درست لکھا ہے ڈاکٹر مشتاق نے مگر ڈاکٹر صاحب جب ڈاکٹر قاضی کے ماتحت تھے تو ان دونوں نے اسی مرض اور مریض کا فوری علاج کرنے کی بجائے اُسے لاوارث لاش کی مانند ھسپتال کی راہداری میں چھوڑ دیا تھا۔ جسٹس وقار سیٹھ کی نہ تو سینیارٹی والی پٹیشن لگائی اور نہ ہی انٹرنمنٹ سینٹرز میں قیدیوں کی رہائی کے وقار سیٹھ کے فیصلے کیخلاف جاری سٹے ختم کیا اور نہ ہی اس کیس کا فیصلہ کیا۔
یا منافقت تیرا آسرا !
ایک دن میں گورنر راج لگا اسی دن گورنر کی کابینہ تیار ہوگئی اسی دن اجلاس ہوگیا اسی دن بکتر بند گاڑیاں پہنچ گئی
لیک ٹاؤٹ اپکو بتائیں گے کہ سہیل آفریدی ہوں کردیتا تو گورنر راج نہ لگتا سلمان اکرم راجہ یوں کردیتا تو گورنر راج نہ لگتا
بھئی یہ کئی ہفتوں پہلے کی تیاری تھی
”سہیل آفریدی نے کئی مرتبہ یہ مطالبہ کیا تھا کہ ڈرون اٹیک نہیں ہونے چاہیے! بھائی یہ تو کمانڈنگ آفیسر کی صوابدید ہے اس پر کیسے مشورہ ہو سکتا ہے“- رانا ثناءاللہ
یہ نظام خود گواہی دے رہا ہے کہ وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے اپنے کپتان کی پالیسی کے تحت اپنی قوم اور عوام کے خون کا سودا نہیں کیا۔
#AbsolutelyNot
میں جیل تھاتوایک قریبی رشتہ دارکوبرین سٹروک ہوا۔ڈیڈھ مہینےبعدایک تھانے میں ریمانڈ کےدوران ایک پولیس والےنےگھرویڈیوکال کروائی۔بچوں سے بات کروائی کوئی 8 منٹ۔اس پولیس والے کو OSD کرکے بطورسزاء لائن حاضر کردیاگیا۔حالانکہ بدترین مجرموں کوہفتہ میں 3دن 20،20 منٹ ویڈیوکال کی سہولت میسرتھی۔
جب وزیر اعلی سہیل آفریدی آپ سے ڈیمانڈ کررہا تھا، آپ کو صوبے کے خزانے سے پیسے ادا کئے گئے تھے، تب آپ یہ مشینری کیوں صوبائی حکومت کے حوالے نہیں کررہے تھے؟
ایڈمنسٹریٹر کی تعیناتی کے اس نوٹیفیکیشن کی تاریخ 9 اکتوبر کیوں ہے ؟؟؟؟
اگر میں غلط نہیں تو اس وقت تو مذاکرات ہو رہے تھے نا ؟؟؟
یہ 12 ضلعوں کا معاملہ ہمیشہ مشکوک ہی کیوں رہتا ہے ؟؟
دہشت گردی کے خاتمے کے نام پر آرٹیکل 234 کا سہارا لے کر گورنر راج نافذ کرنے کا جواز اب کھوکھلا دکھائی دیتا ہے۔ اگر مقصد واقعی دہشت گردی کا خاتمہ تھا تو صوبائی حکومت کو دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کے لیے بکتر بند گاڑیاں کیوں فراہم نہیں کی گئیں؟ کسی حکومت سے دہشت گردی کے خلاف جنگ کے وسائل چھین کر، پھر اسی دہشت گردی کو اس کے عوامی مینڈیٹ پر شب خون مارنے کا جواز نہیں بنایا جا سکتا۔ یہ تضاد خود بہت کچھ بیان کرتا ہے
🚨🇵🇰 Imran Khan's son accused Pakistan's military leadership of using emergency rule to CRUSH political opposition.
As protesters demand the jailed fmr. PM's release, Kasim Khan says military chief Munir is targeting the Pakistani province where his father's party holds power.
He accuses the authorities of using terrorism as a pretext for further military operations and demands the release of political prisoners.
“Pakistan belongs to its people, not its military.” 💯
Source: @kasim_Khan / Writer: Samuel
کولیٹرل ڈیمیج کا آسان بھاشا میں مطلب “کیڑے مکوڑوں” کا مرنا ہوتا ہے
ورنہ
وفاق نے کےپی حکومت سے پیسے لے کر بھی جدید بکتربند گاڑیاں مہیا نہیں کیں
پولیس کو اپنے “دوست طالبان” کے رحم و کرم پر چھوڑے رکھا
۔۔
اب یہ گاڑیاں تشدد پسند کاروائیوں کے لیے عوام پر استعمال ہوں گی
PAKISTAN: Responding to the declaration of a state of emergency in Khyber Pakhtunkhwa, as well as the imposition of governor rule and the deployment of armed forces in the province, Amnesty International said:
“Reports of arbitrary detentions of key leaders – including the provincial chief minister – and internet disruptions across the province raise concerns about the proportionality of these emergency measures. While states may, in strictly limited circumstances, derogate from their human rights obligations to respond to a public emergency that threatens the existence of the nation, emergency measures are not a blank cheque to crack down on human rights, silence dissent, or concentrate power.”
READ MORE: https://t.co/Gl5XwdD2ve
کچھ دوست سوال اٹھا رہے ہیں کہ سہیل آفریدی رات کو سی ایم ہاؤس کیوں گئے، نا جاتے تو بچ جاتے۔ ان میں سے کچھ دوست ایسے بھی ہیں جو سہیل آفریدی کی لاہور کی سٹریٹ موومنٹ پر بھی یہی سوال اٹھاتے رہے کہ “گرفتار ہونے لاہور آیا ہے”
پھر جب خان صاحب کی بہنوں کو ریسکیو کرنے لاہور کی طرف نکلا، تو رات لاہور گزارنے کا ارادہ کیا، تب بھی سوال اٹھا کے شاید گرفتار ہونے آیا۔ کچھ مخصوس وٹس ایپ گروپوں میں تو کارکنوں کو فیصلہ سنا دیا گیا کہ یہ تو آیا ہی گرفتار ہونے ہے۔ پر ایسا نہ ہوا۔
میں ماضی کے دور کا زکر کروں تو 2014 کا اسلام آباد دھرنا ڈھائی دن بعد جب پہنچا تو عمران خان صاحب اپنے گھر اکیلے سونے چلے گئے، ہماری حکومت نہیں تھی، گرفتار بھی ہو سکتے تھے۔ لیکن گئے۔ اور پھر بہت مرتبہ اکیلے گھر ہی رات گزاری۔
۹ مئی کے بعد جب زمان پارک سے عمران خان صاب کی سیکیورٹی احمد خان نیازی اور انکی ٹیم چلے گئے، کوئی کیمپ نہیں رہا اور باہر ایک بندہ بشر نہیں بچا، تو بھی خان صاحب نے وہیں رہنے کا فیصلہ کیا اور وہیں سے اکیلے 5 اگست کو گرفتار ہو گئے۔
سہیل آفریدی ہر رات ہی سی ایم ہاؤس جا کر گزارتا تھا، ایسا نہیں تھا کہ وہ بس گرفتاری کی رات اچانک وہاں چلا گیا۔
ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ اگر وہ یہ تحریک نہ چلاتا تو سی ایم ہی ہوتا۔
کور کمیٹی کی مشاورت میں دیگر ساتھیوں نے اسکو بہت مشورہ دیا کہ ہمیں کہا جا رہا ہے کہ اگر لانگ مارچ کا اعلان واپس لے لو تو حکومت چلنے دیں گے، کچھ نے یہ بھی کہا کہ لانگ مارچ کا اعلان خان صاحب نے نہیں تم نے کیا تھا، تم اسکو کال آف کر دو ، یہ نہ ہو کہ کے پی کی حکومت سے ہاتھ دھونا پڑ جائیں۔ پر سہیل نے تحریک روکنے سے انکار کر دیا۔ اس نے بہادر شاہ ظفر اور ٹیپو سلطان کی مثال دی، جو مثال خان صاحب دیتے رہے ہیں ہمیں۔
مجھے ان اجلاسوں میں سہیل آفیدی کے اس جرآتمند فیصلے پر رشک آتا رہا۔ میری تمام تحریکیوں سے گزارش ہے کہ ہمیں اس جرأتمندی کی حوصلہ افزائی کرنی چاہیے، نہ کہ اسکی نیت پر سوال۔
شکریہ
یہ جو دھشتگردی ہے!
کم وسائل کے باوجود وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل خان آفریدی اور پختونخوا حکومت نے یہ بکتر بند گاڑیاں اور اسلحہ پولیس کے لیے خریدا لیکن کے پی حکومت کو اس کی ڈیلیوری نہیں کی گئی، گورنر راج اور ایمرجنسی لگا کر دوسرے دن ہی گاڑیاں پشاور پہنچا دی گئیں، اب یہی اسلحہ اور گاڑیاں تحریک انصاف کے کارکنوں کیخلاف استعمال کیا جا رہا ہے، اس سے بڑی بے حسی اور بددیانتی ہو نہیں سکتی کہ دھشتگردوں کے خلاف صوبائی حکومت کا خریدا گیا اسلحہ دیا نہیں گیا اور ایمرجنسی لگا کر عوام کے خلاف یہ بکتر بند گاڑیاں اور اسلحہ ایک دن میں پہنچا دیا گیا۔
پھر اصل دھشتگرد اور پشتونوں کا دشمن کون ہوا؟
#FascismUnderAsimLaw
#PakistanUnderMartialLaw
مشرف نے نواز شریف کو رکھ کر دبایا تو نواز شریف جدے تھا۔ اسمبلی میں سولہ نشستیں تھیں اور لاہور میں ن لیگ کے پاس امیدوار نہیں تھا۔ ضیاء دور میں بینظیر کان میں درد کا کہہ کر چلی گئی ، پھر ستانوے میں نواز شریف کی حکومت کے خوف سے خودساختہ جلاوطن ہوگئی۔ پچھلے تین الیکشنز میں پیپلزپارٹی نے پنجاب سے دو ، پانچ اور صفر نشستیں جیتی ہیں۔انکی روانگیاں سعودی بادشاہوں نے کروائیں ، واپسیاں کونڈا لیزا رائس اور مشرف یا عاصم منیر نے کروائیں۔ آج تک اقتدار انکے خاندان سے باہر نہیں نکلا۔ تبصرہ پاڑ آپ کو بتائیں گے کہ یہ سیاسی جماعتیں ہیں۔
تحریک انصاف کا لیڈر ملک سے فرار نہیں ہوا۔ گیارہ مہینوں سے قید تنہائی میں ہے۔ یہ جماعت بغیر نشان ، بغیر کیمپین ، بغیر تصویر کے الیکشن جیت گیا۔ لیڈر نے پانچ وزرائے اعلی لگائے ایک بھی رشتہ دار نہیں تھا۔ یہ پارٹی بدترین وحشت کا سامنا کرنے کے باوجود انٹیکٹ ہے۔ اس پارٹی کے نام پر آج بھی لاکھوں لوگ نکلتے ہیں۔ لوگ اسکے جھنڈے قیمتاً خریدتے ہیں۔ پاکستان کی واحد بڑی جماعت ہے جو کراوڈ فنڈنگ کرتی ہے۔ اسکے ممبرز کے ووٹ لینے کے لیے انکے نابالغ بچے اغواء کیے جاتے ہیں۔ لیکن تبصرہ پاڑ آپکو بتائیں گے کہ یہ جماعت نہیں ہے یہ کلٹ ہے۔
واہ تبصرہ پاڑو واہ
ایک سیاسی جماعت کی صوبے میں ڈھائی سال حکومت رہی، اگر نیب کو کسی منصوبے میں کرپشن دکھائی دیتی تو وہ خود ہی تحقیقات کا آغاز کر دیتا اور ریکارڈ منگوا لیتا۔ اگر نوبت یہ آگئی ہے کہ نیب کو ریکارڈ بھیج کر دوربین سے چھانٹی کے لیے کہا گیا ہے تو اس کا مطلب ہے کسی شخصیت کے خلاف کچھ بھی نہیں ہے، اب من گھڑت مقدمات بنا لیں تو الگ بات ہے، پی ٹی آئی کے خلاف ادارے خود مواد ڈھونڈ کر نیب کے حوالے کرتے ایسا بھی کچھ نہیں سامنے آیا لیکن معجزے تو پھر ممکن ہو سکتے ہیں
عمران خان پر تو 300 مقدمات بنالئے، لیکن آج تک کوئی ایک ڈھنگ کا کرپشن کا مقدمہ نہ بنا پائے اور نہ ہی ثابت کر سکے۔ چلیں، ایک اور شروعات کیجیے اور اپنی تصوراتی دنیا کو حقیقت کا روپ دیجیے۔
وزیر اعلیٰ پختونخوا سہیل آفریدی اور ان کے خاندان پر جو کرپشن کے الزامات لگتے رہے ہیں، انہیں کھلی عدالت میں براہ راست نشریات کے ذریعے ثابت کیجیے۔ پختونخوا کے عوام کو بتائیے کہ جسے آپ نے تاریخی مینڈیٹ دیا، وہ دراصل کرپٹ تھا اور آپ کے پیسوں سے جائیدادیں، بیرون ملک فلیٹس اور آف شور کمپنیاں بنا رہا تھا یا ٹھیکوں اور تقرریوں تبادلوں سے کمیشن کھا رہا تھا۔