اے این پی(عوامی نیشنل پارٹی) والے آج اپنی پاکستان کے لیے خدمات گنوانے اور عمران خان کو ٹھکانے لگانے کی باتیں کرنے لگے،
ان کی تاریخ اٹھا کر دیکھیں انہون نے ہر اہم موقع پر پاکستان کے ساتھ ہمیشہ بددیانتی و بددلی کا مظاہرہ کیا۔
@arsched@ImranRaizKhan@SdqJaan
ایسے وقت میں جب دھشت گرد دوبارہ منظم ہو رہے ہیں حکومت اور سیکیورٹی ایجنسیوں کی توجہ “عمران خان کو کیسے روکنا ہے” جیسے مشن پر ہے اس کے نتیجے میں معیشت کے بعد اب امن و امان بھی شدید خطرات کی زد میں ہے حکومت کا کام دھشت گردی کی مذمت کرنا نہیں دھشت گردی کی سرکوبی کرنا ہے
حضرت امام حسین علیہ السلام نےایک ظالم کی فوج جو تعداد میں ان سےکہیں بڑھ کرتھی، کا سامنا کرتے ہوئے باطل(جھوٹ)کیخلاف حق و سچ پر ڈٹ جانے کی پاداش میں کربلا میں اپنے اہلِ بیت اور ساتھیوں سمیت جانوں کے نذرانے پیش کئے۔
اس ٹک ٹاک کے دور میں کسی دیہات سے کوئی بچہ چند سیکنڈ کی ایک ویڈیو آپ لوڈ کر کے حکومت/ سیاسی جماعتوں کے بیانیے کے پرخچے اڑا دیتا ہے،عمران خان ٹک ٹاک کے دور کی سیاست کر رہا ہے، اس لیے نوئے میں پھنسی سیاست اور صحافت سمجھ نہیں پا رہی کہ ہو کیا رہا ہے۔ پروگرام تکرار میں گفتگو۔
عمران خان کے چیف آف سٹاف شہباز گل کیخلاف مقدمہ ہونا چاہیے اور جیل بھجوانا چاہیے۔ پاکستان مخالف، آئین مخالف، افواجِ پاکستان میں بغاوت/ نافرمانی پھیلانے کا جرم کسی صورت قابلِ معافی نہیں۔ اس بات کا پتہ بھی ��گانا چاہیے کہ آن ائیر بیان کس کے کہنے/لکھ کر دینے پر پڑھا گیا۔
آج ری ٹوئٹس آپ لوگوں نے زیادہ کر دی ہیں، اب مزید کسی کو پیمنٹ نہیں ہوگی!! گنجائش نہیں ہے!! ویسے نہیں بار بار کہتا ہوں کہ ہماری سیاست اور صحافت نوئے کی دھائی میں پھنسی ہوئی ہے۔