نیب کیس آئینی عدالت بھیج کر حکومت بظاہر عمران کو اندر رکھنے کا پکا پکا بندوبست کر دیا ہے فرعون ماوں کے شکم چیر کر بچے قتل کروا کر اپنے تہی یہ سمجھ بیٹھا تھا کہ میں نے اپنے تخت کا پکا بندوبست کر دیا ہے مگر وہ بھول گیا کہ حتمی تدبیر میرے اللہ کی ہی کارگر ہوتی ہے۔
بریکنگ نیوز 🚨شہباز گل نے پی ٹی آئی کی صفوں میں چھپے غداروں کو کھل کر بے نقاب کردیا 🔥🔥
26 نومبر کو سیکورٹی فورسز کی اندھا دھند فائرنگ کی زد میں آکر شہید ہونے والے کارکنوں کے خون کا سودا کرنے والوں کا نام بتادیا. لطیف کھوسہ اور بیرسٹر گوہر نے عمران خان کی پیٹھ میں چھرا گھونپا ہے۔ انہوں نے اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ مل کر 26 نومبر کے شہدا اور زخمیوں کے خون کو دھو کر صاف کر دیا ہے۔ 18 سماعتیں ہوئیں ہر سماعت پر لطیف کھوسہ نے بہانہ بنایا اور کیس کو آگے نہیں بڑھنے دیا۔ اب کیس کی سماعت تھی تو بتایا گیا کہ لطیف کھوسہ چھٹیاں منانے یورپ گئے ہوئے ہیں۔ انہوں نے بہت بڑا ظلم کیا ہے۔ پارٹی کو یہ لوگ ہائی جیک کرچکے ہیں۔ عمران خان کی بھی زندگی کا سودا یہ لوگ بہت پہلے سے کرچکے ہیں۔ یہ کبھی عمران خان کو باہر نہیں آنے دیں گے۔
جنگ کے اس راؤنڈ کے بعد مجھے عمران خان بھی اڈیالہ جیل میں قید نظر نہيں آ رہے۔ انکی لوکیشن بنی گالہ کی آ رہی ہے۔
علیمہ خانم کا ساتھ دیں۔ اس زیرک خاتون نے صورتحال بھانپ لی ہے۔
اللہ تعالٰی بہتر کرے گا۔
میری تمام باشعور پاکستانیو سے گزارش ہے کہ آپ یہ دیکھیں کے آج یہ اپنے 'سیاست بچائو جلسے' کو کامیاب بنانے کے لئے آپکے ترلے منتیں کر رہے ہیں۔ کبھی اسے سیمی فائنل کہا جا رہا ہے اور کبھی آخری اور فائنل کال کا نام دے دیا جا رہا ہے۔
خدارا! اپنی غلطیوں سے سیکھیں۔
ہم گاندھی نہیں ہیں کہ ایک گال پر تھپڑ پڑے تو دوسرا بھی آگے کر دیں۔ ذرا عقل، فہم اور حکمت عملی سے بھی کام لیجیے۔
جب تک آپ کو عمران خان کی زندگی، انکی صحت اور ان کی حفاظت کے بارے میں کوئی قابل اعتماد گارنٹی نہیں ملتی، ہم سے بڑا کوئی بے وقوف نہیں ہوگا جو منہ اٹھا کر محض کسی کی پی آر مہم کے لیے ان کے جلسوں میں چلا جائے۔
خدارا! عمران خان کے ساتھ زیادتی نہ کیجیے۔ انکی عقل، انکے فہم، انکے دیے شعور اور انکی جدوجہد کا تقاضا یہ نہیں کہ ہم ہر بار بغیر سوچے سمجھے وہی غلطیاں دہرائیں۔
ایک بھائی نے کمنٹ میں بہت ہی عمدہ مثال دی کہ یہ مداری اور ڈگڈگی والا حساب ہے۔ جب مداری ڈگڈگی بجاتا ہے تو بندر اسکے اشاروں پر ناچنا شروع کر دیتا ہے۔
کیا ہم بھی ہر بار یہی کریں گے؟
عمران خان کی ایک آنکھ ضائع ہو چکی ہے، انکی زندگی شدید خطرے میں ہے اور دوسری آنکھ بھی محفوظ نہیں۔
اس سیاسی جماعت کو تو یہ بھی نہیں معلوم کہ خان زندہ ہے کہ نہیں!
تو کیا آپ سب انکے ڈگڈگی بجانے پر بندروں کی طرح ناچنا شروع کر دیں گے؟
سلمان اکرم راجی صاحب آپ کو یہ بات بری لگے گی، اور آپ کو تو غصہ بھی بہت جلدی آ جاتا ہے، لیکن بحیثیت سیکرٹری جنرل آپکی ذمہ داری ٹویٹس لکھنا نہیں، قیادت کرنا تھی!
اب اس وقت اتنے طویل اور پیچیدہ اردو ٹویٹس کرنے سے بہتر یہ تھا کہ گزشتہ چھ ماہ میں آپ ایک بھی مؤثر انگریزی پریس کانفرنس کرتے جس میں دنیا کو کھل کر بتاتے کہ عمران خان بدترین ناحق قید میں ہیں، ان کا دن دھاڑے مینڈیٹ چرایا گیا ہے، انہیں آنکھ ضائع کر دی گئی اور پھر بھی مناسب طبی سہولیات میسر نہیں اور آج اس قوم کے پاس انکے زندہ اور خیریت سے ہونے کے آزادانہ شواہد تک موجود نہیں۔
آپ نے نہ تو ان بیکار سیٹ ہولڈرز کو لگام دی جو عمران خان کا نام استعمال کرکے اپنی سیاست چمکا رہے ہیں، نہ انکے خلاف کوئی کارروائی کی جو عمران خان کو بھلا کر اپنی اپنی جاگیریں چلا رہے ہیں۔ پارٹی کے اندر احتساب کہیں نظر آیا ہی نہیں۔
اور سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ آپکی بین الاقوامی میڈیا حکمت عملی کہاں تھی؟ چھ ماہ میں کتنے بڑے بین الاقوامی میڈیا اداروں کو متحرک کیا گیا؟ کتنی پریس بریفنگز ہوئیں؟ کتنے سفارت کاروں اور انسانی حقوق کی تنظیموں تک مؤثر انداز میں عمران خان کا مقدمہ پہنچایا گیا؟
ہمیں اب آپکی اردو ٹویٹس نہیں چاہئیں۔ ہمیں لفظوں کی نمائش نہیں چاہیے۔ ہمیں ایکشن چاہیے تھا۔ عمران خان جیل میں ہیں اور آپکی قیادت میں پارٹی کا بڑا حصہ اپنی نشستوں، عہدوں اور سوشل میڈیا کی پی آر مہمات بچانے میں مصروف رہا۔۔
اگر سیکرٹری جنرل اپنی ہی صفوں میں موجود مصلحت پسندوں اور موقع پرستوں کا احتساب نہیں کر سکتا، تو پھر طویل پیچیدہ ٹویٹس کسی کام کے نہیں۔
@salmanAraja@Aleema_KhanPK@DrUzma_KhanPK@Noreen_KhanPK@Kasim_Khan_1999
جب تک آپ پانچ اگست کے جلسے کا بائیکاٹ نہیں کریں گے، اور ایسا بائیکاٹ کہ انکے پنڈال خالی رہ جائیں اور انہیں صاف نظر آ جائے کہ وہ عمران خان کے ویژن کو لے کر چلنے میں مکمل طور پر ناکام رہے ہیں، تب تک کچھ نہیں بدلے گا۔ انہیں احساس ہونا چاہیے کہ جب وہ عمران خان کے مؤقف کے لیے کھڑے نہیں ہو سکتے تو لوگ بھی انکے جلسوں میں آنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔
آج جب پٹرول کی قیمتیں روزانہ کی بنیاد پر بڑھ رہی ہیں، تو آپ کارکنوں اور عوام سے یہ توقع نہیں رکھ سکتے کہ وہ اپنی جیب سے پیسے خرچ کرکے صرف آپ کو "اپنی سیاسی طاقت دکھانے" کے لیے جلسوں میں آئیں۔ لوگوں کو یہ ہرگز نہیں کرنا چاہیے۔ آپ جلسے میں جا کر انہیں جوتے دکھانے کے لیے بھی اپنا وقت اور پیسہ ضائع نہ کریں۔
جب تک آپ بیرسٹر گوہر کے فوری استعفے کا مطالبہ نہیں کریں گے، اور انہیں یہ احساس نہیں دلائیں گے کہ انہوں نے جو بھی تماشا لگایا ہے وہ عمران خان کے مؤقف سے انحراف کے مترادف ہے، تب تک بھی کوئی اثر نہیں ہوگا۔
اور جب تک آپ انکی ہومیوپیتھک سوشل میڈیا ٹیم سے یہ نہیں پوچھیں گے کہ یہ کیا تماشا لگا رکھا ہے؟ آپ اپنے سوشل میڈیا نیٹ ورک کے ذریعے ہر بیکار اور نااہل سیٹ ہولڈر کی پی آر مہم چلاتے ہیں۔ تب تک بھول جائیں کہ ان میں سے کوئی بھی آپکی سنے گا۔
اپنی آواز ہر دستیاب فورم پر پرامن ذریعے سے بلند کریں اور انہیں واضح طور پر بتائیں کہ اب یہ طرز عمل قابل قبول نہیں!
چوٹ وہاں پہنچائیں جہاں واقعی اثر ہو گا:
پرامن اور مؤثر بائیکاٹ کے ذریعے۔
یہ حرامزادہ دو سال بیان ریکارڈ کروانے نہیں گیا
Let that sink in
اور اسی سوشل میڈیا پر وہ ہڈی زدہ کتے بھی ہیں جو صبح شام اتحاد و یگانگت کی بھونکواس پر لگے رہتے ہیں۔
🚨 عمران خان کے ٹویٹر اکاؤنٹ کو چلانے والوں سے اپیل کی تھی کہ عمران خان کے اکاؤنٹ سے تمام ٹویٹ دوبارہ پوسٹ کیے جائیں لیکن ہماری بات نہیں مانی گئی اب قوم سے کہوں گی کہ عمران خان کی تمام ٹویٹ دوبارہ شئیر کریں ۔
ڈیرہ غازی خان میں ڈاکٹر عظمیٰ خان کی میڈیا سے گفتگو
بھارت میں دانشور اور معاشرے کے قابل ذکر افراد حق مانگنے والوں کیساتھ کھڑے ہیں۔ ہمارے وڑ جانی دے پی سی بی کی چئیرمینیاں لیتے رہے ، پٹرول پمپوں کی لیزیں کراتے پھرے ، اداکاراؤں باتھ روم ناپتے رہے ، پی ٹی وی کی نوکری پر مر گئے ، کسی ادارے کی سربراہی پر مر گئے ، دو ہزار روپے ٹویٹ پر لیٹ گئے۔
کسی کو اچھا لگے یا برا، ہم ہر قدم عمران خان کے اہلِ خانہ کے ساتھ ہیں۔ محسوس ہوتا ہے کہ تپش بڑھنے والی ہے اور اب یہ صرف باتوں سے روکی نہیں جا سکتی۔ اس بار آزادی یا شہادت کے جذبے کے ساتھ آگے بڑھیں گے، باقی اللّٰہ خیر کرے گا۔
ملیے ریحا آہیر سے۔
ممبئی میں طلبہ کے احتجاج کے دوران ایک بہادر نوجوان خاتون پولیس وین کے سامنے ڈٹ کر کھڑی ہو گئی۔ اسے یقین تھا کہ پولیس احتجاج کرنے والے پر گاڑی نہیں چڑھائے گی۔
لیکن ہمارے ہاں منظر مختلف رہا۔ ڈی چوک میں سینیٹر مشتاق احمد کی قیادت میں غزہ سے اظہارِ یکجہتی کے لیے ہونے والے پُرامن دھرنے کے دوران ایک گاڑی مظاہرین پر چڑھ گئی، جس کے نتیجے میں ایک شخص جاں بحق اور متعدد افراد زخمی ہوئے۔ اس واقعے پر ذمہ دار شخص کے خلاف اب تک کوئی کارروائی نہیں ہوئی
لطیف کھوسہ اور بیرسٹر گوہر نے عمران خان کی پیٹھ میں چھرا گھونپا ہے انہوں نے اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ مل کر 26 نومبر کے شہدا اور زخمیوں کے خون کو دھو کر صاف کر دیا ہے 18 سماعتیں ہوئیں ہر سماعت پر لطیف کھوسہ نے بہانہ بنایا اور کیس کو آگے نہیں بڑھنے دیا اب کیس کی سماعت تھی تو بتایا گیا کہ لطیف کھوسہ چھٹیاں منانے یورپ گئے ہوئے ہیں ۔
ڈاکٹر شہباز گل
ان لوگوں کو ابھی تک احساس نہیں ہوا کہ عوام اب اس ڈرامے کو مزید برداشت نہیں کرے گی۔ یہ کیوں سمجھتے ہیں کہ لوگ بے وقوف ہیں۔ ان سے مزید اچھے کی توقع مت رکھیں۔
عمران خان کی بہنوں کا بیان پی ٹی آئی کا موقف نہ سمجھا جائے، چیئرمین بیرسٹر گوہر
عمران خان کا صرف وہی پیغام صحیح سمجھا جاتا تھا جس کی تصدیق انکی بہنیں کریں۔ اگر بیرسٹر گوہر عمران خان سے منسوب کچھ کہتے تو کوئی انکا یقین نہیں کرتا تھا
تو آج بیرسٹر گوہر کے اس بیان کی کتنی اہمیت ہے؟
لونڈا لپاڑہ کو انٹرویو میں بلاول زرداری نے ساری دنیا کے سامنے بیٹھ کر پکے منہ کے ساتھ جھوٹ بولا لیکن لونڈا لپاڑہ نے آگے سے صحافتی اقدار کا مظاہرہ تک نہیں کیا بلاول نے جھوٹ بولا کہ پیپلز پارٹی کی تحریک انصاف سے زیادہ دھاندلی کی درخواستیں تھیں تو Actual حقائق یہ ہیں کہ تحریک انصاف نے 206 درخواستیں الیکشن کمیشن میں دیں جبکہ پیپلز پارٹی کی صرف 28 درخواستیں پڑی ہوئی ہیں ۔
ڈاکٹر شہباز گل
ٹرمپ باقی دنیا سے پیسے مانگ رہا ہے ہمارے والوں نے ٹرمپ کی بوٹ پالش کرکے ٹرمپ سے پیسے مانگ لئے ہیں
پھر یہ پیسہ اس جعلی سسٹم کو قائم رکھنے اور سسٹم میں موجود حرام خوروں کے پیٹ بھرنے کے لئے اور عیاشیوں پر اڑایا جائیگا
غریب عوام ساری زندگی یہ قرض بھرے گی