باجوڑ ماموند شاہی تنگی میں معصوم سکول بچوں کی شہادت سیکیورٹی فورسز اور حکومت کی بدترین ناکامی ہے۔ نہتے اور بے گناہ بچوں کا خون بہنا انتہائی افسوسناک اور ناقابلِ برداشت ہے۔ اگر ریاست اپنے شہریوں خصوصاً معصوم بچوں کو تحفظ نہیں دے سکتی تو یہ اس کی کارکردگی پر بڑا سوالیہ نشان ہے۔ ہم اس ظلم کی شدید مذمت کرتے ہیں اور مطالبہ کرتے ہیں کہ ذمہ دار عناصر کو فوری بے نقاب کرکے سخت کارروائی کی جائے۔
آخر پختون بیلٹ ہی کیوں ہمیشہ ظلم، خوف اور خونریزی کا نشانہ بنتی ہے؟ کب تک ہمارے معصوم بچے اس جنگ کی بھینٹ چڑھتے رہیں گے؟ ہم مزید لاشیں اٹھانے کیلئے تیار نہیں۔ اب وقت آچکا ہے کہ اس ناانصافی اور ظلم کا حساب لیا جائے۔
کس کے ہاتھ پر اپنے بچوں کا لہو تلاش کروں ۔۔انتظامیہ اپنا پوزیشن واضح کریں ۔جب ظلم حد سے بڑھ جائیں توہھر ریاست کی طاقت ریت کا ڈھیر بن جاتا ہے جو پانی کی بہاؤ میں بہہ جاتا ہے
اللہ تعالی رحم فرمائے والدین کو صبر جمیل عطا فرمائے.
عنایت اللہ خان (امیر جماعت اسلامی صوبہ خیبر پختونخوا شمالی)
باجوڑ ۔ سکول سے گھر جانے والے دو بچے ڈرون حملے میں شہید ،
فلسطین اور ایران کے غم میں ڈوبے لوگوں باجوڑ بھی غزہ بنا ہوا ہے ، کون ہمارے حق میں بولے گا ؟؟؟
باجوڑ پاکستان کے ضلع باجوڑ اور افغان صوبہ کنڑ کے مشران کے درمیان تاریخی امن معاہدہ طے پاگیا۔
باجوڑ اور افغان صوبہ کنڑ کے مشران کا پاک افغان بارڈر ناواپاس پر تاریخی امن جرگہ۔
جرگے کا پاکستان اور افغانستان کے درمیان مکمل جنگ بندی کا اعلان
باجوڑ اور مہمند سے کنڑ کے طرف کوئی فائرنگ نہیں کی جائیگی جبکہ افغان صوبہ کنڑ کی جانب سے بھی کوئی فائر نہیں ہوگی۔ تاریخی امن معاہدے کا متن
باجوڑ کنڑ کے مشران کا ہر تین مہینے بعد میٹنگ ہوگی جس میں معاہدے کا جائزہ لیا جائیگا۔
تحریک مزاحمت حماس نے ایک بار پھر نہایت ذمہ داری کا ٹبوت دیتے ہوئے مجوزہ امن پلان پر اپنا باوقار رد عمل دیا ہے جو فلسطینی عوام کی امنگوں کے مطابق اور حماس کی بصیرت کا آئینہ دار ہے۔
حماس درحقیقت حماس عارضی نہیں مستقل جنگ بندی چاہتی ہے۔ قیدیوں کے تبادلے پر آمادگی ظاہر کی گئی ہے مگر تبادلے کے عمل کے لیے مناسب حالات کی فراہمی کی بات بالکل جائز ہے ۔ اسی طرح اسرائیلی فوج کا مکمل انخلا اور بین الاقوامی نہیں بلکہ فلسطینی ٹیکنوکریٹس کا سیٹ اپ ایک سو فیصد جائز مطالبہ ہے۔ان تمام معاملات پر ثالثوں کے ذریعے تفصیلات پر مذاکرات ہوں گے۔
حماس نے اپنے جواب میں غیر ضروری باتوں سے اجتناب کیا ہے ہم سمجھتے ہیں کہ پاکستان سمیت تمام مسلم ممالک کو حماس کے موقف کا خیرمقدم کرنا چاہیے ۔
یہ واقعی حقیقی اسلامی تحریک مزاحمت ہے جو نہ صرف ایمان، ثابت قدمی اور جذبوں میں بہت بلند ہے بلکہ ہوش وخرد، سیاسی تدبر، سفارتکاری کی تمام مہارتوں سے مزین اور بصیرت رکھنے والی اجتماعیت ہے۔ اتنے نازک حالات میں یہ استقامت یقیناً انسانیت کا سرمایہ ہے۔
#حماس