اور جب انسان کو کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو وہ لیٹے بیٹھے اور کھڑے ہوئے (ہر حالت میں) ہمیں پکارتاہے۔ پھر جب ہم اُس کی تکلیف دُور کردیتے ہیں، تو اس طرح چل کھڑا ہوتا ہے جیسے کبھی اپنے آپ کو پہنچنے والی کسی تکلیف میں ہمیں پکارا ہی نہ تھا۔
﴿سورۃ یونس، ۱۲﴾
Israel must immediately repeal the discriminatory death penalty law passed today by the Knesset, as it contravenes Israel’s obligations under international law.
The United Nations opposes the death penalty under all circumstances. The implementation of this new law would violate international law's prohibition of cruel, inhuman or degrading punishment.
Additionally, this law further entrenches Israel’s violation of the prohibition of racial segregation and apartheid as it will exclusively apply to Palestinians in the occupied West Bank and Israel, who are often convicted after unfair trials.
Read @UNHumanRights earlier statement and analysis about the death penalty draft bill:
https://t.co/oHVrU5nomP…
@Ragrey_shah The events involve ignition of many local bombs that detonate, creating extreme pressure around the uranium. Due to that pressure, atoms are destroyed, and a fission reaction starts. That's when the disaster happens.
@Ragrey_shah No, the nuclear explosion won't happen.
The nuclear bombs are deliberately designed to detonate after a sequence of events happen at a millisecond precision level. And the sequence triggers at a specific height above from the ground (calculated through sensors).
In the Name of God, the Compassionate, the Merciful
Among the faithful are men who fulfill what they have pledged to Allah: there are some among them who have fulfilled their pledge, and some of them who still wait, and they have not changed in the least (Holy Quran 33:23).
پھر مجھے وہ رات بھی یاد آئ جب اس ملک کی پارلیمنٹ ساری رات آئین سے کھلواڑ کرنے والی اس ترمیم کی کوشش کیلئے اسمبلی میں بیٹھی رہی ‘ جس ترمیم کو خود انہوں نے پڑھا بھی نہی تھا- مجھے یاد آیا کہ اس ترمیم کا مقصد بھی انہو چیف جسٹس کے شو�� کی تسکین تھا -
اس کے بعد میں نے لغت کو پڑھا تو مجھے” لعنت کا مطلب محض یہ نظر آیا کہ “آپ خدا کی رحمت سے محروم رہو “- پھر پاکستان کے آئین اور پینل کوڈ کا جب جایزہ لیا تو مجھے کوئی شق ایسی نظر نہی آئ جہاں کسی پر “لعنت “ بھیجنا اور ایسی بد دعا دینا قانونا جرم ہو —ہاں البتہ موبائل چھیننا مجھے جرم ضرور نظر آیا -
جب یہ سب دیکھ لیا تو پھر مرے قلم نے بھی ایک بد دعا ان الفاظ میں دی -
جس کے پلو سے چمکتے ہوں شہنشاہ کے بوٹ
ایسی دربار سے بخشی ہوئی دستار پہ تھو
جو فقط اپنے ہی لوگوں کا گلا کاٹتی ہو
ایسی تلوار مع صاحبِ تلوار پہ تھو
شہر آشوب زدہ، اس پہ قصیدہ گوئی
گنبدِ دہر کے اس پالتو فنکار پہ تھو
سب کے بچوں کو جہاں سے نہ میسر ہو خوشی
ایسے اشیائے جہاں سے بھرے بازار پہ تھو
روزِ اول سے جو غیروں کا وفادار رہا
شہرِ بد بخت کے اس دوغلے کردار پہ تھو
زور کے سامنے کمزور، تو کمزور پہ زور
عادلِ شہر! تِرے عدل کے معیار پہ تھو
ٹھیک ایک سال پہلے رات کے اس پہر مجھے 142 دن کی بدترین جبری قید کے بعد رہائی ملی تھی۔ میں ٹوٹا پھوٹا تھکا ہوا چکنا چور ڈھیروں خدشات لیے اپنے گھر جا رہا تھا۔ میرے جسم پر اب کوئی نشان باقی نہیں مگر روح کے زخم ہیں کہ بھرتے ہی نہیں بلکہ وقت گزرنے کے ساتھ اور بھی گہرے ہوتے چلے جا رہے ہیں۔ میں نے پہلے جیسا بننے کی بہت کوشش کی مگر میں پہلے ک�� طرح بھول جانا اب نہیں جانتا۔ میں نے ان 142 دنوں میں دہائیوں کا سفر طے کیا ہے۔ واپس آیا تو لگا کہ شائد ظلم بند ہو جائے گا مجھے دوبارہ گھر سے اٹھایا گیا واپسی کے بعد چار گرفتاریاں ہوئیں۔ حج کا وعدہ کرکے عدالتی احکامات کے باوجود مجھے احرام میں گرفتار کیا گیا۔ کئی ماہ ہو گئے میں اب بھی اپنے بچوں اور ماں باپ سے دور ہوں۔ ایک بار پھر مقدمات کا سلسلہ شروع ہے۔
مگر اس ساری آزمائش میں میرا ایک بات پر ایمان بڑا پختہ ہوا ہے کہ میرا اللہ رب العزت ہی سب سے بڑا اور طاقتور ہے۔ باقی سب غلط فہمی ہے۔
وہ بھی کیا دن تھے جب سپہ سالار کا محکمہ تعلقات عامہ صرف یک حرفی ��ویٹ "ریجیکٹڈ " کرتا تھا اور حکومتی ایوانوں میں زلزلہ آجایا کرتا تھا۔ ن لیگ اور پی پی کی حکومتیں اپنے آرڈیننس واپس لے لیا کرتی تھیں، وزرا کو برطرف کردیا جاتا تھا اور فوری طور پر پرائم منسٹر ہاؤس سے وضاحتوں اور معافی ناموں کا سلسلہ شروع ہوجایا کرتا تھا۔
اب کیا دن ہیں کہ دو، دو گھنٹے کی پریس کانفرنس کرتے ہیں، روتے پیٹتے فریاد کرتے ہیں، نصیبو لعل کی طرح اونچے سُروں میں
" میں لُٹی گئی"
کہتے ہیں اور عوام کوئی نوٹس نہیں لیتی۔
جس سیاسی جماعت کے خلاف ڈھائی سال سے تھری سٹار جرنیل پریس کانفرنسیں کر رہے ہیں، اس سیاسی جماعت کی سیکنڈ لیول قیادت بیس منٹ کی پریس کانفرنس میں جواب دیتی ہے اور آبپارہ کی دیواریں لرزا دیتی ہے۔
سوشل میڈیا پر موجود عام لوگ ان کے میمز بنا کر چھترول کا سلسلہ مزید تیز کردیتے ہیں۔
اب عطر بھی ملو تو تکلف کی بُو کہاں
وہ دن ہوا ہوئے جو پسینہ گلاب تھا
اس ملک کو خالہ جی کا ویہڑہ بنا لیا گیا ہے
ہر کچھ سالوں بعد ایک نیا آپریشن شروع کردیا جاتا ہے۔ اب ایک نئے آپریشن کی تیاری ہے۔ ہم جتنا مرضی شور مچا لیں یہ آپریشن ہوگا۔ لیکن اس سے پہلے
قوم کو پچھلی دو دہائیوں کے آپریشنز کے متعلق بتایا جائے
ان کے مقاصد کیا تھے اور کیا مقاصد حاصل ہوئے؟
کیا وہ آپریشن کامیاب تھے؟ اگر کامیاب تھے تو دوبارہ آپریشن کی ضرورت کیوں؟
اگر دوبارہ سہ بارہ چوبارہ آپریشن کی ضرورت پڑرہی ہے تو مطلب پچھلے آپریشن ناکام تھے؟
اگر وہ ناکام تھے تو ذمہ داروں کا تعین ہوا؟ انکو سزا ہوئی؟
کیا اس آپریشن میں سویلین آبادی کو سوات آپریشن کی طرح در بدر کردیا جائے گا؟
جیسے وزیرستان میں کارپٹ بمباری کرکے پوری پوری آبادیاں ملیا میٹ کردی گئیں یہ آپریشن بھی ویسا آپریشن ہوگا؟
جب تک ماضی کے آپریشنز کا حساب نہیں ہوگا، انکی تفصیلات سامنے نہیں آئیں گی انکی کامیابیاں اور ناکامیاں ڈسکس نہیں ہوں گی ناکام آپریشنز کے ذمہ داروں کا تعین نہیں ہوگا اس ملک میں آپریشن آپریشن کھیلا جاتا رہے گا۔
میری قوم اس بات پر گواہ ہے کہ جب جولائی ۲۰۲۲ میں مالاکنڈ ڈویژن میں دہشتگردی کی نئی لہر کی بساط بچھائی جانے لگی تو میں نے اس سلسل�� کے آغاز سے قبل اپنی قوم کو آگاہ کیا اور سوال اٹھائے۔ جواباً آئ ایس پی آر اور آئی ایس آئی کے میڈیا ونگ کی جانب سے میرے خدشات کو پراپگینڈہ قرار دیا گیا اور کہا گیا کہ میں بےجا خوف و ہراس پھیلا رہا ہوں۔ جب یہ عناصر مالاکنڈ میں داخل ہوگئے اور بھتہ خوری اور دھمکی آمیز کالز اور خطوط کا سلسلہ شروع ہوا تو میں نے حکومت اور سیکیوریٹی اداروں دونوں سے درخواست کی کہ ۸۰ ہزار شہدا بشمول ۱۰ ہزار سیکیوریٹی فورسز کے اہلکاروں کی قربانی دے کر ہم نے یہ امن حاصل کیا ہے خدارا اب مزید پاکستانیوں کو کسی اور کی جنگ کا ایندھن نہ بنایا جائے۔ جس پر اس وقت کے وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ کی جانب سے بیان آیا کہ ایسا کچھ بھی نہیں ہے اور میں شرپسند ہوں، پراپگینڈہ کر رہا ہوں۔ حکومت اور سیکیوریٹی اداروں کی نیت جان کر میں نے اپنی قوم سے رجوع کیا اور ان کے ساتھ مل کر ایک مسلسل تحریک چلائی اور ملک کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ایک قطرہ خون بہائے بغیر مالاکنڈ ریجن سے دہشتگردوں کو واپس پلٹنا پڑا۔ ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ جس امن کے نام پر اربوں روپے ڈالر ہڑپے گئے اور ہزاروں جانیں گنوائیں گئیں اس کو صرف قوم کو یکجا کرکے بحال کرنے پر ریاست داد دیتی۔ یہ کاوش ایک کیس سٹڈی کے طور پر دیکھی جاتی الٹا ریاست نے مجھے مطلوب قرار دے دیا۔ مجھ پر مقدمے درج ہوئے، اداروں کی سرپرستی میں میرے گھر پر اسلحہ بردار افراد بھیجے گئے، خاندان کو ھمکیاں دیں گئیں، رستے سے ہٹانے کی کوششیں ہوئیں۔ میرے ہی ایم پی ایز کو بلا کر سمجھایا گیا کہ یہ نادان ہے ”ask him to stay out of it” معلومات بہت تھیں۔ ان کے منصوبوں کا بھی علم تھا لیکن الزام تراشی کے بجائے اپنے لوگوں کے امن کو ترجیح رکھا اور بار بار رکھا اگرچہ دھوکے اور چالبازیوں کا سلسلہ بھی جاری رہا اور دھونس دھمکیاں بھی مگر سیاسی وابستگیوں سے بالاتر ہوکر امن کے لیے اپنی قوم کو یکجا ہونے کا پیغام ��یا۔ ملاکنڈ سے مایوس ہو کر پلان کا رُخ جنوبی اضلاع کی جانب موڑ دیا گیا۔ اب واپسی کا راستہ وہ اپنانا تھا جہاں سے ماضی میں اس گھناؤنے کھیل کی شروعات کی گئیں تھیں۔ لہذا میں نے لکی مروت، وزیرستان، بنوں، اورکزئی، کُرم، ڈی آئی خان، ٹانک، کرک، ہنگو، کوہاٹ کے نوجوانوں کے ساتھ جرگے کیے اور ان کو موبالائیز کیا۔ تفصیل طویل ہے مگر مختصر یہ کہ جس سرحد کو محفوظ بنانے پر قوم کے اربوں روپے لگے، جس امن کو یقینی بنانے کے لیے لاکھوں لوگ بے گھر ہوئے، جس جنگ کا ایندھن ہمارے ہزاروں شہری اور فوجی جوان بنے اُس سے قوم کو بچانا اتنا بڑا گناہ عظیم تھا کہ اگست ۲۰۲۲ سے اپریل ۲۰۲۳ تک بارہا مجھے ق��ل کرنے کے غرض سے پلان ترتیب دیے گئے۔ مجھ پر انگریز کے زمانے کے بغاوت اور غداری کے وہ مقدمے درج کیے گئے جن کی سزا موت ہے اور پھر مئی ۲۰۲۳ سے اس مقصد کے حصول کے لیے مزید نئے بہانے تراشے گئے۔ قانونی اور غیر قانونی ہر راستے کا انجام ایک ہی لکھ دیا؛ موت۔ میں جو پہلے سے ہی روپوش تھا مکمل طور پر رابطے سے باہر ہوگیا۔ اور یوں پوری قوم کو دہشتگرد قرار دے کر اصل دہشتگردوں کو کھل کر کھیلنے کے لیے زمین فراہم کردی گئی۔ نگران حکومت کے دور میں انہیں پوری طرح لکی مروت اور بنوں میں آباد ہونے کا موقع دیا گیا۔ اب سننے میں آرہا ہے کہ آپریشن کا اعلان کردیا گیا ہے تو مجھ پر جو شرپسندی اور پراپگینڈہ کی تہمت لگائی گئی اس کا کیا؟ بس یہی وجہ تھی نہ کہ حالات اس نہج پر لانا ضروری تھا؟ کیونکہ مقاصد کا حصول اس پر موقوف تھو؟ جب خیبر پختونخواہ میں ہماری حکومت بنی تب ہی یارانِ غار کو خبردار کردیا تھا کہ ناصرف اس خطے کے لیے نئے گیم پلان پ�� عملدرآمد جاری ہے بلکہ اگلے چند ماہ میں اسی عمل کو آپ کے خلاف بطور چارج شیٹ استعمال کیا جائیگا لہذا کھل کر اس مسئلے پر سامنے آئیں اور قوم کو آگاہ کریں۔ اور میں آج بھی اپنی قوم کو بتا رہا ہوں جو آگ ہماری دہلیز پر جلادی گئی ہے آپ جانتے ہیں کہ اُس کے شعلے نہ پہلے میری دیواروں پر رُکے تھے نا آگے اٹک کے پُل پر ٹہرنے ہیں۔ دریاؤں کا کے یا ریگستانوں کی خشکی سے نہیں رُکتی یہ قاتل لہریں۔ مہران بیس سے لے کر واہگہ بارڈر تک آپ اور میں بھی مریں گے اور وہ سیکیوریٹی جوان بھی جو ہمیشہ ریاست کی غلط پالیسیوں کی بھینٹ چڑھتے ہیں۔ پھر وہی کھیل رچایا جائیگا۔ سوال اٹھانا غداری۔ نشاندہی بغاوت۔مگر کل کا پراپگینڈہ آج کی حقیقت میں ڈھل رہا ہے، اب آپریشن ہوں گے، جنازے اٹھیں گے، بے گھری، بے سروسامانی، ذلت ہوگی اور پھر اپنی غلط پالیسیوں پر پردہ ڈالنے کے لیے ان مظلوموں کا خون بیچا جائیگا جو اپنے وطن کی محبت میں بلا چوں چراں میدان میں اترتے ہیں۔۔ میں اس ملک کے پالیسی سازوں سے بھ�� کہتا ہوں وہ جو خود کو ریاست کہلانے پر مصر ہیں؛ ۷۷ سال ہوگئے خدارہ قوم کے بچوں کو لکڑی کے ان ٹکڑوں برابر ہی سمجھ لو جن کو ایندھن بناتے ہیں، انہیں بھی کچھ سوچ سمجھ کر شعلوں میں پھینکا جاتا ہے۔ اتنے تن کٹیں تو جنگل بھی بنجر ہوجاتے ہیں جتنے سر ہم نے کٹا دیے۔ اگر ��پ اپنے آقاؤں کے آگے اتنے ہی بے بس ہیں تو کچھ وقت کے لیے پیچھے ہٹ جائیں ہم کل کیطرح آج بھی بنا ایک قطرہ خون بہائے اپنا امن قائم رکھ سکتے ہیں۔ بس یہ اپنوں کے ہاتھ نہ شامل ہوں بربادئ گلشن میں تو دشمن سے نمٹنا تو ہماری تاریخ ہے۔
Extremely concerned about the abduction of Hassan Niazi and Ibad Farooq who were tried by military court, unconstitutionally, and were awaiting sentencing when they were abducted to be tortured by the same people who planned the 9th May false flag operation & stole all the CCTV recordings.
Supreme Court bench hearing the military court case must take immediate notice of this law of jungle prevailing in Pakistan today.
بانی چئیرمین تحریک انصاف عمران خان کی اڈیالہ جیل میں صحافیوں سے گفتگو:
“گزشتہ سماعت پر جنگل کے بادشاہ کا نام لیا تھا تو آج عدالت میں اضافی شیشے لگا کر دیواریں بنا دی گئی ہیں،
ملک میں جنگل کا قانون ہے اور یہ سب جنگل کا بادشاہ کروا رہا ہے- جنگل کا بادشاہ چاہتا ��ے تو نواز شریف کے تمام کیسز معاف ہو جاتے ہیں اور جب چاہتا ہے تو پانچ دن میں ہمیں تین - تین کیسز میں سزا دے دی جاتی ہے-
جنرل عاصم منیر میری بیوی کو سزا دلوانے میں براہ
راست ملوث ہے- جج کہتا ہے کہ میری کنپٹی پر گن رکھ کر فیصلہ کروایا گیا- اگر میری بیوی کو کچھ ہوا تو عاصم منیر کو نہیں چھوڑوں گا، جب تک زندہ ہوں عاصم منیر کا پیچھا نہیں چھوڑوں گا، اس کے غیر آئینی اور غیرقانونی اقدامات کو بےنقاب کرتا رہوں گا-
آئی ایم ایف سے قرضہ لینے سے نہیں سرمایہ کاری سے معیشت مستحکم ہو گی- جنگل کے قانون کے باعث ملک میں کوئی سرمایہ کاری نہیں آئے گی- سعودی عرب کا آنا اچھی بات ہے لیکن سرمایہ کاری کے لیے ملک میں Rule of Law ہونا لازم ہے-
بہاول نگر میں قانون توڑ کر پولیس کو پھینٹا لگایا گیا، لیکن ہمارے لوگوں پر ظلم کرنے والے آئی جی اور وائسرائے نے پھینٹی لگانے والوں سے ہی معافی مانگ لی،
وائسرائے نے کہا کہ “یہ ہمارے بھائی ہیں”،
ایسا سلوک بھائیوں سے نہیں غلاموں سے کیا جاتا ہے،طاقتور نے پھینٹا بھی لگوایا اور معافی بھی منگوائی-
ہمارے لوگوں کو ضمنی الیکشن میں بھی روکا جا رہا
ہے-اس وقت ظلم کے سامنے کھڑا ہونا جہاد ہے- ہمارے کارکنان نے ایک ایک ووٹ کی حفاظت کرنی ہے، ووٹ پر پہرہ دینا ہے-“