217 دن گزر گئے، لیکن نورالله ترین اور حنیف پشتین کا کوئی پتا نہیں۔ خاموشی انصاف نہیں ہوتی۔ ہم آج بھی وہی سوال دہراتے ہیں۔
نورالله ترین اور حنیف پشتین کہاں ہیں؟
کل ضلع کرم میں قیامت خیز دن تھا۔ کئی گھر اُجڑ گئے، چھوٹے بچوں اور خواتین تک کو نہیں بخشا گیا، لیکن پنجاب کے نیوز چینلز پر اس بارے میں ایک پوسٹ تک نہیں لگائی گئی۔ آج اس کے صرف ایک دن بعد آصف غفور کے کتے کی موت ہوئی تو ہیڈ لائن والی خبر بن گئی۔ یہی ہمارے پختونوں کی حیثیت ہے اس ملکِ خداداد میں۔
آج قوموں پر دباؤ ڈالا جا رہا ہے کہ لشکر بناؤ اور لڑو۔ اگر میرا پشتون یا بلوچ ان سے لڑے گا تو ان کی دشمنیاں نسلوں تک جاری رہیں گی یہ ان کی ذمہ داری نہیں یا تو پھر آپناعلان کر دیں کہ ہر پاکستانی کو فوجی تربیت دی جائے گی لیکن ہمیں تو یہاں ایک پستول رکھنے کی بھی اجازت نہیں،
مولانا فضل الرحمان
برقعے میں لپٹی چہرے پر نقاب لیے ایک مسلمان عورت فرانس کی ایک سپر مارکیٹ میں خریداری کر رہی تھی، ٹرالی میں مطلوبہ سامان ڈالنے کے بعد وہ کیش کاونٹر کی طرف ادائیگی کیلئے بڑهی.
ایک چست لباس پہنے ہوئے سیلز گرل جو اپنےنقش ونگار سے عرب لگ رہی تھی.
اس نے حجاب میں لپٹی اس عورت کو ایک حقارت کی نظر سے دیکھا اور بڑبڑاتے ہوئے اس کا حساب بنانے لگی. حجاب عورت خاموش کهڑی تهی، لیکن اس کی خاموشی سیلز گرل کیلئے مزید جنجھلاہٹ کا باعث بنی.
بولی. پہلے کیا کم مسائل ہیں فرانس میں ہم مسلمانوں کیلئے، روز ایک نئی مصیبت کهڑی ہوتی ہے، تمہارا یہ نقاب ہی تو ان مسائل کی جڑ ہے.
ہم یہ کیوں نہیں سمجھتے کہ ہم یہاں تجارت یا سیاحت کیلئے آتے ہیں، دین کی اشاعت اور اسلاف کی تاریخ بیان کرنے نہیں.
اگر تم اتنی ہی دیندار ہو تو واپس جاو اپنے وطن اور جیسے چاہو رہو. ہماری جان چهوڑو.
پردہ دار خاتون نے اپنا پرس کاونٹر پر رکھا اور اپنے چہرے سے نقاب ہٹادیا. نیلی آنکھیں، سنہرےبال.
.یورپی نقوش.
کہنے لگی، میں خاندانی فرانسیسی ہوں، یہ فرانس تمہارا نہیں، میرا وطن ہے، پر میرا دین اسلام ہے. بات اور کچھ نہیں ہے، بات صرف یہ ہے کہ تم نے اپنے دین کو بیچ دیا ہے..اور میں نے اسے خرید لیا ہے_
یہ ایک پشتون ماں کی لاش ہے، جسے اس قدر مسخ کر دیا گیا کہ اب اسے کفن میں لپیٹ کر بھی دنیا کے سامنے نہیں لایا جا سکتا ہے۔ کل کرم میں ہونے والے ڈرون حملے میں اپنے معصوم بچوں سمیت جان سے ہاتھ دھو بیٹھی ،
اگر غیرت صرف نعروں، تقریروں اور قصوں کا نام ہے تو پھر اس کی حقیقت کیا ہے؟ اصل غیرت تو مظلوم کے ساتھ کھڑے ہونے، حق کی بات کرنے اور ظلم کے خلاف آواز بلند کرنے کا نام ہے
لاہور میں ایک سولہ سالہ کم عمر رکشہ ڈرائیور کو سی سی ڈی نے گولیاں مار کر شہید کردیا۔ نا کوئی سوشل میڈیا پر آہ و بکا ہوئی نا کسی نے جرائم کو کھنگالا۔ ہم وہ بدنصیب بدترین منافق قوم ہیں جو کسی کا سٹیٹس دیکھ کر اسکا ماتم کرتے ہیں۔
"ہسپتالوں میں زخمیوں پر تشدد اور نہتے مظاہرین پر فائرنگ جیسا گھناؤنا کھیل کبھی بھارتی فوج نے بھی مقبوضہ کشمیر میں نہیں کھیلا؛ یہ کام کر کے آپ ہندوستان کو پیچھے چھوڑ کر اسرائیل کی صف میں شامل ہو گئے ہیں!"
— عمر نذیر کشمیری
خبر کا ذریعہ جاننے کے لیے QR Code Scan کریں
#Pakistan
گلگت بلتستان کے انتخابات اور گذشتہ دنوں کوٹلی اور اس سے قبل راولاکوٹ میں دہرائے گئے ۲۶ نومبر اور مریدکے کی تاریخ سے ان عناصر کی خوش فہمی کا تو تدارک ہوگیا ہوگا جو سمجھتے تھے کہ خدائ کے دعویداروں کے سیاہ دلوں میں رحم کی کوئ رمق باقی ہوگی۔
اب اگر اپنے بھی شرک سے باز آکر ان پتھر دل صنموں سے بھلائ کی توقع چھوڑ کر اپنے بل پر کچھ کرنے کی ٹھان لیں تو شاید اس قوم کی تاریخ ہمیں اپنے غداروں میں نہ شمار کرے۔
عمران خان کی حکومت گرا کر، بہ زورِ طاقت اس کی پارٹی توڑ کر، پاکستان کی عوام سے ان کا اپنے حکمران چُننے کا حق چھین کر پاکستان میں جس عدم استحکام کی داغ بیل ڈالی گئی وہ سلسلہ دن بہ دن اور مزید واضح طور پر باقاعدہ وطن دشمنی ثابت ہورہا ہے۔ مجھے یہ کہنے میں کوئی عار نہیں کہ اس نہج پر عاصم منیر اور اس کے ماتحت کٹ پتلی حکومتیں پاکستان توڑنے کے ایجنڈے پر محرک ہیں۔ پورے پاکستان میں جس جبر کا ماحول گرم ہے اور نہتے کشمیریوں پر جس طرح گولیوں کی بوچھاڑیں کی گئیں جس کے باوجود وہ اپنے حقوق کے لیے ڈٹ کر کھڑے ہیں، خیبر سے کراچی تک پاکستانی قوم کو کشمیر کے عوام کی آواز بن کر، ان کے ساتھ یک جہتی کا اظہار کرکے اس ملک کو ایک مرتبہ پھر کسی جابر کی معرکہ آرائیوں کا شکار بننے سے روکنے کی سبیل کرنی چاہئے۔
آج عمران خان باہر ہوتا، آج عمران خان کو ان کے بنیادی انسانی حقوق میسر ہوتے اور ان کا پیغام باہر آسکتا تو انہوں نے یہی کرنا تھا۔ اس سے بڑھ کر کرنا تھا۔
میری اطلاعات کے مطابق پارٹی نے کل پارلیمان کے باہر احتجاج کی کال دی ہے ان سے بھی گزارش ہے کہ کشمیر کے ساتھ یکجہتی اور ملک کو بچانے کے لیے عمران خان کی رہائی پر گفتگو ہو۔ انشاءاللہ میرے حلقہ انتخاب میں، **۱۳ جون ۲۰۲۶ بروز ہفتہ دوپہر دو بجے مٹہ چوک** میں، کشمیر کی عوام کے ساتھ یکجہتی ان کے ساتھ ہونے والے ظلم کے خلاف اور ملک بچانے کے لیے، عمران خان کی رہائی کے لیےاحتجاجی مظاہرہ ہوگا۔ سوات کے تمام کارکنان اس میں بھرپور شرکت یقینی بنائیں۔
یاد رکھیے!
اگر ہم آج ایک دوسرے کا بازو نہ بنے تو یہ ایک ایک کرکے ہمیں ایسے ہی ماریں گے جیسے ۲۵ مئی ۲۰۲۲ سے لے کر ۲۶ نومبر ۲۰۲۴ تک تحریک انصاف کو مارا، جیسے مریدکے میں مارا، جیسے کوٹلی اور راولاکوٹ میں مارا۔ جیسے برسوں سے بلوچستان فاٹا اور خیبر پختونخواہ میں مار رہے ہیں۔
راولاکوٹ میں رینجرز کی فائرنگ سے شہید ہونے والا نوجوان شعبان کشمیری۔
نہتے پرامن شہریوں سے اپنی بقا کی جنگ لڑتی ڈائن نما ریاست نے اس ملک کا ایک اور دلیر ہیرا نگل لیا۔
#کشمیر_کی_آواز_بند_نہ_کرو
پنجابی رياست د اسرائیلو چمونه کيي، خو افغانان نه د غزه والو په څېر کمزوري دي اؤ نه ې لاسونه تر شا تړلي !
دا چ افغانان څومره له زيات زغم کار اخلي، همدومره ځان سترو پرېکړو ته چمتو کيي....
"میں نے ایک چھوٹے لڑکے کو مارا تب میں اس کے بارے میں بہت سوچتی تھی اب ہم اس پر ہنستے ہیں۔"
اسرائیلی فوج کی ایک سپاہی اپنے چہرے پر اس مسکراہٹ کے ساتھ یہ الفاظ کہہ رہی ہے۔اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا ہے کہ آپ Siyo-Nazis سے کتنی ہی نفرت کیوں نہ کرتے ہوں یقین جانیں یہ اب بھی ناکافی ہے۔
عاصم منیر عالمی طاقتوں کا اتنا بڑا خدمت گذار نکلا ۔ یہ عالمی اسٹیبلشمنٹ کی ایسی خدمت کر رہا ہے کہ باقی سارے ملٹری چیف ملکر بھی نہیں کر سکے ۔
عاصم منیر سے ذیادہ ان چار سالوں میں نیتن یاہو اور مودی کی خدمت کسی نے نہیں کی۔
اس نے مقبوضہ کشمیر کا مقدمہ بھی ختم کر دیا بلکہ اب تو آزاد کشمیر کے بھی لالے پڑ گئے ہیں ۔
بھارت میں شادیانے بج رہے ہیں ۔مقبوضہ کشمیر کے لوگوں کے پاس پہلی بار اس سوال کا کوئی جواب نہیں ہے کہ کیا تم اب بھی پاکستان بننا چاہتے ہوئے؟! (وقار ملک )