آپ چاہےدین کےجس شعبےسےبھی وابستہ ہوں مگر یہ جان رکھیےکہ دین کےشعبےکاتقابل صریح بیوقوفی اور دین کےشعبوں کےساتھ نا انصافی اور بد دیانتی ہے،دوسرےشعبےکی مخالفت آپ کو اللّٰہ اسکے رسول صلی اللّٰہ علیہ وسلم اور دین سے بھی دور کرسکتی ہے، لہٰذا کام ایک شعبےمیں کریں مگر تائید سب کی ہو۔
جمعیت علماء اسلام صوبہ سندھ کی جانب سے شہدائے باجوڑ کو خراج عقیدت پیش کرتا ہوں ۔ میں نے وہ دل سوز منظر اپنی آنکھوں سے دیکھے ہیں ۔ یقینا ایک المناک سانحہ تھا ۔ حق غریق رحمت فرمائے اور سب کو اپنے حفظ وامان میں رکھے ۔ یہ واقعہ ملک میں امن کے دعوے پر سیاہ کلنک تھا اور رہے گا ۔
#شہدائےجمعیت_باجوڑ
#سالار_امن_مولانا
#پیغام_امن_جمعیت
#عوام_کو_جینے_دو
#ابابیلوں_کا_شکریہ
📢 اہم تنظیمی اپیل
ہم میں سے بہت سے ساتھیوں کے ایکس (Twitter/X) اکاؤنٹس پر فالورز کم ہیں، جس کی وجہ سے معمولی رپورٹنگ بھی بعض اوقات اکاؤنٹ کے لیے مسئلہ بن جاتی ہے۔
آئیے ایک دوسرے کا سہارا بنتے ہیں۔
طریقہ کار:
🔹 اس پوسٹ کے کمنٹس میں صرف اپنا @اکاؤنٹ مینشن کریں۔
🔹 تمام ساتھی کمنٹس میں موجود اکاؤنٹس کو فالو کریں۔
🔹 اگر ممکن ہو تو فالو بیک بھی کریں، لیکن اس کی شرط یا لالچ کے بغیر۔
🔹 جو ساتھی اس پوسٹ کو لائک، کمنٹ یا شیئر کریں، ان کے اکاؤنٹس کو بھی ترجیحی بنیاد پر فالو کریں۔
یہ کسی ایک فرد کے لیے نہیں، بلکہ جمعیت علماء اسلام کے سوشل میڈیا نیٹ ورک کو مضبوط بنانے کی اجتماعی کوشش ہے۔ جب ہم ایک دوسرے کے دست و بازو بنیں گے تو ہماری اجتماعی آواز زیادہ مؤثر انداز میں پہنچے گی۔
چلیے، بسم اللہ کرتے ہیں۔
اپنا @اکاؤنٹ کمنٹ کریں اور ایک دوسرے کو فالو کرکے مضبوط نیٹ ورک بنائیں۔
اللہ تعالیٰ ہماری اس اجتماعی کوشش کو قبول فرمائے، آمین۔
#مرد_آہن_مولانا
#پروپیگنڈہ_برگیڈ
#چوکیدار_وڑگیا
#BroadcastMaulanaNow
#LawyersStandWithMaulana
الحمدللہ ٹوئٹر ایکس پر تازہ ترین پوزیشن ۔۔ ❤️
احباب کون سے نئے احباب ہمیں ٹوئٹر ایکس میں جوائن کرچکے ہیں ۔ ذرا اگاہ تو فرمائیے۔ باقی ان تمام ٹرینڈز کو تسلسل دینا ہے اور بھرپور طریقے سے دینا ہے ۔
#مولانا_سے_معافی_مانگو#سلیکشن_مافیا_نامنظور#حلف_نبھاؤ_بارڈرجاؤ
#آئین_شکن_مقدس_گائے
#معافی_مائی_فٹ
#مولانا_شان_پاکستان
#TeamJUIPak
قائد جمعیت مولانا فضل الرحمٰن مدظلہ کے خلاف پروپیگنڈا مہم
مرحلہ وار یلغار، قسط وار ناکامی
1۔ عوامی فضا سازی:
بازاروں، منڈیوں اور مارکیٹوں میں جا کر عام لوگوں کے ذریعے مولانا کے خلاف فضا بنانے کی کوشش کی گئی۔ مگر قوم نے یہ اسکرپٹ بھی مسترد کر دیا۔
2۔ پیڈ ڈیجیٹل یلغار:
پیڈ ڈیجیٹل چینلز سے جھوٹی اور منفی ویڈیوز بنوا کر پروپیگنڈا کیا گیا مگر یہ محاذ بھی پہلے مرحلے کی طرح ناکام رہا۔
3۔ قومی پریس کا محاذ:
صحافی برادری اور قومی میڈیا کے ذریعے پروپیگنڈے کی باقاعدہ یلغار کی گئی مگر خبر بننے کی کوشش کچھ زیادہ اثر پیدا نہ کر سکی۔
4۔ سیاسی قیادت کا استعمال:
سیاسی رہنماؤں سے ٹویٹس، ویڈیو پیغامات اور قومی چینلز پر مولانا کے خلاف بیانات دلوائے گئے مگر سیاسی دباؤ بھی مطلوبہ نتیجہ نہ دے سکا۔
5۔ مذہبی لبادے میں دباؤ:
زرخرید ملاؤں، خوشامدی ٹولے اور سرکاری مولویوں کو پریس کانفرنسوں اور اجتماعات کے ذریعے متحرک کیا گی مگر مذہبی عنوان بھی ناکامی کا پردہ نہ بن سکا۔
6۔ پارلیمانی دباؤ:
سینیٹرز، ارکانِ قومی اسمبلی اور دیگر پارلیمنٹیرینز کے ذریعے دباؤ ڈالنے کی کوشش کی گئی مگر پارلیمنٹ بھی پروپیگنڈے کی مہم کو کامیابی نہ دلا سکی۔
7۔ کردار کشی کی آخری حد:
جب تمام محاذ ناکام ہو گئے تو سماج کے بدکردار عناصر کے ذریعے ایک صاف ستھرے اور اجلے کردار کے حامل شخص کی کردارکشی کی کوشش کی گئی مگر یہ آخری اور پست ترین حربہ بھی ناکام ہو گیا۔
مولانا مسکرا کر کہہ رہے ہیں:
خلقتِ شہر یونہی خوش ہے تو پھر یونہی سہی
انہیں پتھر دے مجھے ظرف پذیرائی دے
#مولانا_سے_معافی_مانگو
#حلف_نبھاؤ_بارڈرجاؤ
#سلیکشن_مافیا_نامنظور
#آئین_شکن_مقدس_گائے
#معافی_مائی_فٹ
#مولانا_شان_پاکستان
سینیٹ کی کمیٹی میں ایک پراسرار کردار، غلط معلومات اور چند اہم سوالات:
گزشتہ روز مجھے سینیٹ جانے کا اتفاق ہوا اور وہیں قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق کی ایک میٹننگ آبزرو کرنے کا موقع ملا میں باقی جنرل پبلک کے ساتھ بیٹھ گیا۔
میٹننگ اجلاس کے دوران ایک نہایت غیر معمولی منظر دیکھنے میں آیا جس نے کئی اہم سوالات کو جنم دیا۔
اجلاس میں سینیٹر جناب طاہر خلیل صاحب بھی موجود تھے۔ دورانِ کارروائی ایک خاتون، جو کمیٹی کے ارکان کی نشستوں پر نہیں بلکہ عوام کے لیے مختص نشستوں پر بیٹھی ہوئی تھی، وقفے وقفے سے اپنی نشست سے اٹھتی، سینیٹر صاحب کے پاس جاتی، ان کے کان میں سرگوشی کرتی اور کچھ کاغذات بھی دکھاتی۔ یہ طرزِ عمل اپنی نوعیت میں غیر معمولی تھا اور اس نے توجہ اپنی جانب مبذول کرائی۔
اس کے بعد سینیٹر صاحب نے اجلاس میں یہ مؤقف پیش کیا کہ پاکستان میں ایک وکیل اور ایک مولوی کی سرپرستی میں ایک ایسا گینگ یا گروہ موجود ہے جس نے ساڑھے چار سو بچوں کو بلاسفمی کے جعلی مقدمات میں جیل بھجوایا۔
یہ بیان حقیقت کے مطابق نہیں تھا۔
چنانچہ میں نے چیئر پرسن صاحبہ سے اجازت لی کہ مجھے ریکارڈ کی درستی کرنے دی جائے۔ اجازت ملنے پر میں نے فورم پر واضح کیا کہ پاکستان میں کسی ایسے “گینگ” کے وجود کا کوئی ثبوت موجود نہیں۔ البتہ اسپیشل برانچ کی ایک ابتدائی رپورٹ میں بعض دعوے کیے گئے تھے، لیکن بعد ازاں خود اسپیشل برانچ نے متعدد مواقع پر ہائی کورٹ میں پیش ہو کر یہ مؤقف اختیار کیا کہ ان دعوؤں کے حق میں ان کے پاس کوئی قابلِ اعتماد ثبوت موجود نہیں تھا۔
اسی طرح وفاقی تحقیقاتی ادارے (FIA) نے اپنی تفصیلی تحقیقات کے بعد عدالت میں جمع کرائی گئی رپورٹ میں بھی یہ مؤقف اختیار کیا کہ مذکورہ رپورٹ میں عائد کیے گئے الزامات درست ثابت نہیں ہوئے۔ مزید برآں، قومی کمیشن برائے انسانی حقوق کی متعلقہ رپورٹ بھی بادی النظر میں خلافِ قانونی قرار پائی، جس کے نتیجے میں اس پر فی الحال عملدرآمد معطل ہے۔
جب فورم اور سینیٹر طاہر صاحب کے سامنے یہ حقائق اور عدالتی و تحقیقی ریکارڈ بیان گیا تو وہ خاصے حیران ہوئے۔ اجلاس کے اختتام پر انہوں نے ایک علیحدہ ملاقات میں اس معاملے پر مزید گفتگو کی۔ ان کا کہنا تھا کہ انھیں اس سے پہلے اس کا علم نہیں تھا۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ وہ حقائق کا ساتھ دیں گے اور اس معاملے کو متعلقہ کمیٹیوں کے ساتھ ساتھ سینیٹ کے فورم پر بھی اٹھائیں گے۔
تاہم، اس ملاقات کے فوراً بعد ایک مخصوص پروپیگنڈا مہم کے تحت سوشل میڈیا پر اس واقعے کو مسخ شدہ انداز میں پیش کیا گیا، تاکہ اصل گفتگو اور اجلاس میں سامنے آنے والے حقائق سے توجہ ہٹا دی جائے۔
اصل سوالات آج بھی اپنی جگہ موجود ہیں۔
وہ خاتون کون تھی؟ وہ کس کے ساتھ وہاں آئی تھی؟ وہ کس کے کہنے پر وقفے وقفے سے ایک معزز سینیٹر کے کان میں سرگوشیاں کر رہی تھیں اور انہیں ایسے نکات فراہم کر رہی تھی جو بعد میں حقائق کے برعکس ثابت ہوئے؟
یہ محض ایک فرد یا ایک اجلاس کا معاملہ نہیں۔ اگر پارلیمانی کمیٹیوں کے اندر بھی عوامی نمائندوں تک غلط معلومات منظم انداز میں پہنچائی جا رہی ہیں تو یہ نہ صرف پارلیمانی عمل بلکہ ریاستی فیصلہ سازی کے لیے بھی ایک سنجیدہ سوال ہے۔
قومی کمیشن برائے انسانی حقوق کی طرف سے جعل سازی پر مبنی رپورٹ، ملزمان کے ایک وکیل طرف سے وزارتِ داخلہ میں جعلی درخواست، یک طرفہ عدالتی کاروائی کے بعد غیر آئینی کمیشن اور اب ایوانِ اقتدار میں پراسرار کرداروں کی موجودگی اس بات کا تقاضا کرتی ہے کہ ایک جامع انکوائری کی جائے اور اس معاملے کی گہرائی تک پہنچا جائے۔
کل میرے بھائ @WaseemBadami اور آج بھائ @iRaiSaqib نے اپنے پروگرام میں پوچھا کہ مولانا صاحب یہی بات کسی انفرادی فورم پہ کرلیتے جلسے میں کیوں کی۔ تو مولانا صاحب یہی بات پارلیمنٹ کے فورم پہ کرچکے لیلن ان کے کانوں پہ جوں تک نہیں رینگی تو اب مولانا صاحب اور کہاں بات کرتے؟؟
#معافی_مائی_فٹ
#شہداء_کو_ڈھال_نہ_بناؤ
#لشکر_نہیں_خود_لڑو
#مولانا_کی_للکار
#پروپیگنڈہ_چھوڑو_امن_دو
حیرت تو یہ کہ نون لیگ کے اپنے قائدین بجلی ، پیٹرول ، گیس بارے جو خیالات رکھتے تھے جو تنقید کرتے تھے وہ بھی اس وقت جب یہ آج سے آدھی سے بھی کم قیمت پر دستیاب تھیں وہی بات آج ہم دوہراتے تو راتب خور کیوں گالم گلوچ پر اتر آتے غداری کے فتوے دیتے ہیں ہم تو اس سے بہت کم سخت بات کرتے جو مریم صاحبہ نے کی ہیں
سعودیہ سے سرمایہ کاری مانگنے کے بجائے ادھار تیل مانگ لیا وہ آدھا تو تیل عوام کو مہنگا بیچ کر اشرافییہ لے لیے لگثری جہاز بلیو پاسپورٹ اور مفت گاڑیوں اور سہولیات کا بندوبست ہو گا
کیا وژن ہے شہباز شریف کی حکومت گا
پہلے مہینہ بعد پیٹرول بڑھتا تھا پھر پندرہ دن ہوا اس کے بعد آٹھ دن بعد اور اب فرعون کی اولادوں نے روزانہ پیٹرول مہنگا کرنے کا اعلان کیا ہے
انکا خیال روز تھوڑا تھوڑا جھٹکا لگے گا تو تکلیف کم ہو گی عوام بولے گی نہی