ہمیں سرپرائز دینے والے خود سرپرائز لیکر چلے گئے
پی ٹی آئ کا سلطان محمود غزنوی کچن کے سٹور میں چھپ گئےتھے
مشیر اطلاعات برقعہ پہن کر انقلابی مارچ سے فرار ہونے میں کامیاب
نام نہاد احتجاج کا چیمپئین سہیل آفریدی اپنے صوبے میں اپنی حکومت میں صوابی تک بھی مارچ نہ کر سکا کانپیں ٹانگتے ہوئے گرفتاری دیدی۔
باقی کوئ یہاں چھپ گیا کوئ وہاں بھاگ گیا،خود کو سب سے بڑی اور مقبول پارٹی کہنے والی صرف ڈائلاگ مارنے کے غازی نکلے۔ خس کم جہاں پاک
اس ویڈیو کو دیکھنے کے بعد اگر کِسی کو کوئی شک رہ گیا ہے کے تحریک انصاف اور ٹی ٹی پی ایک ہی سکے کے دو رُخ ہیں جنہوں نے ملکر تیرہ سالوں میں خیبر پختونخوا تباہ کیا تو انتہائی افسوس کی بات ہے. ...
یہ صاحب واضح کہنے کو تیار نہیں کہ TTP ایک دھشت گرد تنظیم ھے پاکستان دشمن ھے۔ جب ایک جماعت یہ نظریہ رکھتی ھو اسکو پاکستان کے کسی حصہ پہ حق حاکمیت رہتا ھے؟
پشاور میں گرنے والی بلڈنگ کی انسپیکشن کرنے والے سرکاری ملازم کا بیان
* اب تک اس سانحے میں 20 بچے لقمۂ اجل بن چکے ہیں، جن میں ایک استانی بھی شامل ہے۔ اس واقعے سے میرا دل بے حد رنجیدہ ہے اور مجھ سے کچھ بولا بھی نہیں جا رہا۔
* میں آج آپ سب کے سامنے حاضر ہوا ہوں تاکہ اصل صورتحال بیان کر سکوں۔ دو سے تین سال پہلے مجھے احکامات دیے گئے تھے کہ جا کر اس عمارت کا معائنہ کروں اور رپورٹ پیش کروں۔
* جب میں وہاں گیا اور عمارت کی حالت دیکھی تو وہ اسکول تو کیا، کسی عام استعمال کے قابل بھی نہیں تھی۔
* جس کے بعد عمارت کے مالک خان محمد صاحب کو باقاعدہ نوٹس جاری کیا گیا۔ نوٹس میں صاف لکھا تھا کہ اس عمارت کو فوری خالی کیا جائے کیونکہ اس کی حالت انتہائی خستہ اور مخدوش ہے۔
* لیکن افسوس کا مقام یہ ہے کہ میری بات ماننے کے بجائے وہاں کے ایم این اے اور ایم پی اے—فضل الٰہی صاحب اور آصف خان صاحب—نے خدا ان کا بیڑا غرق کرے، میرے لیے مسائل اور پریشانیاں کھڑی کر دیں۔ ان کے کارندے میرے پاس آ کر مجھے ڈراتے دھمکاتے اور ہراساں کرتے تھے۔
* یہ تقریباً چالیس پچاس سال پرانی خستہ حال عمارت تھی۔ مجھے دھمکیاں دی گئیں کہ اگر اس عمارت کے خلاف کوئی کارروائی کی تو تمہارا اور تمہارے بچوں کا جینا حرام کر دیں گے۔
* اس وقت میرے لیے شدید مشکلات پیدا کر دی گئیں، میرا گھر پر رہنا، بازار جانا اور بچوں کا اسکول جانا محال ہو گیا تھا۔
* میں اس قدر تنگ آ چکا تھا کہ آخرکار میں نے دفتر سے لمبی رخصت لی، اپنے بیوی بچوں کو ساتھ لیا اور مردان اپنے گاؤں منتقل کر دیا۔ تقریباً ڈیڑھ سے دو سال میں نے اسی اذیت اور پریشانی میں گزارے۔
* خدا ان کا بیڑا غرق کرے، میں اور کیا کرتا؟ میں تو صرف قانون اور قواعد کے مطابق اپنا فرض نبھا رہا تھا۔ مجھے جو احکامات ملے تھے، میں نے صرف ان کی تعمیل کی اور کوئی غیر قانونی کام نہیں کیا تھا۔ یہ عمارت ہر لمحہ گرنے کے خطرے سے دوچار تھی۔
* صرف یہی ایک نہیں، بلکہ ایسی کئی پرانی اور مخدوش عمارتیں موجود ہیں جنہیں گرانے کی اشد ضرورت ہے۔ اس دور میں مجھے اور میرے خاندان کو شدید ذہنی اور مالی اذیت کا نشانہ بنایا گیا۔
* آج جب یہ سانحہ پیش آیا ہے تو میرا دل خون کے آنسو رو رہا ہے، مجھ سے کوئی لفظ ادا نہیں ہو رہا۔ انتہائی افسوس کی بات ہے۔
* میں آج ان لوگوں کے لیے یہ بات کر رہا ہوں کہ ان ایم این ایز، وزراء اور بااثر شخصیات نے جو ظلم میرے ساتھ کیا تھا، آج وہی ہوا جس سے میں نے خبردار کیا تھا؛ آج وہ عمارت منہدم ہو گئی اور اتنے معصوم بچوں کی جانیں چلی گئیں۔
* مجھے گہرا صدمہ ہے۔ شکر ہے کہ اب پشاور میں گورنر راج نافذ ہو چکا ہے۔
* میری موجودہ حکومت اور حکومتِ پاکستان سے یہ پرزور اپیل ہے کہ ان تمام ذمہ داروں کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے اور ان کا محاسبہ کیا جائے۔ ان سے پوچھا جائے کہ انہوں نے اس وقت مجھے قانونی کارروائی کرنے سے کیوں روکا اور احکامات پر عمل کیوں نہیں ہونے دیا؟
* میں نے کیا گناہ کیا تھا؟ میں تو صرف اپنے بچوں کے لیے حلال روزی کمانے کی خاطر نوکری کر رہا تھا اور انصاف کے تقاضے پورے کر رہا تھا۔ اگر اس وقت میری بات مان لی جاتی اور یہ لوگ رکاوٹ نہ بنتے تو آج یہ معصوم پھول یوں ضائع نہ ہوتے۔
* خدا کے واسطے، میری حکومت سے التجا ہے کہ ان بااثر مجرموں کو سخت سے سخت اور عبرتناک سزا دی جائے، کیونکہ وہ سزا کے مکمل حقدار ہیں۔ انہی کی ہٹ دھرمی کی وجہ سے آج معصوم بچے شہید ہوئے ہیں۔
* ان بچوں کے والدین اور ماؤں سے جا کر کوئی پوچھے کہ ان پر کیا قیامت ٹوٹ پڑی ہے۔ ان بااثر لوگوں کی غفلت اور خودغرضی کی بھینٹ چڑھ کر یہ پھول جیسے معصوم بچے آج قبروں میں اتر گئے ہیں۔ انتہائی افسوس کا مقام ہے۔
اجمل جامی صاحب نے پی ٹی آئ سے جُڑے یوٹیوبرز کے بُرے وقت کی نبض ایک ہفتہ پہلے ہی پڑھ لی تھی اور بتادیا تھا کہ پی ٹی آئ کی ہر دفعہ رسوائ کا باعث بننے والے یہ ہی سب لوگ ہیں ۔ میرا جواب سُن کر ان یوٹیوبرز کا ایک سب سے بڑا سپورٹر پروگرام بیچ میں ہی چھوڑ کر چلا گیا بیچارہ ۔
کے پی گورنر راج میں نسوار پر پابندی لگا کر لسی کو عام کیا جانے کا خفیہ پلان بنایا جا رہا ہے تاکہ سخت جان پختون لسی پی کر سارا دن سوئے رہیں اور حکمران معدنیات نکال کر لے جائیں
محمد مالک نے اپنی پوری صحافتی زندگی میں پہلی مرتبہ سچ بولا اور شفیع جان کو ننگا کر دیا تھا 🦾👏🏻🔥✅
محمد مالک: میں کہتا ہوں TTP دہشتگرد ہے آپ بھی کہیں 🤷🏻♂️
شفیع جان: میں نہیں کہوں گا کیونکہ TTP دہشتگرد نہیں ہے ❌😡🖐🏿
1سال میں KPکے محکمہ معدنیات میں 16 ارب 94 کروڑ روپے کی بے ضابطگیاں!!
آڈٹ رپورٹ 2022-23 کے مطابق غیر قانونی کان کنی سے 8 ارب روپے، نادہندہ ٹھیکے داروں سے واجبات کی عدم وصولی پر 4 ارب 31 کروڑ روپے اور دیگر بے ضابطگیوں سے اربوں روپے کے نقصان کا انکشاف۔
ناری (1/2)
👇👇
شوکت خانم سےمنسلک سافٹ ویئر کے ذریعےخیبر ٹیچنگ ہسپتال میں ایک لاکھ35 ہزار ٹیسٹوں کا حساب غائب،ماہانہ70لاکھ روپے کے نقصان کا انکشاف،انکوائری کے بعد لیبارٹری آمدن میں 130 فیصد اضافہ۔۔حیرت ہے کہ ریکارڈ کافرق سامنے آنےپرمعاملہ دبانےاور ذمہ داروں کاتعین کرنے سےگریز کیوں کیا گیا؟
China and Pakistan Launch First-Ever Joint Army Exercise in Xinjiang
The opening ceremony of the first-ever China-Pakistan joint army training exercise, “Karakoram 2026,” took place on October 14, 2026, at a military training base in Korla, Xinjiang Uygur Autonomous Region, northwest China.
Following the ceremony, military personnel from both countries exchanged experiences in counter-terrorism operations, while Pakistani troops were given an opportunity to observe Chinese weapons and military equipment.
The exercise focuses on joint counter-terrorism operations in high-altitude environments. Its training programme includes UAV operations, mobile target detection and engagement, long-range sniping, joint command coordination, and field exercises involving combat troops.
As the first joint army training exercise of its kind between China and Pakistan, Karakoram 2026 is expected to strengthen military ties, enhance operational coordination, and improve interoperability between the two armed forces in combating terrorism.
انکی ہر خبر اور پراپیگنڈا جھوٹ ہوتا ہے ڈالرز کے لئے
خود کی موجیں لگی ہیں اور یہاں اس جماعت کا بیڑہ غرق کردیا ہے
پنجاب الحمد للہ بی آر ٹی،گرین بسوں اور ٹرانسپورٹ میں پورے ملک میں لیڈ کررہا ہے
یاد رہے یہ بسیں جنگلہ بس تھی اور اسکی ضرورت نہیں کوئی عقل بند یہ کہا کرتا تھا
پنجاب کو اللہ پاک کے علاوہ کسی سے لینے یا مانگنے کی ضرورت نہیں ہاں البتہ کسی صوبے کو مدد کی ضرورت ہو تو پنجاب حاضر ہے
اب انشااللہ خیبر پختونخواہ سے چوریوں اور نکمے پن کا خاتمہ ہوا ہے اب وہاں بھی دہشتگردی ختم اور ترقی کا دور شروع ہوگا
پنکی پیرنی توشہ خانہ لوٹ کر کھا گئی، 190 ملین پاؤنڈ ہڑپ کر گئی، پنجاب میں بزدار اور فرح گوگی کے ساتھ مل کر اربوں روپے ٹرانسفر پوسٹنگ پر بنائے۔قومی خزانے کے ساتھ کھلواڑ کرتی رہی، سیاسی مخالفین کو غدرای کے ساتھ لنک کرواتی رہی غداری کے سرٹیفکیٹ بانٹتی رہی۔چوری اور کرپشن کی مجرمہ ایک عورت ہے اس لئے اسے رہا کر دینا چاہیے، یہ کس قانون میں لکھا ہے؟