بالکل اسی طرح جیسے انہوں نے غزہ میں کیا ایران اسرائیل میں شہری عمارتوں پر مسلسل شدید حملے کر رہا ہے!
آنکھ کے بدلے آنکھ ! 🚀💥
اہل ایمان کا لوہا صیہونیوں پر اپنا قہر برسائے تو دل سے اللہ کی فوج کے لیے دعا کیا کریں 🤲
20 ماہ کے دور صدارت میں ٹرمپ نے یمن، ایران، سیریا، وینزویلا، عراق، صومالیہ اور نائیجریا پر براہ راست حملے کیے۔ جبکہ لبنان اور غزہ میں جارحیت کی کھلم کھلا پشت پناہی کی لیکن شہباز شریف کا اصرار ہے کہ اس شخص کو نوبل پیس پرائز دیا جائے؟ شرم کا مقام ہے۔
11 اکتوبر کو پورا پاکستان صوابی پہنچے ۔وہا۔ 13 اکتوبر کو اگلا پلان دوں گا: سہیل آفریدی
مگر اس دوران آپ نے خیبرپختونخواہ میں انتظامی گرفت مضبوط نہ کی تو پانی پلوں کے نیچے سے گزر چکا ہو گا۔ پھر آپ احتجاج کی بجائے عدالتوں کا رخ کریں گے اور سارا مومینٹم بیٹھ جائیگا ۔ آپ کے بہت سے سینیئر اور ساتھی بغلوں میں بت لئے بیٹھے ہیں
#اب_راج_کرےگی_خلق_خدا
مرشد! مزید یہ کہ 4 سالہ ناکام تجربے نے ثابت کر دیا ہے کہ بندوق کی نوک پر اشرافیہ کا مسلط کردہ یہ غاصب ٹولہ ہمارے ملک کو خدا نخواستہ برباد کرنے کے درپے ہے۔ ان حالات میں واحد لیڈر جو پاکستان کی یکجہتی، سلامتی، استحکام اور خوشحالی کا ضامن ہے، وہ عمران خان ہے۔ وہ زنداں میں بھی آزاد ہے اور ہم سب کھلی فضا میں بھی غلام! ہر قسم کا ذاتی عناد اور بے اتفاقی چھوڑ کر متحد ہو جائیں۔ مطالبہ پہلے بھی یہی تھا اور آج بھی یہی ہے: صرف دوائی اور رسائی نہیں، فی الفور اور غیر مشروط رہائی۔
آئیں اپنے ملک اور اپنے لیڈر کے لیے ایک ہو جائیں،
عمران خان کی حکومت گرا کر، تین سال عمران خان کو بدترین قید میں ڈال کر پاکستان کے چپے چپے میں جو آگ لگا دی گئی ہے،
#اب_راج_کرےگی_خلق_خدا
7. وہ چاہتے ہیں کہ عمران خان معافی مانگے تاکہ ان کی عزت رہ جائے، مگر Khan صاحب نے تو ہمیشہ کہا: "میں کسی کے سامنے جھکا ہوں اور نہ ہی کبھی پاکستانیوں کا سر جھکنے دوں گا۔" یہ وہ عہد ہے جس پر وہ زندگی موت کی بازی کھیل گیا۔ معافی نہیں، معافیاں مانگ کر ہی یہ ملک آگے بڑھے گا، اور وہ سب مانگیں گے۔
#اب_راج_کرےگی_خلق_خدا
کپتان! شرم آتی ہے ہم اس مردہ قوم کے ساتھ جی رہے ہیں اور نہیں جانتے کہ وہ عظیم انسان کہاں ہے، زندہ ہے تو فرعون نے کہاں رکھا ہے۔ کوئی مانے یا نہ مانے مگر یہ حقیقت ہے کہ جو بھی پی ٹی آئی کا لیڈرشپ، ایم این اے، ایم پی اے، سینیٹرز، باہر آرام سے گھوم پھر رہا ہے، مزے میں جی رہا ہے، وہ سو فیصد کمپرومائیز ہے، اس کو خان سے کوئی دلچسپی نہیں ہے کیونکہ ڈر، خوف سے ان کی حالت خراب ہے۔ اگر وہ خان کے لیے باہر نکلے تو پولیس یا فوج کوئی بھی کیس بنا کر ان پر ڈال دے گی اور وہ جیل میں سڑتے رہیں گے۔ اس لیے کمپرومائیز میں ہی بہتری ہے، اپنی جان بچی رہے، بس یہی سوچ کر وہ خان کا نام لینا بھی پسند نہیں کرتے مگر سیٹ کا بہت شوق تھا۔
مجھے منسٹر بننا ہے، مجھے سینیٹر بننا ہے، مجھے اسپیکر بننا ہے، وغیرہ وغیرہ،
اب صرف خان کی بہنیں اور خان سے محبت کرنے والے لوگ خان کے لیے نکلتے ہیں، بولتے ہیں،
ورنہ اسمبلی کے اندر بھی یہ بکے ہوئے لوگ خان کا نام بھی نہیں لیتے، چیئرمین پی ٹی آئی کہہ کر بلاتے ہیں،
لعنت ہے تم جیسے مفادپرست اور منافق لوگوں پر،
ناتمام
ہارون الرشید
دل لہو سے بھر جائے گا
اس شہسوار عمران خاں کے کتنے ہی واقعات یادداشت میں امڈ پڑے ہیں ۔لکھ نہیں سکتا کہ دل لہو سے بھر جائے گا ، میرا بھی ، آپ کا بھی۔
برادرم صدیق جان حیران ہیں : تین بار کے وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کو کیا سوجھی کہ پتنگ کی ڈوریں جانچتے پائے گئے۔ تہوار فروری میں ہوتا ہے۔ ایسی بے تابی پہ تعجب فطری ہے۔ صدیوں سے پنجاب میں یہ تہوار منیا جاتا رہا۔پتنگ بازی کی بجائے بتدریج آوارگی کا مظہر ہو گیا توپابندی لگا دی گئی، اس لئے نہیں کہ انسانی خون ارزاں ہو گیا بلکہ خوف فساد خلق سے۔
ایک بہت نیک نام افسر کے صاحب زادے کی گردن2008 میں دھاتی تار سے کٹ گئی۔ ذاتی دوست بھی تھے۔ ان کے دوسرے فرزند اور اہلیہ امریکہ میں مقیم تھے۔ زرداری صاحب سے رابطہ کیا۔ گزارش کی ک یہ افسر سبکدوش ہونے والے ہیں۔ گزارش کی کہ غم زدہ باپ کی ملازمت میں توسیع کر دی جائے، ورنہ وہ Depression کا شکار ہو جائے گا۔ نون لیگ کے وزرا ان دنوں کابینہ میں شامل تھے۔زرداری صاحب نے کہا: متعلقہ وزیر چوہدری نثار علی خان ہیں۔ وہ برا مانیں گے۔ عرض کیا: ان سے انشاءاللہ میں بات کر لوں گا۔ مہینوں پہ ملنے گزرتے گئے مگر فائل میز پہ دھری رہی دل زدہ۔ مرد نجیب نے امریکہ کی راہ لی۔ پھر صدر صاحب کے ایک رفیق کارکو کہتے سنا: کوئی ناجائز کام کہا ہوتا۔ جائز اور طیب معاملات سے انہیں کیا دلچسپی؟
یہ دردناک واقعہ صدیق جان کے تبصرے سے یاد آیا۔
میاں محمد نواز شریف کی حرکت پہ انہیں تعجب کیوں ہے؟ اطلاعا عرض ہے کہ" قائداعظم ثانی" کو ایسی ہی چیزوں سے شغف ہے۔ ٹی وی کے مزاحیہ پروگرام آپ پابندی سے دیکھتے ہیں،جن میں اداکار ہمہ وقت ایک دوسرے کی تحقیر کے درپے رہتے ہیں۔ مزاح کا عنصر جن میں برائے نام ہوتا ہے۔وزیراعظم تھے تو اردو میں ڈاھلے گئےترک ڈرامے بھی دیکھا کرتے۔کام کاج کے لئے پرنسپل سیکرٹری کے علاوہ اسحاق ڈار صاحب کو رکھ چھوڑا تھا۔
انہی دنوں صدر طیب اردگان پاکستان کے دورے پہ ائے۔ ترک تاریخ کے جلیل القدرحکمران سلیمان ذی شان کی زندگی پہ بنایا گیا ڈرامہ" سلطان" تب پی ٹی وی سےدکھایا جا رہا تھا۔ میاں صاحب نے برصغیر کی تاریخ پر کوئی کوئی کتاب نہیں پڑھی ہو گی۔ سلطنت عثمانیہ سے کیا دلچسپی ہوتی۔انہیں کیا خبر کہ یورپ کو روند ڈالنے والا سلیمان ذی شان کون تھا۔ ڈرامے میں ان کا کردار مسخ کر ڈالا ہے۔ صدر طیب اردوان کو نہایت مسرت سے انہوں نے اطلاع دی کہ ذوق وثوق سے وہ اس ڈرامے کی ہر قسط دیکھتے ہیں اپنی قومی تاریخ کے باب میں حد درجہ حساس حکمران کو شدید صدمہ پہنچا۔ بے ساختہ اس نے کہا "Rubbish " خرافات !
نواز شریف صاحب جوڑ توڑ کے ادمی ہیں اور زر اندوزی کے ۔ زندگی کو پکنک منانے کی مہلت سمجھتے ہیں۔کتنے ہی واقعات حافظے کی لوح پر ابھر آئے ہیں۔ تفصیل سے عرض کرسکوں تو ایک کتاب ہو جائے۔ آنجناب سے صدر غلام اسحاق خان کی بے زاری کا آغاز بھی ایسے ہی ایک واقعے سے ہوا تھا۔ آدمی خطا و نسیان سے بنا ہے۔ عمران خاں بھی فرشتہ نہیں ۔ ایسا تو نہیں ، جیسا کہ اپنے سحر زردہ مداحین کے اذہان میں جگمگاتا ہے۔
وہ مگر مختلف ہے۔ اس کےکارنامے بھی ہیں۔ ذہنی طور شکست خوردہ ٹیم کی قیادت کرتے ہوئے ورلڈ کپ کا فاتح ہی نہیں۔ شاید تاریخ میں اس کا ذکر شوکت خان کینسر ہسپتال کی تعمیر کے تذکرے سے آغاز ہو گا۔ اس سے بھی زیادہ وہ دلاوری، جس نے ہمیشہ کے لئے اسے اساطیری کرداروں کی صف میں شامل کر دیا ہے۔ وہ نقش جو کبھی نہ مٹ سکے گا۔کچھ چیزیں تاریخ کے دوام میں زندہ رہتی ہیں۔ کوہ نور ہیرے سمیت ان گنت جواہر سے سجے تخت طاؤس پر تاج محل سے چار گنا لاگت آئی تھی۔ وہ تاریخ کا رزق ہو گیا۔ تاج محل استوار ہے اور ایسا لگتا ہے کہ روز قیامت تک استوار رہے گا۔ فقط شاہ جہاں نہیں، شہر لاہور کے Arcitact اور ان شاہ دماغوں اور ریاض کیشوں کے طفیل بھی جو پتھروں سے شاعری کر گزرے۔ یہ فن صدیوں میں پروان چڑھا۔ کتنی بے شمار زندگیوں کا گداز کھپا کہ پتھر بولنے لگے۔
عمران خاں بھی بسنت کی تقریب میں شریک ہوا کرتے تھے۔لاہور کی سب سے بڑی تقریب میں۔ لگ بھگ بیس برس ہوتے ہیں، ہم اس کے نو تعمیر مکان کے وسیع و عریض صحن میں ٹہل رہے تھے۔ کسی تمہید کے بغیر عرض کیا: خان صاحب! آئندہ کواس سے گریز کیجیے گا۔ جیسا کہ اس کی عادت ہے۔ تن کر کہا: میں ضرور جاؤں گا۔ میرے دوست نےمدعو کیا ہے اور میں وعدہ کرچک ہوں۔
" آپ نہیں جا سکتے۔ اللہ کے آخری رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا فرمان ہے کہ تہمت والی جگہوں پر جانے گریز کرو۔خان نے چپ سادھ لی لیکن میں جانتا تھا کہ اب وہ لاہور کا رخ نہیں کرے گا۔
کال کوٹھڑی میں پڑے شہسوار کے کتنے ہی واقعات یاد آنے لگے ہیں۔ لکھ نہیں سکتا کہ دل لہو سے بھر جائے گا۔ میرا بھی،آپ کا بھی۔
ٹرمپ کہہ رہا ہے اسلام کی وجہ سے دنیا بھر میں فساد ہورہا ہے فرانس میں مظاہرے سکولوں کی وجہ سے نہیں ہیں اسلام دنیا پر قبضہ کرنا چاہتا ہے۔
شہباز شریف کہہ رہا تم دیوتا ہو، تم امن کے داعی ہو، تم نے جنگیں بند کرواہیں ہیں مائی باپ۔😂😂
دس سال قید سزا سنائے جانے والی فردوس رائے صاحبہ جو کہ 13 مہینے سے جیل میں قید ہیں، انکی تصویر ار انکا ذکر خواتین اسیران کے اکثر پوسٹر پر نہیں ہوتا، انکی تکلیف اور قید کا ذکر مت بھولیے۔
#JusticeForFirdosRai
میاں بیوی کی برہنہ ویڈیو بیٹی کو بھیجنے والے ، ججز کے بیڈ رومز میں کیمرے لگانے والے ، بیٹی کو باپ کے سامنے برہنہ کرکے سیاسی جماعت چھڑانے والے مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کے محافظ ہیں؟ استغفراللہ۔ استغفراللہ۔
جس وقت افغانستان میں جہاد کے نام پر پاکستان کو دھکیلنا تھا تو علماء اس کے حق میں فتوے دے رہے تھے اور کچے مذہبی ذہنوں کو یہ اسلام کی جنگ لگ رہی تھی۔جس وقت علماء دہشتگردی کے خلاف جنگ کو مقدس فریضہ قرار دے رہے تھے اس وقت بھی کچے ذہن اسکے ساتھ کھڑے ہوگئے۔ اب پاک فوج ایک بار پھر اپنی ڈالری جنگ کو کسی مقدس مشن سے جوڑ کر کچے ذہن خراب کررہی ہے۔
ابھی کچھ مہینے پہلے جب پاک فوج کے افسر جگہ جگہ بیانیے بنانے جارہے تھے تو ایک یونیورسٹی میں ایک میجر جنرل نے کشمیر کے موضوع پر فرمایا کہ کشمیریوں کو اپنی جنگ خود لڑنی ہے ہم ان کے لیے دعا کرسکتے ہیں۔ یہ اتنی بڑی فوج ، اتنا بجٹ ، کشمیر اور انڈیا کے لیے تھا۔ یہ فوج کشمیر کا ایک انچ نہیں لے پائی اور بھارت سندھ طاس معاہدہ معطل کرکے بچے کھچے دریاؤں پر بھی آبی پراجیکٹس بنائے جارہا ہے۔ ایک لاکھ کشمیری انہیں پکارتے پکارتے شہید ہوگئے یہ ادھر کا منہ نہ کرسکے۔
یہ جنگ اگر اس قدر مقدس تھی تو کٹھ پتلی پارلیمنٹ میں ہی اس کا معاہدہ پیش کردیا جاتا۔ کیوں اسے چوری کے مال کی طرح چھپایا جارہا ہے؟ مذہب جذبات کے نام پر بہت الو بن لیے اور بہت نقصان کروا لیا۔ ایران کی جنگ ، سعودی عرب کی جنگ یا امریکہ کی جنگ پاکستان کی جنگ نہیں ہے۔ وہ فوج جو آئین ، جمہوریت اور عوام کے ساتھ مخلص نہیں وہ پھر اسلام کے ساتھ بھی مخلص نہیں۔ یہ جنگ ہماری جنگ نہیں۔
خود کو اللہ کی فوج کا سربراہ کہنے والے نے ناحق قید میں ، ملک کے ہیرو اور سابق وزیراعظم عمران خان سے تمام سہولیات چھین کر، ملاقاتوں پر پابندی لگا کر اور ان کے ساتھ جیل میں ہر طرح کا غیر انسانی سلوک کرنے کے بعد، ان کی عید کی نماز اور اور جمعہ کی نمازوں پر بھی پابندی لگا رکھی ہے۔۔!!
#عوامی_مزاحمت_کی_للکار
اللہ سے بس ایک ہی دعا ہے کہ میری زندگی ختم کر دے۔غریبوں کے لیے جینا مشکل ہو گیا ہے۔
دیکھیے 12 ارب کا جہاز کے کر سیر سپاٹے کرنے والی وزیراعلی کے لاہور میں خلق خدا کی حالت۔
شوباز شریف نے ایک سال میں 28 بین الاقوامی دورے کیے اور الحمدللہ ایک ٹکے کی انوسٹمنٹ لانے میں ناکام رہے
پنجاب میں غربت 41 فیصد بڑھ گئی ہے پورے ملک میں 32 فیصد ہے اور پنجاب بیروزگاری اور غربت میں لمبرون ہے 90 لاکھ میں سے 65 لاکھ چائلڈ لیبر پنجاب میں ہے پینے کا صاف پانی نہیں بچے سکول نہیں جا رہے پٹرول ڈلوانے کے پیسے نہیں ہیں اور مریم نواز 12 ارب کا جہاز لیکر ذاتی دورے کر رہی ہے اور ڈھٹائی سے کہتی ہے کہ ہاں لیا ہے جہاز اور پھر لوگ کیوں ٹیکس دینگے؟ جب انکا پیسہ عیاشیوں میں اڑایا جائے۔
اپوزیشن ختم عدلیہ ختم میڈیا ختم اتنے جبر کے باوجود حکومت فیل ہوگئی ہے
نہریں بننی تھی وہ پراجیکٹ فیل۔ مائننگ میں انوسٹمنٹ آنی تھی اب ریکوڈک سینڈک کا منصوبہ فیل۔ صوبے بنانے کا پراجیکٹ بھی فیل ۔ 100 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری فیل۔
یوتھیو ! میں ہر طرح کے حالات کا موازنہ ان خاموش شاموں سے کرتا ہوں جب زمان پارک کے باہر ایک رجسٹر رکھا ہوتا تھا۔ آنے جانے والوں کا ایک سپاہی اندراج کرتا تھا۔ لوگ پارٹی چھوڑ رہے تھے۔ سوشل میڈیا پر سب کو سانپ سونگھا ہوا تھا۔ جیسے سانپ اپنے شکار کے گرد خود کو لپیٹ کر کس لے۔ جیسے کوئی کمزور جانور مگرمچھ کے جبڑوں میں پھنس جائے۔
اگر آپ کو پڑھنا آتے ہوں تو یہ لائکس ، شئیرز اور ریچ جھوٹ نہیں بولتے۔ یہ رحجان بتاتے ہیں۔ سوشل میڈیا یوزرز کا سیمپل سائز ملک میں رجسٹرڈ ووٹرز کی تعداد سے زیادہ ہے۔ یعنی ممکن ہے ووٹنگ ٹرن آوٹ اکثریتی آبادی کی رائے کا عکاس نہ ہو۔ ممکن ہے۔ لیکن سوشل میڈیا کے اعداد و شمار اکثریتی رائے کی عکاسی نہ کریں ناممکن ہے۔
چند لوگ بچے تھے اور بھی ڈرے ڈرے سہمے سہمے۔ اب ہزاروں لوگ ہیں جو دن رات ایک کیے ہوئے ہیں۔ ہر طرح کی دھمکیوں کی پرواہ کیے بغیر۔ بہت سارے نقصانات اٹھائے ہوئے۔ نفرت کی انتہاء کو پہنچے ہوئے اور آگ اگلتے ہوئے۔ اگر ہم اس خاموشی سے نکل آئے ہیں تو اب تو ہم طاقتور ہی بہت ہوچکے۔ دشمن کے چہرے پر ناکامیاں ہی بہت ملی جاچکیں ، جگہ جگہ پھنس چکے۔
ہم درست سمت میں بڑھ رہے ہیں اور دشمن غلط سمت میں۔ ہماری جو کمزوریاں تھیں وہ ختم ہوتی جارہی ہیں اور دوسری طرف مشکلات بڑھتی چلی جارہی ہیں۔ وہ واپس نہیں مڑ رہے اور ہمارے قدم رک نہیں رہے۔ انکے آگے تباہی ہے اور ہمارے آگے کامیابی۔ ڈٹے رہے ، پر امید رہو اور چڑھ کے رہو۔ یہ جیت نہیں سکتے ہم ہار نہیں سکتے۔
#عوامی_مزاحمت_کی_للکار
عمران خان! تیرے گھر کی ہر آہ، تاریخ کے سینے پر لکھی جائے گی،
تیرے اپنوں کی ہر قربانی، اس مٹی کی قسم بن جائے گی!
ایک طرف اڈیالہ کی دیواریں، دوسری طرف وفا کے وہ چراغ،
بیوی زنداں میں، بہنیں پابندِ سلاسل، بھانجے بھی قید کی راہوں میں—
مگر اس خاندان کے عزم کو نہ توڑ سکا کوئی ظلم،
نہ بجھا سکا کوئی خوف، نہ جھکا سکی کوئی طاقت!
یہ کیسا خاندان ہے، جو درد پی کر بھی مسکراتا ہے،
جو اپنے پیاروں کی جدائی میں بھی وطن کا قرض نبھاتا ہے!
جن کی آنکھوں میں اپنوں کی یاد،
جن کے سینوں میں بچھڑنے کا غم،
مگر لبوں پر آج بھی عمران خان، پاکستان اور آزادی کا عہد!
یہ شوکت خانم کا وہ لہو ہے،
جس کے ڈی این اے میں خوف نہیں، وفا ہے!
یہ وہ لوگ ہیں جن کے حصے میں خوشیاں کم، آزمائشیں زیادہ آئیں،
جن کے دروازوں پر جدائی اتری،
جن کے آنگنوں میں انتظار نے ڈیرے ڈالے،
مگر جنہوں نے اصولوں کی قیمت پر کبھی سر نہیں جھکائے!
اے تاریخ! اپنے اوراق سنبھال کر رکھنا،
یہ صرف ایک خاندان کی کہانی نہیں،
یہ وفا کے لہو سے لکھی جانے والی وہ داستان ہے
جس کے ہر حرف میں ایک ماں کی دعا،
ایک بہن کا آنسو، ایک بیوی کی تنہائی،
اور ایک قوم کے ادھورے خواب دفن ہیں!
قربانی دینے والو! تمہارا درد رائیگاں نہیں جائے گا،
تمہاری وفا کا سورج کسی زنداں میں غروب نہیں ہوگا!
ظلم تمہارے حوصلے کو شکست نہیں دے سکتا،
آمریت تمہارے ضمیر کو قید نہیں کر سکتی!
مگر اے وطن! ذرا یہ تو بتا—
جس خاندان نے تیرے لیے اپنے گھر کی ہر خوشی قربان کر دی،
کیا اس خاندان کے حصے میں کبھی آزادی کی صبح بھی آئے گی؟
یا اس کے پیاروں کی واپسی کا انتظار کرتے کرتے
ہماری آنکھوں کے خواب بھی قید ہو جائیں گے؟
سرکاری علاج کی صورت حال ہم سے بہتر کون جانتا ہے۔20 جون کو میری گرفتاری کے وقت مجھے ایک گھٹنے میں آرتھرائٹس ڈائیگنوز اور ساتھ گردن اور کمر میں شدید مستقل درد پر ایم آر آئی کا کہا گیا۔حوالات میں ایک روز درد ناقابل برداشت ہوا تو پولیس مجھے شہر کے ایک میڈیکل سپیشلسٹ کے پاس لے گئی۔جناب نے مجھے پین کلرز پکڑا دیں جنہوں نے الٹا میرے معدے کے پرانے مسائل کو شدید کر دیا۔75 دن میں نے اتنی تکلیف میں گزارے کہ بعض اوقات رات بھر بیس لوگوں سے بھری چھوٹی سی حوالات کی سلاخیں پکڑ کر کھڑا رہتا۔سنتری پوچھتا تو میں بس اتنا کہتا کہ نیند نہیں آ رہی کیوں کہ اول مجھے ہسپتال لے جانے کی اجازت نہ تھی دوسرا ماشا اللہ میرے سارے شہر میں کوئی ایک بھی سرکاری یا پرائویٹ ایم آر آئی مشین نہیں تھی اور ڈاکٹر کے پاس لے بھی جاتے تو اس نے سخت قسم کی پین کلر دے دینی تھی۔قید کے آخری دس روز صورت حال اتنی خراب ہوئی کہ میں نے بھوک ہڑتال کر دی اور جب میں نیم جاں ہوا تو مجھے بے ہوشی کی حالت میں ہسپتال داخل کروایا گیا اور وہاں بھی ڈاکٹرز کے پاس بس ڈرپیں یا پین کلرز تھے جو میری حالت مزید تباہ کر دیتے تھے۔دس روز ہسپتال کے بستر پر تڑپنے کے بعد فیصلہ سازوں کو رحم آیا اور مجھے رہا کر دیا گیا تا کہ پنڈی اسلام آباد آ کر ایم آر آئی کروا سکوں۔اور جب یہاں پہنچا تو تعلقات اور سفارش کے باوجود علم ہوا کہ ایم آر آئی کی تو کم سے کم بھی تین ماہ کی تاریخ ملے گی۔کشمیر میں ایم آر آئی مشین نہیں تھی اور پنجاب میں بوجھ اتنا تھا کہ نمبر آنے تک دم نکلنے کا خدشہ تھا۔
استقامت میں عمران خان تمھیں شکست دے چکا ہے۔
ہمت و مردانگی مین عمران خان تمھیں ہرا چکا ہے
انتخابی سیاست میں عمران خان تمھیں پچھاڑ چکا ہے۔
عوامی مقبولیت میں عمران خان تم سے اتنا آگے ہے کہ دہائیوں تک بھی تم فاصلے کو ختم نہیں کر سکو گے۔
تمھارے پاس صرف طاقت ہے جو سدا کسی کے پاس نہیں رہتی۔
جب تم طاقت سے محروم ہو جائے گے تو تمھاری پوجا کرنے والے بھی تمھارا ذکر ویسے کریں گے جیسے وہ ان سابقہ ذندہ و مردہ طاقتوروں کا کرتے ہیں جن کی پوجا وہ پہلے کرتے رہے۔
انہوں نے فیصلہ کیا کہ حضرت یوسف کو قتل کر دیں لیکن وہ زندہ بچ گے
پھر فیصلہ کیا کہ انہیں بیچ دیں تاکہ وہ غلام بن جائیں لیکن وہ بادشاہ بن گے
یقین رکھیں جس مالک نے آپ کی تقدیر لکھی ہے وہ لوگوں کی چالوں کو پلٹ دینے پر قادر ہے
بس یقین اور ہمت رکھیں تاریکی کو چیر کر صبح نمودار ہونے کو ہے
#عوامی_مزاحمت_کی_للکار
عمران خان نے پکارا تھا—
یہ جنگ صرف میری نہیں،
یہ اُس کسان کے آنسوؤں کی جنگ ہے
جس کی فصل تو ہے، مگر اختیار نہیں؛
یہ اُس مزدور کے لہو کی جنگ ہے
جس کے ہاتھ محنت سے زخمی ہیں، مگر چولہا سرد ہے؛
یہ اُس تاجر کی آہ ہے،
اُس وکیل کی للکار ہے،
اُس ڈاکٹر کی بے بسی ہے،
اُس استاد کا درد ہے،
اُس طالب علم کا چھینا ہوا خواب ہے۔
یہ اُس ماں کی تحریک ہے
جو ہر رات اپنے بیٹے کی سلامتی کی دعا کرتی ہے،
یہ اُس بہن کی تحریک ہے
جس کی آنکھیں اپنوں کی جدائی میں پتھر ہو چکی ہیں۔
یہ اُن سب دلوں کی آواز ہے
جو ظلم سہتے سہتے اندر سے ٹوٹ گئے،
مگر آزادی کا خواب مرنے نہیں دیا۔
یہ تحریک عمران خان کی ذات سے کہیں بڑی ہے—
یہ پاکستان کے زخمی دل کی دھڑکن ہے۔
اب ہر گلی سے ایک ہی صدا اٹھے گی،
ہر آنکھ سے ایک ہی سوال برسے گا،
ہر سینے سے ایک ہی عہد نکلے گا:
آزادی… آزادی… آزادی!
یہ صرف نعرہ نہیں،
یہ اُن آنسوؤں کا حساب ہے
جو برسوں سے خاموشی میں بہتے رہے۔
اب خاموشی بھی روئے گی،
ظلم بھی کانپے گا،
اور عوام کی آواز
دیواروں سے ٹکرا کر واپس نہیں آئے گی—
یہ آواز عروج تک جائے گی۔
کیونکہ جب ایک قوم کے زخم چیخ بن جائیں،
تو پھر تخت نہیں بچتے—
صرف تاریخ رہ جاتی ہے،
اور تاریخ لکھے گی:
یہ قوم جھکی نہیں تھی…
یہ قوم ٹوٹی نہیں تھی…
یہ قوم آزادی کے لیے آخری سانس تک کھڑی تھی۔