70cc bike with a 125cc silencer.
A TT-33 that somehow has a 17 round magazine
Bro riding around shooting with his friend sits behind him like they’re just hanging out in Sadar doing pondi.
And the cameraman recording every angle so closely that even Christopher Nolan would be impressed
🤡
Moment of Shame for every member of Punjab Assembly! They are herd of helpless sheep’s cannot even Question a fake CM on such shameless misuse of funds!!
27 جون پنجاب کے ہیرو اور عظیم مہاراجہ رنجیت سنگھ کا یوم وفات ہے!
رنجیت سنگھ 13 نومبر 1780 کو پیدا ہوئے اور 27 جون 1839 کو وفات پائی۔بچپن میں سنگھ کو چھوٹے موٹے بخار (چھپا) ہوا جس کے باعث ان کی ایک آنکھ ضائع ہوگئی۔
رنجیت سنگھ نے پنجاب کو درانی لٹیروں سے محفوظ کیا، انھوں نے پہلی بار محض 10 سال کی عمر میں لڑائی میں حصہ لیا، اور 17 سال کی عمر میں انہوں نے افغانستان کے بادشاہ زمان شاہ درانی کے ہندوستان کے حملے کو ناکام بنایا۔
زمان شاہ درانی کو رنجیت سنگھ نے دوبار شکست دی، امرتسر کی لڑائی (1797)، اسی سال گجرات کی لڑائی، اور اگلے سال امرتسر کی ایک اور لڑائی میں پھر درانتیوں کو شکست دی۔
رنجیت نے 1799 میں لاہور کو فتح کیا، جسے سکھ سلطنت کے لیے ایک سنگِ میل سمجھا جاتا ہے۔وہ 1801 میں محض 20 سال کی عمر میں مہاراجہ مقرر ہوئے۔
تخت لاہور جو اب پنجاب کے نام سے جانی جاتی ہے، ایسی ریاست تھی جو ایک طرف شکارپور سے ملتان،لاہور سے سری نگر اور تبت یعنی چین اور دوسری طرف کابل افغانستان تک پھیلی ہوئی تھی۔
رنجیت سنگھ کی زندگی میں انگریزوں کو کبھی جرآت نہیں ہوئ کہ وہ لاہور یا پنجاب فتح کرنے کا خواب دیکھیں، پورا ہندوستان ہر تسلط کے بعد بھی پنجاب انگریزوں کے خلاف چٹان بن کر کھڑا رہا لیکن رنجیت سنگھ کی وفات کے بعد ایک عشرے میں ہی انگریز لاہور پر قابض ہو گئے!
رنجیت سنگھ کے دور میں سکھ سلطنت نسبتا سیکولر تھی، کیونکہ مختلف مذاہب کے لوگوں کو سلطنت میں قائدانہ عہدوں پر فائز ہونے کی اجازت تھی۔ رنجیت سنگھ کی فوج میں کچھ یورپی خصوصاً فرانس کے جنرل بھی شامل تھے۔ تاہم، برطانوی انگریزوں کو شامل نہیں کیا جاتا تھا ۔
ان کی سلطنت میں مذہب کی بنا پر کسی کے ساتھ امتیاز نہیں کیا جاتا تھا۔ انہوں نے غیر سکھوں پر سکھ مذہب نافذ نہیں کیا اور تمام مذاہب کا احترام کیا۔
گولڈن ٹیمپل کے سنہری حصے اور کچھ نفیس سنگِ مرمر کے کام مہاراجہ رنجیت سنگھ کی سرپرستی میں کرائے گئے۔
مہاراجہ رنجیت سنگھ کو کوہِ نور ہیرے کے مالک کے طور پر یاد رکھا جاتا ہے، یہ ہیرہ انہیں افغانستان کے شجاع شاہ درانی امان کے عوض دیا تھا۔
2003 میں، سنگھ کی یاد میں بھارت کی پارلیمنٹ میں 22 فٹ بلند ایک کانسی کا مجسمہ نصب کیا گیا۔ نہ صرف بھارت میں بلکہ فرانس کے ایک قصبے سینٹ ٹروپیز میں بھی — جس کے پنجاب سے فوجی روابط تھے — 2016 میں رنجیت سنگھ کا کانسی کا بُسٹ نصب کیا گیا؛ لاہور پاکستان میں بھی مہاراجہ رنجیت سنگھ کا کانسی کا مجسمہ نصب کیا گیا۔مہاراجہ رنجیت سنگھ کا دنیا بھر میں پنجابی احترام کرتے ہیں
پولیس اور حکومت کے پاس اس بات کیا ثبوت ہے کہ یہی شخص اصل ملزم ہے سانحہ سرگودھا کا؟
کوئی ڈی این اے میچ ہوا؟ کوئی آزاد گواہ آیا؟
قانون کے تحت ایسا کونسا ثبوت ملا جس سے یقین ہوا کہ یہی ملزم ہے؟
بس عوام کا اس سانحہ پر ردعمل دیکھتے ہوئے ایک بندہ پکڑا اور خود ہی ملزم قرار دیدیا، پھر جعلی پولیس مقابلے میں ایک شخص کو سانحہ کا ملزم قرار دے کر میڈیا پر پریس ریلیز جاری کر دی کہ ملزم مارا گیا تاکہ عوام سوالات پوچھنے کا سلسلہ تھم سکے۔ سو تھم گیا، جعلی پولیس مقابلے میں بغیر ٹرائل، بغیر انکوائری ایک شہری کے قتل پر واہ واہ سمیٹ لی، بس بات ختم لیکن یہ بھی تو ثابت کریں کہ یہی اصل rapist تھا، اغواء کرنے والا بھی یہی تھا، قتل کرنے والا بھی یہی تھا۔
برائے مہربانی پولیس کے روبرو اعتراف والی کہانی مت بتایئے گا کیونکہ قانون کے تحت پولیس حراست میں بیان کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہے۔
CCD is what you get when you don’t reform and strengthen the judicial system but seek to subvert it every time.
Rip to the innocents killed in Chakwal by the police.
@OfficialDPRPP We should start a trend on X to ban Crime Control Department. These extrajudicial killings should end at any cost. Moreover, at the investigation stage their colleagues are involved in relieving accused in return of handsome ransoms, so first bring reforms in your system. #BanCCD
What CCD did in Chakwal was neither a case of mistaken identity nor an instance of mere negligence. It was the predictable outcome of the policing model adopted by the Government of Punjab. This incident cannot be viewed in isolation; rather, it reflects the consequences of a system that prioritises encounter-based policing over due process and the rule of law. The real issue is the culture of impunity under which the CCD appears to operate, where there seems to be little fear of accountability because officers believe they will not face meaningful consequences for their actions. That confidence stems from political patronage and institutional backing. More fundamentally, the CCD appears to be operating outside any clearly defined constitutional or legal framework with inadequate oversight
We should start a trend on X to ban Crime Control Department. These extrajudicial killings should end at any cost. Moreover, at the investigation stage their colleagues are involved in relieving accused in return of handsome ransoms, so first bring reforms in your system. #BanCCD
A Pakistani-Australian family, just back from Hajj, brutally murdered in Chakwal, a case that made international headlines. Despite specialized units like the CCD, citizens still aren't safe. Punjab government needs to do better.
Every YouTuber/Podcaster/Influencer who cheered for extra judicial killings by the CCD and normalized this thuggery has blood on his hands..!!!!!
If only...
Elites of Islamabad quietly cheered the brutal demolition of poor neighbourhoods — all perfectly 'legal', they said.But the moment the same law touches One Constitution Avenue skyscraper, it turns bearable. Law for the poor. Exception for the elite.