آئیں ایک بہن کو اپنوں سے ملائیں۔۔!!
ایک بہن نےبرابطہ کرکے بتایا کہ میری عمر ابھی 36 سال ہے۔میں نے ایک بہت اچھے گھ��انے میں ہوش سنبھالا ۔انہوں نے مجھے اچھا رکھا اچھی تعلیم دی کبھی کوئی پریشانی نہیں ہوئی۔
ایک روز میرے والد بہت بیمار تھے۔ہمارے ایک بزرگ رشتےدار والد کی عیادت کے لئے اسپتال تشریف لائے تھے ۔میں وہ��ں موجود تھی۔
بزرگ نے باتوں باتوں میں والد صاحب سے کہا "یہ وہی بچی ہے جسے ایدھی سے گود لیا تھا؟"۔ یہ سن کر میں سن ہوگئی کہ یہ کیا سن لیا؟
گھر آکر تحقیق کی تو پتہ چلا میں کہ چار جنوری 1990 میں ایک ٹرین حادثہ ہوا تھا۔ٹرین کا نام بہاؤالدین زکریا تھا۔مجھے بتایا گیا کہ اس وقت یہ ٹرین صرف کراچی اور ملتان کے لئے چلتی تھی۔
ہماری ٹرین کراچی سے ملتان جارہی تھی۔حادثہ سندھ کے علاقے سانگی میں پیش آیا تھا۔
کچھ زخمیوں کو قریبی اسپتال لیجایا گیا تھا اور کچھ کو کراچی منتقل کیا گیا تھا۔
مجھے یہ نہیں معلوم میں والدہ کی گود میں تھی یا والدہ کے پیٹ میں تھی۔میرے ہاتھ اور بازو پر جلنے جیس�� نشان بھی ہے۔ شاید والدہ کا انتقال ہوا ہو یا حادثے کے دوران میں گود سے گر کر کہیں دبی ہونگی انکو نا ملی ہوں۔مجھے ایدھی میں دےدیا گیا تھا۔ اور پھر مجھے کراچی میں ایدھی سے گود لیا گیا تھا۔
یہ حادثہ تو مشہور ہے میرے حقیقی ورثاء کو ضرور میرے بارے میں علم ہوگا اگر میری پوسٹ کو وائرل کیا جائے تو ضرور وہ مل سکتے ہیں۔
پوسٹ میں جو تصویر دی گئی ہے یہ حادثے کے کچھ مہینے بعد کی ہے۔
آپ تک یہ پوسٹ پہنچ گئی ہے تو اللہ کا نام لیکر خوب زیادہ شئیر کریں ان شاءاللہ انکا خاندان ضرور مل سکتا ہے۔
کسی بھی اطلاع کے لئے نیچے درج نمبر پر وٹس ایپ کریں۔
+923162529829
16 Aug 2026
#waliullahmaroof
#FamilyReunion
#MissingFamily
#TrainAccident1990
#BahauddinZakariyaExpress
@PTVNewsOfficial کلاشنکوف کی گولیاں 30 بور میں فٹ کرنے والے دعوی کرتے ہیں کہ وہ پاکستان کی معیشت کو بہتر کردیں گے ،
جس طرح 30 بور سے یہ گولیاں کبھی فائر نہیں ہوسکتیں اسی طرح یہ نالائق کبھی ملک نہیں چلا سکتے
عجیب دہشت گرد تھا پارٹی پرچم کے ساتھ زنگ آلود پسٹل لے کر جی ایچ کیو تباہ کرنے چلا گیا اور اس سے بھی عجیب بات یہ ھے کہ اپنے تمام ڈاکومنٹس بھی ساتھ کر گیا جیسے حملہ نہیں نوکری کا انٹرویو دینے جاری ھو
یہ واقعی عجیب دہشتگرد تھا 🤣
ان الو کے پٹھوں کو کوئی یہ بھی نہیں بتاتا کہ اب سکرپٹ چینج کر لو عوام تنگ آ چکی روز ایک ھی کہانی سن سن کر
اس بچے کا نام جاوید ہے اور والد کا نام ایاز ہے۔
جاوید سال 2006 کے اگست میں کراچی کے تھانہ شاہ پولیس چوکی لطیف آباد ٹاؤن کو لاوارث حالت میں ملا تھا۔6 سال عمر تھی۔
جاوید کی مادری زبان پشتو ہے۔ اس کے بقول وہ گھر سے نکل کر سمندر کے قریب کہیں پہنچا تھا تو وہاں سے پولیس کو ملا تھا۔
خاندان کے افراد میں سے کسی کا نام یاد نہیں ہے۔
جاوید نے زندگی میں بہت ہی مشکل حالات دیکھے ہیں جو ناقابل بیان ہیں۔ اس وقت بے یار و مددگار زندگی بسر کررہا ہے۔
وہ چاہتا ہے کہ اپنے والدین اور بہن بھائیوں کو دیکھے اور اذیت ناک زندگی سے نکل کر سکون میں آجائے۔
ان شاءاللہ فیملی ملنے کے بعد ہم جاوید کی زندگی پر لکھیں گے آپ پڑھ کر اپنی آنکھوں پر قابو نہیں رکھ پائیں گے۔ فی الحال اسکی تکلیف کا احساس کرکے اس پوسٹ کو خوب زیادہ شئیر کریں۔ آپ کا ایک شئیر کسی کی زندگی بدلنے کا سبب بن سکتا ہے۔
کسی بھی اطلاع کے لئے نیچے درج نمبر پر وٹس ایپ کریں
+923162529829
9 Aug 2026
#waliullahmaroof
تمام قارئین
"کفن تیار کرلو" کی دھ��کی ملنے کے چند گھنٹوں بعد اسماء جتک کے والد قتل
13 سال سے کسی دوسری جگہ رشتہ نہیں ہونے دیا جا رہا
آبائی علاقے سے نقل مکانی کے بعد بھی مسلسل دھمکیوں کا سامنا
منگیتر اور ماموں کے بعد اب والد بھی قتل— خاندان کا تیسرا فرد اور مجموعی طور پر چھٹا شخص اس تنازع میں قتل ہوگیا
خضدار میں رشتے سے انکار کی اتنی سنگین قیمت کیوں چکانی پڑ رہی ہے؟
"وزیراعلٰی سرفراز بگٹی کو 5 بار درخواستیں دیں مگر کوئی شنوائی نہیں ہوئی"
حرام خور قاتل کی اپنی شکل دیکھ کر الٹی آ جائے
اس نوجوان کو اپنوں سے ملائیں۔۔۔!!
اس نوجوان کو اپنا نام راشد یاد ہے اور والد کا نام محمد صدیق۔
مادری زبان سرائیکی ہے۔
راشد کا کہنا ہے کہ آج سے بیس بائیس سال قبل مجھے میرے والد نے کسی گھر میں کام پر رکھا تھا۔ میں کام سے بھاگ جایا کرتا تھا۔ ایک دن میں بس میں بیٹھ کر کہیں دور نکل گیا۔ شاید کراچی سے سکھر پہنچ گیا۔ ہم کراچی میں ہی رہتے تھے۔
سکھر میں مجھے ایک شیلٹر میں جمع کیا گیا۔ پھر وہاں سے کراچی شیلٹر منتقل ہوا۔ اور یہیں میں بڑا ہوکر جوان ہوا ۔ اور اب لاوارثی کی زندگی بسر کررہا ہوں۔ لاوارثی کی زندگی بہت اذیت ناک ہے ۔ برائے مہربانی مجھے اپنوں سے ملائیں۔
راشد کو صرف اپنا اور والد کا نام یاد ہے ۔ شیلٹر کی فائل سے بچپن کی فوٹو ملی ہے جو ورثاء تک پہنچنے میں مددگار ہوسکتی ہے۔ فائل میں ایک جگہ ایڈریس بھٹو کالونی نیو کراچی لکھا ہے اور دوسری طرف نارتھ کراچی لکھا ہے۔ شاید بچپن میں ان دو جگہوں کے نام راشد کو یاد ہونگے جو فائل میں لکھے گئے ہیں۔
سرائیکی وسیب کے دوست بالخصوص اور ملک بھر کے تمام دوست بالعموم اس پوسٹ کو دل کھول کر شئیر کریں۔
راشد کو اسکے خاندان سے ملانے میں مدد کریں۔
کسی بھی اطلاع کے لئے نیچے درج نمبر پر وٹس ایپ کریں
+923162529829
3 اگست 2026
#waliullahmaroof
@BBhuttoZardari اگر یہ بات کرتے ہیں ووٹ کی حمیت کی تو یہ چیز پاکستان میں ختم ہوئی ہے اٹھ فروری کو یہ کس منہ سے بول رہے ہیں کہ جس کا ووٹ اس کا حکمران اٹھ فروری کو مسلم لیگ نون اور پیپلز پارٹی دونوں ہار گئے ہیں لیکن یہ فارم 47 سے دوبارہ ا گئے یہ ابھی کشمیر میں بھی یہی کریں گے جو پاکستان میں کیا ہے
@BBhuttoZardari سندھ میں کون سا امن لے کے ایا کہ ابھی کشمیر میں ہے لے کے اتے ہیں روزانہ کی تعداد میں کراچی میں قتل ڈکیتیاں ہر جرم سندھ سے اتا ہے اور یہ کشمیر کو جنت بے نظیر کشمیر بنانا چاہتا ہے
کیا کوئی ہے جو اس معذور باپ کو اس کے بیٹے سے ملا دے؟
یہ نوجوان سمیع اللہ ہے، والد کا نام عبدالعزیز ہے، اور اس کا تعلق ژوب شیرانی سے ہے۔
تقریباً پانچ سال پہلے سمیع اللہ روزگار کی تلاش میں کراچی آیا تھا، جہاں وہ ایک ہوٹل پر کام کرتا تھا۔ والدہ کے انتقال کے بعد گھر میں صرف اس کے معذور والد اور معذور بھائی تھے، جن کی ذمہ داری بھی اسی کے کندھوں پر تھی۔ ذہنی پریشانیوں کے باعث نجانے اس کے ساتھ کیا پیش آیا کہ اس کا اپنے گھر والوں سے رابطہ مکمل طور پر منقطع ہوگیا۔
آج پانچ سال گزر چکے ہیں۔ اس کا معذور والد بسترِ علالت پر ہے اور ہر آنے جانے والے سے صرف ایک ہی بات کہتا ہے:
"مرنے سے پہلے ایک بار میرے سمیع اللہ کو میرے سامنے لے آؤ۔"
اگر آپ سمیع اللہ کو جانتے ہیں، کہیں دیکھا ہے، یا اس کے بارے میں کوئی بھی معلومات رکھتے ہیں تو براہِ کرم فوراً نیچے دیے گئے نمبر پر صرف واٹس ایپ کریں۔
0316-2529829
25 July 2026
#WaliullahMaroof