میں لاپتہ آصف بلوچ کی بہن سارہ میرے بھائی کو 13- جولائی 2026 کی صبح 5 بجے 4 ساتھیوں سمیت لاپتہ کیا گیا جسکے برخلاف آج رات 8:00 سے 11: 00بجے تک X campion چلائی جائیگی میں تمام بلوچ قوم اور سیاسی تنظیموں سے اپیل کرتی ہوں کے وہ اس میں حصہ لے کر ہماری آواز بنیں
# ReleaseAsifBaloch
The enforced disappearance of Asif Baloch is deeply troubling. Human rights groups must act to ensure his safety and recovery. Social media activists should raise their voices and demand his immediate and safe release. #ReleaseAsifBaloch
بساک نا پارہ غان چنا تے کن فیس بک انسٹاگرام آہ گام ڈیجیٹل نا میڈیا پیج جوڑ کنگانے دا پیج آتے جوان وڑ ہٹ شینگ کریساہ کبو تاکہ ہر چنا اے سر مر ھو جوان وڑ ہٹ تینا لمہ بولی تے ٹی سرپند مر
This verdict, which is an affront to the right to a fair trial, demonstrates how Pakistan’s anti-terrorism laws are being cynically misused to silence peaceful dissent.
https://t.co/X2cpyNzCG0
ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اور شاہ جی سبغت اللہ جیسے سیاسی کارکنان کو عمر قید کی سزا کا فیصلہ سنانا ��رامن سیاسی آوازوں کو دبانے کے مترادف ہے، جس کی ہم شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہیں۔
بلوچ اسٹوڈنٹس ایکشن کمیٹی
ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اور شاہ جی سبغت اللہ جیسے سیاسی کارکنان کو عمر قید کی سزا کا فیصلہ سنانا پرامن سیاسی آوازوں کو دبانے کے مترادف ہے، جس کی ہم شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہیں۔
بلوچ اسٹوڈنٹس ایکشن کمیٹی
بلوچستان میں سیاسی کارکنان کو عرصہ دراز سے کڑے حالات کا سامنا رہا ہے، جس میں قید و بند، ہراسانی اور مختلف ادوار میں حکومتوں کی جانب سے کیے جانے والے کریک ڈاؤن سمیت کئی طرح کے ہتھکنڈے شامل ہیں۔ بلوچستان میں انصاف کے تقاضے پورے نہ ہونے، فیئر ٹرائل کے فقدان اور شفاف تحقیقات کے نہ ہونے کی وجہ سے نہ صرف سیاسی طور پر باشعور لوگ، بلکہ اب عام عوام بھی انصاف کی فراہمی سے مایوس ہو چکی ہے۔ اس مایوسی کی سب سے بڑی وجہ لوگوں کی داد رسی نہ ہونا اور شفاف مروجہ طریقہ کار کا نہ ہونا ہے۔
بلوچ سیاسی کارکنان پچھلے ایک سال سے زائد عرصے سے قید و بند کی صعوبتیں جھیل رہے ہیں، جہاں نہ تو انہیں منصفانہ سماعت کا موقع دیا گیا اور نہ ہی کوئی شفاف تحقیقات کرائی گئی۔ ایک طرف جیل میں ان کے ساتھ ہراسانی کے واقعات رپورٹ ہوتے رہے، تو دوسری طرف انہیں اپنا موقف پیش کرنے اور اپنے بنیادی و قانونی حق کا استعمال کرتے ہوئے اپنی وکلا چننے کی اجازت تک نہیں دی گئی۔ یہ اقدامات بلوچستان میں جاری پُرامن سیاسی سرگرمیوں کا گلا گھوٹنے کے برابر ہیں، جنہیں اب قانونی شکل دی جا رہی ہے۔ ہمارا موقف اس بات پر قائم ہیں کہ کسی بھی شخص پر کوئی بھی الزام ہو، ثبوت اور گواہوں کی موجودگی میں شفاف تحقیقات کے بعد اوپن کورٹ میں اس کا ٹرائل ہونا چاہیے اور قانون کے مطابق سزا ہونی چاہیے۔ لیکن یہاں ہر قدم اور ہر سزا صرف سیاسی انتقام اور سیاسی سرگرمیوں کو روکنے کے لیے دی جاتی ہے، جو کہ انسانی حقوق اور 'اصولِ انصاف' کے سراسر خلاف ہے۔ جس ملک میں بنیادی انسانی حقوق اور انصاف کے تقاضے پورے نہ ہوں، وہاں ایسے فیصلے 'کالے قوانین' کے دائرے میں آتے ہیں۔
بلوچ سیاسی کارکنان کو عمر قید کی سزا سنانے کے عمل کو ہم شفافیت اور انصاف کو پاؤں تلے روندنے کے مترادف سمجھتے ہیں اور اسے انتہائی تشویش کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ یہ فیصلہ بنیادی انسانی حقوق پر ایک سنگیں حملہ ہے۔ ہمارا ماننا ہے کہ یہ ہتھکنڈے پُرامن سیاسی جدوجہد کی راہ میں رکاوٹ ڈالنے کی ناکام کوشش ہیں، کیونکہ پُرامن سیاسی عمل کسی خوف یا ڈر کے سامنے نہیں جھکتا۔ بلوچ سیاسی کارکنان کو محض پُرامن سیاسی سرگرمیوں کی پاداش میں جھوٹے کیسز پر اتنی بڑی سزا دینا اس نظام پر ایک سیاہ داغ ہے۔ ہم بطور ایک طلباء تنظیم اس ناانصافی، غیر شفافیت اور انتقامی کارروائی پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اس کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہیں۔
مرکزی ترجمان: بلوچ اسٹوڈنٹس ایکشن کمیٹی
The military imposed curfew in Zehri has transformed civilian life into a state of fear, punishment, and deprivation. Entire areas remain sealed, while residents are forced to walk long distances within restricted hours merely to obtain food and essential supplies. Thousands of civilians are trapped under conditions that deny them dignity, safety, and normal life.
For ten consecutive days, schools and hospitals have remained closed, depriving children of education and leaving sick and vulnerable people without medical care. Patients cannot access treatment, medicines, or emergency services, while families watch their loved ones suffer under enforced restrictions. Denial of healthcare and education to an entire population constitutes a grave violation of basic human rights.
Security forces continue to use intimidation and violence against civilians. People found outside beyond the imposed timings face direct gunfire, creating an atmosphere of terror across the region. Public transport remains obstructed, and civilians traveling through checkpoints are subjected to humiliation, harassment, and degrading treatment on a daily basis.
The curfew has also devastated the local economy. Daily wage workers, laborers, and small traders are unable to earn a livelihood, pushing already vulnerable families deeper into poverty and hunger. Fuel is confiscated from civilian vehicles at checkpoints before passage is permitted, exposing the abuse of power and exploitation taking place under the cover of security operations.
What is unfolding in Zehri is collective punishment against an entire civilian population. Restricting movement, shutting hospitals and schools, obstructing livelihoods, and subjecting civilians to violence and humiliation are serious violations of international human rights principles. The siege on Zehri must end immediately, and those responsible for these abuses must be held accountable.
@AndreaBV_SR_HRD@hrw@profbensaul@amnestysasia
#StopCollectivePunishment
#StopBalochGenocide
#ZehriUnderSiege
پروفیسر غمخوار حیات کا قتل بلوچ دانشوروں پر ایک اجتماعی حملہ ہے، شدید مذمت کرتے ہیں۔
بلوچ اسٹوڈنٹس ایکشن کمیٹی
بلوچستان میں استاد، شاعر، سیاسی کارکن، ادیب، طالبعلم، صحافی سمیت تمام مکتبہ فکر کے پرامن لوگ جو قلم اور کتاب کے زریعے علم پھیلانے میں کوشاں ہیں، ہمیشہ مظالم کے شکار ہوتے آرہے ہیں۔ بلوچ سماج ایک ایسی دور سے گزررہی ہے کہ پرامن اور قلم کی زبان کو بھی برداش نہیں کیا جاتا، ہمارا ہر وہ شخص جو سوچتا ہے اور سماج کی بہتری کے لیے جدوجہد کرتا ہے ان کو ڈرایا دھمکایا جاتا ہے یا پھر بے دردی سے قتل کرکے ان کی آواز کو خاموش کیا جاتا ہے۔ مگر یہ ان قوتوں کی بھول ہے کہ علم اور سوچ کسی بندوق کی گولی سے ختم نہیں ہوتے بلکہ مزید مضبوط اور توانا ہوکر ابھرتے ہیں۔
پروفیسر غمخوار حیات براہوئی زبان کے ایک استاد، ادیب اور دانشور تھے جنہوں نے اپنی قلم کے زریعے نہ صرف براہوئی ادب اور زبان کو ترقی دینے میں جدوجہد کی بلکہ اپنے سماج میں علم کو پھیلانے میں تگ و دو کی جو ایک حقیقی استاد کا آئینہ ہے۔ ان کو سوچنے، لکھنے، پڑھانے، مادری زبان کو پروان چڑانے اور طالبعلموں کو علمی راستہ دکھانے کی سزا دی گئی جو سوچنے اور علم حاصل کرنے پر قدغن لگانے کی ناکام کوشش ہے۔ ان کا براہوئی ادب میں کارکردگی ایک مسیحا جیسا ہے جنہوں نے مادری زبان کو ترقی دینے میں اپنا قومی کردار ادا کیا۔ ایک پرامن اور علم دوست استاد کا اس طرح بے دردی سے قتل بلوچستان کے پورے علمی سرکل پر ایک حملہ ہے۔
بلوچستان کے استاد اور دانشور ہمیشہ حملوں کی زد میں آتے رہے ہیں جہاں حکومتی حمایت یافتہ گروہوں نے بلوچوں کے کئی استادوں کو بے دردی سے قتل کرکے ان کی سوچ اور آواز دبانے کی ناکام کوششیں کی ہیں۔ استاد صباء دشتیاری سے لے کر غمخوار حیات تک یہ وہ علمی کارواں ہے جنہں علم کا شمع روشن کرنے کی سزا دی گئی، پروفیسر صباء کی سریاب میں اور غمخوار حیات کی نوشکی میں شہادت بلوچ قوم کی فکری سوچ پر حملے ہیں۔ یہ علم کے وہ مسافر تھے جنہوں نے خاموشی کے بجائے لکھنے، سوچنے اور علم پھیلانے کو ترجیح دی، آج ان جیسے علم دوست استادوں کے بدولت بلوچستان میں علم کا شمع روشن ہے۔ ان جیسے استادوں کو نشانہ بنانا نہ صرف سنگین مجرمانہ عمل ہے بلکہ انسانی سوچ کو قتل کرنے کے مترادف ہے۔
ہم پروفیسر غمخوار حیات کا بے دردی سے قتل کی نہ صرف مذمت کرتے ہیں بلکہ تمام استادوں سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ ان جیسے سنگین مجرمانہ عمل کے خلاف اٹھیں اور بھرپور ردعمل دیں تاکہ علم پر قدغن لگانے کی یہ مجرمانہ کوششیں ناکام ہوجائیں۔ اور متعلقہ اداروں سے مطالبہ کرتے ہیں کہ ان مجروموں کو سزا دینے میں اپنا کردار ادا کریں۔
مرکزی ترجمان؛ بلوچ اسٹوڈنٹس ایکشن کمیٹی
Dr. Sabiha Baloch, the central leader of BYC, addressed her nation and stated that the Baloch people must look around and realize how the fire of genocide, ignited to erase them, is rapidly spreading, consuming their happiness, homes, and lives. She emphasized that these efforts are aimed at eliminating them from their own land, and the root cause behind this oppression is their identity, the very identity inherited from their ancestors, which makes them rightful heirs of the land.
She reminded the nation not to forget the cases of those who have gone missing, including Mahjabeen, a polio patient missing for nearly a year; Nasreen, a young child; and women like Haseena, Khadija, and Hair-un-Nisa, who were taken without any crime proven against them.
Dr. Sabiha Baloch questioned why such brutality and cruelty are being inflicted upon the Baloch people, stating that it is because they once had the courage to resist and speak. She said that this courage and dignity are now being targeted in an attempt to humiliate the nation and demonstrate power by taking away their loved ones, including the vulnerable and elderly.
She reminded the Baloch nation of their past strength, how they filled Shahwani Stadium in Quetta beyond capacity, how they led the Baloch National Gathering march from Quetta to Gwadar, enduring hardship and oppression, and how they pledged unity from Nushki to Panjgur against genocidal forces. She questioned where that unity has gone today, asking why the people have become divided and silent.
Highlighting the current situation, she pointed out that Khadija Baloch’s parents have been sitting at BMC in Quetta for eight days, waiting and raising their voice, yet the people have not shown up to stand with them. She said this silence reflects the growing helplessness of the nation.
She strongly criticized those who label victims as “terrorists” without any legal process, stating that no law permits such accusations without due trial. She asserted that the real terrorists are those who forcibly take people, disappear them, and kill them without evidence.
Dr. Sabiha Baloch stated that while people are willing to plead before such forces, they are reluctant to stand up with their own courage and speak out. She stressed that raising one’s voice against oppression and genocide is a duty for every individual.
She called on every family whose loved ones are missing to come forward and speak, and urged every Baloch to stand with those parents who are protesting for their children and youth.
She specifically appealed to the people of Shal to go and sit with Khadija Baloch’s family at BMC and become their voice. She also urged the people of Makran to join the protest at the Hoshab–CPEC road, where the family is currently demonstrating.
In her concluding remarks, Dr. Sabiha Baloch warned that silence and inaction will remain a lasting stain on their history. She urged the nation to raise their voices, step forward, write, and resist, emphasizing that this is the time to act and not remain silent.
تعلیمی اداروں میں طلبہ کو درپیش مسائل تشویشناک صورتحال اختیار کرتی جارہی ہیں۔ ہاسٹلوں میں طلبہ کو ہراساں کرنے کا سلسلہ بند کیا جانا چاہیے۔
بلوچ اسٹوڈنٹس ایکشن کمیٹی، کوئٹہ زون
مزید پڑھنے کے لئے دئے گئے لنک پر کلک کریں۔
https://t.co/DkKhSjgOYP
کتاب آتا جہانی دے و بلوچ راج
کتاب دوست آ بلوچ راج!
اینو بیست و سئے اپریل کتاب آتا جہانی دے ئنا رِدئٹ بھاز ارزشت تخوک و خاص ءُ دے ئسے۔ دا دے بیرہ دا کلہو ءِ تفک کہ نن کتاب آتے دوست تخنگ نا دعویٰ کین بلکن دا دے ئنا گواچنی کلہو دادے کہ کتاب تون سنگت مرسا اسہ باشعور ءُ راج اس جوڑ کین و تینا راج، راجی جوڑشت، رسم و دود آتون اوار تینا راجی ویل آتے ہم پہہ مرین۔ و دا پہہ مننگ نا کل آن بھلا وسیلہ کتاب ء ۔
خوانندہ غا بلوچ راج!
اینو نا دے کتاب آتا پن آ کننگ نا سوب بیرہ اسہ تدینی اس افک بلکن دا دیہاڑ تون گنڈوک بھاز بھلو سوب اس تخک کہ ہراتم جہان نا بے وس �� شیف خلنگوک آ راج آتیٹی شعور نا زیہا کلف خلنگ بنا مس، نوآبادیاتی ریاست آتا پارہ غان کتاب خواننگ نا ارزشت ءِ کم کننگ مس تاکہ غلام آ راج آک شعور آن مر کننگ مریر و داکان سوشل میڈیا نا دور باریک ہم بنا کننگار و کتاب و کتاب خواننگ نا اہمیت کم مس گڑا یونیسکو نا پارہ غان 1995 ئٹی کتاب آتے مونی اتنگ، کتاب خواننگ نا عادت ءِ شون تننگ و نوشتکار آتا لوز آتے دزی مننگ آن رکھنگ کن اینو نا دے ءِ کتاب آتا جہانی دے ئنا پن تننگا کہ ہرا اینو اسکان کتاب آتے شون تننگ کن اڈ تننگک۔
دانا ایلو مسخت مسکوہی فلاسفر و زانتکار ویلیم شیکسپیئر و میگیول ڈی سروینٹس (William Shakespeare and Miguel de Carvanta) نا کزیت نا د�� ءِ یات کننگ و اوفتا کتاب تون سنگتی ءِ شرف تننگ ہم ئس کہ دا اڑتوما زانتکار آک ادب نا پڑ آ بھاز بھلو خذمت اس سر ترسا اینو نا دے جہان آن کزیت کریر و تینا لوز آتا چاشنی ءِ ننا نُک آ الار ہنار۔ ایسری دن مس کہ اسپین کہ ہرا جہان نا دیہاڑ ئٹ علم �� زانت نا بنیاتی "قلات" اس مسنے، اونا مخلوق اینو نا دے اسٹ ایلو ءِ پھل ئتون اوار کتاب ہم ٹیکی کریرہ و ہندن اینو نا دے کتاب آتا پن آ پنی مس۔
باشعور آ بلوچ راج!
اینو کہ جہان پوسکنا وخت ئنا کل خواست آتے پورؤ کرسا ٹیکنالوجی، انٹرنیٹ و سوشل میڈیا غان پبّی فائدہ ارفنگ ئٹی ءِ و داڑتون اوار کتاب خواننگ ءِ ہم شون ایترہ و کتاب نا ارزشت ءِ ہم تینا راج آتے گیرام کرفنگ کن الپسہ۔ داڑکن اینو جہان نا کیہی شوندار آ ریاست آک کتاب ءِ ٹیکنالوجی تون ہمگرنچ کرسا "پی ڈی ایف" تا دروشم تسنو و خواننگ برجا تخانو۔ ہمو راج آک کہ بیرہ ٹیکنالوجی ارفسہ اوٹی ڈُب ہلکنو اوفک اینو پد سلوک ءُ ولے اینو جہانی پڑ آ ٹیکنالوجی و کتاب تومکاتے اوار مستی دروک آ ریاست آک جہان نا زی آ راج کننگ ئٹی ءُ۔
بےوس آ بلوچ راج!
دنکہ نن اسہ بےوس و شیف خلنگوک ءُ راج ئسے اُن گڑا نن کن دا ہیت بھاز ارزشت تخوک مریک کہ نن کتاب خواننگ نا اہمیت آن اخس واخب اُن۔ کتاب علم و شعور دوئی کننگ نا کلان بھلا وسیلہ ءِ و علم بندغ نا مسٹمیکو خن ءِ۔ ہمو خن ہرانا وسیلہ ئٹ نن تینا راج ئنا بزگی ءِ خنون، ڈیہہ ئنا ڈکھ و ویل آتے خنون و پیشن نا بروک آ قوضہ گیر آتا چمبازی تے ہم خنیسہ پہہ مرون۔ گڑا بلوچ راج ئنا ہر ورنا نیاڑی نرینہ چنک و بھلن آ دا فرض مریک کہ نن تینے، تینا راج ءِ، ڈیہہ ءِ و کل آن گیشتر دا کہ تینا دژمن ءِ پہہ مننگ کن کتاب تون سنگتی کین۔ کتاب خوانن و کتاب آتے تینا ڈیہہ ئنا کنڈ کنڈ ئٹی تالان کین۔
چاہندار آ راج!
ببو اوار مرسا اسٹ ایلوڑتون مہر کین و اسٹ ایلو ءِ ٹیکی ٹی کتاب بشخن۔ ببو کتاب آتا وسیلہ ئٹ تینا خن تے ملِن و بال کننگ کن تینا پرّہ غاتے پین سوگؤ کین تاکہ کتاب، علم و شعور نا وسیلہ ئٹ نن وقاب آنبار اسہ آجو ءُ بال اس خلین۔
بلوچ اسٹوڈنٹس ایکشن کمیٹی
کتاب قوموں کی ترقی کی ضامن ہے۔ ہم عالمی یومِ کتاب کو بلوچستان کے اُن نوجوانوں سے منسوب کرتے ہیں جو شعوری بالیدگی کے لیے مطالعہ کرتے ہیں۔
بلوچ اسٹوڈنٹس ایکشن کمیٹی
دنیا میں جہاں کہیں بھی کسی قوم نے ترقی کی بلندیوں کو چھوا ہے، وہ محض شعوری اور علمی بنیادوں پر ہی ممکن ہوا ہے۔ علم اور شعور کا واحد ذریعہ کتاب ہے، جس کی اہمیت وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ مزید بڑھتی جا رہی ہے۔ یہ ایک اٹل حقیقت ہے کہ جن اقوام کا رشتہ کتاب سے جڑا رہا، وہ آج دنیا میں باشعور اور علم کے خزانوں سے مالامال قومیں کہلاتی ہیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ غالب اقوام نے ہمیشہ یہی کوشش کی ہے کہ اپنا علم اور تاریخ کتابوں کے ذریعے دوسروں پر مسلط کریں، تاکہ نہ صرف ان کے علم پر انحصار کیا جائے بلکہ اسی کو حرفِ آخر مانا جائے۔ یہی وجہ تھی کہ جب برطانوی سامراج نے برصغیر اور بلوچستان پر قبضہ کیا، تو س�� سے پہلے یہاں کے کتب خانوں اور علمی مراکز کو نشانہ بنایا تاکہ مقامی لوگ اپنے علم کی بدولت سامراجی تسلط کے خلاف کھڑے نہ ہو سکیں اور انہیں نکال باہر نہ کردیں۔
یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ آج جہاں دنیا اسی علم اور کتاب کی بدولت نئی تحقیقات اور ایجادات کر رہی ہے، وہیں دوسری جانب کتاب بینی کا رجحان سست روی کا شکار بھی ہوتا جا رہا ہے۔ یہ بھی اُنہی طاقتور قوموں کی مہربانی ہے جنہوں نے خود تو علم کے زیور سے آراستہ ہو کر ترقی کی، مگر ترقی پذیر ممالک کے ہاتھ سے کتاب چھین کر انہیں جہالت کی طرف راغب کر دیا۔ جہالت اور تاریکی کے خلاف جنگ کتاب ہی سے شروع ہوتی ہے۔ اسی لیے کہا جاتا ہے کہ دانشورانِ قوم، قوم کی امید ہوتے ہیں، کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ کتابیں انقلاب کی روشنی ہیں اور قلم کی طاقت شمشیر سے زیادہ ہے۔
بلوچستان میں ایک ایسا خلا جنم لے رہا ہے جہاں دن بہ دن کتاب سے رشتہ کمزور ہوتا دکھائی دیتا ہے۔ کئی ایسے لوگ ہیں جو مطالعہ سے دور ہیں اور اپنی تہذیب، شناخت، ثقافت اور تاریخی وابستگی سے نہ صرف ناآشنا ہیں بلکہ اسے اہمیت بھی نہیں دیتے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ یہ بھی استعماری قبضے کے دیرینہ اثرات ہیں۔ لیکن ہماری امید اِس بات سے بڑھ جاتی ہے کہ اس تیز رفتار دور کی کشمکش میں بھی بلوچستان کے کئی نوجوان ایسے ہیں جو کتابوں سے عشق کرتے ہیں، انہیں خریدتے اور پڑھتے ہیں۔ ان کی علم دوستی کی واضح مثال یہ ہے کہ نئے سال کے آغاز پر انہیں کتابی میلوں کا شدت سے انتظار ہوتا ہے اور بلوچستان کے کئی علاقے کتابوں کے رنگ میں رنگ جاتے ہیں۔ اسی لیے ہم عالمی یومِ کتاب کو بلوچستان کے اِنہی علم دوست نوجوانوں کے نام کرتے ہیں، جو شعوری بالیدگی کے لئے مطالعہ کرتے ہیں۔
مرکزی ترجمان: بلوچ اسٹوڈنٹس ایکشن کمیٹی
The hostels of University of Balochistan are still closed while the campus has been reopened. The students from various areas of Balochistan are facing difficulties after the closure of hostels.
This act makes no sense but a mental torture to the students by the administration.
زھری میں 5 روز سے کرفیو کی وجہ سے مسافر ویگنیں بمع مسافر جن میں خواتین بچے اور بزرگ شامل ھیں سوراب ��یں شاہراہ پر 5 روز سے پریشان حال میں کھڑے ہیں۔
انسانی حقوق کے ادارے نوٹس لیں
#StopHumanRightsViolation
دی بلوچ گھوسٹ، صبیحہ
صبیحہ کو ریاست اب تک ایسے ڈھونڈ رہی ہے جیسے کتا بھوک کے عروج میں اپنے لئے غذا۔
بی وائی سی کی تمام لیڈرشپ کی گرفتاری کے باوجود صبیحہ کی بی وائی سی کو لیڈ کرنا، سوشل میڈیا سے لے کر گراؤنڈ تک، لیگل کاموں سے لے کر انٹرنیشنل حال احوال تک، فیصلوں سے لے کر لیڈ کرنے تک صبیحہ اس وقت لاجواب کردار ادا لر��ہی ہے۔
صبیحہ کا ایک شعر ہے کہ،
میری لاعلمی کو اتنا علم ضرور تھا
مجھے کتابوں سے دور رکھنا کوئی حادثہ نہ تھا۔
مجھے یقین ہے صبیحہ کا قلم اس وقت بھی ریاستی جبر کے منظر کشی ضرور کررہا ہوگا۔
صبیحہ آج دوستوں سمیت بی وائی سی کو لیڈ بھی کررہی اور خود کو اور دوستوں کو محفوظ بھی رکھ رہی ہے، ریاستی ٹیکنالوجی کو ٹریس کرنے کے دور میں صبیحہ کا ریاستی تمام چھاپوں کی زد میں نہ آنا بہترین اسٹریٹیجی اور وقت کی ضرورت ہے۔
ویسے اسرائیل نے بھی یحی سنوار کو دی گھوسٹ آف غزہ کا نام دیا تھا۔
#Balochistan
#ReleaseBYCLeaders
#ReleaseMahrangBaloch
We Dedicate the International Education Day to all those children in Balochistan who are Out of School
Baloch Students Action Committee
Balochistan is a region facing the worst crisis of educational access for many years. The modern world has acquired every possible means to provide education in a much better way to their children. However, the children of Balochistan face the most serious challenge in acquiring education. The recent report by the Economic Survey 2024-2025 was published which found that the literacy rate in Balochistan stands at 40.01 percent with a female literacy rate of about 36.8 percent. These literacy rates are the stark reminder of the deliberate failure of the government to ensure the delivery of basic and quality education.
We are witnessing paradoxical statements from the government where on one hand it claims of ‘no-closed schools’ and ‘no children out-of-school’ but on the other hand there are many reports which uncover the truth and reality of only 40 percent literacy rates including Quetta the capital of Balochistan. We believe that education is a right not a lottery that can be rigged or denied.
We, on the eve of International Education Day (i.e 24th January), dedicate the day to the children of Balochistan denied access to education and all those who have struggled with scarce facilities and have been able to reach a place where they can now lead their generations.
On this day we reaffirm our commitment to uphold the organisational watchwords of the right to education and struggle for the rights of students with our core slogan of “Struggling for Knowledge and Unity.”
Central Spokesperson of Baloch Students Action Committee