یہ اس جرنل نے کیا ہے جو اپنے آپکو حافظ مشہور کرتا ہے جو مسلمانوں کو قتل کرکے قرآن کی آیتیں سناتا ہے
جسکی ہر حرکت منافقوں جیسی جسکا ہر عمل خارجیوں جیسا اور دوسروں پر خارجی ہونے کے فتوی لگاتا ہے۔
اگر آپ بھول گئے ہیں تو یاد کریں یہی جرنیل افغانوں کو مجاہدین کہہ کر ڈالر بھی کماتے رہے
These were drug addiction patients seeking recovery at the Omid Rehabilitation Hospital in Kabul, Omid meaning “Hope.” Instead of healing, they were massacred when the criminal Pakistani military regime bombed the facility. A place meant to restore lives.
آج رات ایک بار پھر فوجی رجیم نے کابل میں بمباری کی اور منشیات کے عادی افراد کے ہسپتال کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں زیرِ علاج کئی مریض شہید اور زخمی ہو گئے۔ فوجی رجیم ہمیشہ عام شہریوں پر بمباری کرتا ہے اور عوامی فلاحی تنصیبات کو بھی نشانہ بناتا رہا ہے۔
سعید منور حسن کے تاریخی الفاظ کفار کی اتحادی ناپاک فوج کا مرنیوالا شہید نہیں ہوسکتا
اگر کوئی فوج اپنی وابستگی ان قوتوں سے جوڑے
جو مسلم سرزمین پر حملہ آور ہوں،تو پھر سوال یہ نہیں رہتا کہ کون مرا
سوال یہ ہوتا ہے کہ کس راہ میں مرا؟
کس مقصد کیلئے مرا؟ دین کیلئے یا طاغوت کے مفادات کیلئے؟
قرآن نے شہادت کو محض موت نہیں کہا،
بلکہ “فی سبیل اللہ” کے ساتھ مشروط کیا ہے۔
ورنہ ہر لاش محترم ہو سکتی ہے،
مگر ہر موت شہادت نہیں بن جاتی۔
جو اپنی زمین، اپنے گھر اور اپنی حرمت کے دفاع میں کھڑا ہو،
وہ کمزور ہو سکتا ہے،
مگر لازماً باطل نہیں ہوتا۔
انہیں محض اس لیے “دہشت گرد” کہنا کہ وہ سپر پاور کے سامنے جھکنے سے انکار کریں
یہ حق نہیں، طاغوت کی غلامی ہے۔
یہ سوال سخت ہے، مگر لازم ہے
کیا ہم اعمال کو ترازوئے قرآن پر تولتے ہیں،
یا صرف طاقت کے بیانیے پر؟
قرآن ہمیں یہ نہیں سکھاتا کہ موت کو دیکھا جائے،
بلکہ یہ سکھاتا ہے کہ مقصد کو پرکھا جائے۔
“وَلَا تَكُونُوا كَالَّذِينَ ظَلَمُوا فَتَمَس��ّكُمُ النَّارُ”
اور ظالموں کی طرف نہ جھکو، ورنہ آگ تمہیں آ لے گی
سوچیں۔
کیونکہ قرآن سوال سے ڈرنے والوں کے لیے نہیں اترا تھا۔
جب طاقت حق کی تابع ہو تو وہ امانت ہوتی ہے،
اور جب حق طاقت کے تابع ہو جائے تو وہ فتنہ بن جاتی ہے۔
اِسوقت سارے حقائق سارے ثبوت و واقعات یہی بتاتے ہیں کہ ناپاک فوج کا جرنیلی ٹولہ ہی اصل فتنہ الخوارج ھے ۔