"اصل میں سیدھا راستہ نبی پاک ﷺ کا راستہ ہے"
کیا عمران خان کے علاوہ کوئی اور سیاسی لیڈر یے جو ہمیں حضرت محمد مصطفے صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی حیات مبارکہ اس طرح بیان کرے؟ بے شک خان صاحب نے ہمیں ایک اچھا پاکستانی، ایک اچھا انسان اور اچھا مسلمان بھی بنادیا-
"75 سالہ جہالت اور غلامی کی پنجر مٹی پر برسنے والی شعور اور آزادی کی پہلی بارش..... عمران خان" 👑🖤
مرشد کا اس سے بہترین تعارف شاید دوبارہ تاریخ میں نہ ہوسکے.....آفتاب اقبال اخیر کر گئے 🔥
گلگت میں عید منانے والے تین معصوم بچوں پر بغیر نمبر پلیٹ کی گاڑی چڑھا کر کچل کر ہلاک کرنےوالےمیجر کو دُشمن کی قید سے عید پر بھی ڈیوٹی دینےوالا کوئی کرنل نکال کرلے گیا۔
سابقہ کور کمانڈر پشاور ہدایت الرحمان ہوتا تو لواحقین سےیہ بھی کہہ دیتا کہ مرگئے تو کیا ہوا اور پیدا کرلو
کچھ دن پہلے ایبٹ آباد میں ایک شخصیت 106 سال کی عمر میں وفات پا گئی
آپ کو جان کر حیرت ہوگی کہ وہ کون سی شخصیت تھی جو گمنام رہی تو وہ شخصیت اس سید اکبر کی بیوی تھی جس نے 1951 میں ہمارے پہلے وزیر اعظم لیاقت علی خان کا لیاقت باغ راولپنڈی میں قتل کیا تھا. اس سید اکبر کو تو موقع
پر ہی پکڑنے کی بجائے قتل کیا گیا تھا
مگر اسکے چار بیٹوں اور بیوہ کو ایبٹ آباد کنج قدیم میں ایک گھر الاٹ کیا گیا اور سخت پہرے میں اُس وقت کی جدید ترین سہولیات بھی مہیا کی گئی تھیں
اسکا بڑا بیٹا دلاور خان جو اُس وقت 8 سال کا تھا، آج بھی 85 سال کی عمر میں زندہ سلامت اپنے ذاتی
بہت بڑے گھر میں شملہ ہل بانڈہ املوک میں رہائش پزیر ہے کیونکہ جو گھر اس کو اور اسکی ماں کو الاٹ کیا گیا تھا وہ بیوہ کے نام پہ تھا اور انکا بچپن وہاں گزرا
اِسی دوران پہرہ دینے والے سپاہی سے انکی ماں نے شادی کر لی اور اسکے ہاں 5 بچے یعنی 4 بیٹے اور ایک بیٹی کی مزید پیدائش ہوئی،
8 بھائی اور ایک بہن والا کنبہ نہایت خوشحال زندگی گزارتا رہا, ، سید اکبر (لیاقت علی خان کا قاتل) کا بڑا بیٹا دلاور خان تھا جو یہیں رہا اور اس کے باقی 3 بیٹے یکے بعد دیگرے امریکہ میں سیٹل کرا دیئے گئے
دلاور خان شادی کے کچھ عرصہ بعد کابل گیا، بقول اس کے اپنی آبائی زمینیں دیکھنے
کچھ عرصہ آتا جاتا رہا اور بالآخر پچھلے 50 سال سے مستقل اپنے ذاتی گھر میں مقیم ہے. الاٹ ہوا گھر ماں نے فروخت کر دیا اور دوسرے خاوند کے بچوں کے ساتھ نئے بنگلوں میں رہائش پذیر ہو گئی اور بالآخر دنیا سے رخصت ہو گئیں
امید ہے آپ لوگوں کو پہلے وزیرِ اعظم کے قتل کے بارے کچھ تو سمجھ آئی ہو گی؟
لیاقت علی خان کو جس نے شہید کیا اس قاتل کی بیوہ کو وظیفہ دیا جاتا رہا اور وزیر اعظم لیاقت علی خان کی بیوہ رعنا لیاقت علی خان کی پینشن حکومت پاکستان کی جانب سے روک دی گئی. قاتل سید اکبر کے بیٹے امریکہ گئے اور وہاں کاروبار کر کے کروڑ پتی بنے، جبکہ بھارت میں ہزاروں
ایکڑ زرعی زمین سینکڑوں ملازم اور کروڑوں روپے ملک پاکستان کی خاطر ٹھکرا کر ہجرت کرنے والے نواب لیاقت علی خان کے بچے ان کی شہادت کے بعد آسائشوں سے محروم رہے جبکہ
سید اکبر کو قتل کر کے کیس ختم/ خراب کرنے والے ڈی ایس پی کو خانیوال میں مخدوم پور پہوڑاں روڈ پر ایک چک میں 10 مربع زرعی اراضی سے نوازا گیا اسکی اولادیں بھی آج عیش کر رہی ہیں
کس شخصیت کی ایماء پر قائداعظم کی بہن کو جلوسوں میں نازیبا الفاظ سے نوازا گیا قوم اب کھوجتی ہے پرکھتی ہے اور سمجھتی ہے اور آخر میں یہ بتاتا چلوں کہ لیاقت علی خان کو جب شہید کیا گیا تو وزیر اعظم پاکستان تھے مگر انکی شیروانی کے نیچے موجود بنیان کئی جگہ سے پھٹی ہوی تھی
لیاقت علی خان کے قتل کی کامیاب سازش کے بعد آج تک پاکستان کے ساتھ یہی کھلواڑ کھیلا آتا جا رہا ہے
اس تحریر میں غور وفکر کرنے والوں کیلئے بہت نشانیاں ہیں
تھوڑا نہیں پورا سوچو۔
دو تین برس کی بات نہیں
دہائیوں سے یہ کھیل کھیلا جارہا ہے
کاپی