میڈیکل اینڈ ڈینٹل کالج ایڈمیشن ٹیسٹ MDCAT کے سامنے آنے والے نتائج میں کراچی کے طلبہ و طالبات کے ساتھ زیادتی واضح نظر آتی ہے۔ اعتراض یہ نہیں کہ اس میں ٹاپ پر آنے والوں کا تعلق تھر سے ہے، کراچی کے طلبہ و طالبات کے ساتھ امتحانی نتائج میں زیادتیوں کی شکایات مسلسل سامنے آرہی ہیں، اس سے قبل کراچی میں انٹر بورڈ کے امتحانی نتائج میں بھی جان بوجھ کر تبدیلی کرنے کی شکایت سامنے آئی تھیں جس پر طلبہ نے کئی روز تک احتجاج کیا تھا، کراچی کے طلبہ کے ساتھ تسلسل کے ساتھ کی جانے والی زیادتیوں سے صاف ظاہر ہوتا ہےکہ یہ سب کچھ انہیں اعلیٰ تعلیم کے میدان میں جان بوجھ کر پیچھے رکھنے کے لئے کیا جارہا ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ اس حوالے سے کی جانے والی شکایات کو تعصب کی بھینٹ چڑھانے کے بجائے ان کا نوٹس لیا جائے۔
30ستمبر 1988ء کو حیدرآباد میں قیامت صغریٰ بپاکی گئی تھی۔
جب بھی اختیارملا، قاتلوں کوانصاف کے کٹہرےمیں لائیں گے۔سانحہ حیدرآباد کی 38 ویں برسی پرخطاب
#سانحہ_حیدرآباد_30ستمبر
آج سے 38برس قبل 30 ستمبر 1988ء کو سندھ کے دوسرے بڑے شہر حیدرآباد میں قیامت صغریٰ بپا کی گئی تھی۔ اس روز شام کے وقت 10 گاڑیوں میں سوار اسلحہ بردار حیدرآباد شہر میں داخل ہوئے، انہو ں نے شہر کے مختلف علاقوں میں شہریوں پر اندھا دھند فائرنگ کی،جو سامنے آیا اسے گولیوں کانشانہ بنایا گیا، آدھے گھنٹے تک یہ سلسلہ جاری رہا لیکن نہ پولیس، انتظامیہ پہنچتی ہے، کمشنر، ڈپٹی کمشنر، ایس ڈی ایم پوری انتظامیہ غائب ہوتی ہے۔200 سے زائد معصوم شہریوں کو شہیدکردیا جاتا ہے اور سینکڑوں زخمی ہوتے ہیں جن میں نوجوان، بزرگ، خواتین اوربچے شامل ہوتے ہیں، حیدرآباد کی سڑکیں مہاجروں کے خون سے رنگ دی جاتی ہیں۔ اسی طرح کے حملے جنرل ایوب خان کے زمانے میں کراچی میں بھی ہوئے تھے جن میں بڑی تعداد میں بے گناہ مہاجروں کوشہید کردیا گیا تھا، اسی طرح کے واقعات ذوالفقارعلی بھٹوکے دور حکومت میں بھی کرائے گئے۔ 14دسمبر1986ء کواسی طرح کراچی میں علی گڑھ کالونی اورقصب کالونی میں پر بھی حملے کرکے مہاجروں کا قتل عام کیا گیا تھا۔جب اسی طرح کے حملے ہوتے رہے تو الطاف حسین نے ڈنکے کی چوٹ پر مہاجروں سے کہا تھا کہ وہ اپنی جان ومال کے تحفظ کے لئے لائسنس بنوائیں اوراسلحہ رکھیں اورمیں آج بھی مہاجروں سے کہتا ہوں کہ وہ اپنی بقا کا سامان کریں۔ امام الانبیا حضرت محمد مصطفےٰ ﷺ نے بھی صحابہ کومسلح ہونے کادرس دیا اوریہاں تک بتایا کہ کہاں کے بنے ہوئے تیراورتلواریں اچھی ہوتی ہیں۔
میں سانحہ حیدرآباد 30ستمبر1988ء کے شہدا کی 38ویں برسی پر شہیدوں کوخراج عقیدت پیش کرتا ہوں اوران کے لواحقین سے دلی تعزیت کا اظہارکرتاہوں اوران سے وعدہ کرتا ہوں کہ جب بھی ہمیں اختیارملا، ہم قاتلوں کوانصاف کے کٹہرے میں لائیں گے۔
میں ان متعصب لوگوں کی بھی مذمت کرتا ہوں جو سانحہ حیدرآباد کا الزام بھی ایم کیوایم اور مہاجروں پر لگاتے ہیں، یہ مذاق ہے کہ قتل عام بھی مہاجروں کاہواورالزام بھی ہمی پر لگایاجائے۔ میں سوال کرتاہوں کہ جب 1972ء میں بھٹوکے زمانے میں سندھ اسمبلی میں لسانی بل پیش کیا گیا تھااس وقت پورے سندھ میں فسادات کس نے کرائے تھے؟ کیااس وقت ایم کیوایم موجود تھی؟ کیااس وقت الطاف حسین میدان سیاست میں تھا؟جولوگ مختلف سوشل میڈیا پلیٹ فارمزپر بیٹھ کرایم کیوایم اور الطاف حسین پرجو جھوٹ اور من گھڑت الزامات لگاتے ہیں، کیا انہوں نے اپنی آنکھوں سے الطاف حسین یا ایم کیوایم کو دہشت گردی کرتے دیکھا ہے؟ ان سے پوچھو تو جواب دیتے ہیں کہ ہم نے فلاں سے سناہے۔ الزامات لگانے والے سنی سنائی باتیں توبیان کرتے ہیں لیکن کیا انہیں معلوم ہے کہ 30 ستمبر 1988ء کوحیدرآبادمیں کیا ہوا تھا؟ اسی قسم کی نفرت انگیزسوچ نے ملک میں نفرت اورعصبیت کی آگ بھڑکائی ہوئی ہے۔
30ستمبر 1988ء کوحیدرآباد میں مہاجروں کاقتل عام اسی لئے کیا گیا تھا تاکہ مہاجروں کو خوفزدہ کردیا جائے لیکن ہم نہ کل خوفزدہ ہوئے تھے اورنہ آج خوفزدہ ہوں گے۔میں سانحہ حیدرآباد کے شہدا کوخراج عقیدت پیش کرتاہوں اوردعا کرتاہوں کہ اللہ تعالیٰ شہیدوں کی قربانیوں کوقبول فرمائے اوران کے لہوکی بدولت ہمیں اپنے مقصد میں کامیابی عطافرمائے۔
الطاف حسین
سانحہ حیدرآباد کے شہدا کی 38ویں برسی پر خطاب
30ستمبر 2026ء
صومالی قزاقوں نے مغوی عملے کی رہائی کے لیے تاوان مانگا تھا اور تاوان ادا نہ کرنے پر انہیں مارنے کی دھمکیاں دی تھیں لیکن حکومت پاکستان نے ان دھمکیوں کا کوئی نوٹس نہیں لیا ۔ الطاف حسین
#بےحس_حکومت_مردہ_باد
ٹورانٹو میں قائدِ تحریک جناب الطاف حسین بھائی کی 73ویں سالگرہ کی پروقار تقریب کا انعقاد
#17SepBirthdayOfAltafHussain
ایم کیو ایم کینیڈا کے زیرِ اہتمام تقریب میں ساتھیوں اور عوام کی شرکت
ٹورانٹو، کینیڈا: ایم کیو ایم کینیڈا کے زیرِ اہتمام ٹورنٹو میں قائدِ تحریک جناب الطاف حسین کی 73ویں سالگرہ کے سلسلے میں ایک پروقار تقریب کا انعقاد کیا گیا، جس میں ایم کیو ایم کینیڈا کے ذمہ داران، کارکنان، خواتین، بچوں اور بچیوں سمیت بڑی تعداد میں ساتھیوں نے شرکت کی۔ تقریب کا ماحول خوش گوار اور جوش و خروش سے بھرپور تھا اور شرکاء نے قائدِ تحریک کو سالگرہ کی مبارکباد پیش کی۔
تقریب کا باقاعدہ آغاز تلاوتِ قرآنِ پاک سے ہوا، جس کے بعد نعتِ رسولِ مقبول ﷺ اور حمد و ثناء پیش کی گئی۔ اس کے بعد مقررین نے قائدِ تحریک جناب الطاف حسین کو 73ویں سالگرہ کی مبارکباد پیش کرتے ہوئے تحریک کے تنظیمی سفر، موجودہ حالات اور ساتھیوں کے کردار کے مختلف پہلوؤں پر اظہارِ خیال کیا۔
عمیر خسرو بھائی رکن رابطہ کمیٹی نے شرکاء سے گفتگو کرتے ہوئے قائدِ تحریک جناب الطاف حسین اور تمام مظلوم اقوام کے قائد کو 73ویں سالگرہ کی دلی مبارکباد پیش کی۔ انہوں نے تحریک کے تاریخی اور تنظیمی سفر کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ تحریک اے پی ایم ایس او کے شجر سے ایم کیو ایم کے ایک تناور درخت کی صورت اختیار کر گئی اور اس کی روشنی پاکستان کے مختلف علاقوں تک پہنچی۔
عمیر خسرو بھائی نے قائدِ تحریک کی سالگرہ کے موقع پر جاری شجرکاری مہم کا بھی خصوصی ذکر کیا۔ انہوں نے بتایا کہ ایم کیو ایم کیلگری نے سٹی انتظامیہ کے تعاون سے شہر میں 500 پودے لگائے اور اس سلسلے میں تعاون کرنے پر سٹی انتظامیہ کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ ماحول کے تحفظ اور معاشرے میں مثبت سرگرمیوں کے فروغ کے لیے شجرکاری ایک اہم قدم ہے۔
انہوں نے ساتھیوں سے کہا کہ وہ باہمی اتحاد، تنظیمی نظم و ضبط اور آپس کے رابطے کو مضبوط بنائیں اور اپنی تنظیمی ذمہ داریوں کو بھرپور انداز میں ادا کریں۔ انہوں نے قائدِ تحریک پر اعتماد برقرار رکھنے اور ان کی قیادت میں تحریک کی منزل کے حصول کے لیے دعا کی، جس پر شرکاء نے بلند آواز سے آمین کہا۔
اقبال بہادر بھائی، آرگنائزر ایم کیو ایم کینیڈا، نے قائدِ تحریک جناب الطاف حسین کو 73ویں سالگرہ کی مبارکباد پیش کی۔ انہوں نے اپنی گفتگو میں تنظیمی نظم و ضبط، باہمی اتحاد اور ساتھیوں کے درمیان اعتماد کی اہمیت پر تفصیلی اظہارِ خیال کیا۔
اقبال بہادر بھائی نے کہا کہ کسی بھی تنظیمی جدوجہد میں ساتھیوں کا متحد، منظم اور باہمی رابطے میں رہنا بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ انہوں نے ساتھیوں پر زور دیا کہ وہ اپنے تنظیمی فرائض کو ذمہ داری، مستقل مزاجی اور خلوص کے ساتھ انجام دیں اور بدلتے ہوئے حالات میں بھی اپنے حوصلے بلند رکھیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ موجودہ دور میں حالات تیزی سے تبدیل ہو رہے ہیں، اس لیے ساتھیوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ حالات پر نظر رکھیں، ایک دوسرے کے ساتھ رابطے میں رہیں اور تنظیمی سرگرمیوں کو تسلسل کے ساتھ جاری رکھیں۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ باہمی اعتماد اور اتحاد کو برقرار رکھتے ہوئے ساتھی اپنے قائد اور تحریک سے اپنی وابستگی کو مضبوط رکھیں۔ ان کا کہنا تھا کہ منظم اور متحد ساتھی ہی اپنی تنظیمی ذمہ داریوں کو بہتر انداز میں پورا کر سکتے ہیں۔
خواتین ونگ کی ساتھی عینی باجی نے قائدِ تحریک جناب الطاف حسین کو 73ویں سالگرہ کی مبارکباد پیش کی۔ انہوں نے خواتین ساتھیوں کو تحریک کی سرگرمیوں میں مزید فعال کردار ادا کرنے کی دعوت دی اور کہا کہ خواتین تنظیمی سرگرمیوں میں اپنی شرکت کو مزید مؤثر بنائیں اور باہمی رابطے کو مضبوط کریں۔
عمران ملہی بھائی نے بھی قائدِ تحریک جناب الطاف حسین کو سالگرہ کی مبارکباد پیش کی اور دنیا میں رونما ہونے والی تیز رفتار تبدیلیوں اور بدلتے ہوئے عالمی حالات پر اظہارِ خیال کیا۔ انہوں نے موجودہ دور کے حالات کو سمجھنے اور ان پر نظر رکھنے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔
تقریب کے اختتام پر اسرار حسین بھائی، جو قائدِ تحریک جناب الطاف حسین کے چھوٹے بھائی ہیں، نے ڈاکٹر ندیم احسان بھائی، مشیر رابطہ کمیٹی، سمیت دیگر ساتھیوں، بچوں اور بچیوں کے ہمراہ قائدِ تحریک کی سالگرہ کا کیک کاٹا۔
کیک کٹنگ کے موقع پر شرکاء نے قائدِ تحریک جناب الطاف حسین کی درازیِ عمر، صحت و سلامتی، خیر و عافیت ، کامیابی، تحریک کے شہدا ، اسیر اور لاپتا ساتھیوں کے لیے خصوصی دعا کی۔ اس موقع پر تمام شرکاء نے دعا میں شرکت کرتے ہوئے بلند آواز سے آمین کہا۔
تقریب کے اختتام پر شرکاء نے قائدِ تحریک جناب الطاف حسین کو 73ویں سالگرہ کی مبارکباد پیش کی اور نیک خواہشات کا اظہار کیا۔ تقریب دعاؤں اور نیک تمناؤں کے ساتھ اختتام پذیر ہوئی۔
صومالی قزاقوں نے 21 اپریل 2026 کو تیل بردار جہاز کو اغوا کیا گیا جس کے عملے میں 10 پاکستانی تھے، آج قزاقوں کی فائرنگ سے عملے کے پانچ ارکان شہید اورکئی زخمی ہوگئے۔پانچ مہینے8 دن تک حکومت پاکستان، ریاست پاکستان کہاں تھی؟ الطاف حسین
#بےحس_حکومت_مردہ_باد
میں وزیراعظم شہبازشریف، فیلڈمارشل عاصم منیر، وزیرخارجہ اور پاکستان کے تمام حکام سے اپیل کرتاہوں کہ وہ صومالیہ میں قزاقوں کی فائرنگ سے شہید اورزخمی ہونے والے اور زندہ بچ جانے والے پاکستانی عملےکو فی الفور وطن واپس لانے کے اقدامات کریں۔
پانچ مہینے تک تیل بر دار جہاز پر موجود پاکستانی عملے کے ارکان صومالی قزاقوں کی قید کے دوران حکومت پاکستان سے اپیلیں کرتے رہے، حکومت پاکستان نے اس پر کوئی توجہ نہیں دی، بالآخر قزاقوں نے وہاں کئے جانے والے آپریشن کے دوران عملے کے پانچ ارکان کوفائرنگ کرکے شہید اورکئی ارکان کو زخمی کردیا۔ ان کے ماں،باپ، بیوی بچے حکمرانوں سے اپیلیں کررہے ہیں کہ اگر حکومت ان کے پیاروں کوزندہ واپس نہیں لاسکی توکم از کم ان کی میتیں اور زخمیوں کوہی واپس لے آئے۔
میں حکمرانوں سے کہتاہوں کہ اگرآپ اپنے شہریوں کا ذرہ برابر بھی احساس ہے تو آپ قزاقوں کے ظلم کانشانہ بننے والے پاکستانی عملے کے ماں باپ، بیوی بچوں کی فریادوں پرتوجہ دیں، شہیدوں کی میتوں کو اور زخمیوں کوفی الفور وطن واپس لانے کے اقدامات کریں تاکہ ان کی مظلوم فیملیزان کودیکھ سکیں، شہیدوں کی تدفین کرسکیں اورزخمیوں کاعلاج کراسکیں۔ یہ آپ کی بنیادی ذمہ داری ہے۔
الطاف حسین
30ستمبر 2026ء
میجر ڈین فیفرمین نے جھگڑے کو ممکنہ دہشتگردانہ حملے کے طور پر بیان کیا، ساتھی پائلٹ کی جانب سے پائلٹ کو چاقو مارنے اور ہوائی جہاز کا کنٹرول سنبھالنے کی کوشش کی اطلاعات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا مسافروں اور متبادل عملے کی مداخلت کےبعد پرواز کو بعد میں بحفاظت سعودی عرب میں اتار لیا گیا
@AltafHussain_90@OfficialMQM Five Pakistani nationals found aboard the vessel were apprehended during the operation. The dhow, crew and seized contraband were escorted to Mumbai for further questioning and legal proceedings.
The Indian Coast Guard, in a joint operation with the Gujarat ATS, intercepted an Iranian dhow in the Arabian Sea and seized around 526 kg of narcotics, including heroin and methamphetamine, valued at more than 3,000 crore in the international market.
(To be continued👇)
#سانحہ_حیدرآباد_30ستمبر
Salute to the martyrs of the Hyderabad incident of September 30, 1988—those innocent lives that were sacrificed to brutality; they are still remembered today. The release of the killers and the burial of justice is a wound that will never heal.
چار ماہ سے زائد عرصہ گزر چکا ہے اور ایم کیو ایم حیدرآباد زون کے کارکنان عبدالمجید بھٹی، اقبال آرائیں اور حسنات احمد تاحال لاپتہ ہیں۔ ان کے اہلِ خانہ مسلسل اذیت، بے یقینی اور اپنے پیاروں کی واپسی کے انتظار میں ہیں۔
تینوں کارکن 22 مئی 2026ء کو ایک جھوٹی ایف آئی آر کے سلسلے میں حیدرآباد سینٹرل جیل کے احاطے میں قائم خصوصی عدالت میں پیش ہوئے تھے، جہاں پیشی کے بعدپولیس اور سادہ لباس اہلکار انہیں اغوا کر کے لے گئے، جس کے بعد سے ان کا ٹھکانہ معلوم نہیں۔
ان کا ٹھکانہ اور قانونی حیثیت فوری واضح کی جائے۔ انہیں عدالت میں پیش کیا جائے اوران کی بحفاظت واپسی یقینی بنائی جائے۔
#ReleaseAllMQMWorkers
@AltafHussain_90@AwazEHaq90@amnesty@hrw@UNHumanRights@fidh_en@ICRC@FrontLineHRD@globalrightsorg@HRCP87
کراچی کے 4 معصوم شہریوں کی صومالی قزاقوں کے ہاتھوں بہیمانہ شہادت پر دل خون کے آنسو رو رہا ہے۔ یہ صرف 4 جانیں نہیں، 4 گھرانوں کا چراغ گل ہوا ہے۔ حکومتِ پاکستان سے مطالبہ ہے کہ شہداء کی میتیں فوری وطن لائی جائیں اور لواحقین کو انصاف دلایا جائے۔
صومالی قزاقوں کی جانب سے ہائی جیک کئے جانے والے تیل بردار جہاز آنر 25 پر پورٹ لینڈ کی سیکوریٹی فورسز آپریشن شروع ہوچکا تھا، اہل خانہ چیختے رہے کہ وہاں ہلاکتیں ہوچکی ہیں، جہاز کا عملہ زخمی ہے، لاشیں دھوپ میں سڑنا شروع ہوگئی ہیں،
اہل خانہ چیختے رہے ، حکومت نہ جاگی
#سانحہ_حیدرآباد_30ستمبر 1988ء
کسی صحافی،اینکر پرسن، تجزیہ نگار،یوٹیوبر کو یاد ہےکہ
مہاجر قوم پر کیا قیامت ڈھائی گئی ؟
یاپھر بھول گئے؟
کہ
حیدرآبادشہرمیں مسلح دہشتگردوں کی قتل وغارتگری
سینکڑوں مہاجرشہیدوزخمی کیےگئے
سفاک قاتلوں کوعدالت نےبری کردیا
اللّہ، شہداءکےدرجات بلندکرے،آمین
@AltafHussain_90 آداب
پیر و مرشد
کراچی کے 4 بیگناہ پاکستانیوں کی صومالی قزاقوں کے ہاتھوں شہادت انتہائی افسوسناک اور دلخراش ہے۔ الله شہداء کے درجات بلند کرے اور لواحقین کو صبرِ جمیل عطاء فرمائے۔
آمین یارب العالمین 🤲🏻
@AltafHussain_90 ظالم جابر حکمرانوں کا گھناؤنا چہرہ دنیا کے سامنے عیاں ہو چکا ہے، یہ مکار بدکردار حکمران دنیا بھر میں جنگیں رکوانے میں جھوٹ اور مکاریوں کے زریعے کے زریعے چرچا کرتے رہے مگر اپنے معصوم مظلوم شہریوں کے لیے بین الاقوامی تعلقات استعمال کرنے سے قاصر رہے۔ اللہ شہیدوں کی مغفرت فرمائے امین
صومالی قزاقوں کے ہاتھوں شہید ہونے والے پاکستانی کاشف عمر ، رفیع اللہ اور محمود انصاری کے قتل کی زمہ دار ریاست پاکستان ہے جنہوں نے کوئی فریاد نہیں سُنی اور ان کی جانیں بچانے کیلئے کوئی اقدام نہیں کیا بلکہ انھیں مرنے کیلئے صومالی قزاقوں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا لعنت ہے ایسی ریاست پر جو اپنے شہریوں کا دفاع نہ کر سکے.