Today, 8 February, marks one of the saddest days in the history of Pakistan. On this day in 2024 the people, the young and the old, voted in their hundreds of millions for Imran Khan & a democratic future based on respect for basic human rights. That vote was plundered.
کیا ابھی تک قلم کتے میڈیائی دلال و طوائفیں ٹاؤٹ اور راتب خور فیک ویڈیوز کے ساتھ ناچتے ہوئے ہوئے نہیں آئے کہ ہڑتال کامیاب نہیں ہوئی دوکانیں کھلی ہیں وغیرہ وغیرہ
آج پورے پاکستان کی عوام نے یہ بتایا ہے کہ وہ قیدی نمبر 804 اسیرِ اڈیالہ غازی عمران احمد خان نیازی کے ساتھ ہیں
اور عوام کا مینڈیٹ چوری کیا گیا ہے عوام کو اس بات کا ادراک بھی ہے اور غصہ بھی ہے
مہذب معاشروں میں ایسے احتجاج ہی کئے جاتے مگر پاکستان میں ملک کا انتظام و انصرام چلانے والے ڈنگروں کو اس سے کوئی غرض نہیں ہے
The Chief Justice of the Supreme Court committed last Friday that Imran Khan’s medical reports would be provided to his family. Today, when the jail superintendent appeared before the ATC, only two brief notes were submitted. This conduct reflects a complete disregard for the authority of the Chief Justice of the Supreme Court. We urge Chief Justice Yahya Afridi to issue a contempt notice to the jail authorities and ensure that Imran Khan’s medical reports are handed over to his family without any further delay.
Our father gave everything to this country - sacrificing comfort, peace, and safety to fight for Pakistan’s future.
Today, he is silenced, tortured, imprisoned, and completely cut off from us. From the moment we could understand, he taught my brother and me how devastating a corrupt government can be. To see him now accused of that very crime is a cruel, intolerable irony.
My father, Imran Khan, has now spent over 900 days in a death cell with no family visits and no access to his personal doctors. Credible reports confirm he has been diagnosed with central retinal vein occlusion, a dangerous blockage that can lead to permanent vision loss if not treated through urgent medical intervention in a proper hospital.
Yet authorities continue to block his treatment and deny him the doctors he trusts. I am even denied the right to speak to him. This is not governance. This is authoritarian cruelty.
I call on every defender of human rights to act before it is too late. The world must see that in Pakistan today, democracy is hollow and basic human rights are being crushed.
ڈی جی ISPR کی آج کی پریس کانفرنس پر سوشل میڈیا پر پھیلا ہوا ایک مدلل جواب:
منقول👇
سب سے پہلے تو میں آج احمد شریف کی تعریف کرنا چاہوں گا کہ آج بلآخر تم کھل کر سامنے آگئے ہو اور تم نے آج ثابت کردیا ہے کہ تم فوج کے ترجمان نہیں، بلکہ عاصم منیر کے ذاتی نوکر ہو- آج تم نے کہا کہ "ایک شخص کا بیانیہ سیکیورٹی رسک ہے"
آو تمہیں بتاؤں کہ سیکیورٹی رسک کس چیز کو کہتے ہیں؟
نواز شریف نے ممبئی حملوں میں پاکستان کو ملوث قرار دیا تھا اور نواز شریف کے اس بیان کو ہندوستان نے عالمی عدالتِ انصاف میں بطور ثبوت لے جاکر پاکستان کی بدترین تذلیل کروائی، تمہارے چیف عاصم منیر نے اُسی نواز شریف سے لندن میں ڈیل کرلی اور حکومت نواز شریف کی جماعت کو سونپ دی، کیا یہ سیکیورٹی رسک نہیں ہے؟
خواجہ آصف نے اسمبلی میں کھڑا ہوکر کہا تھا کہ پاکستان فوج نے آج تک کوئی جنگ نہیں جیتی، آج جس نون لیگ کو عاصم منیر نے تخت نشین کیا ہوا ہے، خواجہ آصف اُسی حکومت کا وزیرِ دفاع ہے، کیا یہ سیکیورٹی رسک نہیں ہے؟
کارگل محاذ سے متعلق نواز شریف نے کہا تھا کہ پاکستان فوج نے میری پیٹھ میں خنجر گھونپا ہے، آج اُسی نواز شریف کی نون لیگ تمہاری گود میں بیٹھ کر حکومت کررہی ہے، کیا یہ سیکیورٹی رسک نہیں ہے؟
آصف زرداری نے کہا تھا کہ میں پاکستان فوج کی اینٹ سے اینٹ بجا دونگا، آج اُسی فوج نے زرداری کو صدرِ پاکستان کے منصب پر بٹھایا ہوا ہے، کیا یہ سیکیورٹی رسک نہیں ہے؟
مریم نواز نے اپنے جلسے میں "یہ جو دہشت گردی ہے اسکے پیچھے وردی ہے" کے نعرے سرعام لگوائے تھے، آج وہی مریم نواز پاکستان فوج کی حمایت سے پنجاب کی وزیرِ اعلیٰ لگی ہوئی ہے، کیا یہ سیکیورٹی رسک نہیں ہے؟
یہ تو ہوگئی سیکیورٹی رسک پر چند مثالیں
آج تم نے یہ بھی کہا کہ "گھبراہٹ اتنی بڑھ چکی ہے کہ وہ (عمران خان) سمجھتا ہے میں نہیں تو کچھ نہیں"-
گھبراہٹ کس کی کتنی بڑھ چکی ہے یہ ساری دنیا نے دیکھ لیا جب ایک نوٹیفکیشن کی خاطر تمہارا چیف عاصم منیر در بدر مارا مارا پھر رہا تھا، اور گھبراہٹ کا اندازہ یہاں سے لگاؤ کہ تم عمران خان سے ملاقاتیں اس لئے نہیں کرواتے رہے تاکہ وہ کسی تحریک کا اعلان نہ کردے-
تم نے آج یہ بھی کہا کہ "ہم کسی سیاسی جماعت کا ایجنڈا لیکر نہیں چلتے اور فوج کو سیاست سے دور رکھا جائے"-
یہ بات تو بذاتِ خود سب سے بڑا مذاق ہے، تم نے آج جو باتیں بولی ہیں سب کی سب سیاسی ہیں اور تم جب پریس کانفرنس کرتے ہو تو یوں لگتا ہے جیسے عطاء تارڑ یا مریم اورنگزیب پریس کانفرنس کررہے ہوں-
تم نے آج کہا کہ "آپ کچھ لوگوں کو بیوقوف بنا سکتے ہیں سب کو نہیں"
اگر صرف چند لوگ بیوقوف ہیں تو تمہیں عام انتخابات میں فارم 47 کی ضرورت کیوں پڑی تھی؟ کیا 24 کروڑ بیوقوف ہیں اور صرف سات لاکھ تنخواہ دار ذہنی مریض
عقلِ کُل ہیں؟
تم نے کہا کہ "اپنی ذات کا ایک قیدی ملکی سلامتی کیلئے خطرہ ہے"-
عمران خان اپنی ذات کا قیدی نہیں ہے، عمران خان کو ایک ذہنی مریض عاصم منیر نے اپنی انا کی خاطر ناحق قید میں ڈال رکھا ہے-
تم نے آج کہا کہ "اب کسی کو کوئی بیانیہ بنانے کی اجازت نہیں دی جائے گی"-
تم کون ہوتے ہو کسی سیاسی جماعت یا سیاسی رہنما کے بیانیے کو روکنے والے؟ آئینِ پاکستان نے تمہیں عوام کا نوکر بنایا ہے، مالک بن کر سیاستدانوں کے بیانیے روکنے والے تم ہو کون؟
آج جس بدمعاشی سے تم نے پریس کانفرنس کی ہے یہ واضح کرتا ہے کہ عاصم منیر خود کو ایکسٹینشن اور استثنیٰ ملنے کے بعد خُدا کی زمین پر خُدا سمجھ بیٹھا ہے-
تم اور تمہارے عاصم منیر جیسے کئی فرعون آئے، کئی وقت کے یزید آئے، آج کوئی اُنکا نام لینے والا نہیں ہے، تمہارا نام و نشان مٹ جائے گا، تاریخ تمہیں کوڑے دان میں پھینک چکی ہے، تمہارا ذہنی مریض عاصم منیر جلد ماضی بن جائے گا جس کی قبر پر بھی لوگ تھوکیں گے- "تم جب بھی بولو گے جھوٹ ہی بولو گے، جب بھی منہ کھولو گے تو غلاظت ہی بَکو گے".
”عاصم منیر ایک ذہنی مریض ہے جس کی اخلاقی پستی کی وجہ سے پاکستان میں آئین اور قانون مکمل طور پر ختم ہو چکے ہیں اور کسی بھی پاکستانی کے بنیادی انسانی حقوق اب محفوظ نہیں۔
مجھے اور میری اہلیہ کو عاصم منیر کے حکم پر جھوٹے مقدمات میں جیل میں رکھا گیا ہے اور شدید ترین ذہنی ٹارچر کیا جا رہا ہے۔ مجھے مکمل طور پر ایک سیل میں بند کر کے قید تنہائی میں ڈالا ہوا ہے۔ چار ہفتے تک میری کسی ایک انسان سے بھی ملاقات نہیں ہوئی۔ اور بیرونی دنیا سے بالکل بےخبر رکھا گیا، جیل مینؤل کے مطابق دی جانے والی ہماری بنیادی ضروریات بھی ختم کر دی گئی ہیں۔
ہائی کورٹ کے احکامات کے باوجود پہلے میری سیاسی ساتھیوں سے ملاقات پرپابندی لگائی گئی اور اب وکلأ اور اہل خانہ سے ملاقات بھی بند کر دی گئی ہے۔ انسانی حقوق کا کوئی بھی چارٹر اٹھا کر دیکھیں ذہنی تشدد بھی "ٹارچر" ہی کہلاتا ہے اور جسمانی تشدد سے بھی ذیادہ سنگین عمل سمجھا جاتا ہے۔
میری ہمشیرہ نورین نیازی کو سڑک پر گھسیٹا گیا، صرف اس لیے کہ وہ مجھ سے ملاقات کا جائز حق مانگ رہی تھیں، یہ صرف عاصم منیر جیسا شخص ہی کر سکتا ہے۔ اس نے ڈاکٹر یاسمین راشد جیسی بزرگ کینسر سرائیوور کو سیاسی انتقام کی غرض سے جیل میں ڈالا ہوا ہے۔ میری اہلیہ بشریٰ بیگم کو صرف مجھ پر دباؤ ڈالنے کے لیے قید کیا ہوا ہے۔ ان کے بچوں سے بھی انکی ملاقات نہیں کرنے دی جا رہی۔ ان کو تمام سہولیات سے محروم رکھا گیا ہے، ان سب مثالوں سے اس شخص کی ذہنی سطح کا اندازہ ہوتا ہے۔
قید تنہائی کاٹنا انتہائی تکلیف دہ عمل ہے لیکن میں یہ صرف اپنی قوم کی خاطر برداشت کر رہا ہوں۔ جب تک قوم خود غلامی کی زنجیریں نہیں توڑتی، پاکستان پر مسلط مافیاز ایسے ہی اس کا استحصال کرتے رہیں گے۔ ایکسٹینشن مافیا، لینڈ مافیا، چینی مافیا، مینڈیٹ چور مافیا ہر ایک اس قوم کو تب تک غلام بنا کر رکھے گا جب تک کہ یہ قوم خود اٹھ کھڑی نہیں ہوتی۔ آپ آج ان کے غلام ہیں، آپ کی نسلیں ان کی نسلوں کی غلام ہوں گی اگر اس چکر کو توڑنا ہے تو قوم کو خود غلامی کی زنجیریں توڑ کر “حقیقی آزادی” کے لیے کھڑا ہونا ہے۔
وکٹ کے دونوں جانب کھیلنے والوں کی میری پارٹی میں کوئی جگہ نہیں ہے۔ ایسے لوگ تحریک انصاف کے "میر صادق" اور "میر جعفر" ہیں۔ این ڈی یو ورک شاپ میں تحریک انصاف کے لوگوں کی شرکت شرمناک ہے۔ ایک جانب ہم لوگ ہر قسم کی سختیاں برداشت کر رہے ہیں تو دوسری جانب جب ہمارے ہی لوگ ہم پر ظلم ڈھانے والوں سے سماجی تعلقات بڑھانے کی کوشش کرتے ہیں تو مجھے انتہائی تکلیف ہوتی ہے۔
میں ہمیشہ کہتا آیا ہوں کہ اپنے ہی لوگوں پر ڈرون اٹیکس اور ملٹری آپریشنز سے دہشتگردی مزید بڑھتی ہے- عاصم منیر کی پالیسیاں اس ملک کے لیے تباہ کن ہیں۔ اس ہی کی پالیسی کی بدولت آج ملک میں دہشتگردی کا ناسور بے قابو ہے جس پر مجھے انتہائی دکھ ہے۔ اس کو اپنے ملک کے مفادات کی رتی برابر بھی پرواہ نہیں ہے۔ یہ جو کچھ کر رہا ہے، محض مغربی دنیا کی خوشنودی کے لیے کر رہا ہے۔ افغانستان کے ساتھ آگ کو جان بوجھ کر بھڑکایا، اس کا مقصد ہے کہ اسے “انٹرنیشنلی مجاہد” سمجھا جائے- اس نے پہلے افغانوں کو دھمکایا، پھر مہاجرین کو ملک سے دھکے دے کر باہر نکالا، ان پر ڈرون حملے کیے جس کے اثرات پاکستان میں دہشت گردی بڑھنے کی صورت میں آئے۔ اس شخص نے اپنے ذاتی مفاد کے لیے ملک کو دہشتگردی کی بھینٹ چڑھا دیا ہے۔
سہیل آفریدی قابل تعریف ہے کیونکہ جبر کے اس ماحول میں وہ مفاہمت کے بجائے مزاحمت کو ترجیح دے رہا ہے۔ سہیل آفریدی کو پیغام دیتا ہوں کہ وہ فرنٹ فٹ پر آ کر کھیلتا رہے۔ اس ملک میں کوئی قانون اور آئین نہیں ہے۔ قانون صرف تحریک انصاف کے لیے حرکت میں آتا ہے ورنہ ہر کوئی اس سے مبرا ہے۔ سہیل آفریدی جو بھی کر رہا ہے اسے جاری رکھے میں اس کی مکمل حمایت کرتا ہوں۔
گورنر راج کی دھمکیاں لگانے والے کل کی بجائے آج لگا لیں اور پھر دیکھیں ان کے ساتھ ہوتا کیا ہے!!
محمود خان اچکزئی اور علامہ راجہ ناصر عباس میرے لیے انتہائی قابل احترام ہیں۔ وہ جمہوریت پسند اور اصول پرست لوگ ہیں۔ مجھے حیرت ہے کہ اب تک ان کا نوٹیفکیشن جاری نہیں ہوا۔ میں تحریک انصاف کی پارلیمانی جماعت کو ہدایت کرتا ہوں کہ سپیکر اور چئیرمین سینیٹ کے سامنے اس معاملے پر احتجاج کریں تاکہ ان کا اپوزیشن لیڈر کا نوٹیفکیشن جاری کیا جائے۔ اس کے علاوہ موجودہ نظام مخالف کسی بھی قسم کی تحریک کے لیے جو بھی کال تحریک تحفظ آئین پاکستان کی جانب سے دی جائے تمام تحریک انصاف اس پر عمل کرے“
اڈیالہ جیل میں نا حق قید سابق وزیراعظم پاکستان عمران خان کی ایک ماہ قید تنہائی کے بعد اپنی بہن سے ہونے والی ملاقات میں گفتگو (2 دسمبر، 2025)
Part 1 of 2
🚨🇵🇰 “WHERE IS IMRAN KHAN?” - THE QUESTION THAT JUST EXPLODED ACROSS PAKISTAN
Imran Khan’s party is sounding the alarm: the former PM hasn’t been seen by family or lawyers in 23 days, no explanations, no medical checks, nothing.
For a 73-year-old behind bars on charges he says were engineered by the military, that silence is loud.
PTI says he’s being held in “illegal isolation.”
Prison officials insist he’s “in good health.”
Some media whisper he might be moved to a high-security facility to make access even harder.
Meanwhile, WHEREISIMRANKHAN is trending like a national panic button - because Pakistan’s political memory is long, and enforced disappearances are not hypothetical.
Let’s be real: Khan’s downfall was never just about corruption cases. It was about crossing the military, the same institution that un-makes prime ministers as easily as it installs them.
His 2023 arrest triggered the biggest anti-army protests in years - and the establishment hasn’t forgotten.
If the government doesn’t produce him publicly soon, this goes from a health scare to a legitimacy crisis.
PTI supporters are already mobilizing, the streets are watching, and the military hates uncertainty.Keep your eyes on Rawalpindi - that’s where the real answers usually come from.
Source: Street Insider, Reuters
میرے والد کو گرفتار ہوئے 845 دن ہو چکے ہیں۔ پچھلے چھ ہفتوں سے انہیں مکمل بے خبری کے ماحول میں ڈیتھ سیل میں تنہا رکھا گیا ہے۔ ان کی بہنوں کو ہر ملاقات سے روک دیا گیا ہے حالانکہ عدالت کے واضح احکامات موجود ہیں۔ کوئی فون کال نہیں، کوئی ملاقات نہیں اور زندگی کی کوئی خبر نہیں۔ میں اور میرا بھائی اپنے والد سے کسی قسم کا رابطہ نہیں کر سکے۔
یہ مکمل اندھیرا کسی حفاظتی پروٹوکول کا حصہ نہیں۔ یہ ایک جان بوجھ کر کی گئی کوشش ہے تاکہ ان کی حالت کو چھپایا جائے اور ہمارے خاندان کو یہ نہ معلوم ہو سکے کہ وہ محفوظ ہیں یا نہیں۔
واضح رہے کہ پاکستانی حکومت اور اس کے آقاؤں کو میرے والد کی حفاظت اور اس غیر انسانی تنہائی کے ہر نتیجے کی قانونی، اخلاقی اور بین الاقوامی سطح پر مکمل ذمہ داری اٹھانا ہوگی۔
میں عالمی برادری، بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیموں اور ہر جمہوری آواز سے اپیل کرتا ہوں کہ فوری مداخلت کریں۔ زندگی کی تصدیق کا مطالبہ کریں، عدالت کے احکامات کے مطابق رسائی یقینی بنائیں، اس غیر انسانی تنہائی کو ختم کریں اور پاکستان کے سب سے مقبول سیاسی رہنما کی رہائی کا مطالبہ کریں جنہیں صرف سیاسی وجوہات کی بنا پر قید رکھا گیا ہے۔
My father has been under arrest for 845 days. For the past six weeks, he has been kept in solitary confinement in a death cell with zero transparency. His sisters have been denied every visit, even with clear court orders allowing access. There have been no phone calls, no meetings and no proof of life. Me and my brother have had no contact with our father.
This absolute blackout is not a security protocol. It is a deliberate attempt to hide his condition and prevent our family from knowing whether he is safe.
Let it be clear: the Pakistani government and its handlers will be held fully accountable legally, morally and internationally for my father’s safety and for every consequence of this inhumane isolation.
I call on the international community, global human rights organisations and every democratic voice to intervene urgently. Demand proof of life, enforce court ordered access, end this inhumane isolation and call for the release of Pakistan’s most popular political leader who is being held solely for political reasons.
الحمد للہ۔ ہری پور سے عمر ایوب صاحب کے حلقے میں پی ٹی آئی کی شاندار کامیابی قوم کو مبارک ہو۔ یہ جبر اور جھوٹ کے خلاف استقامت کی فتح ہے۔ لاہور میں حلقہ ۱۲۹ میں ریاستی اہل کاروں نے ریٹرننگ افسر کے دفتر پر قبضہ کر لیا ہے۔ قوم سرکاری جھوٹ کو رد کر چکی ہے۔ ووٹ عمران خان کا ہے۔