ایک ایسا استاد جو انتہائی کم تنخواہ میں بھی سرکاری سکول میں پڑھنے والے غریب بچوں کا خیال رکھتا ہے ان کے لئے سکول شوز کا اہتمام کرتا ہے ان کے لئے کچھ کھانے کو لاتا ہے انکو دل و جان سے پڑھاتا ہے ٹیوشن نہیں پڑھاتا
جو خود غریب ہے لیکن دل کا امیر ہے
ایسا استاد سے طلبا کو محروم کرنا ایک بہت بڑا جرم ہے
ایسے استاد کو معطل کرنا محض ایک سانحے کی نشاندی کرنے پر کہ سکول کی چھت نہ گر جاے
شرم آنی چائیے
گل زادہ صاحب جیسے استاد ایک نعمت ہیں غریب بچوں کے لئے
سماج آہستہ آہستہ قبائلی وحشت قبائلی رسم رواج کی طرف بڑھ رہا ہے جونہی کوئی واقعہ ہوتا ہے تو فوری آوازیں اٹھنا شروع ہو جاتی ہیں اس بندے کو گولی مار دو کوئی نظام کی درستگی اصلاح احوال کی بات نہہں کرتا
اسلام آباد میں فراڈ کرنے والا اور بچے کو گاڑی کے نیچے کچلنے والا دونوں اپنے انجام کو پہنچ گئے یکدم اٹھنے والی تمام آوازیں خاموش ہو جائیں گی اور کسی اگلے حادثے کا انتظار کریں گی
کوئی نہئں کہے گا کہ ان دونوں واقعات کے محرکات کو سمجھیں یتیم خانوں کے نظام کو بہتر کریں فراڈ کے خلاف نئی قانون سازی کریں عدالتیں پرسیکیوشن کو بہتر کریں
بس سماج کو خون کی لت لگ گئی ہے اب دیکھیں یہ بات کہاں جا کر رکے گی
آج کافی سال کے بعد ایک دوست عمران سے ملاقات ہوئی پنجاب یونیورسٹی میں ہم اکٹھے تھے عمران نے پی ایچ ڈی کر رکھی ہے اور اسسٹنٹ پروفیسر ہے کسی سیکرٹری ایجوکیشن نے کنٹرولر ملتان بورڈ لگانے کے لئے تحریری امتحان لے لیا ورنہ تو یہ سفارشی پوسٹ ہوتی ہے تو اس کی کنٹرولر ملتان بورڈ آف انٹر میڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن کے لئے سلیکشن ہو گئی
اس کنٹرولر کی پوسٹ پر سرکاری گاڑی کلٹس ملتی ہے اور ساتھ پٹرول ملتا ہے آج جب اس نے مجھے بتایا کہ وہ شیخوپورہ آ رہا ہے تو اس کو موٹر وے انٹر چینج سے پک کر لوں
میں نے اسکو پوچھا کہ تمھارے پاس تو سرکاری گاڑی بھی ہے تو بس پر کیوں آے تو اس نے کہا
کہ اس کی رہائش خانیوال ہے وہ ملتان بوڑڈ کے آفس بس پر جاتا ہے اور اگر کوئی سرکاری کام ہو تو سرکاری گاڑی استعمال کرتا ہے ورنہ سرکاری گاڑی بورڈ کے دفتر کھڑی کرتا ہوں اور بس پر واپس خانیوال آتا ہوں
کنٹرولر کے ساتھ وہ DEO کالجز خانیوال کا چارج بھی ہے وہاں کہتا رکشہ پر چلا جاتا ہوں
اس دفعہ ملتان بورڈ کی پہلی دس پوزیشن کے لئے اسکا کہنا تھا کہ پرائیویٹ کالج منہ مانگی قیمت دینے کی آفر کر رہے تھے لیکن میرٹ پر جو بچے تھے انکو ہی پوزیشن دی
یہ بھی میرے لئے ایک نئی بات تھی کہ بورڈ کی پہلی دس پوزیشنوں کی بھی بولی لگتی ہے
ویسے اس نفسا نفسی کے دور میں عمران جیسے لوگ بھی موجود ہیں جو ایمانداری دیانتداری کا دامن پکڑ کر بیٹھے ہیں
سرکاری خزانے سے پٹرول گاڑی تک ذاتی استعمال میں نہئں لاتے ڈسٹرکٹ افسر ہو ہو بس اور رکشوں پر سفر کرنے میں کوئی عار محسوس نہیں کرتے
ایسے لوگ قابل احترام اور قابل تقلید ہہں💐🌹
عوام کو ایک بات سمجھنے کی ضرورت کہ چہرہ بدلنے سے ، ایک سیاسی پارٹی کے جانے اور دوسری کے آنے سے کچھ نہیں بدلے گا ۔ اپنی سیاسی وابستگی پر اپنے شہری حقوق مت وارا کریں ۔
سب ادھر ادھر کی ہانک رہے ہیں اصل بات کوئی نہیں کر رہا.
تباہی کی اصل وجہ ہے وہ بد بخت آئی پی پیز ہیں جو بجلی پیدا ہی نہیں کرتیں اور ریاست کے ترقیاتی بجٹ سے شاید کچھ زیادہ رقم انہیں دے دی جاتی ہے.
جن حکمرانوں نے یہ ظالمانہ معاہدے کیے تھے وہ ن کے ہوں یا پی پی کے وہ قومی مجرم ہیں. ان کی جائیدادیں نیلام کر دینی چاہییں اور رقم وصول کرنی چاہیے.
یہ اگر بددیانت تھے تو انہیں جیل میں ڈالیں. یہ اگر کم عقل تھے تو انہیں حکومتی منصب کے لیےتاحیات نا اہل ہونا چاہیے.
کیا کبھی انہوں نے اپنے ذاتی کاروباروں کا بھی ایسے ہی ستیاناس کیا ہے جیسے قومی معاملات کا کرتے ہیں.
ظلم یہ کہ یہ پھر بھی معززین ہیں. اور قوم کو بھاشن دیتے ہیں کہ ٹیکس بہت ضروری ہیں.
یہ بے شرم سفاک اور بے حس لوگ ہیں. ان کی دیانت بھی سوالیہ نشان ہے اور ان کی عقل بھی.