ریاست بلوچ کو ایک قوم نہیں بلکہ دشمن کے طور پر دیکھتی ہے۔ ریاست کا مسئلہ نہ تو محض بلوچ انسرجنسی ہے، نہ کاؤنٹر ٹیررازم، اور نہ ہی نام نہاد ناراض بلوچوں سے، اصل مسئلہ بلوچ کی شناخت ہے۔ ریاست کو بلوچ کے ہر اُس فرد سے مسئلہ ہے جس کی پہچان بلوچ ہونا ہے۔ اسی سوچ کے تحت بلوچ مرد، عورتیں، نوجوان، بزرگ اور حتیٰ کہ کمسن بچوں کو جبری طور پر لاپتہ کیا جا رہا ہے یا قتل کیا جا رہا ہے۔ یہ بلوچ کُش پالیسیاں خود اس حقیقت کو عیاں کرتی ہیں کہ ریاست کو بلوچ کے وجود سے مسئلہ ہے، اس کی مزاحمت سے نہیں بلکہ اس کی شناخت سے۔
دہشت گردی اور کاؤنٹر ٹیررازم کا بیانیہ محض ایک پردہ ہے، جس کے پیچھے ریاست اپنی بلوچ کُش پالیسیوں کو جواز فراہم کرتی ہے اور دنیا کے سامنے انہیں جائز ثابت کرنے کی کوشش کرتی ہے۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو نہتی خواتین، حاملہ عورتوں اور تیرہ سالہ بچوں کو جبری طور پر غائب کرنا آخر کس کاؤنٹر ٹیررازم کے زمرے میں آتا ہے؟
جب ہم بلوچ نسل کُشی کی بات کرتے ہیں تو ہمیں کہا جاتا ہے کہ یہ بیانیہ جھوٹ پر مبنی ہے۔ مگر ایک قوم کے لیے اس سے بڑی نسل کُشی اور کیا ہو سکتی ہے کہ اسے مٹانے کے لیے تمام حدیں پار کر لی جائیں، اور مرد، عورت، بزرگ اور بچے کے درمیان تمیز ہی ختم کر دی جائے؟
ہم نے سنا ہیکہ مہذب قومیں دشمنی اور جنگ کی حالت میں بھی عورتوں اور بچوں کو الگ سمجھتی ہیں، مگر بلوچ کی بدقسمتی یہ ہے جو اسے دشمن تصور کرتی ہے اسکے پاس نہ تہذیب باقی رہی ہے اور نہ انسانیت، ملکی اور بین الاقوامی آئین و قوانین کی تو بات ہی بے معنی ہو چکی ہے، کیونکہ اس ملک میں وہ اب محض کاغذی دعووں کے سوا کچھ نہیں رہے۔
#SaveBalochWomen
#EndEnforcedDisappearances
بلوچستان میں جبری گمشدگیوں، ٹارگٹ کلنگ اور جعلی مقابلوں کے خلاف بلوچ یکجہتی کمیٹی کی جانب سے ریلیوں کا سلسلہ جاری ہے۔
آج کوئٹہ، پسنی اور نصیر آباد میں ریلیاں نکالی گئی جن میں خواتین و بچوں سمیت سینکڑوں افراد نے شرکت کی۔
1/2
Three elderly Baloch individuals from Barkhan have been victim to state brutality. They have are illegally imprisoned in detention cells of law enforcement agencies for the past four days.
#EndEnforcedDisappearances
The recent surge of target killings and enforced disappearances of Baloch students and educated class of d baloch society is not random, but part of systematic state policy to counter the baloch counciousness and students resistance.
A father's love is one of the most selfless and strong loves in the world, which the state has deprived us of. My father was disappeared on June 18 by the Pakistani intelligence agencies who is still locked up in those dark prisons.They have taken away our father's love from us.
بلوچ اسٹوڈنٹس ایکشن کمیٹی کی جانب سے ملیر میں صباء لٹریری فیسٹیول کا انعقاد، ایک روزہ فیسٹیول میں مختلف علمی و ادبی سیگمنٹ شامل تھے۔ صباء لٹریری فیسٹیول میں تقاریر، پینل ڈسکشن، لمئ بولی کتابچہ کی رونمائی، ریسرچ مکالہ، ڈاکیومنٹری، ڈرامہ، ٹیبلو، گام اور کمانچر بلوچ کے نام پر آرٹ ایگزبیشن شامل تھے۔
مزید دیکھیں اس ویڈیو میں:
The abduction of Baloch students is a concerning issue that reflects the colonial behavior of the state. This policy can only be overcome with collective resistance.
Raise your voice against this injustice.
#ReleaseEhsanAndKamil#SaveBalochStudents
A seminar was organised entitled “Balochistan Kitab Karwan, importance, necessity, success and Government’s disruption on campaign” in Quetta. Panel discussion, speeches, documentary, paper and drama were included in seminar where, people from all walk lives participated.