آج میں باقائدہ طور پر پارلیمانی سیاست کو چھوڑنے کا اعلان کرتا ہوں، اِسی کے ساتھ پشاور بھی چھوڑنے کا اعلان کرتا ہوں۔
لیکن یہ بات واضح رہے کہ @ANPMarkaz ناں چھوڑی ہے، ناں چھوڑ رہا ہوں، نہ چھوڑوں گا۔
باچا خان بابا، ولی خان بابا کا سپاہی ہوں, پارٹی کو جب بھی ضرورت ہوئ حاضر رہوں گا۔
اٹک سے رحیم یار خان تک بدمعاشی، غنڈہ گردی، قبضہ گروپس، گینگز اور ڈاکوؤں کا خاتمہ کر دیا گیا، حتیٰ کہ پنجاب کا بدنامِ زمانہ کچّا علاقہ بھی پنجاب کی بیٹی مریم نواز کی قیادت میں صاف ہو گیا؛ گزشتہ روز کچّے کے علاقوں میں سخت اور فیصلہ کن کارروائیاں ہوئیں، ڈرون اور ٹارگٹڈ آپریشنز سے کئی ڈاکو مارے گئے اور باقی نے ہتھیار ڈال دیے، جس کے نتیجے میں برسوں خوف پھیلانے والے عناصر جان بچانے کے لیے خود پولیس کے سامنے پیش ہوئے۔ مریم نواز نے پنجاب کو امن کا گہوارہ بنا دیا ہے ، جہاں ڈاکو ہے نہ چور ہے نہ بدمعاش ، لوفر لفنگے سب بھاگ گئے ، انتہا پسندی بھی ختم ہوگی ، ایسا پاکستان چاہیے جہاں امن ہو سکون ہو ، آزادی ہو ، مذہبی رواداری ہو ، میرے بیٹیاں بہنیں ماں محفوظ ہو
شکریہ مریم نواز،
Awareness was taken away from the Pashtuns, we will restore it. Our province was deliberately deprived of development, we will bring progress back once again. This is our mission, and we will not step back. InshaAllah
��ابق وزیر اعلیٰ امیر حیدر خان ہوتی کا چارسدہ فاروق اعظم چوک میں جلسہ سے خطاب یہ دن کی روشنی میں جلسہ ہے اور اس ویڈیو میں زوم کرکے دیکھایا جارہا ہے تاحد نگاہ عوام کا سمندر ہے خیبر پختونخوا بدل رہا ہے تبدیلی سے جان چھڑوانے کا وقت آگیا ہے
مشعال یوسفزئی کا ثمر ہارون بلور سے مکالمہ اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ جب پاکستانی سیاست میں پیراشوٹرز مسلط کیے جاتے ہیں تو اقدار، قربانیاں اور شائستگی پامال ہو جاتی ہیں۔ ایک طرف شہید بشیر بلور کی بہو اور شہید ہارون بلور کی اہلیہ ہیں جنہوں نے ریاست کے لیے لاشیں اٹھائیں، جبکہ دوسری طرف ایک ایسی خاتون کھڑی ہے جس کی شناخت نہ سیاسی جدوجہد ہے نہ عوامی خدمت، بلکہ جو ماضی میں بشریٰ بی بی کی ذاتی کنیز اور جوتے و کپڑے تیار کرنے تک محدود رہی۔ شہداء کے خانوادے سے اس لہجے میں بات کرنا محض بدتہذیبی نہیں بلکہ شہداء کے خون، ریاستی وقار اور قومی غیرت پر حملہ ہے، اور یہی پیراشوٹر، ناتجربہ کار اور اخلاقی دیوالیہ پن کا شکار چہرے نظریے اور قربانی کی جگہ خوشامد اور بند کمروں کے فیصلے سیاست کے طور پر مسلط کر دیتے ہیں۔
پاکستان اور افغانستان کے درمیان جاری کشیدگی کے باعث ایک جانب تجارت متاثر ہو رہی ہے تو دوسری جانب وہاں زیرِ تعلیم پشتون طلبہ کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ راستوں کی بندش کے باعث یہ طلبہ پاکستان واپس نہیں آ سکتے اور ہوائی سفر کے اخراجات برداشت کرنا بھی ان کے لیے ممکن نہیں۔ صوبائی حکومت سے مطالبہ ہے کہ وہ اس مسئلے پر وفاقی حکومت سے بات چیت کرے اور ان طلبہ کے لیے کوئی عملی حل نکالا جائے۔ اس کے ساتھ ساتھ وسطی ایشیا میں پھنسے ہ��ئے ہمارے طلبہ کے لیے بھی محفوظ اور مؤثر راستہ فراہم کیا جائے۔
عوامی نیشنل پارٹی کے رکن صوبائی اسمبلی نثار باز خان کا اسمبلی اجلاس میں خطاب
#ANP | #NisarBaazKhan | #ANPPakhtunkhwa
کمال اتاترک نے اپنے سپاہیوں کو حکم دیا کہ ملک کے بڑے ملاؤں کو میرے پاس لے آئیں، جب ملاں آئے تو اس نے ان سے کہا:
کسان حکومت کے لیے گندم، چاول وغیرہ اگاتے ہیں، گوشت، ڈیری فارمرز، درزی اور دیگر چیزیں بنانے والے اپنے لوگوں اور اپنی حکومت کو فائدہ پہنچانے کے لیے کوہی کار آمد کام کرتے ہیں۔...
آپ اپنی حکومت اور اپنی قوم کے لیے کیا کر رہے ہیں؟
ملاؤں نے کہا: ہم آپ کے اور اپنے لوگوں کے لیے دعائیں کرتے ہیں۔
کمال اتاترک نے پھر انہیں سمندری سفر کی دعوت دی اور ایک ملاح کو حکم دیا کہ وہ جہاز کو بیچ سمندر میں چھید کر دے ۔
سمندر کے بیچوں بیچ ملاؤں نے جب جہاز میں سوراخ دیکھا اور جہاز میں پانی بھرتا دیکھا تو وہ سب چیخنے لگے
کشتی کے نگہبانوں نے ملاؤں سے کہا کہ وہ دعا کریں تاکہ جہاز میں وہ سوراخ بند ہو جائے،
ملاؤں نے غصے میں آکر بلند آواز سے جواب دیا کہ کبھی دعا سے بھی سوراخ بند ہوا،
تو ملاحوں نے کہا اس پانی کو ہمیں جہاز سے نکالنا ہو گا ورنہ ہم سب مارے جاہیں گے۔
کشتی کے ملاحوں نے کچھ بالٹیاں ملاؤں کے ہاتھوں میں تھما دیں اور کہا کہ وہ لگاتار پانی نکالتے رہیں۔ملاوں نے بغیر رکے جہاز سے پانی نکالنا شروع کر دیا۔۔
ملاحوں نے جہاز کو واپس موڑا اور تیز رفتاری سے ساحل پر واپس پہنچا دیا۔۔
سب ملاں تھکن سے ایک کونے میں گر گئے۔
کمال اتاترک ان سے پھر ملنے آیا ان کی طرف متوجہ ہوا کہا:
اب آپ لوگ سمجھ گئے ہونگے کہ ہمیں آپ کی دعاؤں کی ضرورت نہیں، آپ کو ملک و قوم کے لیے کچھ کام بھی کرنا ہوگا۔۔ تاکہ آپ کے فائدے عوام اور حکومت تک پہنچیں، کام کے سوا کوئی ملک ��عاؤں سے ترقی نہیں کرتا اور آپ ملاؤں نے ہمیشہ مذہب کو اپنے ذاتی فائدوں کے لیے استعمال کیا ہے۔۔
ترک ادب سے انتخاب
The modern architect of Pakhtunkhwa! With a low majority, he still delivered what the ANP had promised. for education dozens building, for democracy the 18th Amendment, and to securing peace with thousands of sacrifices. This is the party that actually planned governance!
یہ تحریر جنرل ساحر شمشاد مرزا پر بھونکنے والے صحافیوں کے نام ھے۔
آرمی میں سفارش نہیں میرٹ چلتا ھے اور اسکا زندہ ثبوت ریٹائرڈ ہونے والے جنرل ساحر شمشاد مرزا ہیں۔
جب یہ صرف 3 سال کے تھے تو انکے والدین ایک روڈ ایکسیڈنٹ میں دنیا سے چلے گے لیکن اس کے باجود ان کی ترقی اس بات کا ثبوت ھے کہ پاکستان میں فوج ہی وہ واحد ادارہ ہے جہاں ایک یتیم بے سہارا اور لاوارث بچہ اپنی محنت اور قابلیت سے اعلی مقام تک بھی پہنچ سکتا ھے۔
یتیم اور مسکین ہونے کیوجہ یہ بچپن سے ہی ظالم دنیا کی ٹھوکروں میں آ گے، لیکن ہمت نہیں ہاری پہلے میٹرک اور بمشکل ایف ایس سی کیا اور پاکستان آرمی میں کمیشن اپلائی کیا جس میں یہ کامیاب ہو گے۔ اور پھر یہ محفوظ ہاتھوں میں چلے گے، وہاں پر کاکول سے گریجویشن کے بعد انہیں آٹھ سندھ رجمنٹ میں بھیجا گیا جہاں ایک دلچسپ وا��عہ پیش آیا کہ
اس نوجوان لیفٹیننٹ سے ضروری دستاویزات مکمل کرواتے ہوئے پوچھا گیا کہ اپنے وارث کا نام لکھواو تاکہ خدانخواستہ اگر آپ کچھ ہو جائے تو جائے تو پینشن کس کو دینی ھے
تو یہ نوجوان سوچنے لگا ۔۔۔ نا ماں نا باپ نا بہن نا بھائی اور نہ ہی کوئی اور قریبی رشتہ اور پھر اس نے وارث کے خانے میں سندھ رجمنٹ کا نام لکھوا دیا۔۔ یہ لڑکا اپنی محنت لگن اور زہانت سے ترقی کرتا گیا اور بالآخر تینوں افواج کا چیف بن گیا۔ ان کے ریٹائرڈ ہوتے ہی کچھ صحافی گدھ ان پر ٹوٹ پڑے ہیں اور مختلف الزام لگانا شروع کر دیے ہیں حالانکہ انہوں نے پوری زندگی ناک کی سیدھ میں گزاری ھے کبھی اپنی حد سے تجاوز نہیں کیا۔ کبھی کرپشن نہیں کی۔ اور کرتے بھی کس کے لئے کیونکہ انہوں نے تو شادی بھی نہیں کر رکھی تھی۔ وہ تو جب یہ بزرگ ہو چکے تھے تو جنرل فیض اور اسکی فیملی کے اصرار پر انہوں نے شادی کی۔ انکا سب سے قریبی دوست جنرل فیض تھا اور اس شخص نے انکو استعمال کرنے کی کوشش بھی کی لیکن انہوں نے اپنے پروفیشن اور فرض کے بیچ دوستی کو نہیں آنے دیا۔ حالانکہ 9 مئی بغاوت والے دن انکو چیف بننے کی افر بھی کی گئی اور سب کچھ ٹیک اوور کرنے کا بولا گیا لیکن انہوں نے اسے ٹھکرا کر ایک پروفیشنل جنرل کی طرح ساری بغاوت کو کچلا اور فوری اعلان کیا کہ لاہور کے کور کمانڈر کے کسی احکامات کو نہ مانا جائے کیونکہ یہ سب سمجھ چکے تھے کون کہاں سے سازش کر رہا ھے۔ ایسے شاندار جنرلز بہت کم دیکھنے کو ملتے ہیں جنہوں نے اتنے اعلی عہدے پر رہنے کے باوجود کوئی متنازعہ یا غیر آئینی کام نہیں کیا۔
سر آپکو سیلوٹ ھے🙌
جرمنی نے پاکستانی ہنر مندوں کے لیے ایک نیا پروگرام شروع کیا ہے۔
اس کے تحت اب پاکستانی شہری بغیر نوکری کے بھی ایک سال کے لیے جرمنی جا سکتے ہیں۔
اس دوران وہ ہفتے میں 20 گھنٹے تک پارٹ ٹائم کام کر سکتے ہیں تاکہ رہائش اور ضروریات پوری ہو سکیں۔
درخواست دینے والے کو زبان، تعلیم، تجربہ، عمر اور دیگر عوامل کی بنیاد پر کم از کم 6 پوائنٹس درکار ہیں۔
امیدوار کو ہر ماہ €1091 کے اخراجات کے لیے ثبوت دینا ہوگا۔
درخواستیں آن لائن جمع کرائی جائیں گی، اور منظور ہونے پر Opportunity Card ملے گا، جس کے بعد جرمنی جا کر رہائش، ہیلتھ انشورنس اور مقامی رجسٹریشن مکمل کرنا ہوگی۔
Link: https://t.co/4lYeSVvI2C
گرم کمروں میں بیٹھ کر نرم بستروں پر سونے والے، اور پیٹ بھر کر فوج پر تنقید کرنے والو!
ذرا سوچو… اگر یہ فوج درمیان سے ہٹ جائے تو کون ہے جو ہمیں کفار، مشرکین اور خوارج سے بچائے گا؟ 💭
یہ پاک فوج ہی ہے جو راتوں کی نیندیں قربان، اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر، ہمارے کل کو محفوظ بناتی ہے۔
برٹش کونسل کے مطابق اس سال او لیول کے امتحان میں ایک لاکھ امیدوار شرکت کریں گے۔ O level میں آٹھ مضامین کی امتحانی فیس 211000 روپے ہیں۔
اس طرح صرف ایک او لیول کے امتحان میں کیمبرج بورڈ 21 ارب روپے پاکستان سے لے جائے گا۔ جبکہ فیڈرل گورنمنٹ کا پورے سال کا ہائر ایجوکیشن کا بجٹ 6 ارب روپے ہے۔
کہاں صرف ایک امتحان میں ہماری ایلیٹ کلاس 21 ارب خرچ کر دیتی ہے جبکہ قائد اعظم یونیورسٹی کا یہ سات سال کا بجٹ ہے اور اس میں اے لیول ، آئی جی سی ایس ای اور جی سی ایس ای کے طلباء شامل نہیں ہیں
اگر سب ملا لیں تو صرف ایک امتحان کی مد میں کیمبرج یونیورسٹی تیس ارب اکٹھے کر لیتی ہے۔ اور مزید جان لیں کہ او لیول ، اے لیول اور آئی جی ایس ای کے امتحانات سال میں دو بار ہوتے ہیں . یعنی سال کا تقریباً پچاس ��رب روپیہ پاکستان سے صرف ایک یونیورسٹی نکالتی ہے
امریکن سکولز ، پاک ترک سکولز اور غیر ملکی یونیورسٹیوں کے کیمپس الگ کمائی کرتے ہیں
اور ہم گھر میں گھس کر مارنے کی تیاریاں کر رہے ہیں
جبکہ بین الاقوامی تعلیمی ادارے ہمارے نظام کی کمزوریوں سے فایدہ اٹھا کر ہمارے گھر میں گھس کر ہمارا مال بھی لوٹ رہے ہیں
اور ہمارے ذہین بچوں کو بھی باہر کھینچ رہے ہیں . دراصل ہمارا سیاست سے ہی نہیں تعلیم سے بھی کوئی تعلق نہیں ہے۔
تھوڑا نہیں پورا سوچئے گا 📷
کس کس نظام کو روئیں؟؟؟
حیرت ہے فیصل آباد میں اتنا بڑا سانحہ ہوا ۔۔ تیس چالیس دیہاڑی دار مزدور بے موت مر گئے لیکن کوئی قیامت برپا نہیں ہوئی ۔ نا کسی نے ان اداروں پر سوال اٹھایا جو سیفٹی کے ذمے دار ہیں نا مالکان کے احتساب کا مطالبہ کیا۔
اخلاقیات اور نظریات حکومت اور اپوزیشن میں ہونے کی صورت میں بدل جاتے
پاکستان نے آئی ایم ایف سے خود رابطہ کیا اور درخواست کی کہ وہ آکر ہماری گورننس اور کرپشن سے متعلق مسائل کا جائزہ لیں۔ اس کے بعد آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کا وفد پاکستان آیا، وفد نے ملک کے مختلف شعبوں کا جائزہ لیا اور تقریباً آٹھ ماہ کی محنت کے بعد ایک تفصیلی رپورٹ تیار کی،یہ رپورٹ پاکستان کے حکام کے ساتھ شیئر کی گئی، جس میں وہ بنیادی نکات شامل تھے جنہیں حل کرنا ضروری قرار دیا گیا تھا۔ وفد نے تجویز دی کہ رپورٹ شائع کی جائے تاکہ عوام کو اندازہ ہو سکے کہ بار بار بیرون�� مالی معاونت کی ضرورت کیوں پیش آتی ہے۔ پاکستان کی جانب سے رپورٹ شائع کرنے میں ہچکچاہٹ ظاہر کی گئی تو ورلڈ بینک نے یہ مؤقف اختیار کیا کہ رپورٹ جاری نہ ہونے کی صورت میں 1.2 ارب ڈالر کی قسط روک دی جائے گی ، نصرت جاوید
@javeednusrat
ٹی ٹی پی افغان سرزمین کو پاکستان پر حملوں کے لیے استعمال کررہی ہے۔ تقریباً چھ ہزار جنگجوؤں پر مشتمل یہ گروہ خطے کے لیے تیزی سے بڑھتا ہوا سنگین خطرہ بن چکا ہے، جسے افغان حکومت کی لاجسٹک اور عملی سہولت کاری بھی حاصل ہے۔ ٹی ٹی پی نے افغان سرزمین کو استعمال کرتے ہوئے پاکستان میں متعدد ہائی پروفائل حملے کیے ہیں۔
ڈنمارک کا اقوام متحدہ سیکیورٹی کونسل میں بیان
اپنی ناقص کارکردگی ہم مت ڈالو
مارخور ان سوشل پوسٹس اور افواہوں کی سختی سے تردید کرتا ہے کہ دبئی ائیر شو میں گرنے والے بھارتی طیارے کو پاکستان نے سائبر حملے یا GPS spoofing سے گرایا ہے
پاکستان ایک ذمہ دار ملک ہےیہ ائیر شو کوئی جنگی میدان نہیں تھا اپنا گند خود صاف کرو
⚔️🇵🇰⚔️
میں جس نائی سے کٹنگ کرواتا تھا اس کے بچے نے تین سالہ ڈپلومہ کیا تھا سول انجئیرنگ کا ، مجھ سے اس نے ریکویسٹ کی تھی کہ اسے آپ کہیں لگوا دیں میں نے اسے معمولی تنخواہ پر 2017 میں ہیڈ تریموں پر چائینز کمپنی میں بطور ٹرینی بھرتی کروایا تھا لڑکا محنتی تھا سال دو سال بعد قطر چلا گیا کوئی سال چھ مہینے پہلے اس کے والد کا شکریہ کے لیے فون آیا باتوں باتوں میں اس نے بتایا کہ ایک لڑکا سعودی عرب چلا گیا ھے اور اس سے چھوٹا بھی قطر بلا لیا ھے بھائی نے اور وہ خود آٹھ مرلے پر کوٹھی بنا کر اس میں شفٹ ہوچکا ھے ، یہ بات جب مریم نواز نے حکومت ��نبھالی تھی تو میں کی تھی کہ نوجوانوں کو ہنر مند بنائیں صرف تعلیم کوئی چیز نہیں ھے پریکٹکل لائف میں ۔۔۔