@enkidureborn ڈیٹا (SATP و PIPS) کے مطابق 2018-2021 میں سب سے کم دہشتگردی کے واقعات، شہری ہلاکتیں اور خودکش حملے ہوئے۔ یہ دور زیادہ تر عمران خان کی حکومت (اگست 2018-اپریل 2022) کا تھا۔ 2019-20 میں خودکش حملے 3-8 اور کل ہلاکتیں 365-506 تک گر گئیں۔
اگر حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ سے سوال ہو سکتا ہے تو مریم نواز سے کیوں نہیں؟
محمد مالک صاحب نے مریم نواز کے جہاز کے قانونی مالک کے حوالے سے بھی بڑے انکشافات کر دیے ،
18 کروڑ کی کمیشن کس نے لی؟
خریداری کی ٹرانزیکشنز خفیہ رکھنے کے لیے کیا کچھ کیا گیا ؟👇
Watch this video and make sure you share it.
Israel is burning right now, and they are trying to stop the world from seeing what is really happening.
They don’t want you to know the truth. They don’t want these images to spread.
If you see this video, please share it with as many people around the world as possible. Let the world see. Let the truth reach everyone.
Share, quote, and repost so more people can see it.
ایلون مزراحی، جو ایک نامور اسرائیلی صحافی ہے، اسکا یہ آرٹیکل پڑھیں، حیرت انگیز طور پر اس نے اسرائیل کی طرف سے شروع کی گئی اس جنگ کو امریکا ایران جنگ کہہ کر لکھا ہے۔👇
“ہم تاریخ کو اپنی آنکھوں کے سامنے وقوع پذیر ہوتے دیکھ رہے ہیں۔ سب کی توقعات کے برعکس ایران امریکی اڈوں کو اس قدر وسیع پیمانے پر اور فیصلہ کن انداز میں تباہ کر رہا ہے کہ دنیا اس کے لیے تیار نہیں تھی۔
صرف چار دنوں میں ایران نے خطے میں اپنی عسکری برتری کے دائرے کو حیرت انگیز طور پر بڑھا دیا ہے۔ ایران نے دنیا کے سب سے قیمتی اور مہنگے فوجی اڈوں، تنصیبات اور عسکری سازوسامان کو تباہ کر دیا ہے۔
بحرین، کویت، قطر اور سعودی عرب میں موجود امریکی فوجی اڈے دنیا کی سب سے بڑی فوجی تنصیبات میں شمار ہوتے ہیں۔ ان اڈوں کی تعمیر پر کئی دہائیوں میں کھربوں ڈالر خرچ کیے گئے تھے۔ ہم اس حقیقت کی بات کر رہے ہیں کہ تیس سال سے زیادہ عرصے کے فوجی اخراجات کا بڑا حصہ گویا چند لمحوں میں خاک ہو گیا ہے۔
ہم دیکھ رہے ہیں کہ سینکڑوں ملین ڈالر مالیت کے ریڈار ایک لمحے میں تباہ ہو رہے ہیں۔ ہم دیکھ رہے ہیں کہ پورے کے پورے فوجی اڈے خالی کر دیے گئے ہیں، جل رہے ہیں، لوٹے جا رہے ہیں اور تباہ ہو رہے ہیں۔ اور میں آپ کو بتا رہا ہوں کہ جہاں تک مجھے معلوم ہے، امریکی تاریخ میں اس طرح کی تباہی پہلے کبھی نہیں دیکھی گئی، شاید صرف پرل ہاربر کے حملے کو اس سے ملایا جا سکتا ہے، لیکن وہ بھی صرف ایک حملہ تھا۔
روایتی جنگ میں کسی دشمن نے امریکی فوج کو اس طرح نقصان نہیں پہنچایا جیسا کہ ایران اس وقت پہنچا رہا ہے۔ یہ یقین کرنا مشکل ہے۔ فوجی صورتحال اس قدر سنگین ہے کہ سنسرشپ کے ذریعے اس جنگ کے بارے میں تقریباً تمام نئی معلومات کو روک دیا گیا ہے۔ اگر آپ نے غور کیا ہو تو ہر گزرتے دن کے ساتھ ہمیں کم سے کم معلومات مل رہی ہیں۔
پینتیس سال پہلے پہلی خلیجی جنگ کے دوران ہمیں عراق سے مسلسل ویڈیوز دکھائی جاتی تھیں۔ اس وقت اسمارٹ بم اور کیمرے نئی چیز تھے، مگر ہر رات ہمیں رات کے وقت کی فوٹیج دکھائی جاتی تھی۔ اب ہمیں بمشکل کوئی ویڈیو نظر آتی ہے۔
اس بات کو سمجھیں! دنیا کی سب سے بڑی فوجی طاقت اور سب سے بڑی فضائی صلاحیت رکھنے والی طاقت ہونے کے باوجود، امریکی حملے کے چوتھے دن بھی ہمیں ایرانی فضاؤں میں امریکی برتری کا کوئی واضح ثبوت نظر نہیں آتا۔ تہران یا ایران کے کسی اور شہر کے اوپر امریکی طیاروں کی پروازوں کی ویڈیوز کہاں ہیں؟
امریکی فوجی ایران کی سرزمین پر قدم رکھنے کا خواب بھی نہیں دیکھ سکتے۔ اور اس جنگ کی سنگینی کو سمجھنے کے لیے یہی کافی ہے کہ چوتھے ہی دن ٹرمپ انتظامیہ کی طرف سے انتہائی عجیب و غریب تجاویز سامنے آ رہی ہیں۔ وہ خلیج فارس سے نکلنے والے تیل بردار جہازوں کو فوجی تحفظ دینے کی بات کر رہے ہیں۔ آخر آپ کیا سوچ رہے ہیں؟ کیا آپ امریکی جہازوں کو ہزاروں ایرانی میزائلوں کے نشانے والے علاقے میں بھیجنا چاہتے ہیں؟ اب تو آبنائے ہرمز سے گزرنا بھی تقریباً ناممکن ہو چکا ہے۔
ایرانی اس جنگ کی تیاری دہائیوں سے کر رہے تھے۔ اب وہ کرد ملیشیاؤں کو مسلح کر کے ایران پر حملہ کرانے کی بات کر رہے ہیں۔ یہ کیا بات ہوئی؟ کیا آپ نے کبھی ایران کا نقشہ دیکھا ہے؟ ایسا لگتا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ نے شاید کبھی ایران کا نقشہ دیکھا ہی نہیں۔ کیا آپ جانتے ہیں کہ ایران کتنا وسیع ملک ہے؟ ایران پر حملہ کرنے کا مطلب کیا ہے؟ کیا آپ سمجھتے ہیں کہ دس ہزار افراد کی ملیشیا ایران پر حملہ کر سکتی ہے؟ یا پچاس ہزار؟ یا ایک لاکھ؟ ایران انہیں آسانی سے نگل جائے گا۔
امریکہ اور اسرائیل یہ جنگ پہلے ہی ہار چکے ہیں۔ وہ لاکھوں عام شہریوں کو ان کے گھروں میں مار سکتے ہیں۔ ان کے پاس طاقتور بم ہیں اور وہ عمارتیں تباہ کر سکتے ہیں، لیکن وہ یہ جنگ نہیں جیت سکتے۔ ایران کا فوجی ڈھانچہ اور اسلحہ پورے ایران میں زمین کے نیچے گہرائی میں محفوظ ہے۔ نہ امریکہ اور نہ ہی خاص طور پر اسرائیل اس تک پہنچنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
انہوں نے ایک ایسی جنگ شروع کر دی ہے جسے وہ ختم کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے۔ جب یہ سب ختم ہوگا تو امریکہ دوبارہ مغربی ایشیا میں واپس نہیں آئے گا۔ مشرقِ وسطیٰ میں امریکی موجودگی باقی نہیں رہے گی۔ میں آپ کو یہ بات پورے یقین کے ساتھ ابھی بتا رہا ہوں۔
🇺🇸 Rep. Ted Lieu says the full Epstein files show allegations that Donald Trump raped children
اور ناظرین یہی وہ وجہ ہے جس کی وجہ سے ایران پر حملہ کیا گیا ہے
Israeli-American aggression against Iran has grave implications for Region & Pakistan: a) if God forbid, Iran loses, then Israel de facto border will be at Taftan on Pakistan border; b) India-Israeli Axis will tighten squeeze on Pakistan creating nutcracker situation; c) Balochistan & Pakistan nuclear program could then also be targeted! Hence, urgent need for Pakistan to defuse tensions with Afghanistan as well as give Healing Touch at home to defuse political polarization!