مذاق بنایا ہُوا ہے اس مُلک کا۔
کُھلے عام اسلام آباد میں نعرے لگ رہے ہیں
کافر کافر شیعہ کافر
اور اِنھیں کو الیکشن لڑنے کی بھی اجازت دی جارہی ہے۔ اس مرتبہ نہیں۔ بس بہت ہوگیا۔ بہت رشتہ سار دفنا دئیے۔ بہت دوست دفنا دئیے۔ اس فرقہ وارئیت کی لعنت اس مرتبہ کم از کم میں تو برداشت نہیں کرسکتا۔
یہ کوئ مذاق نہیں۔ ہم لاشیں دفنائیں اور آپ ان تکفیریوں کو الیکشن لڑوائیں۔
ہم پاکستانیوں کو فقط مُسلمان بن کر رہنے دیں۔ بہت ہوگیا۔ بہت بہت بہت اور پھر کہتا ہُوں کہ بہت ہوگیا۔
اس مرتبہ نہیں۔
Hanging on a side walk of Blue Area, Islamabad, this LGBTQ infested banner is owned by none other but Ministry of Human Rights, Pakistan. @mohrpakistan. As if they don't understand the difference between an intersex and a transgender. As if they don't know that an image where a fully grown bearded man is been shown, wearing an identity of a woman and as if they thought that all Pakistanis are stupids??
Care taker PM @anwaar_kakar is also responsible if in his cabinet a minister is peddling this agenda, which is very much opposite to the essence of our constitution, our islamic identity, scientific knowledge and a court decision by Sharia Court.
State of the Country that tries to Master 3rd world countries when their own country is turning into a total Chaos. Unfortunately our leaders are nothing but puppets in the hands of their Great Masters.
ولی عہد نے سوچا ہوگا وہ کہے گا
“میں مانگنے والا تو نہیں مگر کیا کروں مجبوری ہے۔ آپ پیسے دیں ہم محنت کریں گے”
مگر
جب اس نے مانگا تو ولی عہد بھی دنگ رھ گیا
۔۔
“میرے ملک کے غریب لوگ تمام عمر پیسے جوڑتے ہیں کہ حج کر سکیں۔ ان کا خاص خیال رکھا کریں
اور
آپ کے ملک میں میرے پاکستان کے غریب مزدور قید ہیں انہیں چھوڑ دیں”
ولی عہد نے انتہائی حیرانگی سے عالم اسلام کے اس عظیم لیڈر کی طرف دیکھا کہ مانگا بھی تو کیا مانگا ؟
فرط جذبات میں اس نے کہا “آپ مجھے سعودی عرب میں پاکستان کا سفیر سمجھیں”
اور دنیا والے ایک عرب شہزادے کے الفاظ سن کر دنگ رھ گئے ۔۔
اگلے دن دنیا بھر کے اخبارات کی بڑی بڑی ہیڈلائنز بن گئیں
۔۔
آج اسی لیڈر کو “قیدی نمبر 804” بنا رکھا ہے فرعون نے