اسلام آباد کے دل میں واقع پٹرول پمپ آئی نائن میں 50 لیٹر کی ٹنکی پمپ والوں نے 61 لیٹر پٹرول بھر دیا اوپر سے دھمکیاں دینے لگے میں 15 پر کال کر کے مدد مانگ لی ۔اور ڈی سی اسلام آباد اور اے سی اسلام آباد سے مدد مانگی تو اسلام آباد انتظامیہ نے تو ایکشن لیا اور دو بندوں کو تھانے میں بند اور پٹرول پمپ کو سیل کر دیا ۔
فخر درانی کی جگہ میں ہوتا تو سیدھا کہتا جتنے فلاں کو مل رہے اتنے مجھے چائیے اس طرح پتہ چل جاتا کہ فلاں بھی اس گیم میں ہے یا نہیں۔
فلاں کا نام آپکو ہے 🫢
اس پولیس والے نے اطراف میں دیکھے بغیر گاڑی کا دروازہ کھولا اور پیچھے سے آتے ہوئے موٹرسائیکل سوار اس سے ٹکرا کر گرگئے ۔ پھر پولیس والے نے لاٹھی نکال کر ان پر تشدد شروع کردیا ۔
پاکستان اور انڈیا میں پولیس تقریباً ایک جیسی ہے ۔
پاکستان پنجاب میں بھی عوام کو یوں بیدار ہونا ہو گا پولیس یا پیرا فورس اگر تشدد کرے تو سب شہری مل کر اسے روکیں کیونکہ وہ قانونی طور پر کسی کو مار نہی سکتے ہیں
عوام تماشہ نا دیکھیں مل کر اس سرکاری اہلکار کا راستہ روک دیں اب یہی واحد راستہ بچا ظلم روکنے کا
ایک بادشاہ کے دربار میں ایک فقیر آیا اور کہنے لگا، “سنا ہے کہ آپ کی سخاوت کے قصے دور دور تک مشہور ہیں؟“
بادشاہ نے جواب دیا بالکل ٹھیک سنا ہے تم نے، مانگو کیا مانگتے ہو؟
فقیر نے ہاتھ میں پکڑا کاسہ آگے بڑھا دیا اور کہنے لگا بس اسے بھر دیجئیے!
بادشاہ نے اپنے گلے سے قیمتی ہار اُتار
کر کاسے میں میں ڈال دیا مگر کاسہ نہ بھرا، لہذا بادشاہ نے اشرفیوں سے بھری بوری منگوائی اور کاسے میں ڈال دی مگر کاسہ پھر بھی لبالب نہ بھر سکا۔
فقیر طنزیہ نظروں سے بادشاہ کو دیکھنے لگا
بادشاہ نے فقیر کی نظروں اور شرمندگی سے بچنے کے لئیے اپنے پورے خزانے کا منہ کھول دیا،
تمام مال دولت کاسے میں انڈیل دی مگر کاسہ پھر بھی نہ بھر سکا۔
آخر بادشاہ نے اپنے سر سے تاج اُتار کر فقیر کے قدموں میں رکھ دیا اور پوچھا،
"اے پراسرار شخص، کم از کم اتنا تو بتا دے کہ آخر یہ کس بزرگ ہستی کا کاسہ ہے؟"
فقیر مسکرایا اور بولا، “حضور، یہ کوئی عام کاسہ نہیں،
یہ حکومتِ پاکستان کا کاسہ ہے، جو آج تک کوئی بھی نہیں بھر سکا “😂😂
جس طرح یہ فرعون روز رات پیٹرول ڈیزل مہنگا کرتے عوام بھی روز رات ان کی خوب عزت افزائی کرے نماز میں بدعائیں دے الٹے ہاتھ سے ان کی تباہی مانگیں
آپ کا کھاتہ کھول دیا ہے آپ دل ہلکا کر لیجئے
لاہور ٹریفک پولیس کا ای چلان نادہندہ گاڑیوں کے خلاف کریک ڈاؤن تیز
نوانکوٹ؛ ایک لاکھ کا ای چالان نادہندہ گوالہ پکڑا گیا
ٹریفک انسپکٹر ندیم اللہ نے موٹرسائیکل گوالے کے ای چلان چیک کئے تو 01 لاکھ جرمانہ پینڈنگ تھا
موٹرسائیکل سوار گوالے نے 50 مرتبہ ہیلمٹ کی خلاف ورزی کی اور بالاآخر پکڑا گیا
موٹرسائیکل کو تھانہ نوانکوٹ پولیس اسٹیشن میں بند کردیا
شہر لاہور میں 20 سے زائد ٹریفک خلاف ورزیوں پر اے این پی آر کیمروں کی مدد سے ای چلان جاری کیے جا رہے ہیں
شہری ای چلان سے بچنے کے لیے ٹریفک قوانین کی پاسداری
پاکستان کے جس جس شہر میں گھنٹہ گھر چوک ہیں ان سے گھڑیال اتار کر ڈیجیٹل سکرینیں لگا دی جائیں جن پر روزانہ پیٹرولیم مصنوعات کی بدلتی قیمتیں اپڈیٹ ہوں اور گھنٹہ گھروں کے نام تبدیل کر کے "پیٹرول چوک" رکھ دیے جائیں
سیکٹر آئی نائن میں واقع پیٹرول پمپ پر شہری کی 50 لیٹر کار ٹینک میں مبینہ طور پر 61 لیٹر پیٹرول ڈالنے کی اے سی انڈسٹریل ایریا کو شکایت پر مجسٹریٹ موقع پر پہنچے، شکایت کی تصدیق ہونے پر پیٹرول پمپ سیل، مینجر گرفتار جبکہ جرمانہ بھی عائد کیا گیا، ڈی سی اسلام آباد کی شہری شکایات پر فی الفور ایکشن لینے کی ہدایت
۔اگ لگے بستی میں کھیڑا اپنی مستی میں
ملتان۔یہ سول ڈیفنس کے انچارج اسد خان کھیڑا ہیں۔شہر میں ایل پی جی کی کھلے عام دوکانیں ہیں جو حادثے کا باعث بن سکتی ہیں۔ایل پی جی مافیا پورا دن شہر میں گیس 400 روپے فی کلو تک بیچتا ہے۔پر جنہوں نے انکے کخلاف کاروائی کرنی وہ سرکاری ڈالے میں ٹک ٹاک کی بہترین ویڈیوز بنانے میں مصروف ہیں۔عوام دل رہی یہ موصوف اپنی شوٹنگ میں۔
@CMComplaintCell@GovtofPunjabPK
لاہور کی آمنہ 32 سال کی تھی۔ اچھرہ کی تنگ سی گلی میں 2 کمروں کا گھر، 3 چھوٹے بچے، اور شوہر فاروق چارپائی پر۔
فاروق اچھرہ بازار میں درزی تھا۔ ہاتھ میں برکت تھی۔ مہینے کا 35 ہزار کما لیتا۔ گھر چھوٹا تھا مگر ہنسی بڑی تھی۔
پھر ایک رات سب بدل گیا۔ فاروق کو اچانک فالج کا حملہ ہوا۔ آدھا جسم سن ہو گیا۔ ڈاکٹر نے کہا 6 مہینے مکمل آرام۔ گھر میں جو 20 ہزار جمع تھے، وہ 10 دن میں دواؤں میں ختم ہو گئے۔
بھائیوں کو فون کیا تو ایک نے کہا "اللہ خیر کرے گا" دوسرے نے فون ہی نہیں اٹھایا۔
تیسرے دن آٹا ختم ہو گیا۔ بچوں نے کہا "امی بھوک لگی ہے"۔ آمنہ کے پاس کچھ نہیں تھا۔ اس نے چولہے پر خالی پتیلی میں پانی گرم کرنا شروع کر دیا تاکہ بچوں کو لگے کچھ پک رہا ہے۔ بچے پانی کی آواز سنتے سنتے بھوکے ہی سو گئے۔ آمنہ اس رات چولہے کے سامنے بیٹھ کر اتنا روئی کہ اس کی آنکھیں سوج گئیں۔ اس نے آسمان کی طرف دیکھ کر کہا "یا اللہ، میں بھیک نہیں مانگوں گی، بس مجھے ایک راستہ دے دے"۔
اگلی صبح وہ گلی میں ہالہ باجی کے پاس گئی۔ ہالہ باجی گلی میں ہی چھوٹی سی کریانہ دکان چلاتی تھی۔ آمنہ نے شرم سے کہا "باجی 1000 روپے ادھار دے دو، بچوں کے لیے راشن لینا ہے، جلدی واپس کر دوں گی"۔ ہالہ نے بغیر کچھ پوچھے 1000 روپے دے دیے اور بولی "واپس کی جلدی نہیں، جب ہاتھ میں آئے تب دینا"۔
آمنہ نے اسی 1000 روپے سے 1 کلو چاول، 2 کلو دال، تیل اور 20 شاپر لیے۔ گھر آ کر اس نے پہلے دن صرف 5 ٹفن بنائے۔ دال چاول۔
پہلا دن قیامت تھا۔ آمنہ کانپتے ہاتھوں سے گلی میں نکلی تو شرم سے زمین میں گڑ رہی تھی۔ شام تک 2 ٹفن واپس آ گئے۔ ایک نے کہا "مہنگا ہے" دوسرے نے کہا "کل لینا"۔ آمنہ گلی کے کونے میں کھڑی ہو کر رو پڑی۔ اسے لگا ہالہ کے 1000 بھی ڈوب گئے۔
وہ خالی ٹفن لے کر گھر آئی تو اس کی 6 سال کی چھوٹی بیٹی حفصہ دوڑ کر آئی اور بولی "امی، آج گلی میں انکل کہہ رہے تھے آمنہ باجی کے چاول بہت مزے کے تھے"۔ اس ایک جملے نے آمنہ کے سارے آنسو خشک کر دیے۔
دوسرے دن اس نے پھر 5 بنائے۔ اس بار سارے بک گئے۔ 500 روپے منافع۔ اس نے 3 دن میں ہالہ کے 1000 روپے واپس کر دیے۔ ہالہ نے کہا "پتر اب یہ تیرے ہیں، اسی کو بڑھا"۔ اس رات آمنہ کے بچے 4 دن بعد پیٹ بھر کر سوئے۔ آمنہ نے بچوں کو سوتا دیکھا اور دل میں کہا "بس اب پیچھے نہیں دیکھنا"۔
پھر آمنہ نے اصول بنایا۔ روز کی کمائی کے 3 ڈبے۔ پہلا ڈبہ گھر کا - 400 روپے دال سبزی کے لیے۔ دوسرا ڈبہ خوابوں کا - 150 روپے مٹی کے ڈبے میں بچوں کی فیس کے لیے۔ تیسرا ڈبہ برکت کا - 50 روپے الگ، تاکہ کل کوئی دوسری آمنہ بھوکی ہو تو وہ اس کی مدد کر سکے۔
لوگ ہنسے "آمنہ ٹفن والی بن گئی"۔ آمنہ مسکرا کر بولی "ہاں، ٹفن والی بنی ہوں، بھیک والی نہیں بنی"۔
پہلے مہینے 12 ہزار جمع۔ دوسرے مہینے ٹفن 5 سے 20 ہو گئے۔ 2 مہینے بعد کام اتنا بڑھ گیا کہ آمنہ نے 2 لڑکیاں مدد کے لیے رکھ لیں۔
چوتھے مہینے فاروق چارپائی سے اٹھ کر بیٹھنے لگا۔ اس نے کہا "آمنہ، تو نے میری غیرت بچا لی"۔ آمنہ بولی "آپ نے 10 سال مجھے کھلایا، اب میری باری ہے"۔
6 مہینے بعد 40 ٹفن روز کے۔ مہینے کا 45 ہزار منافع۔
آج اچھرہ بازار میں "آمنہ ٹفن سروس" ہے۔ دیوار پر لکھا ہے "عورت کمزور نہیں، موقع کی بھوکی ہے۔ 1000 روپے بھی قسمت بدل دیتے ہیں اگر نیت میں بھیک نہ ہو، ہمت ہو"۔
امریکی شہریت رکھنے والے عمراندار جج جسٹس بابر ستار نے اسلام آباد میں ذاتی رہائش موجود ہونے کے باوجود سرکاری رہائش گاہ اپنے پاس رکھی اور پشاور ہائیکورٹ تبادلے کے بعد بھی اسے خالی نہ کیا
بالآخر رجسٹرار اسلام آباد ہائیکورٹ نے الاٹمنٹ منسوخ کرتے ہوئے ایک ماہ کے اندر سرکاری گھر خالی کرنے کا نوٹس جاری کر دیا
کوئ اس عمراندار جج سے پوچھے کے بے شرم آدمی یہ تمہارے باپ کا گھر ہے
جو تم ابھی تک قبضہ جمائے بیٹھے ہو 🤨
چیف جسٹس ثاقب نثار نے میرے ہاتھ پکڑ کر کہا کہ میرے راز فاش مت کرنا!
جاوید ہاشمی
----
جج ارشد ملک نے کہا کہ سزا دینے کے لئے ثبوت ناکافی ہیں تو جج کو ثاقب نثار نے کہا کہ ہم حالت جنگ میں ہیں۔جنگ میں قانون کو نہیں دیکھا جاتا۔ سزا ضرور دینی ہے۔سزا سات سال نہیں ۔۔۔۔ دس سال دینی ہے۔۔
انڈیا میں نہتی لڑکیاں اور نوجوان پولیس کے ڈنڈوں کے آگے ڈٹ کر کھڑے ہو کر انقلاب زندہ باد کے نعرے لگا رہے گولی ڈنڈا مار تشدد سب برداشت کر رہے-
دوسری طرف پاکستان میں اقتدار کی چوری کھانے والے انقلابی تھے گرفتاری پر زچگی والی کیفیت میں چلے گئے -
انڈیا کے سٹوڈنٹ بہت creativity سے احتجاج کو گراونڈ اور سوشل میڈیا پر دنیا بھر میں پھیلا رہے ہیں ہر چیز ڈاکیومنٹ کر رہے ہیں بہت کچھ سیکھنے سے تعلق رکھتا ہے احتجاج کو سرکار کے خلاف رکھ رہے ریاست مخالف تحریک نہی بنا رہے ہیں