عمران خان نے بیماری کی حالت میں بھی۔ ہزاروں۔ مریضوں کا بھلا کر دیا پمز کارڈیک میں عمران خان گھنٹوں موجود رہے پمز انظامیہ نے بڑی غفلت برتی ُسٹی انجیو گرافی فعال نہ ہونے پر وزیراعظم نے نوٹس لے لیا
ایسا قلعہ دیکھ کر عقل دنگ رہ جاتی ھے۔
کیسے کیسے طاقتور راجہ آئے اور چلےگے۔ یہ ایسا قلعہ ھے جو کئی صدیاں پہلے پہاڑ کاٹ کر اسکے اندر بنایا گیا اور اسکی حفاظت کا ایسا بندوبست کیا گیا کہ کوئی اسے تسخیر نہ کر سکے۔ کئی سو سال پہلے بغیر کسی مشینری کے اس پورے پہاڑ کو کیسے کاٹا گیا ہوگا؟؟
"ناف میں تیل ڈالیں ہزاروں فائدے اٹھائیں"
ایسے دعوے سننے سے پہلے سچ جان لیں اور آخر میں کامن سینس کا نکتہ اعتراض ضرور سمجھ لیں
ایک عام تصور جو سوشل میڈیا پر بھی بہت پروموٹ کیا جاتا ہے کہ ناف یعنی belly button سے جسم کی 12000 یا 72000 رگیں منسلک ہیں۔ اس کی توجیہ یہ دی جاتی ہے کہ بچہ یہیں سے خوراک حاصل کرتا ہے ۔ اس لئے اس میں فلاں تیل ڈالنے سے پورے جسم کو فلاں فائدہ ہوتا ہے۔
سب سے پہلے یہ جان لیں کہ 12,000 یا اس سے زیادہ رگوں کے ناف سے جڑے ہونے کی بات ہی سرے سے غلط ہے۔ انسان کے جسم میں تمام رگوں کا مرکز دل (Heart) ہے ناف نہیں۔
دورانِ حمل ماں کے رحم میں بچے کی ناف سے صرف ایک نال (Umbilical Cord) جڑی ہوتی ہے، جس کے اندر بنیادی طور پر تین اہم خون کی نالیاں ہوتی ہیں:
1. ایک بڑی ورید (Umbilical Vein) جو ماں کے جسم سے بچے کو آکسیجن اور غذائیت پہنچاتی ہے۔
2. دو شریانیں (Umbilical Arteries) جو بچے کے جسم کا فضلہ اور کاربن ڈائی آکسائیڈ واپس لے جاتی ہیں۔
3. ان تین نالیوں کے علاوہ کوئی " رگوں کا جال" ناف کے ساتھ جڑا نہیں ہوتا۔
پیدائش کے بعد ناف سے جڑی خون کی یہ نالیاں خشک ہو کر بند ہو جاتی ہیں اور سکڑ کر سخت ریشہ دار پٹھوں Ligaments میں تبدیل ہو جاتی ہیں
پیدائش کے فوراً بعد ڈاکٹر اس نال کو کاٹ کر بند کر دیتے ہیں۔ یہ نال سوکھ کر جو حصہ باقی رہ جاتا ہے اسے ہم ناف کہتے ہیں۔
یہاں اب اہم بات جو سمجھنے والی ہے وہ یہ ہے کہ جگر کی طرف جانے والے ان لیگامنٹس میں خون کی گردش ختم ہو جاتی ہے ۔۔ پیدائش کے بعد ناف محض ایک نشان ہے جس کے راستے جسم کے دوسرے اعضاء تک کوئی چیز پہنچانے کا کوئی طریقہ کار ہی موجود نہیں۔ ویسے بھی پیدائش کے فوراً بعد جب بچہ سانس لینا شروع کرتا ہے تو اس کے جسم میں خودکار طریقے سے ایسے کیمیائی اور فزیولوجیکل ردِعمل ہوتے ہیں جو ناف کی نالیوں کو اندر سے مکمل Seal کر دیتے ہیں۔۔ یہ نالیاں ایسے بند ہو جاتی ہیں جیسے ایک پلاسٹک کی پائپ کو پگھلا کر اندر سے ہمیشہ کے لیے بند کر دیا جائے
ناف یا اس کے ارد گرد کی جلد پر تیل لگانے سے صرف اس جگہ کی جلد نرم اور Hydrated ہو سکتی ہے جیسے ہاتھ منہ پر لوشن لگانے سے وہاں کی جلد نرم ہو جاتی ہے۔
نکتہ اعتراض :
اصل چیز کو ایسے نیم حکیم یا سوشل میڈیا کے سپیشلسٹ بھول جاتے ہیں وہ یہ ہے کہ اگر ناف کا راستہ اتنا کھلا اور غیر محفوظ ہے کہ یہاں سے کوئی بھی چیز سارے جسم میں پہنچ سکتی ہے تو کوئی بھی نقصان دہ جراثیم، کیمیکل یا زہریلا مادّہ اتفاقاً لگنے سے براہِ راست جسم کے اندرونی اہم اعضاء جگر یا دل وغیرہ تک پہنچ جاتا۔
مگر اللہ نے تو ہمارا سسٹم اتنا محفوظ بنایا ہے کہ ہمارا خون دل سے جڑی بند نالیوں کے نظام میں گردش کرتا ہے اور ہم ارادے سے بھی جو خوراک کھاتے ہیں وہ بھی معدے سے ہو کر پہلے جگر سے فلٹر ہوتی ہے پھر پورے جسم میں جاتی ہے۔
ناف کے اوپن ایئر راستے سے کسی چیز کو براہِ راست اندر بھیجنے کا نظام فطرت کے اس حفاظتی اصول کے بالکل خلاف ہے۔ یہ تو ایسا ہی ہے کہ آپ انتہائی محفوظ گھر بنائیں اور ایک دروازہ پر ایرے غیرے چور کیلئے کھلا چھوڑ دیں۔
آئندہ ایسی کوئی سائنس سنیں تو اسے بلاک کر دیں ۔
انہوں نے عین آخری وقت پر 20 لاکھ بھارتی روپے اور ایک ’’مرسڈیز بینز‘‘ گاڑی کا مطالبہ کر دیا۔۔۔ اور دولہا شادی پر آیا ہی نہیں! 💔🚫
🚨 بھارت میں ’’شادی‘‘ کے نام پر ایک افسوسناک جرم
شادی کی تقریب شروع ہونے میں صرف چند منٹ باقی تھے کہ دولہے کے گھر والوں نے فون کیا اور آخری شرط رکھ دی:
’’یا تو ابھی مزید 20 لاکھ روپے (تقریباً 24 ہزار ڈالر) اور ایک مرسڈیز بینز گاڑی دو، ورنہ دولہے کی بارات نہیں آئے گی!‘‘
اور پھر نتیجہ انتہائی دردناک تھا:
دولہے کی بارات کبھی پہنچی ہی نہیں، دلہن زار زار رونے لگی، جبکہ اس کے والد نے اپنی بیٹی کے سامنے اپنا دل ٹوٹتے ہوئے دیکھا۔
😭
یہ وڈیو آپکو بتاتی ہے کہ اس ملک میں قابض طبقے کی نظر میں عوام کی جگہ کہاں ہے ۔۔۔۔
حد ہے ویسے ۔۔
ایک کرسی سامنے بھی رکھی جا سکتی تھی لیکن شاید صاحب بہادر کی شان کے خلاف تھا یہ ۔۔
💔 میری ماں! آپ جہاں کہیں بھی ہیں، ایک بار واپس آ جائیں...
میں اسد اللہ ہوں۔ آج برسوں بعد بھی میری زندگی کی سب سے بڑی خواہش صرف ایک ہے کہ مجھے میری ماں بی بی زہرا مل جائیں۔
سن 2010 میں قانونی کارروائی کے باعث ہم بہن بھائی اپنی والدہ سے جدا ہو گئے۔ تقریباً دو سال ہم اپنی ماں سے دور رہے۔ اس دوران میری والدہ پشاور کے علاقے اشنغری، مومن ٹاؤن، بورڈ بازار میں رہائش پذیر تھیں۔
اہلِ علاقہ کے مطابق میری ماں تقریباً دو سال تک ہر روز سڑک کے کنارے بیٹھ کر ہمارے واپس آنے کا انتظار کرتی رہیں۔ لیکن جب ہم رہائی کے بعد واپس آئے تو معلوم ہوا کہ میری ماں طویل انتظار کے بعد کہیں چلی گئی تھیں، اور پھر آج تک ان کا کوئی سراغ نہیں مل سکا۔
میری والدہ کا نام: بی بی زہرا
میرے نانا کا نام: سردار محمد
میرے ماموں کا نام: خان محمد
میرے مرحوم والد کا نام: امین اللہ
ہم تین بہن بھائی ہیں:
👦 بڑا بھائی: عزیز اللہ
👦 میں: اسد اللہ
👧 میری بہن: شکوفہ
آج 12 سال گزر چکے ہیں۔ ہم اپنی ماں کی تلاش میں دربدر کی ٹھوکریں کھا رہے ہیں۔ نہ جانے وہ کس حال میں ہوں گی، لیکن ہمیں یقین ہے کہ اگر وہ زندہ ہیں تو آج بھی اپنے بچوں کو یاد کرتی ہوں گی، اور ہم بھی ہر دن صرف ان کی ایک جھلک دیکھنے کی دعا کرتے ہیں۔
امی! اگر آپ یہ پیغام کہیں سن رہی ہیں، یا کوئی یہ پیغام آپ تک پہنچا دے، تو جان لیجیے کہ آپ کے بچے آج بھی آپ کا انتظار کر رہے ہیں۔ ہمیں آپ سے کوئی شکوہ نہیں، بس ایک بار آپ کو دیکھنا، آپ کو گلے لگانا اور آپ کے قدم چومنا چاہتے ہیں۔
🙏 خدارا، میری آپ سب سے ہاتھ جوڑ کر درخواست ہے کہ اس پوسٹ کو ضرور شیئر کریں۔ اللہ تعالیٰ کے بعد اب ہماری امید اور سہارا آپ جیسے دردِ دل رکھنے والے لوگوں سے ہے۔ شاید آپ کی ایک شیئر ہماری برسوں کی جدائی ختم کر دے اور ہمیں ہماری ماں سے ملا دے۔
📞 اگر کسی شخص کو میری والدہ بی بی زہرا کے بارے میں کوئی بھی معلومات ہوں تو براہِ کرم فوراً رابطہ کریں۔
رابطہ نمبر:
0317-8235986
آپ کی ایک شیئر شاید برسوں سے بچھڑے ہوئے ایک خاندان کو دوبارہ ملا دے۔ اللہ تعالیٰ آپ کو اس نیکی کا بہترین اجر عطا فرمائے۔ آمین۔
سوچا بھی نہیں تھا دنیا میں پورا خاندان اتنا سنگ دل ہوگا
اللہ پاک ایسا خاندان کسی کافر کو بھی نہ دیں
تحریر لکھتے ہوئے میری آنکھیں آنسوں سے بھر گئی
💔😭
ایک یتیم بچہ جس کے والدین زلزلے میں شہید ہو گئے اور یہ معجزانہ طور پر بچ گیا اسوقت دو سال کا تھا
آج 22 سال کا ہے
پورے خاندان نے اس یتیم بچے کا نمبر بلاک کر رکھا ہے کہ کہیں کوئی ضرورت کی چیز مانگ نہ لیں
یتیم بچہ کیا ہی مانگے گا
زیادہ سے زیادہ دو وقت کی روٹی کی مانگے گا
سوائے ایک چچا کے جنہوں نے اسےsos میں تعلیم دلوائی اور اب اس یتیم بچے کو اپنے دوست کے ہاں اسلام اباد فیصل ٹاؤن میں دفتر کے اندر افس بوائے کی کے طور پر رکھا ہے
ایک سال ہوگا آفس والوں نے کوئی تنخواہ نہیں دی
یہ الگ ظلم ہے
اب ایک اور ظلم کو دیکھیں یتیم بچے کا شناختی کارڈ نہیں بن رہا چونکہ چاچا کہتا ہے کہ میں اپ کو اپنی شناختی کارڈ کے سلسلے میں انٹر نہیں کرنا چاہتا اس معاملے کو خدا اور اس کا چچا جانتا ہے کہ وہ اس کے لیے یہ اسانی کیوں پیدا نہیں کرنا چاہتا لیکن یہ یتیم بچہ جس بھی نادرہ افس جاتا ہے وہاں ان سے بھی کہا جاتا ہے چچا کو لیکر آئیں وہ اس کے لئے تیار نہیں۔ چونکہ اب اس کا دوسرا کوئی حل نہیں ہے قانون کے اندر تو ہم موجودہ وزیر داخلہ محسن نقوی صاحب @MohsinnaqviC42 سے درخواست ہیں کہ اس کا شناختی کارڈ اپ اپنی طور پر بنائیں کیونکہ یہ بچہ بڑا قابل ہے اور یتیم بھی ہے کب تک یہ افس بوائے بنا رہے گا
آئی ٹی کورس اسنے کی ہے کوئی جاب بھی حکومت انکو دیں
میرا دل پھٹنے کو تھا جب یتیم بچے نے مجھے کہا کہ میری ایک بہن بھی تھی چونکہ اس نے پسند کی شادی کی اور وہ امریکہ چلی گئی اور وہاں سے انہوں نے اور میرے بہنوئی نے اور انکے خاندان نے مشترکہ طور پر میرا واٹس ایپ نمبر بھی بلاک کر دیا تو اج وہ دعوی بھی میرے سامنے ریت کی دیوار ثابت ہوئی جس میں اکثر ہم یہ سنتے تھے کہ بہن بھائیوں کا سہارا ہوتی ہے وہ بڑی خدا ترس ہوتی ہے بھائیوں کے لیے بڑی شفقت والی ہوتی ہے تو میں نے اس رشتے کو بھی اج ریت کی دیوار کی طرح گرتے دیکھا
بچہ بھی ماشاءاللہ بڑا ذہین ہے اور راولپنڈی کے گیگا مال میں بھی اس کو جواب مل گئی تھی لیکن شناختی کارڈ نہ ہونے کی وجہ سے وہاں سے بھی ریجیکشن اگے اب یہ اتنا خوبصورت بچہ نہ تو والدین کی محبت پا سکا نہ رشتہ داروں کی محبت پا سکا یتیم بچہ اب ایک اجنبیوں کی درمیان اپنے صبر و روز شب و روز کاٹ رہا ہے تو اپ سے درخواست ہے کہ اس تحریر کو زیادہ سے زیادہ شیئر کریں تاکہ حکومت اس یتیم بچے کے لیے کوئی راہ نکالے شناختی کارڈ بنائیں
اگر حکومت کے پاس کوئی ائی ٹی میں کوئی جاب موجود ہو تو اس بچے سلمان کے لیے کوئی ترتیب بنا لیں اس میں جزاک اللہ خیرا
پنجاب حکومت پنجاب مریم نواز صاحبہ بھی اس کیس کو دیکھیں اس بچے کو اپنے جنید جیسا سمجھیں اور اسپر شفقت کریں
@MaryamNSharif 😭💔
یتیم بچے کا نام سلمان والد کا نام کامران
رابطہ نمبر
صرف واٹس ایپ چلتا ہے
03363277824
شوکت خام کینسر ہسپتال کراچی
عمران خاں۔کی اسیری سے بہت سے نقصانات ملک کو پہنچے ہیں،ان میں سے ایک شوکت خانم ہسپتال کراچی کی تکمیل میں تاخیر بھی ہے۔ سب درد دل رکھنے والوں کا فرض ہے کہ وہ اس اہم منصوبے پر توجہ دیں۔کم از کم یہ کہ اپنے صدقات کا ایک حصہ اس کے لئے وقف کر دیں۔ صدقات کے باب میں ایک بڑا مغالطہ پایا جاتا ہے۔ یہ کہ معمولی نہیں بھاری رقم ہی پیش کرنی چاہئے۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا: اگر کسی کے پاس دو دینار ہوں اور وہ ان میں سے ایک دینار دے دے تو وہ ہزاروں دینار پہ بھاری ہو گا۔ لاہور کے شوکت خانم ہسپتال کی تعمیر اور کامیابی میں دو چیزوں کا دخل ہے۔ ایک نظام کی تشکیل اورسختی سے اس کی پابندی یعنی۔کسی بھی سطح پر مداخلت گریز ۔ اس سے بھی زیاد اولین مرحلے میں چھوٹے عطیات کی عوامی مہم۔ اس کا آغاز لاہور کے نسبتا پسماندہ علاقے گڑھی شاہی سے ہوا تھا اور یہ خود اس علاقے کے چند عام افراد کے طفیل ہوا تھا۔
اس جگہ اور ٹرین کی آرام دہ نشستوں کے درمیان صرف ایک چیز حائل ہے: غربت، اور ٹرین کا ٹکٹ خریدنے کی استطاعت نہ ہونا۔ جب کبھی زندگی کی چند چھوٹی چیزیں کھو جانے سے آپ کا دن خراب ہو جائے، تو اس منظر پر ضرور غور کیجیے۔
اس اماں جان کا نام مریم بی بی ہے
مریم بی بی سال 1965 میں بہت چھوٹی سی تھی اسکے انکے خاندان کے ایک فرد نے دربار پر جانے کا کہا۔ یہ ساتھ گئی تو وہاں کوئی بندہ آیا تھا اس بندے پر مریم بی بی کو بیچ دیا تھا۔
مریم بی بی ہاتھ در ہاتھ آگے فروخت ہوتی گئی۔ آخر میں جس نے خریدا تھا اس نے بعد میں اسکے ساتھ شادی کرلی تھی اب انکے پوتوں نواسوں کے بھی بچے ہیں۔
مریم بی بی کے والد کا نام لال/لال کما تھا۔والدہ کا نام جوائی تھا۔
دادے کا نام کما تھا۔ تین بھائی تھے ایک بھائی کا نام یاسین تھا دو کے نام یاد نہیں ہیں۔
دو بہنیں تھیں ایک کا نام حلیمہ تھا دوسری کا نام یاد نہیں ہے۔
ایک ماموں کا نام بشیر تھا جو اثر رسوخ والا تھا۔
جڑانوالہ کے شاہ کوٹ میں بابا نو لکھ ہزاروی کے مزار سے کچھ فاصلے پر انکا گھر تھا۔بستی کا نام بستی لال کما تھا۔
گھر کے قریب نہر بھی تھی۔
مریم بی بی دہائیاں گزرنے کے باوجود بھی اپنوں کو یاد کرکے روتی ہے۔دل اپنی بہنوں اور بھائیوں والدین کی یاد میں بہت اداس رہتا ہے۔خواہش کرتی ہے کہ کاش اپنے خاندان کے لوگوں کو دیکھ لوں۔
اس اماں کی دعائیں لینی ہوں تو اس پوسٹ کو زیادہ سے زیادہ شئیر کریں۔ ان شاءاللہ انکی دعائیں آسمان چیر کر عرش تک پہنچیں گی اور قبول ہونگیں۔
کسی بھی اطلاع کے لئے نیچے درج نمبر پر وٹس ایپ کریں
+923162529829
18 July 2026
#waliullahmaroof
🔴 عمان کے وزیر خارجہ سید بدر البوسعیدی:
"45 برس تک یہ تاثر دیا جاتا رہا کہ ایران خطے کے لیے سب سے بڑا خطرہ ہے، اور اسی جواز پر خلیجی خطے کو غیر معمولی حد تک عسکری بنا دیا گیا۔
لیکن حقیقت یہ ہے کہ آج سب سے بڑا خطرہ تہران سے نہیں بلکہ تل ابیب سے آ رہا ہے۔ موجودہ حالات سے سبق سیکھنے کی ضرورت ہے اور ماضی کی غلطیوں میں الجھنے کے بجائے مستقبل کی جانب دیکھنا چاہیے۔"