*کراچی والوں، دکھا دو سوشل میڈیا کی طاقت*
ان قاتلوں کی تصویر کو ذیادہ سے زیادہ شیئر کریں، کل 20 مئی 2026 کو شاہ لطیف ٹاؤن میں انہوں نے ایک بے گناہ نوجوان کو ڈکیتی مزاحمت پر قتل کیا ہے۔
محترم،
ہمیں اندازہ ہے کہ لاہور میں کھانا محبت بھی ہے، تفریح بھی، اور شاید آخری سہارا بھی۔
مگر کراچی والوں کو کم از کم یہ تو معلوم ہے کہ ذائقہ صرف شور، گھی اور بھرے ہوئے دسترخوان کا نام نہیں ہوتا۔
لاہور کھانے کو مذہب کہتا ہے، کراچی اسے تہذیب سمجھتا ہے۔
آپ خواب میں پائے دیکھتے ہیں، ہم نے حقیقت میں نسلوں کو دیگوں کے ساتھ بوڑھا ہوتے دیکھا ہے۔
آپ کے ہاں کھانا موڈ ہے، ہمارے ہاں وراثت ہے۔
آپ کے ہاں حلوہ پوری پر بحث ہوتی ہے، یہاں نہاری کی ایک پلیٹ کے پیچھے تین نسلوں کی ہجرت، محنت اور اصل recipe کھڑی ہوتی ہے۔
کراچی نے کھانے ایجاد نہیں کیے لیکن ان کا اصل معیار محفوظ رکھا ہے۔
بریانی اگر یہاں نہ آتی تو شاید آج بھی کئی شہروں میں زرد چاول کو بریانی سمجھا جا رہا ہوتا۔
نہاری اگر کراچی کے پرانے ہوٹلوں میں دم نہ لیتی تو شاید لوگ آج بھی آٹے والے شوربے کو نہاری کہہ کر خوش ہو رہے ہوتے۔
اور حلیم… وہ تو کراچی کے ہاتھوں میں آ کر عبادت بن گئی۔ اصل فرق شاید یہی ہے۔
لاہور کھانے سے عشق کرتا ہے، کراچی ذائقے کی عزت کرتا ہے۔
اور ویسے بھی عشق اکثر اندھا ہوتا ہے۔
کراچی میں ایک معمولی سے بن کباب والے کو بھی معلوم ہے کہ چٹنی کتنی ہونی چاہیے، پیاز کتنی باریک کٹنی چاہیے، اور کوئلے کی آنچ کتنی دھیمی رکھنی ہے۔
لاہور میں کھانا زندگی کا مقصد ہوگا، کراچی میں ذائقہ کردار کا حصہ ہے اور شاید اسی لیے پورا پاکستان لاہور جا کر سیر کرتا ہے مگر کھانا اب بھی کراچی آ کر کھاتا ہے۔
والدِ محترم کے وڈیو کلپس بہت لوگ شیئر کر رہے ہیں اس تبصرہ کے ساتھ کہ ڈاکٹر اسرار احمد رحمہ اللہ نے کئی سال قبل ” پیشنگوئی “ کردی تھی اور وہ بات درست ثابت ہورہی ہے۔
سب سے اہم بات جو لوگ نظر انداز کررہے ہیں کہ ڈاکٹر صاحب رحمہ اللہ نے ان تمام حالات کو بیان کر کے انکا حل بھی تجویز کیا تھا۔
والدِمحترم رحمہ اللہ بار بار خبردار کرتے رہے کہ انفرادی اور قومی سطح پر اپنا معاملہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ درست کرلو ورنہ اللہ کی طرف سے سزا کا معاملہ ہوگا۔ ہم اللہ کو ناراض کرکے کسی خوش فہمی میں نہ رہیں !
یہ کلپ میری درخواست ہے کہ اس کومکمل سنیں اور اسے جس حد تک ہو سکے شیئر کریں۔
اللہ تعالئ ہمیں سمجھنے اور سنبھلنے کی توفیق دے۔ آمین