آج میں زعیم لغاری @Zaeemlegharii اور رائے غلام علی @ghulamali_rai نے بے ساختہ طور پر ایک تخلیقی سروے کیا کہ آج حقیقتاً کوئی دکانیں بند ہیں یا نہیں ہم نے لاہور میں شاہ عالم مارکیٹ بانساں والا بازار سرکلر روڈ بھاٹی گیٹ اور اردو بازار کا وزٹ کیا یاد رہے یہ وہ علاقے ہیں جہاں نون لیگ دعویٰ کرتی ہے کہ ان کا ووٹر بینک بہت زیادہ ہے ہم نے یہاں آزادانہ سروے کیا اور لوگوں سے بات بھی کی میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ عمران خان کا اثر واضح طور پر نظر آیا ہے اور آج جس بڑی تعداد میں ہڑتال ہوئی ہے شاید لاہور کی تاریخ میں اس کی مثال ملتی ہو
@IAmIshtiaqAli کوئی برینڈ آپ کو شاپر لینے پر مجبور نہیں کرتی اور ساتھ مفت شاپر دینے کی پابند نہیں. آپ کو پسند نہیں تو دو حل ہیں. ایسی برینڈ کا بائیکاٹ کریں دوسرا حل اپنا تھیلہ ساتھ لے جائیں اور انکا شاپر نہ لیں اتنا فساد مچانے کی کیا ضرورت ہے.
جو جو خیبر پختونخواہ میں ایمرجنسی کی حمایت کر رہا ہے سمجھ لیجئیے یا تو وہ آئین کے غداروں اور مینڈیٹ چوروں کا سہولتکار ہے، مددگار ہے، بینیفیشری ہے یا ایمرجنسی کے نفاذ سے اُس کے مفادات جڑے ہیں۔
کے پی کے میں گورنر راج کو لیڈ کرنے والے کی کل اوقات اتنی ہے کہ عوام نے 12 الیکشنز میں سے 11 میں تھوکا بھی نہیں صرف ایک بار جیتا وہ بھی بے نظیر صاحبہ کی شہادت وجہ سے ۔۔
لکھ دی لعنت تو بنتی ہے جمہوری حکومت پر شبخون مارنے پر
#نکلو_پشاور_کی_طرف
گورنر راج لگنے پر جو نام نہاد جمہوری جماعتیں جشن منا رہی ہیں ان کا جمہوریت سے دور دور تک کوٸی تعلق نہیں ہے
نون لیگ اور پلیز پارٹی آسمان کے بغل بچے ہیں
زرداری صاحب نے آج گورنر راج پر نہیں بلکہ اٹھاسویں ترمیم کی واپسی پر دستخط کیے ہیں ,وقت ثابت کر ے گا یہ دونوں جماعتیں روٸیں گی۔
یہ ملک کہاں پہنچ گیا کہ ایک سرکاری اہلکار سیاسی قیادت کو کھلے عام دھمکیاں دے؟
سرکاری ملازم کا کام قانون نافذ کرنا ہے، سیاست کرنا یا سیاسی دھمکیاں دینا نہیں۔
ادارے اپنی آئینی حدود میں رہیں تاکہ ریاست پر عوامی اعتماد مجروح نا ہو
عہدہ طاقت دکھانے کے لیے نہیں، قانون اور ذمہ داری ہے
ضعلی ناٸب صدر منڈی بہاوالدین شہزاد بوسال کا استعفیٰ افسوسناک، گرفتاریوں اور زبردستی بیانات کی بھرپور مذمت ہونی چاہیے۔
پی ٹی آئی کو بھی سوچنا ہوگا کہ غیر جمہوری طریقے سے غیر معروف لوگوں کو عہدے دینے کا نتیجہ یہی ہوتا ہے۔
جماعتیں کارکنوں اور جمہوری طریقۂ کار سے مضبوط ہوتی ہیں۔
کیا خیبرپختونخوا میں عملاً گورنر راج نافذ کردیا گیا ہے ؟
گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے سکیورٹی پر اجلاس چئیر کیا جس میں چیف سیکرٹری اور آئی جی شریک ہیں
دوسری طرف پنجاب میں بھی گورنر کا تعلق پیپلزپارٹی سے ہے اور انکے پاس اتنا اختیار بھی نہیں کہ وہ یونیورسٹیوں کے وائس چانسلرز کی تقرریوں کے دوران سمری پر دستخط سے قبل پینل امیدواروں سے ملنا چاہتے تھے لیکن پنجاب حکومت نے انکا یہ اختیار بھی تسلیم نہیں کیا تھا
دو مختلف صوبے دو مختلف جماعتوں کی حکومت لیکن دونوں صوبوں میں ایک ہی جماعت کے گورنرز لیکن دونوں کے پاس مختلف اختیارات !
نظام خوبصورت تو ہے
گورنر خیبرپختونخوا صوبائی حکومت کو بائی پاس کرکے آئی جی پولیس، چیف سیکرٹری، ایڈیشنل چیف سیکرٹری داخلہ اور دیگر اعلیٰ افسران کو براہِ راست طلب کرکے سیکیورٹی اجلاس کیسے بلا سکتے ہیں؟
آئین کے آرٹیکل 129 کے تحت صوبے کی انتظامی اتھارٹی صوبائی حکومت، یعنی وزیراعلیٰ اور صوبائی وزراء کے ذریعے استعمال ہوتی ہے۔
تو پھر سوال یہ ہے کہ وزیراعلیٰ اور صوبائی حکومت کو سائیڈ لائن کرکے گورنر ہاؤس میں صوبے کے انتظامی معاملات پر اس نوعیت کا اجلاس بلانے کی آئینی حیثیت کیا ہے؟
صنم جاوید خان کو قید میں ایک سال مکمل ہوگیا پہلے والی قید کے دن شامل کریں تو تقریباً 864 دن مکمل ہوچکے ایک نہتی لڑکی جس کو صرف اپنے لیڈر کے نظریے کے ساتھ کھڑے ہونے کے جرم کی سزا دی جارہی ہے افسوس ناک امر یہ ہے کہ ابھی تک صنم جاوید کے والدین اور باقی فیملی انصاف کے منتظر ہیں
غریدہ فاروقی صاحبہ بہت اچھے انداز میں سیاسی جماعتوں میں دہشت گرد تلاش کر لیتی ہیں، تو میں نے سوچا ان کا بھی پوچھ لوں کہ یہ دہشت گرد صاحب آخر کس جماعت سے تعلق رکھتے ہیں؟