میں نے یہ ویڈیو دیکھی اور سچ کہوں تو ڈاکٹر دعا اظہر کی باتیں سن کر میرے ہوش اڑ گئے۔ وہ بتا رہی ہیں کہ بل گیٹس اور پاکستان کے وزیراعظم کی اقوام متحدہ میں جو ملاقات ہوئی ہے، اس کا اصل مقصد پاکستان میں زراعت اور بیجوں کے نظام پر قبضہ کرنا ہے۔ وہ کہہ رہی ہیں کہ ہمارے دیسی بیجوں کی بجائے زبردستی جینیاتی طور پر تبدیل شدہ یعنی جی ایم او (GMO) بیج لائے جا رہے ہیں، جنہیں اگانے کے لیے ایک خطرناک کیمیکل گلائفوسیٹ کی ضرورت پڑتی ہے جو کہ کینسر کی بہت بڑی وجہ ہے اور سبزیوں یا پھلوں کو دھونے سے بھی نہیں نکلتا۔
ویڈیو میں یہ بات سن کر واقعی ڈر لگتا ہے کہ ان بیجوں سے پیدا ہونے والے پھل اور سبزیاں سیڈلیس یعنی بغیر بیج کے ہوتی ہیں، جس کی وجہ سے کسان خود اگلی فصل کے لیے بیج محفوظ نہیں کر پائیں گے۔ انہیں ہر بار یہ مہنگے بیج باہر کی کمپنیوں سے ہی خریدنے پڑیں گے، اور سارا کنٹرول انہی کے ہاتھ میں ہوگا۔ دعا اظہر یہ بھی پوچھ رہی ہیں کہ اگر یہ سب اتنا ہی اچھا ہے تو سعودی عرب اور یورپ نے اس پر پابندی کیوں لگائی ہے؟ ان کا یہ کہنا بالکل خوفناک ہے کہ اگر ہم ان جی ایم او بیجوں کے عادی ہو گئے اور کل کو کسی جنگ یا اختلاف کی وجہ سے ہمیں بیج دینے سے انکار کر دیا گیا، تو صرف چھ مہینے میں ہمارے ملک میں قحط آ سکتا ہے۔ اس سے بچنے کے لیے وہ یہ مشورہ دے رہی ہیں کہ ابھی سے اپنے پاس دیسی بیج محفوظ کرنا شروع کر دو اور جہاں بھی تھوڑی بہت زمین ملے، اپنی سبزی اور گندم خود اگاؤ۔
اس سب کے بعد جب میں نے دیکھا کہ ہمارے شوبز ستارے اس پر کیا ردعمل دے رہے ہیں، تو عمران عباس نے تو ڈاکٹر دعا کا شکریہ ادا کیا ہے کہ انہوں نے اس اہم مسئلے پر آواز اٹھائی، اور ماریہ بی نے بھی ان کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ بل گیٹس کے اس گیم کو سمجھنے کے لیے واقعی عقل کی ضرورت ہے۔
اور جب میں نے تحقیق کی اور مختلف آرٹیکل پڑھے تو یہ بات سامنے آئی کہ گلائفوسیٹ (Glyphosate) کے استعمال اور جی ایم او بیجوں کے حوالے سے دنیا بھر میں پہلے ہی کافی بحث اور مخالفت موجود ہے۔ بہت سی سائنسی رپورٹس میں اس کیمیکل کو صحت کے لیے نقصان دہ قرار دیا گیا ہے، جبکہ کسانوں کے حقوق اور بڑی کارپوریشنز کے اجارہ دارانہ معاہدوں (جیسے کہ بیجوں کاپی رائٹ اور بار بار خریدنے کی پابندی) پر بھی بین الاقوامی سطح پر تحفظات کا اظہار کیا جاتا رہا ہے۔ اس تناظر میں دیکھا جائے تو فوڈ سیکیورٹی اور خود انحصاری کے حوالے سے اٹھائے جانے والے یہ خدکات مکمل طور پر بے بنیاد نہیں ہیں۔
#BillGates #GMOSeeds
جب IIUI کی گولڈ میڈلسٹ لائبہ اعجاز کو امریکن ایمبیسی سے پتہ چلا کہ انکو دیا گیا Harvard Uni کا ایڈمیشن لیٹر جعلی ہے تو غریب لڑکی ایکدم زندگی سے مایوس ہوگئی اور اس نے زندگی کے خاتمہ کا فیصلہ کر لیا
ویڈیو میں دیکھا جاسکتا کہ وہ مایوس ہو کر زہن میں ماں باپ کا عکس سجائے خود کو ختم کرنے جارہی
اس پوسٹ میں جعلی ساز نعمان (جس نے لائبہ سے ستر لاکھ لے کر جعلی ایڈمیشن لیٹر دیا) کی تصویر بھی موجود
اسلام آباد کے سیکٹر جی 10 اور جی 11 کے درمیان گرین بیلٹ پر وہ مقام جہاں طالبہ لائبہ کی پھندہ لگی لاش ملی، یہی وہ درخت ہے جس سے ہونہار طالبہ کی لاش جھول رہی تھی، یہ ٹریفک پولیس کی چوکی ہے، میں یہاں گیا تو ایک وحشت کا ماحول تھا، ٹریفک پولیس کے ایک اہلکار سے بات ہوئی تو انہوں نے بتایا وہ دن 1 بجے ڈیوٹی پر چلے گئے تھے، اہلخانہ کے مطابق لڑکی دن 2 بجے گھر سے نکلی، 4 بجے کے قریب انہیں افسوسناک واقعے کی اطلاع ملی، یہ جگہ ویران نہیں، واکنگ ٹریک بھی یہاں موجود ہے، لوگوں کا گزر ہوتا رہتا ہے، ایسے مقام پر طالبہ کا دن کی روشنی میں آنا ، پھر درخت سے اپنا ہی دوپٹہ باندھ کر جھول جانا، یہ حیران کن ہے، اب ہونا تو یہ چاہئے کہ جو بھی اس طالبہ کی موت کا ذمے دار ہے، اسے بھی یہیں لا کر لٹکایا جائے۔۔!!
بابا جی پندرہ ہزار کے راشن سے کم از کم تین ہزار روپے ٹیکس ادا کریں گے۔ غریبوں کے جیبوں سے نکالے گئے اس پیسے سے جسٹس یحییٰ خان، سرفراز ڈوگر لاکھوں روپے تنخواہیں لیں گے اور جسٹس امین الدین کی سرکاری BMW کار میں فیول ڈالا جائے گا تاکہ ناانصافی کا یہ نظام چلتا رہے اور چند لوگوں جہازوں کے مزے لیتے رہیں۔
یہ وہ شخص ہے لوگو جس کو سیز فاںٔر کے بعد 300 دفعہ گرفتار کیا گیا. 6 قاتلانہ حملے ہوۓ.پولیس کے تشدد سے کان کی سماعت بھی چلی گںٔی اور اپنی ساری زندگی جیل میں گزار دی۔یہ تمام ظلم سہنے کے باوجود اپنے مشن سے پیچھے نہیں ہٹا ۔ہم نے عشق کے بہت قصیدے سنے اور پڑھے لیکن اپنی أنکھوں سے جو عشق دیکھا وہ یاسین ملک کا عشق ہے جو اس نے کشمیر کی آزادی سے کیا اور اس عشق کی کوئی انتہا نہیں ہے💔
#ReleaseYasinMalik #Kashmir
2013 میں 6 روپے یونٹ کے ساتھ لوڈشیڈنگ ہوتی تھی۔ پھر قوم کو اندھیروں سے نکالنے کے لیے قائد میدان میں آ گئے۔ نندی پور، ساہیوال کول پاور سمیت پتہ نہین کون کون سا قرض والا مہنگا پلانٹ لگا دیا۔ اب ماشاءاللہ 2026 میں 50 روپے یونٹ کے ساتھ لوڈشیڈنگ ہوتی ہے۔ احمد وڑائچ، سینئر صحافی @ahmadwaraichh
افسوس کہ وفاقی وزرا کئی دن سے اسلام آباد کے پمز اسپتال کی شان میں قصیدے بیان کر رہے تھے پمز میں آج آگ لگ گئی اور 15 نومولود بچوں کی جان چلی گئی اللّٰہ تعالیٰ ان بچوں کے والدین کو صبر دے اور حکمرانوں کو ہدایت عطا کرے جن کی غلط بیانیاں ایک تماشہ بن چکی ہیں
جنہیں بہت زور و شور سے ڈاکٹر عظمیٰ خان کی پریس کانفرنس توہینِ عدالت لگ رہی ہے وہ کان کھول کر یہ سن لیں۔
اب بھی سمجھ نا آئے تو آپ زیادہ ٹینشن نا لیں ہم نے کی ہے پریس کانفرنس ہم خود ہی دیکھ بھی لیں گے ۔
خان صاحب نے کل مصر کے صدر مرسی کا جو ذکر کیا، وہ ہماری روح کو ہلا دینے کے لیے کافی ہے ہم پہلے ہی بہت فکر مند ہیں، کیونکہ خان صاحب کے ساتھ قیدِ تنہائی میں جو سلوک ہو رہا ہے، اس کے کسی بھی خطرناک نتیجے کا خدشہ ہے۔
اب ہم یہ نہیں ہونے دیں گے ہم پہلے ہی اسٹریٹ موومنٹ کا اعلان کر چکے ہیں ہم پوری پاکستانی قوم کو پکاریں گے کہ یہ مقدمہ قوم کو لڑنا ہے۔
@salmanAraja
#ContemptOfCourt
سپریم کورٹ نے اپنے آرڈر میں میڈیکل رپورٹس پر بات کرنے سے منع کیا تھا۔ نہ میڈیکل رپورٹس ہمیں ملیں، نہ فیملی نے اور نہ ہی خان صاحب کے ڈاکٹرز نے ان پر کوئی بات کی، لہٰذا ہماری طرف سے عدالتی حکم کی کوئی توہین نہیں ہوئی۔
دوسری طرف حکومت اور اس کے ٹاؤٹس ہر قدم پر عدالتی حکم کی توہین کرتے رہے۔ منیب فاروق اور حسن ایوب جیسے صحافی تو کل سے ہی ٹی وی پروگراموں میں کہہ رہے تھے کہ خان صاحب کو شفاء لے کر ہی نہیں جائیں گے، صرف پمز لے کر جائیں گے۔
یہیں سے حکومت کی نیت پہلے ہی عیاں تھی کہ وہ سپریم کورٹ کے حکم پر عمل نہیں بلکہ توہینِ عدالت کرنے جا رہی ہے۔