نواز شریف ڈٹ جاۓ تب بھی بُرا ، مصلحت کے پیش نظر ہٹ جاۓ تب بھی بُرا ۔۔۔ مسلہ نوازشریف کے فیصلے نہیں مسلہ بغض نواز شریف ہے جو کچھ لوگوں کے اندر سے کبھی ختم نہیں ہوسکتا اور انھوں نے قسم کھائ ہوئ ہے کہ نواز شریف کی ہر اچھائ کو بُرائ بناکر پیش کرنا ہے۔
تکلیف محسن نقوی سے نہیں ہے تکلیف نواز شریف سے ہے کہ اچانک ناک آؤٹ ہوتے ہوتے پھر اُٹھ کر کھڑا ہوگیا ۔۔۔ہر طرف ان جیسے سب مل کر گراتے ہیں وہ پھر کھڑا ہوجاتا ہے پھر گراتے ہیں وہ پھر کھڑا ہوجاتا ہے ۔۔
بس اپنے کسان کو فائدہ نہی دینا ہے اب بیرون ملک سے گندم منگوا رہے جبکہ اپنی فصل اتارے ابھی دو مہینے نہی ہوئے ہیں گندم شارٹ ہو گئی ہے
چونتیس کروڑ ڈالر کی یہ گندم منگوا رہے جو ڈیوٹی فری ہو گی
ایک زرعی ملک جو پورے براعظم افریقہ سے زیادہ گندم پیدا کر سکتا وہ گندم اور کپاس بیرون ملک سے منگوا رہا ہے
اور ناکامی اور تباہی کسے کہتے ہیں ؟
تجربہ کاروں کی حکومت ہے حال چیک کریں جبکہ بجلی سستی کرنے کی آئی ایم ایف اجازت نہی دے رہی محسن نقوی اسٹیبلشمنٹ نہی بدلنے دیتی ہے
نون کے پاس بس ججوں کی مراعات وزیروں کی تنخواہ بلیو پاسپورٹ رشتے داروں کو نوازنے کے اختیار ہیں باقی سب میں وہ اس گاؤں کی مجبور بھولی ہے۔
مجھے کوئی بہت معتبر ذرائع سے بھی خبر ملتی ہے تو میں اس کو ڈبل چیک کرتا ہوں اب برطانیہ کا ایک اخبار ہے وہ لکھ رہا ہے راولاکوٹ میں تیس لوگ مارے گئے اس نے اپنے زرائع کا ذکر نہیں کیا پتہ چلا کہ کعلدم کمیٹی کے موقف کو سچ مان کر اس نے خبر شائع کر دی خبر کسی کی خواہش پہ شائع نہیں کی جاتی خبر کے لیے اپ تصدیق کریں اپ ذرائع چیک کریں تاکہ اپ کے اوپر بھی کوئی بات نہ ائے جوائنٹ ایکشن کمیٹی والے تو کہتے ہیں جی 50 مارے گئے تو جب ہم چیک کرتے ہیں تو ہمیں ایسی کوئی خبر نہیں ملتی جب ہمیں خبر نہیں مل رہی تو برطانیہ میں لوگوں کو کیسے خبر مل رہی ہے ؟ عمر چیمہ
حالیہ انسانی تاریخ میں کسی ملک پر بھی نظر ڈالیں
ہر جگہ ست ماہی انقلاب کے بعد وہ قوم ذلیل ہوئی اسکی معیشت خراب ہوئی، اور دہائیوں میں نہیں سنبھل پائی
حالانکہ وہ پوری قوم کا فعل بھی نہیں ہوتا
مگر قوم کو گروہ کے ہاتھوں یرغمالی بننے کی مزاحمت نہ کرنے کے گناہ کا کفارہ ادا کرنا پڑتا ہے
رخ کے ایک حصے میں
حسن کے علاقے کی
اک ادا سی ہوتی ہے۔۔
سب میں ایک مخصوص زاویے سے دکھنے والی خوبصورتی ہوتی ہے۔ پسندیدہ لوگوں کا ہم صرف وہی زاویہ نظر یاد رکھتے ہیں۔ وہ آخر دم تک ہمارے لئے حسین رہتے ہیں۔
اس بے شرم انسان سے کوئی پوچھ سکتا ہے کہ آزاد جموں و کشمیر کے آئینی ڈھانچے اور انتخابی قوانین میں دی گئی کشمیری مہاجرین کی نشستیں اس نے کس اصول کے تخت متنازعہ قرار دی ہیں ؟
اس ملک میں کوئی قانون پر پوچھ گچھ ہے ؟
الیکشن کے نتائج متنازعہ ہو سکتے مگر کشمیریوں کا آئینی حق کیسے متنازعہ ہو سکتا ہے ؟
PML-N has decided to take the "reset" plan head-on. Nawaz Sharif's redlines on the matter are already out in public reflected through Rana Sana and K Asif statements and the press release after his meeting with PM Shehbaz in the presence of Mariam Nawaz and Ishaq Dar. Mohsin Naqvi's narrative might have escaped a full-on counter-punch but after DGISPR's endorsement of the "reset" idea, PML-N seems to sense that it's a speak-now-or-regret-forever moment for them.
This clarification by Prof. MaRandi is, in itself, a reflection of how deceptive and shameless this man is.
To start with, he fails to answer the central question raised by his original remarks. If his criticism was directed at Pakistan's state leadership rather than the Pakistani people, then he should have said so explicitly. Pakistan's foreign and security policy is conducted by identifiable state and government institutions under the respective military and political leaders, not by 250 million Pakistanis. Precision matters, particularly when making sweeping public accusations during a regional war.
Nor does his clarification engage with the substance of the criticism. Pakistan undertook repeated diplomatic efforts with Tehran during the conflict, including two visits by Field Marshal Asim Munir to Iran and subsequent diplomatic outreach at Tehran's own request following the escalation. If Prof. MarRandi believes those decisions reflected a lack of national integrity, he should identify the specific policies or institutions he is criticising and defend that claim. Narrowing the meaning of an imprecise statement only after it has been challenged is not clarification; it is damage control.
His broader clarification regarding the GCC is equally unpersuasive. Branding Saudi Arabia, the UAE and other Gulf states as mere US puppets ignores the complexity and independence of their foreign policies. Equally, by referring simply to "Yemen," he appears to conflate the Yemeni state with the Houthi authorities in Sana'a—a political position rather than an established fact. The GCC's disagreement with the Houthis did not translate into support for the war in Gaza; Gulf states consistently condemned the conflict, called for a ceasefire and expanded humanitarian assistance, even as they rejected the Houthis' claim to speak for all of Yemen.
I have serious issues with almost every word that comes out of Prof. MaRandi's mouth and is then widely shared by Iranophiles, both desi and gora. He also needs to clarify the reported claims that he holds U.S. citizenship as well. If true, it would reinforce my suspicion that he may be working toward a larger agenda—a psyop intended to achieve the opposite of what he publicly claims to defend.
As my friend @hashurtag says, something does not add up in his case. How come he is free to air offensive views on social media, and receives unusual airtime by popular vlogers? This is a reasonable question, given the potentially deadly cost of his narrative for Gulf-Muslim unity, stability and progress, and especially in terms of lives lost during this war on either side of the battlefront.
جب نواز شریف نے بطور وزیراعظم ایک اٹھارہ سکیل والی جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہونے کا فیصلہ کیا تو سینئر صحافی نصرت جاوید نے ایک اہم نکتہ اٹھایا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ نواز شریف نے صرف اپنی ذات نہیں، بلکہ وزیراعظم کے ادارے کو ڈی ویلیو کیا ہے۔ ان کے مطابق اگر وہ ڈٹ جاتے پیش ہونے سے انکار کر دیتے ، یا استعفیٰ دے کر گھر چلے جاتے، تب بھی وزارتِ عظمیٰ کی وقعت زیادہ محفوظ رہتی۔ انہوں نے پیش گوئی کی تھی کہ جب ایک بار اس عہدے کی ادارہ جاتی حرمت ٹوٹ جائے تو پھر ایسا وقت بھی آئے گا کہ ایک ایس ایچ او بھی وزیراعظم کو طلب کرنے کی جرات کرے گا۔
ریاستی اداروں میں عہدوں کی طاقت صرف آئینی اختیارات سے نہیں، بلکہ ادارہ جاتی وقار سے بھی قائم رہتی ہے۔ جب یہ وقار مسلسل کمزور کیا جائے تو اصل اختیار بھی رفتہ رفتہ منتقل ہو جاتا ہے۔
آج عمران خان کے دور سے لے کر شہباز شریف کے دور تک یہی منظر واضح دکھائی دیتا ہے۔ عملی سیاست میں صورتِ حال یہ ہے کہ محسن نقوی جیسے غیر منتخب طاقتور کردار وزیراعظم پر حاوی دکھائی دیتے ہیں، جبکہ وزیراعظم کا منصب محض رسمی حیثیت اختیار کرتا جا رہا ہے۔ یہ کسی ایک شخصیت کا نہیں، بلکہ وزارتِ عظمیٰ کے ادارے کی مسلسل بے توقیری کا نتیجہ ہے۔
چھوٹے صوبے بناتے ہوئے آزادکشمیر کے تجربے سے ضرور سیکھئے گا جہاں ایک ضلعے کی آبادی ایک سپریم کورٹ، ایک ہائیکورٹ، ایک وزیراعظم، ایک صدر، ایک اسمبلی، ایک ایوان بالا 53 کے ایوان میں 29 اراکین کی کابینہ، آبادی کا ہر فرد سرکاری نوکری، مفت بجلی اور آٹے کا خواہاں نتیجہ، 70٪ بجٹ بذمہ وفاق
دیکھا جائے تو ڈی جی ائی ایس پی ار نے بھی اصولی طور پر محسن نقوی کے موقف کی تائید کر دی ہے۔ مسلم لیگ ن کے لیے ابھی بھی وقت ہے کہ جو تھوڑی سی رہ گئی ہے، وہ عزت بچا کر حکومت چھوڑ کر کر ملکی تاریخ میں ایک نئی تاریخ رقم کر دے، یہ قربانی دینا یقینا بہت مشکل بھی ہوگا اور اس کے نتائج بھی بھگتنا پڑ سکتے ہیں لیکن ناقدین کو سسٹم ٹھیک کرنے دیں، البتہ 2022 سے اب تک اصلاحات کیوں نہ کر سکے اس پر بھی عوام کو ضرور اگاہ کر دیں اور معافی مانگ لیں۔ یونہی اقتدار سے چپکے رہے تو اس کی حیثیت مندر کے گھنٹے سے زیادہ کچھ نہیں ہوگی اور ہر گزرتے دن کے ساتھ حکومت نئے گرداب میں پھنستی چلی جائے گی۔
آجکل پنجاب میان شدید ترین لوڈ شیڈنگ ہورہی ہے۔ ہمیں یاد ہے راجہ پرویز اشرف جب وزیر بجلی تھا تو اسوقت پوری ن لیگ ان سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کرتی تھی۔ اب تو آدھا سے زیادہ بجلی کی مانگ سولر پوری کر رہا ہے لیکن اسکے باوجود یہ لوڈ شیڈنگ۔اویس لغاری مکمل ناکام ہوچکا ہے۔کیا وزیراعظم ان سے استعفی مانگیں گے؟
زیادہ دن نہی گزرے جب ابصار عالم نے محسن نقوی صاحب پر ایک سخت ترین ویلاگ کیا تب وزیر اطلاعات کے حکم پر سارے راتب خور پٹواری ابصار عالم پر چڑھ دوڑے تھے
اسی خاطر تو قتل عاشقاں سے منع کرتے تھے
اکیلے پھر رہے ہو یوسف بے کارواں ہو کر