یہ کتاب شائع ہو گئی ہے۔ جن احباب کو دلچسپی ہو، ذیل کے پتے پر رابطہ کر سکتے ہیں
جہلم بک کارنر
بالمقابل اقبال لائبریری
اقبال لائبریری روڈ
جہلم ۔ 49600
فون: 5672198 3210
PKR: 2,000/- 1,400/-
https://t.co/q3cwshfGBV
سُنا ہے جرمنی کی ٹِیم نے ورلڈ کپ سے باہر ہو کے اپنے ملک کی ناک کٹوا دی۔
جرمن قوم نے مطالبہ کیا ہے کہ فٹ بال ٹیم پر قوم کے ٹیکسوں کا جتنا پیسا لگتا ہے، اس پیسے سے کراچی میں یونیورسٹی روڈ کی تعمیر کروائی جائے۔
آپ جب چلتےچلتےتھک جائیں تو رکنےپر احساس ہوتاہے،غلط راستہ تھاجس پر چلے آ رہےتھے؛صحیح راستوں پر ہوں تو تھکن کب ہوتی ہے! رکے رہیں؛ تھکن اتر جانےدیجیے؛ تازہ دم ہو کے اس راستے پر قدم رکھیے،جہاں پیروں میں خار ہی خار اور دل میں ہر گام پھول کھلتے ہیں۔ یہی راستہ عاشقوں کا ہے۔
#ظفرعمران
قومی حمایت سے ملک کے دفاع کا فریضہ ادا کرتے رہیں گے -چیف صاحب
سر قوم کو کیوں شرمندہ کرتے ہیں ہماری حمایت کے بغیر ہی آپ سب کچھ کر لیتے ہیں، ہاں بس قرض ہمارے اوپر چڑھتا رہتا ہے..سالا
۔۔۔ دور ہے ڈالا
ان کم ذاتوں کے معاملہ پر کسی قسم کی ریاستی کمزوری، ریاست کے پیر کاٹے گی۔ ایسے "احتجاج" خودبخود واقع نہیں ہوتے۔ بڑی بدقسمتی کہ وفاقی اور مقامی ریاست ایسے معاملات پر "انہیں بھی تو سمجھو ناں" سے آغاز کرتی ہے اور اک خراش، کینسر بن جاتا ہے۔
جی ہاں۔ بس راشن ہی تو بند نہیں کیا۔ پورے پورے گاؤں کی عورتیں ریپ کیں۔ بچوں کو یتیم کیا۔ عورتوں کو بیوہ کیا۔ نوجوانوں کو غائب کیا۔ ہزاروں بالغوں کو قتل کیا۔۔۔ ہاں، مگر دال بھت ملتے رہے تو اس میں بےپناہ مسرت کی بات ہے۔
میری بیٹی تب نو ساڑھے نو سال کی تھی جب میں نے کسی کا یہ شعر فیس بک وال پر لکھا:
میرے میلے کوٹ کا کالر اور نمایاں ہوتا ہے
بانکی سج دھج رکھنے والے، تیرے سامنے بیٹھے کون
بیٹی نے یہ پڑھ کر مجھ سے پوچھا: ابو آپ کے کوٹ کا کالر میلا کیوں ہے؟
آج تک جواب نہیں سُوجھا۔
پنجابی اور غیر پنجابی کی بحث اتنی لا یعنی ہو چکی ہے جتنی ایران امریکا کی جنگ؛ طرفین کے تمام طعنے اب ختم ہو چکے ہیں اور ایک سی باتیں، دعوے دُہرائے جانے سے جی اوب چکا ہے۔
آگے بڑھو اور کچھ نیا کرو کہ نیّا پار لگے۔
مساوات، آزادی کی تگ و دو کرنے والیوں کو اِس نُکتے سے توجہ نہیں ہٹانی کہ مساوات، آزادی کے نام پر وہ کسی کے لیے "موقع" تو نہیں بن رہیں۔
اے پبلک سروس میسیج
شکیل عادل زادہ سے سیکھا کہ درست ترکیب "خط کتابت"۔ "سب رنگ ڈائجسٹ" کے صفحے کا یہ عکس تب کا ہے، جب مدیر بھی یہ نہیں جانتے تھے کہ "و" اضافی ہے۔
کہنا یہ ہے کہ آدمی ہر لمحے سیکھتا ہے، سہو پر اڑ جانا "استادی" ہے، طالب علم ہونا نہیں۔