Israel killed every single person in this photo in Lebanon.
Every. Single. One.
All journalists.
Targeted and assassinated intentionally.
For reporting the truth from the frontlines.
Consciences are deaf, and the world is mute!
The innocent ten-year-old child, who was kidnapped by Israeli soldiers a week ago, was brutally killed yesterday.
This is not a war crime, but a massacre of ethics.
Cenk Uygur just read the testimonies that the media refuses to report. A 42-year-old Palestinian woman was bound naked to a metal table and raped by Israeli soldiers for two days. A 35-year-old Palestinian man was forced to strip, had dogs urinate on him, and then a dog penetrated his anus. There are dozens of such testimonies.
Cenk argues that the media does not report these because they do not view Muslim lives as important. They have internalized the propaganda that Muslims are terrorists who deserve what they get.
This is the reality of Israeli detention and Western media complicity
A group of Israeli settlers torched a Palestinian home overnight in the occupied West Bank and prevented the family from escaping. Eight people were injured in the attack, including a one-year-old.
Human rights groups, UN investigators and Israeli legal organisations say the torture and sexual abuse of Palestinian detainees in Israel’s prisons is part of a wider system of repression.
This content may be distressing to some viewers.
يُعتبر هذا المشهد واحد من أكثر الجرائم رُعباً في كل تاريخ الحروب
لحظة قيام جندي إسرائيلي بقنص سيدة مُسنة في غزة وهي تُمسك بيد حفيدها رافعين الراية البيضاء وبعد أن قام جيش الاحتلال بإعطائهم الأمان للمرور
النسيان جريمة.
Palestyńskie dziecko zastrzelone z karabinu snajperskiego przez izraelskiego żołnierza, gdy szło z matką. Matka próbując utrzymać dziecko również została zastrzelona.
Media tego nie napiszą. Świat milczy.
To ludobójstwo.
Last night, several plainclothes armed men stormed my residence in Lahore. They brutally assaulted our staff, harassed my daughter-in-law, and forcibly took away my son, Shahrez Khan, in front of his two young daughters.
For over three years, this fascist regime in Pakistan has unleashed a reign of terror, raiding thousands of homes, abducting and harassing countless innocent civilians. Yet, despite their brutality, they have failed to break Imran Khan.
Our children understand that the struggle Imran Khan is leading is far greater than any one of us. He has set a remarkable standard of resilience against tyranny. These cowardly actions only expose the fear and desperation of the oppressors.
We place our trust in Allah alone, seeking His protection and justice.
#گھبرانا_نہیں_ہے
ڈاکٹر یاسمین راشد ہوں یا تحریک انصاف کی دیگر قیادت، ان پر مقدمہ صرف ایک ہی ہے کہ انہوں نے پاکستان میں تبدیلی کا خواب دیکھا، اور ایسی ہمت اس ملک میں پہلے کبھی کسی نے نہیں دکھائی۔
Ahsan Iqbal, Mafia Regime puppet changes his statements with audience!
To muslims he talks about Imran Khan as an Israeli agent who is anti Islam!
To non Muslim audience he calls @ImranKhanPTI Taliban Khan!
⚡️Reality:
🇵🇰Pm Imran Khan is a Pro Peace practicing Muslim🇵🇰
جہاں تک اس سوال کا تعلق ہے کہ کیا عدلیہ پارلیمان کی پاس کی گئی آئینی ترمیم کو ختم کر سکتی ہے؟ جواب یہ ہے کہ قِبلہ کیا پارلیمان مکمل ہے؟ ایک صوبہ میں سینیٹ الیکشنز ہی نہیں ہوئے اور دوسرا کہ سپریم کورٹ کے فیصلہ کے باوجود مخصوص نشستیں بھی الاٹ نہیں ہوئیں۔ اِن دونوں پر عمل کے بعد ترمیم ہو ہی نہی سکتی تھی۔
یاد رہے کہ قومی اسمبلی اور سینیٹ سے ۲۶ ترمیم ایک ایک ووٹ کی برتری سے پاس کرائی گئی۔
A growing number of skilled workers are leaving Pakistan, seeking opportunities abroad as their country faces one of Asia’s highest inflation rates and a devalued currency.
But what does this mean for the country’s economic and political prospects? https://t.co/yAknA0rvKd
Pakistan is the only country in the world where some Journalists are perfectly OK with unconstitutional interference in democratic process. Infact, they encourage it.
سابق وزیراعظم عمران خان کی جانب سے چیف آف آرمی سٹاف کو کھلا خط۔۔
“فوج بھی میری ہے اور ملک بھی میرا ہے!!
ہمارے فوجی پاکستان کے لیے قربانیاں دے رہے ہیں۔ دہشتگردی کے خلاف جنگ میں کامیابی کے لیے ضروری ہے کہ قوم فوج کے پیچھے کھڑی ہو لیکن افسوسناک امر ہے کہ اسٹیبلشمنٹ کی پالیسیوں کی وجہ سے فوج اور عوام میں خلیج دن بدن بڑھتی جا رہی ہے۔
اس کی کچھ بنیادی وجوہات ہیں جن کو مد نظر رکھتے ہوئے اسٹیبلشمنٹ کو اپنی پالیسیوں پر نظرثانی کرنے کی ضرورت ہے تا کہ عوام اور فوج کے درمیان بڑھتے ہوئے فاصلے اور فوج کی بدنامی کو کم کیا جا سکے۔
سب سے بڑی وجہ 2024 کے انتخابات میں تاریخی دھاندلی اور عوامی مینڈیٹ کی سر عام چوری ہے جس نے عوام کے غصے کو ابھارا ہے۔ جس انداز میں ایجنسیاں پری پول دھاندلی اور نتائج کنٹرول کرنے کے لیے سیاسی انجینئرنگ میں ملوث رہیں اس نے قوم کے اعتماد کو شدید ٹھیس پہنچائی ہے۔ صرف 17 نشستیں جیتنے والی پارٹی کو اقتدار دے کر “اردلی حکومت” ملک پر مسلط کر دی گئی-
دوسری وجہ چھبیسویں آئینی ترمیم ہے۔ جس طرح چھبیسویں آئینی ترمیم کے ذریعے عدلیہ کو کنٹرول کرنے کی غرض سے ملک میں آئین اور قانون کی دھجیاں اڑائی گئی ہیں اس کے خلاف پاکستانی عوام میں شدید نفرت پائی جا رہی ہے۔ میرے مقدمات "پاکٹ ججز" کے پاس لگانے کے لیے ناصر جاوید رانا نے فیصلے کو ملتوی کیا۔ عدالتوں میں جاری "کورٹ پیکنگ" کا مقصد یہی ہے کہ عمران خان کے خلاف مقدمات من پسند ججز کے پاس لگا کر اپنی مرضی کے فیصلے لیے جا سکیں۔ اس سب کا مقصد میرے خلاف مقدمات میں من پسند فیصلے، انسانی حقوق کی پامالی اور انتخابی فراڈ کی پردہ پوشی ہے تا کہ عدلیہ میں کوئی شفاف فیصلے دینے والا نہ ہو۔
تیسری وجہ "پیکا" جیسا کالا قانون ہے۔ الیکٹرانک میڈیا پر پہلے ہی قبضہ کیا جا چکا ہے، اب پیکا کی صورت میں سوشل میڈیا اور انٹرنیٹ پر بھی قدغن لگا دی گئی ہے۔ اس سب کی وجہ سے پاکستان کا جی ایس پی پلس سٹیٹس بھی خطرے میں ہے۔ انٹرنیٹ میں خلل کی وجہ سے ہماری آئی ٹی انڈسٹری کو 1.72 بلین ڈالر سے زائد کا نقصان ہو چکا ہے اور نوجوانوں کا کیرئیر تباہ ہو رہا ہے۔
چوتھی اہم وجہ ملک کی سب سے بڑی اور مقبول جماعت پر ریاستی دہشتگردی کا سلسلہ مسلسل جاری ہے۔ ہمارے لیڈران اور کارکنان کی چادر چار دیواری کا تقدس پامال کرتے ہوئے ایک لاکھ سے زائد چھاپے مارے گئے، 20 ہزار سے زائد ورکرز اور سپورٹرز کی گرفتاریاں کی گئیں، انہیں اغوا کیا گیا، لوگوں کے خاندانوں کو ہراساں کیا گیا اور تحریک انصاف کو کچلنے کی غرض سے مسلسل انسانی حقوق کی پامالی کی جا رہی ہے جس نے عوامی جذبات کو مجروح کیا ہے۔
پانچویں بڑی وجہ ملک میں سیاسی عدم استحکام کی بدولت معیشت کا برا حال ہے جس نے عوام کو مجبور کر دیا ہے اور وہ پاکستان چھوڑ کر اپنے سرمائے سمیت تیزی سے بیرون ملک منتقل ہو رہے ہیں۔ معاشی عدم استحکام اپنی انتہا پر ہے۔ گروتھ ریٹ صفر ہے اور پاکستان میں سرمایہ کاری نہ ہونے کے برابر ہے۔ کسی بھی ملک میں قانون کی حکمرانی اور عدل کے بغیر سرمایہ کاری ممکن نہیں ہوتی۔ جہاں دہشتگردی کا خوف ہو وہاں کوئی سرمایہ کاری کرنے کو تیار نہیں ہوتا۔ سرمایہ کاری صرف تب آتی ہے جب ملک میں عوامی امنگوں کی ترجمان حکومت قائم ہو اس کے علاوہ سب کلیے بے کار ہیں۔
چھٹی بڑی وجہ تمام اداروں کا اپنے فرائض چھوڑ کر سیاسی انتقام کی غرض سے تحریک انصاف کو کچلنے کا کام کرنا ہے۔ میجر، کرنل سطح کے افراد کی جانب سے عدالتی احکامات کی دھجیاں بکھیرنے کا سلسلہ جاری ہے۔ عدلیہ کے فیصلوں کو جوتے کی نوک پر رکھا جا رہا ہے، جس کی وجہ سے پوری فوج پر نزلہ گر رہا ہے۔ پرسوں اے ٹی سی کے جج نے عدالت میں میری اہلیہ کو شامل تفتیش ہونے کا حکم دیا اس کے باوجود کے وہ آنا چاہتی تھیں کسی نادیدہ قوت نے اس کو سبوتاژ کیا۔
بحیثیت سابق وزیراعظم میرا کام اس قوم کی بہتری کے لیے ان مسائل کی نشاندہی ہے جس کی وجہ سے فوج مسلسل بدنامی کا شکار ہو رہی ہے۔ میری پالیسی پہلے دن سے ایک ہی ہے یعنی فوج بھی میری اور ملک بھی میرا۔ ملکی استحکام اور سلامتی کے لیے ناگزیر ہے کہ فوج اور عوام کے درمیان کی خلیج کم ہو، اور اس بڑھتی خلیج کو کم کرنے کی صرف ایک ہی صورت ہے، اور وہ ہے فوج کا اپنی آئینی حدود میں واپس جانا، سیاست سے خود کو علیحدہ کرنا اور اپنی معین کردہ ذمہ داریاں پوری کرنا، اور یہ کام فوج کو خود کرنا ہو گا ورنہ یہی بڑھتی خلیج قومی سلامتی کی اصلاح میں فالٹ لائنز بن جائیں گی۔”