By targeting every peaceful Baloch, the state is leaving the youth with no other choice. What remains when even peaceful voices are silenced?
Chairman 🌹
By targeting every peaceful Baloch, the state is leaving the youth with no other choice. What remains when even peaceful voices are silenced?
Chairman 🌹
When a whole nation screams under the weight of state horror, silence from the world becomes complicity.
The Baloch do not ask for pity; they demand the basic right to exist without fear of the dark snatching their children. 1/2
@shahzamanrind1@UN#StopBalochGenocide
بھیٹا اس سوال کا جواب چند جملوں میں نہیں - #تاریخ کی کتابوں، #پاکستان کے 80 سالہ تعمیر و ترقی (پلاننگ کمیشن) و اداروں کی پالیسیوں، وفاقی نظام کی خامیوں، وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم، تاریخی عہد و پیماں سے روگردانی اور غیر شفاف آلودہ سیاسی نظام کے ہزاروں اوراق کی عرق ریزی کرکے آپکو ملے گا -
The real criminal is running the nation, while activists demanding justice are detained and arrested. Welcome to a state run by the uniform.
@realZalmayMK@baloch_ambreen@MarioNawfal
جس دن بھی اس قید سے رہائی ہوئی اس دن آپ ہمیں لاپتہ افراد کے لواحقین اپنے قومی شہیدوں کے خاندانوں اور بلوچستان کے ان تمام مظلوم عوام کے ساتھ انصاف کی جدوجہد میں کھڑا پائیں گے جنہوں نے اپنے حقوق کے لیے قربانیاں دی ہیں✊✊
ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ
ہدہ جیل کوئٹہ
22ستمبر 2026
آپ کی کینگرو عدالتوں سے ملنے والی سزاؤں کو ہم اپنے اور اپنی تنظیم کے لیے اعزاز سمجھتے ہیں، کیونکہ تمام تر وسائل، مقدمات، قید اور پروپیگنڈے کے باوجود آپ ہمارے ساتھیوں کے جدوجہد کے حوصلے کو نہیں توڑ سکے۔ ہم اپنی قوم کے اعتماد کا سودا نہیں کریں گے ہمارے لیے قومی نظریے، سیاسی اصول اور اپنے عوام کے ساتھ وفاداری کسی بھی ذاتی فائدے سے زیادہ اہم ہیں۔
ہماری سزائیں اور قید ہمارے قوم کے حوصلے کو نہیں توڑ سکتے، جس دن بھی اس قید سے رہائی ہوئی، اس دن آپ ہمیں لاپتہ افراد کے لواحقین، اپنے قومی شہیدوں کے خاندانوں اور بلوچستان کے ان تمام مظلوم عوام کے ساتھ انصاف کی جدوجہد میں کھڑا پائیں گے، جنہوں نے اپنے حقوق کے لیے قربانیاں دی ہیں۔
ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ
ہدہ جیل کوئٹہ
22ستمبر 2026
A Baloch mother pours her entire life into nurturing and raising her son.
When the son reaches a stage to support his mother, he is dragged into the shadows by a merciless state apparatus.
The mother is left with nothing but endless darkness and empty arms.
@NadirBaloch1s
He is also the apple of his mother’s eye. But her mother is poor. So anyone can beat him, abuse him. That’s the bitter truth of Pakistan.
@Taimur_Laal@Tooba_Sd@NJLahori
بی وائی سی رہنما گل زادی بلوچ کو جبری گمشدگیوں کا شکار افراد کے لیے آواز بلند کرنے کی پاداش میں مچھ میں قتل کے جھوٹے مقدمے میں عمر قید کی سزا دینا قابلِ مذمت ہے۔ بنیادی انسانی حقوق اور آئینی حقوق کی آوازوں کو ظلم و جبر سے دبایا نہیں جا سکتا۔
#ReleaseBYVLeaders
The state policy of enforced disappearances and collective punishment continues to inflict severe human rights violations on Baloch families. Dad Shah Baloch was forcibly disappeared on 21 April 2026, and five months later, his family still has no information about his whereabouts or safety. Their suffering continues with every passing day.
His enforced disappearance has left his family trapped in uncertainty, fear, and an unending wait for answers. Denying a family information about the fate and whereabouts of their loved one compounds the violation and exposes the human cost of impunity.
#ReleaseDadShahBaloch
میں گلزادی بلوچ کے وکلاء کی ٹیم کا حصہ رہی ہوں، اور اس مقدمے کی کارروائی نے میرے سامنے ایک بنیادی اور نہایت سنگین قانونی سوال کھڑا کیا ہے: کیا کسی شخص کو اس وقت عمر قید کی سزا دی جا سکتی ہے جب اس کے خلاف پیش کی گئی اہم شہادت کو دفاع نے مؤثر جرح کے ذریعے چیلنج ہی نہ کیا ہو؟
گلزادی بلوچ کو عمر قید کی سزا سنائی گئی۔ لیکن اس فیصلے کی بنیاد میں وہ گواہی بھی شامل ہے جو ایسے مرحلے پر ریکارڈ کی گئی جب دفاع کی جانب سے کوئی وکیل موجود نہیں تھا۔ یہ معاملہ محض طریقۂ کار کی ایک معمولی خامی نہیں۔ کسی بھی منصفانہ عدالتی کارروائی میں دفاع کا حق، وکیل کی مؤثر معاونت، اور گواہوں پر جرح کا موقع بنیادی قانونی تقاضے ہیں۔
جرح کا مقصد صرف گواہ سے سوالات کرنا نہیں ہوتا۔ جرح وہ قانونی ذریعہ ہے جس کے ذریعے عدالت کے سامنے پیش کی گئی شہادت کو جانچا اور پرکھا جاتا ہے۔ گواہ کے بیان میں موجود تضادات، اس کی یادداشت، مشاہدے کی صلاحیت، بیان کے پس منظر اور ممکنہ مفادات جیسے پہلو جرح کے ذریعے سامنے آتے ہیں۔ اسی عمل کے ذریعے دفاع کو یہ موقع ملتا ہے کہ وہ استغاثہ کے مقدمے کو چیلنج کرے اور عدالت کے سامنے یہ واضح کرے کہ کسی بیان کو محض اس لیے درست اور قابلِ اعتماد نہیں مانا جا سکتا کہ وہ ریکارڈ پر موجود ہے۔
اگر کسی اہم گواہی کو دفاع کی مؤثر موجودگی اور جرح کے بغیر ریکارڈ کیا جائے، تو اس شہادت کی قابلِ اعتماد حیثیت اور اسے سزا کی بنیاد بنانے کے قانونی جواز پر لازماً سوال اٹھتا ہے۔ جو الزام دفاع کے سامنے مؤثر طور پر پرکھا ہی نہ گیا ہو، اسے بلاجواز قطعی سچ تصور نہیں کیا جا سکتا۔
کسی بھی مقدمے میں الزام ثابت کرنے کی ذمہ داری استغاثہ پر ہوتی ہے۔ ملزم پر یہ ذمہ داری نہیں کہ وہ محض الزام کی موجودگی کو غلط ثابت کرے۔ اسی لیے دفاع کا حق بنیادی اہمیت رکھتا ہے: عدالت کو فیصلہ صرف الزام کی بنیاد پر نہیں بلکہ اس الزام اور اس کے ثبوت کو قانونی طور پر پرکھنے کے بعد کرنا ہوتا ہے۔
اس مقدمے میں ایک دوسرا بنیادی سوال عدالت کی غیر جانب داری سے متعلق بھی پیدا ہوتا ہے۔
میں نے خود اس مقدمے کی کارروائی دیکھی، اور میرے مشاہدے میں عدالت کی جانب سے فیصلہ سنائے جانے سے قبل ایسے ریمارکس سامنے آئے جنہوں نے عدالتی غیر جانب داری اور پہلے سے ذہن بن جانے کے بارے میں سنجیدہ خدشات پیدا کیے۔ عدالت کا فرض صرف یہ نہیں کہ آخر میں غیر جانب دار فیصلہ تحریر کرے؛ عدالتی غیر جانب داری پورے مقدمے کی کارروائی میں نظر آنی چاہیے۔
ایک منصفانہ عدالت وہ ہے جو استغاثہ اور دفاع، دونوں کو مؤثر طور پر سنے، شواہد کو کھلے ذہن کے ساتھ پرکھے، اور حتمی نتیجے تک پہنچنے سے پہلے کسی ایک فریق کے مؤقف کو حتمی حقیقت نہ سمجھے۔
اگر کسی فریق کے پاس یہ معقول بنیاد ہو کہ عدالت نے شواہد کی مکمل جانچ سے پہلے ہی اپنی رائے ظاہر کر دی تھی، تو یہ صرف تاثر کا مسئلہ نہیں رہتا؛ یہ عدالتی عمل کی منصفانہ حیثیت سے متعلق ایک سنجیدہ قانونی سوال بن جاتا ہے۔
اسی لیے اس مقدمے میں اپیل کو محض ایک رسمی مرحلہ سمجھنا درست نہیں ہوگا۔ اپیل کی عدالت کے سامنے سوال صرف یہ نہیں ہونا چاہیے کہ نچلی عدالت نے کس بنیاد پر سزا سنائی، بلکہ یہ بھی جانچا جانا چاہیے کہ کیا گلزادی بلوچ کو ابتدا ہی سے منصفانہ اور مؤثر عدالتی کارروائی کا وہ حق حاصل تھا جو قانون اور انصاف دونوں کا تقاضا ہے؟
کیونکہ انصاف صرف نتیجے کا نام نہیں۔ انصاف اس پورے عمل کا نام ہے جو نتیجے تک پہنچاتا ہے۔
اگر دفاع کو اہم شہادت کے وقت مؤثر نمائندگی حاصل نہ ہو، اگر گواہ کے بیان کو جرح کے ذریعے پرکھنے کا حقیقی موقع نہ دیا جائے، اور اگر عدالت کے طرزِ عمل سے اس کی غیر جانب داری پر سنجیدہ سوالات پیدا ہوں، تو پھر یہ جائز طور پر پوچھا جا سکتا ہے کہ آیا سزا ایک مکمل اور منصفانہ عدالتی عمل کا نتیجہ تھی یا نہیں۔
گلزادی بلوچ کا حق صرف یہ نہیں تھا کہ اس کے خلاف مقدمہ چلایا جائے۔ اس کا حق یہ تھا کہ اس کے خلاف مقدمہ قانون کے مطابق، غیر جانب دار عدالت کے سامنے، مؤثر دفاع اور مکمل جرح کے مواقع کے ساتھ چلایا جائے۔ ہم اسی بنیادی قانونی نکتے کو ہر متعلقہ عدالت کے سامنے اٹھائیں گے۔
سزا کا وجود بذاتِ خود منصفانہ عدالتی کارروائی کا ثبوت نہیں ہوتا۔ پہلے یہ طے ہونا ضروری ہے کہ سزا تک پہنچنے والا پورا عمل قانونی تقاضوں، دفاع کے حق، جرح کے اصول اور عدالتی غیر جانب داری کے معیار پر پورا اترتا تھا یا نہیں۔
گلزادی بلوچ کو محض سزا نہیں، منصفانہ سماعت کا حق حاصل تھا۔ اور اگر وہ حق مؤثر طور پر فراہم نہیں کیا گیا، تو یہ سوال پوری قانونی قوت کے ساتھ اٹھنا چاہیے کہ آخر جس شخص کو منصفانہ طور پر سنا ہی نہ گیا ہو، اس کے خلاف سنائی گئی سزا کو کس بنیاد پر برقرار رکھا جا سکتا ہے؟
#ReleaseBYCLeaders
Asif and Rasheed were forcibly disappeared on 31 August 2018. Eight years have passed, yet their families remain trapped in an unending wait, with no information about their whereabouts or fate. Every passing day deepens the pain, uncertainty, and psychological suffering endured by their loved ones.
Their prolonged disappearance reflects a culture of impunity in which enforced disappearance is used as a tool of repression and collective punishment. Families are denied the most basic right to know what happened to their loved ones.Eight years of silence is eight years of injustice. Their families deserve truth, justice, and an end to this unending agony.
#ReleaseAsifAndRasheed
جب ایک ماں اپنے جبری لاپتہ بیٹے کی تصویر دیکھتی ہے، تو وہ صرف ایک تصویر نہیں دیکھتی؛ وہ اپنے بیٹے کی آواز، مسکراہٹ اور واپسی کی امید دیکھتی ہے۔
ہر لمحہ ایک سوال بن جاتا ہے: میرا بیٹا کہاں ہے؟
#Balochistan#EndEnforcedDisappearances#HumanRights
بی این پی بسیمہ رہنما عبدالخالق کی بیس سالہ بیٹی صفیہ بلوچ کو غیر قانونی طور پر کوئٹہ سے گرفتار کیا گیا، بلوچستان میں ایک اور خاتون کو لاپتہ کر دیاگیا، یہاں اب خواتین بھی محفوظ نہیں، ہم اس عمل کی شدید مذمت کرتےہیں اورصفیہ بلوچ کی بحفاظت رہائی کامطالبہ کرتےہیں۔ ساجد ترین ایڈووکیٹ