سب کو یہ نظر آ رہاہےوردی میں ملبوس آفیسر نے گولی چلائی بیشک یہ ہےتو غلط لیکن
یہ بھی تو دیکھیں وہ اپنی اہلیہ کو بدمعاش لڑکوں سے بچانےکی کوشش کر رہا ہے
اہلیہ کوبچاتےبچاتے بدمعاش لڑکے آفیسر پرکتوں کی طرح حملہ آور ہو گئے ہیں
غلطی دونوں طرف سے ہوئی ہےتو کارروائی بھی برابر ہونی چاہیے
صرف اس ایک شخص کو پکڑ لیں سارے واقعے کی الف سے یہ تک حقیقت سامنے آ جائے گی اسی کی وجہ سے بات کیپٹین کے گریبان تک پہنچی یہ پی ٹی آئی کا ورکر نہ نکلا تو کہنا
ایک لفنگا کرنل کے سر پر راڈ برسا رہا ہے۔ اصولا کرنل صاحب اس کے بھیجے میں بھی گولی اتار دیتے تو یہ جرم نہیں سیلف ڈیفنس تھا۔
سائیڈ ارم ہر آفیسر کو حفاظت کے لیے دیا جاتا ہے ڈیکوریشن کے لیے نہیں
یہ افغانی نمک حرام وردی پر ہاتھ ڈال رہے ہیں ؟ اور انہیں پھر سے لاڈ دیا جاتا ہے
یہ وردی ہمارے آبا و اجداد کی امانت ہے اس کی توہین کسی بھی حال میں برداشت نہیں ان نمک حراموں کو گھسیٹیں ماریں کوئی رحم نا کریں
میں اس افسر کی جگہ پر ہوتا تو میں بھی یہی کرتا۔۔ میں 100 فیصد اس کے ساتھ کھڑا ہوں۔
کسی بے غیرت کو اجازت نہیں ہے کہ پاک فوج کے اور افواج کے افسروں کی وردی پر ہاتھ ڈالے۔۔
افسر پر حملہ کرنا شدید جرم ہے پاکستان کے قانون میں۔۔ اپنے دفاع میں ہوائی فائر کرنا کوئی جرم نہیں ہے۔ پاکستان کا قانون حق دیتا ہے ایک فوجی افسر یا پولیس افسر کو کہ اپنے دفاع میں ہوائی فائر کر سکے۔ اور اگر جان کا خطرہ محسوس کرتا ہے تو حملہ اور کو قتل بھی کر سکتا ہے۔ یہ حق ہر شہری کو ہے۔ اور یہاں پر یہ پی ٹی ائی کے کتے جان بوجھ کر اس کا مذاق بنانے کے لیے اس کی وردی پھاڑنا چاہتے تھے۔
کسی پی ٹی ائی کے کتے کو اجازت نہیں ہے کہ پاک فوج کے افسروں کو پتھر مارے یا ان کے گریبان پر ہاتھ ڈالے۔۔۔
فوج کو کسی صورت میں اس افسر کے خلاف کاروائی نہیں کرنی چاہیے۔۔ بلکہ ان پی ٹی ائی کے کتوں کو عبرت کا نشان بنائیں۔۔
اگر ایران بدترین معاشی حالت کے باوجود امریکہ سے ٹکر لے سکتا ہے تو 5 اگست 2019 کو پاکستان بھی کشمیر کے لئے بھارت کے سامنے آ سکتا تھا
لیکن اس وقت ایک ایسا بزدل حکمران تھا جس نے پارلیمنٹ میں بولا کہ کیا کروں، حملہ کردوں؟
تاریخ گواہ ہے کہ غداری کرنے والا 5 اگست کو ہی قید ہوا
اب سمجھ آیا کہ یہ عاشق فردوسی جیسے برطانوی کن کترے بار بار یہ نعرے کیوں مار رہے ہیں کہ
کشمیر بنے گا امریکہ
جنرل حمید گل نے یہ بات 15 سال پہلے بولی تھی، آج جب آپ غور کریں گے تو پوری کہانی سمجھ آ جائے گی۔
بلوچستان اور کشمیر میں سارا فتنہ ایران صلح کے بعد شروع ہوا۔
اس سال فروری میں ،سہیل آفریدی کے قافلے میں ایک گاڑی سے پولیس نے لاہور میں چرس برآمد کی تھی، لیکن ابھی تک سہیل آفریدی کھلے عام باہر پھر رہا ہے ۔
کیا قانون امیر کے لئے اور ہے ، اور غریب کے لئے کچھ اور ‼️
بلاول بھٹو زرداری کو یہ بات کرنے سے پہلے آصف زرداری سے صدر کا استعفی لینا چاہئے مگر یہ کبھی ایسا نہیں کرے گا کیونکہ اس طرح اس کے والد کی امیونٹی یعنی ریاستی تحفظ ختم ہو جائے گا اور ان پر کیس پھر کھل جائیں گے۔ یہ جب سے لندن سے پاکستان سیاست کے لئے آیا ہے، صرف نورا کشتی کر رہا ہے۔