوام کی قوت سے اس جبر کا مقابلہ کریں گے۔
ہمارے تحریک کے پانچویں فیز کا آغاز کوئٹہ میں 27 جنوری کو ایک عوامی جلسے سے ہوگا۔ میں بلوچستان بھر کے عوام سے درخواست کرتی ہوں، وہ 27 جنوری کو بلوچستان بھر سے اپنے آپ کو کوئٹہ پہنچائے اور اس تحریک کا حصہ بن جائے۔
یہ میرا ایمان ہے جیت بلوچ عوام کی ہوگی!
#MarchAgainstBalochGenocide
اس لانگ مارچ میں گزارے دن میرے پورے سیاسی سفر کے بہترین دن تھے جو میں نے پورے بلوچستان کے سب سے بہادر خواتین اور بلوچ فرزندان کے ساتھ گزارے۔
ہمارا ایمان ہے کہ ہم ضرور ایک دن اپنے سرزمین میں امن کو بحال کریں گے ، جہاں بکھرے خاندان نہیں ہو، جہاں ماؤں کے پیارے غائب نہیں کیے جائے، جہاں بچوں جبری طور پر یتیم نہیں کیے جائے، جہاں بہنوں کے بھائی زندانوں میں قید نہیں کیے جائے، جہاں نوجوان سکون سے اپنے خاندان کے زندگی گزارے، جہاں لوگ جلا وطن نہیں ہو، جہاں امن ہو، خوشحالی ہو، سکون ہو۔
#MarchAgainstBalochGenocide
#StopBalochGenocide
In the third phase of the movement against the Baloch Genocide, thousands of people from every region of Balochistan are taking to the streets.
Here are glimpses of today's mass demonstrations in Kharan and Nushki.
Thousands are joining this movement, and this mass movement has only one demand: “End Baloch Genocide Now.”
The state still has the opportunity to halt the Baloch genocide. If this public power surpasses control in the future, the state may find itself with limited options.
#IStandWithBalochLongMarch
#MarchAgainstBalochGenocide
بلوچوں کو اپنی جبر سے دبانے والوں آنکھیں کھول کر دیکھ لیں اس وقت پورا بلوچستان اپنے گھروں سے نکل کر سراپا احتجاج ہے۔آپ اس عوامی مزاحمت کو ختم کرنے کے لیے جتنی طاقت استعمال کرنے کی کوشش کررہے ہے،یہ تحریک اتنی شدت سے ابھر رہی ہے۔ فتح عوامی طاقت کی ہوگی۔
#MarchAgainstBalochGenocide
Among the more than two hundred arrested friends, the whereabouts of our 14 friends remain unknown until now & we are not being informed about them. Meanwhile, our arrested friends r being jailed without appearing in court. We need help from the whole world right now.
#MarchAgainstBalochGenocide is under attack by the Islamabad police. Many of our youth have been arrested, & many have been injured by tear gas shelling and violence. Right now, we are being treated worse than animals. Will the world raise its voice for us against this barbarism?
Request the urgent attention
Our Long March has reached Islamabad. The administration has stopped our march, & threatening us. You can help us by highlighting our problem by reporting it to your country's HR groups, journalists & parliamentarians.
#MarchAgainstBalochGenocide
Eid Mubarak to all of you & your family. May Allah open the doors of happiness & prosperity for you. And Special prayers are needed on this holy Religious Day for the safe recovery of the innocent 𝐁𝐀𝐋𝐎𝐂𝐇 who are in torture cells.
#EarthDay#EidUlFitr#Eid2023#EidAlFitr
I am delighted to share that my paper "Human Rights, Development & Territory:International Law and the Popular Consciousness in South Asia" won the 1st Prize. It was co-authored by me & my friend M. Ahmed Salar. The competition was jointly organized by @ilglobalsouth & @rsilpak