پاکستان کی کُل کہانی مسجد سے مِلٹری تک کی ہے ۔ مذہب کو سر والوں نے اپنے مقاصد کے لیے اِستعمال کِیا ہے ۔ مذہبی طبقے نے عوام کی ذہن سازی کی ہے ، گلوریفائی کِیا ہے ۔ بدلے میں مذہبی طبقے کو مختلف مراعات دِی گئی ہیں ۔ اُنھیں کُھل کر کھیلنے کا موقع دِیا گیا ہے ۔ مدارس کے نام پر پیسہ بنانے اور ایک پوٹینشل فورس بنانے کا موقع دِیا گیا ہے، جو ملک کے اندر فرقہ پرستانہ فساد، ٹارگٹ کلنگ اور دھماکے کرنے کے ساتھ ساتھ بیرون ملک پروکسی کے طور پر بھی بار بار استعمال ہوئی- پرانی پوسٹ
یہ تو مرشد عمران خان کا بھی باپ نکلا
بھٹو صاحب کے عدالتی قتل کا اعتراف کرنے والے جسٹس نسیم حسن شاہ نے حکومت کو درخواست دی کہ انکے پاس اپنا کوئی گھر نہیں ہے۔گھر بنانے کے لئے پلاٹ الاٹ کیا جائے۔حکومت نے ایک مہنگا پلاٹ کراچی شہر میں الاٹ کیا۔جسٹس نسیم حسن شاہ صبح کی فلائیٹ سے کراچی گئے۔الاٹ شدہ پلاٹ اسی دن فروخت کیا اور شام کی فلائیٹ سے گرم جیب سمیت واپس آ گئے۔۔۔
عبدالقیوم صدیقی
’حملہ آور اپنے ساتھ گیس سلینڈر اور پیٹرول لائے تھے، سلینڈروں سے دھماکے کیے گئے جس سے چھتیں اڑ گئیں۔ وہ کچھ سامان لوٹ کر لے گئے اور باقی جلا دیا، دو تین برادریوں کے لوگ اُن کے ساتھ تھے۔ بستر جلا دیے گئے، اناج جل گیا، ہر چیز راکھ ہوگئی۔‘
https://t.co/dutXdZrFDj
@dannielthe7th Not sure about large scale enterprise applications but Agentic AI is exceptionally cost effective and many time more productive than humans
🚨پاکستان پر قرضے کیوں چڑھے حکمرانوں نے عوام کو کیسے لوٹا ؟
ہم نے اپنے بچن سے نیلم جہلم ہائیڈروپروجیکٹ کا سنا بجلی کے بلوں پر طویل عرصہ اس کے نام پر عام بندوں سے ٹیکس لیتے رہے 1989کا منصوبہ تھا لٹکتے لٹکتے 2008 میں اصل کام شروع ہوا دس سال میں بننا تھا مکمل یہ 2018میں ہوا اس زمانے میں 5ارب ڈالر لگے کھلنے کے کچھ عرصہ بعد اس کی ایک سرنگ بیٹھ گئ اسے روکا پانچ ارب مرمت پر خرچ ہوئے پھر کھولا دوبارہ بیٹھ گئ ساتھ دوسری ٹنل بھی بیٹھ گئ اسے مکمل روکنا پڑ گیا اور قوم کو روزانہ کا چالیس ارب نقصان ہو رہا اس کے نام پر تقریباً مفت بجلی آزاد کشمیر میں دے رہے ایک ریٹارڈ جج کی سربراہی میں پچھلے سال چاچو نے انکواری کمشن بھی بٹھایا مگر نا اس کی رپورٹ آئی نا کسی ذمہ دار کو سزا ہوئی ہر دوسرے قومی پروجیکٹ کا یہی حال ہے
بدقسمتی یہ ہے کہ پاکستان کے بنیادی ذرائع آمدن تجارت اور برآمدات نہیں بلکہ پٹرولیم بجلی اور سڑکوں کے محصولات ہیں۔
اس میں مزید ہولناک صورتحال یہ ہے کہ جو کوئی اس نیٹ میں پھنس جاتا ہے اس سے سب کچھ نچوڑا جاتا ہے۔
میں کسی علاقے کا تذکرہ نہیں کرتا لیکن پاکستان کا ایک بہت بڑا حصہ بجلی کا بل ادا نہیں کرتا لیکن جو ادا کرتا ہے اس سے باقیوں کی ریکوری بھی کی جاتی ہے اور حکومتی اخراجات بھی وہیں سے پورے ہوتے ہیں۔
یہی صورتحال سمگل شدہ پٹرول اور سرکاری شدہ پٹرول پمپ سے پٹرول بھروانے والے کے درمیان ہے۔
جو دوکاندار ایف بی آر کے نیٹ میں ہے وہ بھاری ٹیکس بھی دیتا ہے ہر لمحہ سولی پر بھی لٹکا رہتا ہے جبکہ ریٹرن جمع نہ کروانے والا تاجر ہر فکر اور پریشانی سے آزادی کی زندگی گزارتا ہے۔
ملک کا مسئلہ صرف اور صرف دوہرا میعار ہے اور کچھ بھی نہیں۔
اس میں کوئی شک نہیں اس بیوروکریسی نے بیڑاغرق کیا ہوا ہے۔ نئے نئے سول سروس جوائن کرنے والے اسسٹنٹ کمشنرز کو ڈبل کیبن ڈالا مل جاتا ساتھ دو چار سلیوٹ کرنے والے تو ان تازہ تازہ "رٹہ مار گروپ"کا دماغ ساتویں آسمان پر پہنچا ہوتا ہے۔ بیوروکریسی میں ریفارمز کی اشد ضرورت ہے ورنہ پاکستان اگلے 78 سال بھی ایسے ہی رہے گا۔ کاروباری طبقہ ہو یا عام آدمی جس کا واسطہ اس بیوروکریسی سے پڑتا ہے کوئی ایک ایسا نہیں ملے گا جو انکی شکایت نہ کرتا ہو۔ یہ رٹہ کلچر کے ذریعے بیوروکریسی والا نظام بدلنا ہوگا۔
پاکستان کے حکمرانوں کی کارکردگی دیکھنی تو بجلی کے گھن چکر میں دیکھ لیں پاکستان میں بجلی اسقدر مہنگی کہ لوگ اب کم سے کم بجلی استعمال کر رہے مگر جتنی وہ کم بجلی استعمال کرتے بل اتنے زیادہ بڑھتے کیونکہ ہم نے کپیسٹی پیمنٹ دینی ہوتی یہ حکمرانوں کا پھیلایا رائتہ ہے کہ بجلی کے کارخانے کم سے کم بجلی بنا کر زیادہ سے زیادہ رقم لے رہے ہیں اور صارف کم سے کم بجلی استعمال کر کے زیادہ بل دے رہا ہے
آپ کو دنیا میں حکمرانوں کی ایسی کارکردگی کہیں نظر نہی آئے گی
جس کم سن قلم بردار کو یہ بھی نہیں پتہ کہ بلاول بھٹو زرداری اس وقت ملک کا وزیرِ خارجہ نہیں ہے ، اسے نیو ٹی وی چینل بطور سینئر تجزیہ کار متعارف کروا رہا ہے🤔
ایرانی وفد پاکستان نہیں آئے گا میرے زرائع نے کنفرم کیا ہے ۔ امیر عباس ایرانی پراکسی ٹاوٹ
کسی صحافتی تنظیم نے اس گٹری صحافت کی مذمت کی ؟
حکومت نے سوال جواب اس سے کیا ؟
پیکا ایکٹ لگ جائے تو چیاؤں چیاؤں “ آزادی صحافت خطرے میں
تُف ہے ایسی صحافت پر لعنت ہے پراکسی موسادی چوہوں پر🖐
Indians are praising Pakistan for not plastering the leader’s face on everything like Modi but PTI is making vlogs telling you our Government is an idiot for putting up Pakistan’s flags in Islamabad jab Kay khud power mai hotay toh do din Islamabad ka naam Imranabad rakh deyte