اسلام آباد سے انسانی حقوق کے لیے آواز بلند کرنے والے نوجوان سلیمان سہیل کئی روز سے لاپتہ ہیں۔ عوام کے بنیادی حقوق کی بات کرنے والی آوازوں کو خاموش کرانے کا سلسلہ ایک بار پھر تشویش ناک صورت اختیار کر رہا ہے۔ سلیمان سہیل کے لیے آواز اٹھائیے اور ان کی بحفاظت واپسی کا مطالبہ کیجیے۔
#FreeSulaimanSohail
#فیصلہ_اب_سڑکوں_پر_ہوگا
آج سے تین دن پہلے مجھے اس بچے کا نام بھی معلوم نہیں تھا۔ میں نے پہلی بار سلیمان سہیل نامی اس بچے کا نام تب سنا جب سوشل میڈیا پر یہ خبر چلنے لگی کہ یہ بچہ غائب کر دیا گیا ہے۔ اور اس کا اکاؤنٹ بھی شاید خاموش کر دیا گیا ہے۔ تب جا کر میں نے پہلی بار اس کی وڈیوز دیکھیں ۔ ایک ٹین ایجر یا زیادہ زیادہ سے زیادہ بیس سال کا بچہ، اپنی عمر کے مخصوص جوش و خروش سے بولتا ہوا، جبر، زیادتی اور اپنے حقوق چھینے جانے پر اپنے ایک چھوٹے سے اکاؤنٹ کے ذریعے آواز بلند کرتا ہوا نوجوان۔ مجھے اب بھی اس کے بارے میں معلوم نہیں۔ اس کے بیگ گروانڈ، اس کے شہر، اس کی تعلیم کے بارے میں کوئی خبر نہیں۔
اس کے کنٹینٹ میں کوئی غیر معمولی بات نہیں تھی۔ وہ کچھ نیا نہیں کہہ رہا تھا۔ وہ بس میرے آپ کے مسائل پر بات کر رہا تھا اور اپنی عمر کے نوجوانوں کو اپنی حق تلفی پر آواز بلند کرنے کا کہہ رہا تھا۔
یہ لڑکا، یہ معصوم سا بچہ آج کے دور میں آپ کو عجیب لگ رہا ہو گا۔ ہمارے دور میں اکثر نہ سہی بہت سے نوجوان ایسے ہوتے تھے۔ اپنے آس پاس ہونے والے ظلم و زیادتی پر بات کرنے والے۔نوجوانوں کو جہدوجہد پر اکسانے والے۔ یونین کے جلسوں اور سیاسی سرگرمیوں میں اپنی تقریروں سے آگ لگانے والے۔ سوال اٹھانے والے۔ سوال اٹھانے پر اکسانے والے۔
پھر دور بدلتے گئے۔ آواز اٹھانا جرم بنتا گیا اور سوال کرنا گناہ۔ وہ باتیں جن پر اہل اقتدار جزبز ہونے کے باوجود خاموش رہتے اور بزرگ جن کو سن کر حوصلہ افزائی کی تھپکی دیتے تھے، غداری سمجھیں جانے لگیں۔ نوجوان خاموش ہوتے گئے یا کر دیئے گئے۔ یونیورسٹیاں اور کالج تعلیم یافتہ افراد نہیں بلکہ زومیز پیدا کرنے لگیں اور یہی ہمارے اصل اور حقیقی اہل اقتدار چاہتے تھے۔ تعلیمی اداروں میں مباحثوں اور مکالموں کی بجائے نیشا پومی کی صدائیں گونجنے لگیں اور ہمارے آقاؤں نے سکھ کا سانس لیا۔
ایسے میں جب پھر سے ایک بچہ وہ کرنے لگا ہے جو اس عمر کے پر نوجوان کو کرنا چاہیئے یعنی سوال اٹھانا، اپنا حق مانگنا اور ظلم کی نشاندھی کرنا تو شاید ارباب حل و عقد کو ناگوار گزرا ہے۔ انہیں شاید یہ لگا ہے کہ یہ مرض دوسرے نوجوانوں میں نہ پھیل جائے تو اس نوجوان کی آواز کو یا تو بند کر دیا گیا یا خاموش۔
خدارا اس ملک پر اور اس کے نوجوانوں پر رحم کرو۔ یہ نوجوان کچھ ایسا نہیں کر رہا تھا کہ جس کی بنیاد پر اس کے خاندان کو اتنی بڑی ذہنی اذیت سے دوچار کر دیا جائے کہ آج انہیں معلوم بھی نہیں کہ ان کا یہ لخت جگر کہاں ہے۔ نوجوانوں کو نوجوان رہنے دو۔ انہیں زومبیز بنانے کا سلسلہ ختم کرو۔ جو بچہ بچپن میں شرارتیں نہ کر سکے ہم کہتے ہیں اس کا بچپن اس سے چھین لیا گیا ہے۔ اسی طرح جو نوجوان جوانی میں تبدیلی کا جذبہ نہ رکھتا ہو جو سوال نہ کرتا ہو وہ جوان ہوا ہی کہاں۔ وہ بچپن سے سیدھا بڑھاپے میں داخل ہو گیا۔
نوجوانوں سے ان کی جوانی ان کا جذبہ مت چھینو۔ ان کو سوال کر لینے دو۔ ان کو نظام پر تنقید کر لینے دو۔ کچھ نہیں بگڑے گا۔ کوئی قیامت نہیں آئے گی۔ کوئی آسمان نہیں ٹوٹ پڑے گا۔ صرف وہ بہتر انسان بنیں گے۔ اسی طرح وہ تعلیم کی اصل روح سے آگاہ ہوں گے۔ اس ملک کے ہر سلیمان سہیل کو بولنے دو۔ اس کو سوال پوچھنے دو۔ اس سے اس کی جوانی مت چھینو اس سے اس کے خواب مت چھینو۔ اس ملک کے ہر سلیمان کے والدین کو اس خوف سے آزاد کرو کہ اس کے بچے نے اگر تعلیم کا اصل مقصد جان لیا تو وہ اس سے بچھڑ جائیں گے۔ ورنہ زومبیز کا ہجوم ایک دن سب کو کھا جائے گا۔
ملک آفتاب احمد اعوان
یہ سلیمان سہیل ہے جو ہمیشہ مظلوموں کے لیے آواز اٹھاتا رہا ہے مگر آج جب خود اس کے لیے آواز اٹھانے کی ضرورت ہے تو طرح طرح کی باتیں کی جا رہی ہیں
ذرا ایک لمحے کے لیے اس ماں کا سوچیے جس کے گھر میں اس وقت نہ اس کا بیٹا موجود ہے نہ اس کا شوہر
اپنے اختلافات بھول جائیے اور اگر سلیمان سہیل کے ساتھ زیادتی ہوئی ہے تو اس کے لیے آواز بلند کیجیے
پہلی خبر:
پاکستان نے سعودی عرب سے 6۔7 ارب ڈالر کا تیل ادھار مانگ لیا !
دوسری خبر:
پاکستان نے امریکہ سے 10 ارب ڈالر ادھار مانگ لیے !
تیسری خبر:
پاکستان نے چینی قرضہ موخر کرنے کی درخواست کر دی !
چوتھی خبر:
پاکستان کی ترقی دشمنوں کو ہضم نہیں ہو رہی !
🙄منقول🙃
بریکنگ نیوز 🚨حامد میر نے دبنگ کالم لکھ ڈالا، پاکستانی عوام کو ملٹری اسٹیبلشمنٹ کے متعلق کھل کر حقیقت سے آگاہ کردیا، آنکھیں کھلوا دیں 🔥👇
آرمی کے پاس 2 فل جنرل, 29 لیفٹنٹ جنرل اور 194 میجر جنرل ہیں. اس وقت 9 کور فوج کے لیے 30 لیفٹننٹ جنرل ہیں۔ 18 ڈویژن کے لیے 166 میجر جنرل۔ باقی نیچے بریگیڈئر، کرنل، لیفٹننٹ کرنل، میجر کا حساب لگا لیں۔ اس کے علاوہ ڈی جی آیی ایس پی آر جو کہ ایک کرنل رینک کی آسامی تھی اس پہ اب میجر جنرل لگایا جاتا ہے۔ یعنی ٹوئیٹر چلانے کے لیئے بھی فوج جرنیل استعمال کرتی ہے. ایک جرنیل سے لے کر بریگیڈیئر، لیفٹننٹ کرنل، میجر تک ہر ایک فوجی، پاکستانی عوام کو کتنے میں پڑتا ہے، کبھی اس بارے میں آپ نے سوچا ہے ؟ اگر حقیقت آپ کے سامنے آجائے تو عوام کی آنکھیں کھل جائیں گی اور سیاستدان فرشتے لگنے لگیں گے. تنخواہ کے علاوہ مراعات جن میں دوران ملازمت مفت رہائشی بنگلہ، مفت بجلی، مفت پانی، مفت گیس، سی ۱۳۰ طیارے میں پورے ملک میں مفت سفری سہولت، پی آئ اے اور ریلوے سے رعایئتی ٹکٹ پر سفر کی سہولت، نوکر (bat man) کی سہولت، بریگیڈیئر اور اس سے اوپر والوں کے لیئے سٹاف کار (یعنی سرکاری گاڑی), بچوں کی آرمی پبلک اسکول، FWO اسکول، PAF انٹر کالجز، بحریہ اسکول و کالج، NUST یونیورسٹی، الیکٹرکل اینڈ مکینکل انجنیئرنگ یونیورسٹی (EME) میں مفت پیشہ ورانہ تعلیم، آرمی میڈیکل کالج میں مفت ڈاکٹری کی تعلیم، آرمی, ایئرفورس اور نیوی اسپتالوں میں فوجیوں کا اپنا، ان کے بچوں، بیوی اور والدین کا تا حیات مفت علاج، ریٹائیرمنٹ کے بعد تمام جائداد ویلتھ ٹیکس سے مستثنی، فلیٹ، ولاز، دکانیں، پلاٹ، مربعے اور نہ جانے کیا کیا ان فوجیوں کو دیا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ ریٹائرمنٹ کے بعد کسی سرکاری ادارے کا سربراہ لگا دیا جاتا ہے. ریٹائرڈ فوجیوں اوران کے بچوں کی فلاح کے نام پر ٹرسٹ اور فلاحی ادارے کی آڑ میں بینک, انشورنس کمپنیاں, فرٹیلائزر, سیمنٹ, سریئے کی فیکٹریاں, ڈیری فارمز, شوگر اور ٹیکسٹائل ملیں, مرچ مسالحے کی فیکٹریاں اور یہاں تک کہ پیٹرول پمپ اور شادی ہال تک چلائے جا رہے ہیں. ملک کی معیشت مسلسل زوال پزیر ہے, لوگوں کے کاروبار بند ہو رہے ہیں, سرمایہ ڈوب رہا ہے لیکن 1953 میں ملنے والے 18 لاکھ ڈالر سے چیرٹی کے نام پر شروع کیا جانے والا کاروبار ترقی کرتے آج اربوں ڈالر کا سرمایہ بن گیا ہے. وجہ صرف یہ کہ جن لائسنسوں اور پرمٹوں کے لیئے عام سرمایہ کار سالوں دفتروں کے چکر کاٹتے ہیں اور ذلیل و خوار ہوتے ہیں وہ ان فوجیوں کو بغیر چوں چراں کیئے دے دیئے جاتے ہیں. مزید یہ کہ اگر کسی کاروبار میں نقصان ہوتا ہے تو سرکاری بجٹ سے بھرپائی ہو جاتی ہے. شہداء کے ورثاء کے نام پر لی جانے والی قیمتی شہری زمینوں پر ہاوسنگ سوسائٹیاں بنا ڈالیں اور شہریوں کو مہنگے داموں اربوں کما لیئے لیکن کسی کی جرات نہیں کہ سوال کر سکے. اگر عام شہری کوئی فلاحی این جی او کھولنا چاہے تو فوج والے فنڈنگ کے زرائع کو غیر تسلی بخش قرار دے کر پابندی لگا دیتے ہیں اور خود ریٹائرڈ فوجیوں کی فلاح بہبود کے نام پر ادارے بنا کر کاروبار کر رہے ہیں. دنیا پھر میں ریاست کا قیام اپنے عوام کی فلاح بہبود اور سماجی معاشی ترقی کے لئے کیا جاتا ہے - لیکن اس ملک میں فلاح بہبود صرف فوجی ملازمین کے لیئےہے. فوج پچھلے ستر سال سے پاکستان کی غریب عوام کے منہ کا نوالہ چھین کر اپنا پیٹ بھر رہی ہے اور ساتھ میں آپ پر یہ احسان بھی جتا رہی ہے کہ آپ کو رات کو سکون کی نیند فوج کی وجہ سے آتی ہے۔ کوئی قوم بھی بھلا اتنی کم عقل اور نادان ہو سکتی ہے، جتنی کہ پاکستانی قوم ہے۔
سرخ لباس ان قیدیوں کو پہنایا جاتا ہے جنہیں پھانسی دینی ہوتی ہے۔
اسرائیل نے فلسطینی قیدیوں کو سزائے موت کا لباس پہنانا شروع کر دیا ہے ۔
یاد رہے سزا کا جو طریقہ کار متعین کیا گیا ہے وہ الیکٹرک شاکس (کرنٹ) لگا کر مارنے کا ہے ۔
گھریلو کم وولٹیج بجلی کے ایک سیکنڈ کے کرنٹ سے انسان ہل کر رہ جاتا ہے ایک صحیح سلامت انسان کو اس وقت تک آہنی کرسی پر باندھ کر ہائی وولٹیج کا مسلسل کرنٹ دینا جب تک اس کے جسم کا سارا خون جل کر ختم نہ ہو جائے اور اس کی روح پرواز نہ کر جائے اس اندوہناک تکلیف کی سوچ بھی اگر امت کو نہیں جگا رہی توایسی زندگی سے موت بہتر ہے۔
یہ سزا کسی ایک دو افراد کو نہیں بلکہ دس ہزار سے زیادہ ان لوگوں کو دی جائے گی جو اس وقت پوری دنیا میں کامل دین اور قرآنی تعلیمات پرقائم ہی نہیں بلکہ دین اسلام، جہاد اور قبلہ اول پر اپنی 100٪ دنیا قربان کر چکے ہیں۔
ان کے تماشے دیکھنے والے اپنی نماز، روزے، حج، زکوۃ پر مطمئن ہیں۔
کل وہ بھی اسی حوض پہ ہوں گے جس کی امید ہم سب تماش بین لگائے بیٹھے ہیں ۔
اگرا نہیں منہ دکھانے کے قابل بننا ہے تو کچھ ایسا کر جائیں تاکہ لائن سے اچک نہ لیے جائیں ۔