Journalist,News producer at #GNN former News producer at City News Network (CNN) .political commentator.Believe in freedom with responsibility, Kashmiri.
مقبول بٹ نے آزاد کشمیر کی وزارت عظمیٰ ٹھکرا دی تھی انہوں نےعذرامیرکے نام خط میں لکھا تھا ہمارے ساتھ پاکستان میں جو ہوا وہ حکمران ٹولے نے کیا عام پاکستانیوں نے نہیں کیا پاکستان کے اصل مالک تو یہاں کے عوام ہیں اور حکمران ٹولہ تو ان پر بھی گولیاں برساتا ہے۔ https://t.co/YGc7uH6SZZ
Thousands of British Kashmiris marched from the UK Parliament to Trafalgar Square in London in support of the demands of the Joint Awami Action Committee in Azad Kashmir - for basic rights, improved public services and better daily life facilities.
صحافت کے لبادے میں چھپے کچھ سیاسی بہروپیے اب ہمیں حب الوطنی کے سرٹفکیٹ دیں گے؟؟
تم پیدا پاکستان میں ہوئے ہم نے پاکستان کا حصہ بننے کیلئے ہزاروں جانیں قربان کی ہیں اور آج بھی بھارت جیسے سفاک دشمن سے برسرپیکار ہیں کیونکہ ہماری منزل پاکستان ہے۔
اس طرح کے جاہلانہ بیانات کشمیریوں کو اکسانے کی کوشش سے زیادہ کچھ نہیں۔۔۔
پاکستان کشمیریوں کی شان ہے پاکستان ہماری آن ہے الحمد للہ ہم تم سے زیادہ پاکستانی ہیں۔
کہنے کو لکھنے کو کافی کچھ لکھ سکتا ہوں کہہ سکتا ہوں مگر الحمدللہ ایسی تربیت نہیں۔۔
اڑھائی منٹ کی اس ویڈیو میں عمر نزیر کشمیری نے ایجنسیوں کے کالے چینل کا نفرت انگیز پراپیگنڈا تباہ کر دیا۔ غور سے سنیے ہمارے کشمیری بھائی کیا کہہ رہے ہیں۔ باقی ظلم کے شکار ناراض لوگ پاکستان میں بھی سخت شکوے کرتے رہتے ہیں۔
آزاد کشمیر کے علاقے راولا کوٹ میں ہونے والے احتجاج میں صرف مرد ہی نہیں، عورتیں اور بچے بھی شریک ہیں۔ اتنی بڑی تعداد میں جمع ہونے والے لوگ نہ دہشت گرد ہیں، نہ کسی کے ایجنٹ۔ یہ اپنے سیاسی اور آئینی حقوق کا مطالبہ کرنے والے پرامن، محب وطن شہری ہیں۔
ان کی آواز سنیں، ان کے مطالبات پر توجہ دیں۔ ان پر لاٹھیاں اور گولیاں برسانے کے بجائے ان سے بات کریں۔ اختلاف رائے کو بغاوت اور احتجاج کو دشمنی نہ سمجھیں۔
انہیں دہشت گرد اور ایجنٹ قرار دینے کے بجائے یاد رکھیں، یہ بھی اسی وطن کے بیٹے، بیٹیاں اور آپ کے اپنے بھائی بہن ہیں۔۔۔۔
عوام احتجاج کرتی ہے تو اُس میں عورتوں کی شرکت کا مطلب ایک مخصوص صحافی نما مخلوق کو بتانا ہوتا ہے کہ یہ کسی گروہ کا نہیں عوام کا احتجاج ہے۔ ایسے جاہل قانون داند (daand) تجزیہ کار یہ کیوں بھول جاتے ہیں کہ ادارے چاہیں تو ایسی کوئی کاروائی نہ کرنے کا اختیار بھی رکھتے ہیں جن میں عورتوں اور بچوں کو نقصان پہنچنے کا احتمال ہو۔ کچھ اینکر حضرات یہ تصویریں اپنے پراپیگنڈے کے لئیے تو استعمال کر لیتے ہیں مگر اپنے ٹی وی پروگراموں یا خبروں میں دکھانے کی ہمت بھی نہیں کرتے۔ یہ قانون داند اپنی پاکستان کی خواتین کو تو اظہارِ رائے کا پورا حق دینے کی بات کرتے ہیں مگر کشمیر کی خواتین کے احتجاج کو محض ہیومن شیلڈ کی نظر سے دیکھتے ہیں۔
یہ لاکھوں کا مجمہ سن رہا ہے نہ ہم پاکستان کے خلاف ہیں نہ پاکستانی عوام کے خلاف،اور نہ ہی فوج کے خلاف ہیں، یہ لاکھوں کی تعداد میں مظاہرین سن رہے ہیں عمر نزیر کشمیری کا راولاکوٹ میں مظاہرین سے خطاب
کشمیر کے لیے اپنی انا کا بت توڑنا ہوگا۔
اپنی قوم کے لوگوں کے جائز مطالبات تسلیم کرنا شکست نہیں بلکہ عالی ظرفی اور سیاسی بصیرت ہے۔
اپنے حقوق کے لیے بڑی تعداد میں سڑکوں پر نکلنا غداری نہیں، یہ عوامی احساسات کا اظہار ہے۔
یہ وہی لوگ ہیں جو برسوں سے "کشمیر بنے گا پاکستان" کا نعرہ لگاتے آئے ہیں، اس لیے مسائل کا حل جبر نہیں بلکہ مذاکرات، افہام و تفہیم اور اعتماد کی فضا قائم کرنے میں ہے۔
میں کشمیری عوام کے پُرامن مظاہرین پر ہونے والے ریاستی تشدد کی شدید مذمت کرتی ہوں اور ان کی اپنے حقوق، وقار اور انصاف کے لیے جاری جدوجہد کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتی ہوں۔
جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی (JAAC) پر عائد کی گئی پابندی محض ایک تنظیم پر پابندی نہیں، بلکہ یہ اظہارِ رائے، سیاسی آزادی اور پاکستان میں آباد محکوم قوموں کے بنیادی حقوق کی جدوجہد کے خلاف ریاست کے مسلسل جابرانہ رویّے کی عکاسی کرتی ہے۔ جمہوری معاشروں میں اختلافِ رائے کا جواب پابندیوں، گرفتاریوں اور تشدد سے نہیں بلکہ مکالمے، انصاف اور سیاسی عمل کے ذریعے دیا جاتا ہے۔ افسوس کہ پاکستان میں عوامی تحریکوں اور جمہوری مطالبات کا جواب اکثر طاقت، جبر اور قدغنوں کی صورت میں دیا گیا ہے۔
آج اس قید خانے کی خاموشی میں میرا دل سب سے پہلے کشمیر کے ان مظاہرین، زخمیوں، سوگوار خاندانوں اور انصاف کا مطالبہ کرنے والے عوام کے ساتھ دھڑکتا ہے جو اپنے حقوق کے لیے سڑکوں پر نکلے اور جنہیں جبر، تشدد اور طاقت کا سامنا کرنا پڑا۔ بلوچستان سے کشمیر تک فاصلے ہزاروں کلومیٹر کے سہی، مگر دکھ ایک جیسے ہیں، زخم ایک جیسے ہیں اور انصاف کی خواہش بھی ایک جیسی ہے۔ میں کشمیری عوام کی استقامت، حوصلے اور جدوجہد کو سلام پیش کرتی ہوں۔
جیل کی یہ دیواریں بلند ضرور ہیں، مگر اتنی بلند نہیں کہ وہ قوموں کے دکھ، ماؤں کی آہیں اور انصاف کی پکار کو اپنے اندر قید کر سکیں۔ سلاخوں کے پیچھے بیٹھ کر بھی میں بلوچستان، پختونخواہ، سندھ، گلگت بلتستان اور کشمیر سے اٹھنے والی ان آوازوں کو سن سکتی ہوں جو اپنے بنیادی حقوق، عزت، شناخت اور انصاف کا مطالبہ کر رہی ہیں۔
ریاستی جبر کا ایک پرانا طریقۂ کار ہے۔ پہلے عوام کی آواز کو نظر انداز کیا جاتا ہے، پھر اسے بدنام کیا جاتا ہے، اس کے بعد اس پر پابندیاں عائد کی جاتی ہیں، اور آخرکار طاقت کے ذریعے اسے خاموش کرانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ بلوچستان میں بلوچ یکجہتی کمیٹی کی پُرامن تحریک کو جس ریاستی جبر کا سامنا ہے، وہ اسی پالیسی کا تسلسل ہے۔ پاکستان کی تاریخ اس حقیقت کی گواہ ہے کہ یہاں محکوم قوموں کی سیاسی جدوجہد کو بارہا طاقت کے ذریعے دبانے کی کوشش کی گئی ہے۔ آج کشمیر میں رونما ہونے والے واقعات بھی اسی جابرانہ سوچ اور پالیسی کی عکاسی کرتے ہیں۔
طاقت کے ایوانوں میں بیٹھے لوگ شاید یہ سمجھتے ہیں کہ پابندیاں، گرفتاریاں اور تشدد قوموں کی یادداشت کو مٹا سکتے ہیں۔ لیکن ظلم کبھی استحکام پیدا نہیں کرتا۔ ظلم صرف زخم پیدا کرتا ہے، اور زخم ایک دن سوال بن جاتے ہیں۔ جب یہی سوال پورے معاشرے کے سوال بن جائیں تو پھر کوئی دیوار، کوئی جیل اور کوئی پابندی ان کا راستہ نہیں روک سکتی۔
بلوچستان میں جب مائیں اپنے جبری لاپتہ پیاروں کی تصاویر اٹھائے سڑکوں پر نکلیں تو انہیں خاموش کرنے کی کوشش کی گئی۔ ان کے بیٹوں اور بیٹیوں کو، جن کی گمشدگیوں کے بارے میں وہ انصاف مانگ رہی تھیں، دہشت گرد قرار دے کر ان کے درد کو مشکوک بنانے کی کوشش کی گئی۔ پختونخواہ میں جب عوام نے اپنے حقوق کی بات کی تو ان کی آواز کو دبانے اور بدنام کرنے کی کوشش ہوئی۔ آج کشمیر میں بھی عوامی مطالبات کا جواب طاقت سے دیا جا رہا ہے۔ مگر تاریخ کا سبق یہی ہے کہ ظلم وقتی طور پر خوف پیدا کر سکتا ہے، خاموشی نہیں۔
عوام جب اپنے حقوق کے لیے سڑکوں پر نکلتے ہیں تو انہیں دشمن سمجھ لیا جاتا ہے۔ سیاسی مطالبات کا جواب مکالمے کے بجائے طاقت سے دیا جاتا ہے۔ احتجاج کو جرم اور مزاحمت کو دہشت گردی قرار دینے کی کوشش کی جاتی ہے۔ مگر تاریخ گواہ ہے کہ سچائی کو قید کیا جا سکتا ہے، اسے شکست نہیں دی جا سکتی۔
میں ان تمام خاندانوں کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کرتی ہوں جنہوں نے اپنے پیارے کھوئے، جو خوف اور غیر یقینی کی کیفیت میں زندگی گزار رہے ہیں، یا جو انصاف کے انتظار میں دروازوں پر نظریں جمائے بیٹھے ہیں۔ چاہے وہ بلوچستان کی مائیں ہوں، پختونخواہ کے خاندان ہوں، سندھ اور گلگت بلتستان کے کارکن ہوں یا کشمیر کے مظاہرین، ان کا درد ایک دوسرے سے مختلف نہیں۔
ہماری جدوجہد نفرت کے لیے نہیں بلکہ انصاف، انسانی وقار، برابری اور قومی حقوق کے لیے ہے۔ ہم اس دن کا خواب دیکھتے ہیں جب کسی ماں کو اپنے لاپتہ بیٹے کی تصویر اٹھا کر سڑکوں پر نہ نکلنا پڑے، جب کسی طالب علم کو اپنے سیاسی نظریات کی قیمت آزادی سے محرومی کی صورت میں نہ چکانی پڑے، جب کسی انسان کو اپنی شناخت اور اپنے حقوق کے مطالبے کی پاداش میں قتل، قید یا لاپتہ نہ کیا جائے، اور جب عوامی مطالبات کا جواب گولی، پابندی اور جبر نہیں بلکہ انصاف، مکالمہ اور جمہوری عمل ہو۔
اگر سچ بولنا جرم ہے تو تاریخ کے ہر باوقار انسان نے یہ جرم کیا ہے۔ اور اگر انصاف کا مطالبہ بغاوت ہے تو یہ بغاوت انسان کے ضمیر سے جنم لیتی ہے، کسی سازش سے نہیں۔
خدا گواہ ہے کہ کشمیریوں نے ہمیشہ پاکستان اور پاکستانیوں سے محبت کی ہے۔ مجھے جب بھی کشمیر جانے کا موقع ملا یا پاکستان سے باہر آباد کشمیریوں سے ملاقات ہوئی تو ہر ایک نے محبت نچھاور کی۔ آج کچھ ٹاؤٹ اکاؤنٹس کو کشمیریوں کے خلاف زہر اُگلتے دیکھ رہا ہوں تو حیرت اور تکلیف میں ہوں۔
کیا یہ سب کے سب بھارتی ایجنٹ ہیں ؟ انکی قیادت کے ساتھ مذاکرات کے بغیر صورتحال بہتر نہیں ہو گی جو لوگ آزادکشمیر میں نفرتوں کے کاروبار سے فائدہ اٹھانے کی کوشش میں ہیں وہ ہم سب کے دشمن ہیں
Deeply disturbed by the news coming from across the LoC. The killing of more than a dozen protesting civilians and police personnel is extremely sad. The Government there should know better than to use force to handle public grievance and demands in this manner.
When people take to the streets to express their concerns, it is a signal that they seek to be heard. It is the responsibility of those in authority to listen, engage and peacefully resolve the matter, rather than allow it to escalate into violence, arbitrary arrests and loss of life.
Hope and pray that better sense prevails and the matter is handled with maturity while addressing the concerns of the people.
چودھری صاحب فرماتے ہیں کہ کشمیر دراصل پنجاب کا حصہ ہے اور پنجاب پولیس غداروں کو گرفتار کر کے گولیوں سے بھون دیگی ۔۔۔ اگر سزائیں پنجاب پولیس نے دینی ہیں تو کشمیر میں عدالتیں کیوں قائم کیں؟ کیا یہ دعوے اور دھمکیاں آئین پاکستان کے مطابق ہیں یا آئین پاکستان کی خلاف ورزی ہیں؟ آئین پاکستان کی دفعہ 257 کے مطابق کشمیر پنجاب کا حصہ نہیں ہے لیکن کچھ پنجابی انتہا پسند پاکستانیت کا لبادہ اوڑھ کر آئین پاکستان کی دھجیاں بکھیر رہے ہیں انہیں روکنے والا کوئی نہیں
پاکستانیت کا لبادہ اوڑھ کر جھوٹ پھیلانے والے کچھ پنجابی انتہا پسندوں کے جھوٹ کو عوام نے مسترد کردیا ہےاب فرماتے ہیں ہم پاپولزم پر یقین نہیں رکھتے ان پنجابی انتہاپسندوں کی دھونس اور دھمکیوں نے انہیں بھی ان دہشت گردوں کی صف میں کھڑا کر دیا ہے جو آئین و قانون کی دھجیاں بکھیر کر اپنے آپ کو انقلابی قرار دیتے ہیں
🚨🚨
Commissioner Poonch Sardar Waheed Khan confirmed that 12 people had been killed while dozens of security officials sustained injuries. https://t.co/oWL1YEiGdw