پاکستان نے آج افغانستان میں بی ایل اے کی جن تربیت گاہوں کو تباہ کیا ہے اُن کے فضائی مناظر واضح طور پر دکھارہے ہیں کہ کیسے دہشتگردوں کو پاکستان کے خلاف تربیت دی جارہی ہے
پشتون وو مخلوق ہے
جو اپنی ہر ناکامی کمی کوتاہی کو پنجاب کے گلے ڈال دیتے ہیں
جبکے روزگار کاروبار علاج اور دیگر ضروریات کیلئے بھی پنجاب ہی جاتے ہے 👇
افسوس پشتونہ چے کلہ بہ پوہے گے ،،،
@iihtishamm@fawadchaudhry فرق بالکل واضح ہے؛ پنجاب میں زانیوں کو گولی مار دی جاتی ہے جبکہ خیبر پختونخوا میں انہیں سر پر بٹھایا جاتا ہے۔ یہ مسخرا اس مسئلے کو قومپرستی یا لسانیت کا رنگ دینا چاہتا تھا، لیکن خود کو ہی شرمسار کر بیٹھا۔
@TahirImran كتی کے بچے تُجھے بلوچستان اور سرحد پر پنجابیوں سے ہوتا ہوا ظلم نظر نہیں آ رہا۔۔یا تو ہی غشتی یوتھیا ۔۔ یہ لوگ کہتے تھے پُلوں اور روڈز سے قومیں نہیں بنتی آج خود اندر پاس بنا کر جھومریان ڈال رہے ہیں اور تو منافق پنجابیوں پر بھونک رہا ہے
ڈاکٹر نجیب اللہ کو امن کا داعی یا وطن دوست قرار دینا افغان تاریخ کو مسخ کرنے اور ان لاکھوں مظلوموں کے خون کے ساتھ سنگین ناانصافی ہے جو سوویت جارحیت اور ان کے قائم کردہ نظام کا شکار ہوئے۔
جس وطن دوستی کا دعویٰ کیا جا رہا ہے، اس کی شروعات ہی ایک غیر ملکی سپر پاور کے ٹینکوں پر سوار ہو کر افغان عوام پر مسلط ہونے سے ہوئی۔ غیر ملکی کمیونسٹ نظریے کو زبردستی نافذ کرنے اور غیروں کے احکامات کی تعمیل کو وطن پرستی کا نام نہیں دیا جا سکتا۔
ڈاکٹر نجیب اللہ کا اصل تعارف بدنامِ زمانہ ایجنسی خاد کے طاقتور ترین سربراہ کا ہے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل سمیت عالمی اداروں کے مطابق خاد کے عقوبت خانوں اور پلِ چرخی جیل میں ہزاروں اساتذہ، طلباء، علماء اور عام شہریوں کو بغیر کسی ٹرائل کے وحشیانہ تشدد کا نشانہ بنایا گیا، راتوں رات غائب کر کے گولیاں مار دی گئیں اور اجتماعی قبروں میں دفن کر دیا گیا۔
سوویت افواج اور افغان حکومت کے مظالم کے نتیجے میں دس لاکھ سے زائد بے گناہ افغان جاں بحق ہوئے اور پچاس لاکھ سے زائد شہری پاکستان اور ایران میں ہجرت پر مجبور ہوئے۔ جب سوویت افواج کی واپسی کے بعد کمیونزم ناکام ہوا، تو اقتدار بچانے کے لیے اچانک قوم پرستی کا چولا اوڑھ لیا گیا، جسے قومی جدوجہد کے بجائے صرف سیاسی موقع پرستی ہی کہا جا سکتا ہے۔
شاعری کی چادر اوڑھ کر تاریخ کے مجرموں کے چہرے نہیں دھوئے جا سکتے۔ ڈاکٹر نجیب اللہ کی موت جس قدر دردناک تھی اس کا دفاع کوئی نہیں کرتا، لیکن ان کا دورِ حکومت اور خاد کے مظالم افغان تاریخ کا ایک سیاہ باب ہیں۔ مظلوموں اور مہاجرین کے خون کو پسِ پشت ڈال کر ایک جابر حکمران کو ہیرو بنانا افغان قوم کی قربانیوں کی توہین ہے۔ تاریخ کا فیصلہ ہمیشہ حقائق پر ہوتا ہے، نعروں پر نہیں۔
@SamadComrade دوسروں کی قومیت پر بات کرنے سے پہلے ذرا اپنی تاریخ اور DNA بھی دیکھ لو۔ افغانستان کوئی ایک قوم نہیں بلکہروسیوں، مغلوں، ترکیوں، اور فارس کا ایک مکسچر ہے۔ جن کا اپنا DNA ایسٹ ایشیا، منگولیا اور سنٹرل ایشیا کے حملوں کی تاریخ سے جڑا ہو وہ اوروں کو شجرہ نسب پر تبصرہ کریں گے؟
آج قوم پرست پختون افغان صدر نجیب اللہ کی برسی منا رہے ہیں جبکہ طالبان کے حامی پختون نجیب اللہ کو سویت یونین کا ایجنٹ اور ہزاروں پختونوں کا قاتل سمجھتے ہیں ۔۔ یہی لڑائی اب بھی جاری ہے جہاں مذھبی پختون آپس میں بھی اوراور سابق سرخ پوشوں سے ایک پیچیدہ قبائلی جنگ میں الجھے ہوئے ہیں اور یہ لڑای افغانستان کے مرکز سے پاکستان کے سرحدی پشتون علاقوں میں لڑی جا رہی ہے جس کا بنیادی نشانہ عام پختون بن رہے ہیں، پاکستان کی فوج اس لڑائ میں۔ پھنس کر رہ گئ ہے وہ غیرجانبدار بھی نہیں رہ سکتے اور تقسیم بھی اتنی غیر واضع ہے کہ اس میں کوئ بلیک اینڈ وائٹ ہے نہیں، ایسی مشکل جنگ دینا کی بہت کم افواج کو درپیش ہوئ ہے، اس انتہائ پیچیدہ اور مشکل لڑای میں بہت نقصان ہوا ہے اور مسلسل ہو رہا ہے!!
انکے اپنے صوبے طالبان انکو دھماکوں سے اور اغواء کر کے مارتے ہیں اور یہ پرامن شہروں میں آ کے شہریوں کو اپنی قبائلی درندگی کا نشانہ بناتے ہیں۔
یہ جانور قوم مہذب معاشرے میں رہنے کے قابل نہیں ہے۔
کتوں کیطرح غول بنا کے اکیلے فرد پے جھپٹنا انکی روایات میں بہادری ہے۔ اور جب جواب ملنا شروع ہوتا ہے تو اپنی زنانیوں کی چڈوں میں جا چھپتے ہیں اور شور مچا دیتے ہیں کہ ہمیں مارتے ہیں کیونکہ ہم پختون ہیں۔
مسلہ اب یہ بنا ہوا ہے کہ باقی قوموں کو پنجابیوں کا جواب سننے کی عادت نہیں تھی ستر سال سے کھا بھی رہے تھے اور غرا بھی رہے تھے پنجابی ڈھگے گالیاں برادشت کرکے بھی پشتون بلوچ بھائی کا نعرہ لگاتے تھے ستر سال بعد پنجابی بولا ہے تو اب حیران ہیں کہ یہ ہوا کیا ہے
2023 سے 2025 اور 2026 کے اب تک کے عرصے کے طور پر شمار کریں 100 حملے خود کش حملے ہوئے جن میں، 847 جاں بحق اور 1,310 زخمی ہوئے نوے فیصد شھہد اور زخمی پشتون ہیں اور اب نظر ڈالیں حملہ کرنیوالوں پر تمام حملے پشتوں تنظیموں نے قبول کئے حملہ کرنیوالوں میں ایک بھی پنجابی، سندھی، مہاجر، ہزارہ وال یا کوئ اور قومیت شامل نہیں، ہاں بلوچ تنظیموں کے حملے شامل ہیں لیکن وہ دس فیصد سے کم ہیں جن میں بھی 90فیصد پختون اور بلوچ شھید ہیں ! لیکن جب آپ کہیں کہ خدا کیلئے اپنے گریبان میں جھانکنیں اپنے کلچرل اور مذھبی معملات کو دیکھیں آپ کو صرف گالیاں نکالنے والے ملیں گے بہت کم کوئ عقل کی بات کرے گا، بس پنجابیوں کو گالیاں اور فوج کو صلواتیں سنانے سے مسئلہ حل نہیں ہو سکتا ہشتوںوں کو اپنی معاشرت پر گہرے فکرو نظر کی ضرورت ہے!!
ماشاء اللہ، صبح ہی صبح اتنی پیاری ویڈیو دیکھنے کو مل گئی 😍
بلوچستان میں بھارت اور حامد میر جعفر کے حمایت یافتہ، ان دونوں کے دِلوں کے قریب BLA کے جہنمی کتوں کی لاشیں بکھری پڑی دیکھ کر دل خوش ہوگیا. شاباش پاک فوج شاباش، ایسے ہی تاک تاک کر مارو. اور حامد میر جعفر کو آگ لگاتے رہو