دوسری جنگِ عظیم میں جو جنگی جہاز واپس لوٹتے، اُن کے پروں اور دُم پر گولیوں کے سب سے زیادہ نشان ہوتے۔ فوج نے فیصلہ کیا: انہی حصوں پر زیادہ حفاظتی لوہا لگاؤ۔ منطقی لگتا ہے، نا؟ ایک ریاضی دان نے کہا: "بالکل غلط۔ لوہا وہاں لگاؤ جہاں ایک بھی نشان نہیں۔"
وہ ریاضی دان تھا ابراہام والڈ۔ اور اُس کی بات نے سوچنے کا ایک پورا انداز بدل دیا۔
والڈ نے ایک ایسی بات کی طرف اشارہ کیا جو سب کی نظروں سے اوجھل تھی۔ یہ نشان صرف اُن جہازوں پر تھے جو واپس لوٹ آئے۔ یعنی پروں اور دُم پر گولی کھا کر بھی جہاز اُڑ سکتا تھا۔ مگر جو جہاز انجن یا کاک پٹ پر گولی کھاتے، وہ کبھی واپس ہی نہیں آتے — اِسی لیے اُن حصوں پر "کوئی نشان نہیں" دکھتا تھا۔ اصل کمزور جگہ وہی تھی جہاں ڈیٹا خاموش تھا۔
اِسے "سروائیورشپ بایس" کہتے ہیں — یعنی صرف کامیاب یا بچ جانے والوں کو دیکھ کر نتیجہ نکالنا، اور اُن سب کو بھول جانا جو ناکام ہو کر منظر سے غائب ہو چکے۔ ہماری سب سے بڑی غلطیاں اکثر اُس ڈیٹا میں چھپی ہوتی ہیں جو ہمیں نظر ہی نہیں آتا۔
یہ فریب ہماری روزمرہ سوچ میں گہرا دھنسا ہوا ہے۔ ہم کہتے ہیں "فلاں ارب پتی نے تو کالج چھوڑ دیا تھا، تو ڈگری بے کار ہے۔" مگر ہم اُن لاکھوں لوگوں کو نہیں دیکھتے جنہوں نے کالج چھوڑا اور کہیں نہ پہنچے — کیونکہ اُن کی کوئی کہانی نہیں چھپتی۔ ہم صرف جیتنے والوں کی سرخیاں پڑھتے ہیں، اور ہارنے والوں کی خاموشی کو "ثبوت کی غیر موجودگی" سمجھ لیتے ہیں۔
یہی بایس ہمیں اپنی زندگی میں بھی دھوکا دیتا ہے۔ ہم کامیاب لوگوں کی عادتیں نقل کرتے ہیں — "وہ صبح 4 بجے اٹھتا تھا، اِس لیے میں بھی اٹھوں گا" — یہ بھولتے ہوئے کہ شاید ہزاروں ناکام لوگ بھی 4 بجے اٹھتے تھے۔ کامیابی کا اصل راز اکثر وہ ہوتا ہے جو کہانی میں نظر نہیں آتا: اتفاق، حالات، مدد، اور وہ بے شمار جو اُسی راستے پر چل کر بھی نہ پہنچ سکے۔
سوچنے کا سمجھدار طریقہ یہ ہے کہ ہر کامیابی کی کہانی کے پیچھے ایک سوال رکھیں: "جو لوگ یہی کر کے ناکام ہوئے، وہ کہاں ہیں — اور کیا میں اُنہیں دیکھ بھی پا رہا ہوں؟" سب سے اہم سچ اکثر وہاں چھپا ہوتا ہے جہاں ڈیٹا خاموش ہے.
سخاوت مال و دولت کی محتاج نہیں بلکہ یہ وسعت قلب و نظر سے عبارت ہے۔ اپنے گردوپیش میں دیکھیں اور مسکراہٹ، آسانی اور خیر و سلامتی بانٹتے رہیں۔
بخل صرف مال و دولت بچانے کا ہی نام نہیں بلکہ تنگ دلی، حق تلفی اور ناشکری بھی بخل کی عطا ہے۔
اللّٰہ ہم سب کو خیر سلامتی عطا فرمائے۔
حکومت ہوش کے ناخن لے، عوام پر تشدد اور انٹرنیٹ کی بندش کسی صورت قبول نہیں
حکومتِ پاکستان اور حکومتِ آزاد کشمیر کی مسلسل وعدہ خلافیوں اور عوامی ایکشن کمیٹی کے ساتھ کیے گئے معاہدوں پر عمل درآمد نہ کرنے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہیں۔ حکومت کی اسی غیر سنجیدگی اور نااہلی کے باعث ایکشن کمیٹی نے 9 جون کو پرامن احتجاج کی کال دی ہے۔ یاد رہے کہ یہ ایکشن کمیٹی کسی ایک گروہ کا نام نہیں، بلکہ اس میں تمام سیاسی جماعتوں کے لوگ شامل ہیں اور یہ پورے آزاد کشمیر کے غیور عوام کی آواز ہے۔
تین سال قبل قائم ہونے والی مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کی اتحادی حکومت کی بدترین نااہلیوں کے نتیجے میں یہ بحران پیدا ہوا، جس نے عوام کو اپنے حقوق کے لیے سڑکوں پر آنے پر مجبور کیا۔ حکومت نے بار ہا معاہدے کیے اور پھر خود ہی ان سے مکر گئی، جس کی وجہ سے خطے میں ہمیشہ حالات کشیدہ ہوئے۔
ماضی گواہ ہے کہ جب بھی طاقت کا بے جا استعمال ہوا، معصوم جانیں ضائع ہوئیں تصادم کی صورت میں نقصان صرف اور صرف ریاست کا ہوتا ہے، چاہے خون پولیس اہلکار کا بہے یا عام شہری کا۔
ہم نے دو روز قبل قانون ساز اسمبلی کے فلور پر حکومت کو واضح طور پر خبردار کیا تھا کہ طاقت کے بجائے بامعنی مذاکرات کا راستہ اپنایا جائے، لیکن افسوس کہ پاکستان تحریک انصاف (PTI) کے اس مخلصانہ اور سنجیدہ موقف کو یکسر نظر انداز کر کے وقت سے پہلے ہی جبر کا راستہ چنا گیا۔
آزاد کشمیر ایک انتہائی حساس خطہ ہے، یہاں سے بدامنی اور ریاستی تشدد کا کوئی بھی ایسا پیغام نہیں جانا چاہیے جس سے بھارت کو عالمی سطح پر فائدہ پہنچے یا تحریکِ کشمیر کمزور ہو۔ حکومت اپنے اقدامات سے دشمن کے ہاتھ مضبوط کر رہی ہے۔ مزید برآں، موبائل اور انٹرنیٹ سروس بند کر کے پوری آبادی کو یرغمال بنا لیا گیا ہے، جس کی وجہ سے بیرون ملک مقیم لاکھوں کشمیری اپنے پیاروں کی خیریت جاننے کے لیے ترس رہے ہیں۔ یہ سراسر ظلم اور انسانی حقوق کی پامالی ہے۔
خواجہ صاحب یہ بات تو میں اور آپ باخوبی جانتے ہیں کہ آپکی گرفتاری اور اس پہلے کے معاملات مجھ سے متعلقہ نہیں کیونکہ نا ہی میں نے جنرل باجوہ کو آرمی چیف لگایا اور نا ہی ثاقب نثار کو چیف جسٹس! پیراگون کا معاملہ ہو یا پھر اگست ۲۰۱۸ کے معاملات، سب ریکارڈ کا حصہ ہیں
جہاں تک مارشلائی نظام کے حصہ داری کی بات ہے تو حضور آپ ایک ایسی جماعت ہی کی نمائندگی کرنے گلگت پہنچے ہیں جو ایک بدترین ڈکٹیٹر ضیا کی کوکھ سے جنم لے کر دوسرے بدترین ڈکٹیٹر عاصم منیر کے دور کے مزے لوٹ رہی ہے۔ اقتدار کے مزے صرف وزارتوں میں تھوڑے ہیں آپکے بھائی اور پآپ دونوں اسی نظام کا حصہ ہیں اور خوب گنگا نہا رہے ہیں
جو سلوک ۲۰۲۳ سے لے کر آج تک عمران خان اسکے خاندان اور اسکے کارکنوں کے ساتھ ہو رہا ہے اس میں آپ سب برابر کے شریک ہیں اور اسی کے مزید میوے کھانے جی بی بھی پہنچے ہیں باقی آپکی دو سطری مزمت کسی نے نہیں ماننی۔
اگر کوئی عام شخص سڑک کے بیچ کھڑا ہو کر ناچنا اور ہاتھ ہلانا شروع کر دے، تو دنیا اسے فوراً پاگل خانے بھیج دے گی۔ لیکن جب ایک وردی والا ٹریفک کانسٹیبل سڑک پر کھڑا ہو کر وہی اشارے کرتا ہے، تو دنیا کے بڑے بڑے ارسطو اور امیر ترین لوگ بھی اپنی گاڑیاں روک کر لائن میں کھڑے ہو جاتے ہیں۔فرق کہاں ہے؟ اشارے اور حرکتیں دونوں کی ایک جیسی ہیں، لیکن کانسٹیبل کے پیچھے ریاست کا قانون اور اتھارٹی ہوتی ہے۔
کعبہ کا طواف بھی کسی خالی کمرے کے چکر کاٹنا نہیں، بلکہ اس کائنات کے خالق یعنی اللہ تبارک و تعالی کے قانون اور حکم کی اطاعت ہے۔
جو جاہل صرف "خالی کمرے" کو دیکھ رہا ہے اور اس کے پیچھے موجود "قانونِ الٰہی" کو نہیں دیکھ پا رہا، اس کی مثال بالکل اس بائی پاس کے مریض جیسی ہے جو سرجن کی چھری کو "حملہ" اور ہسپتال کو "ذبح خانہ" سمجھے۔ یہ عقل کی نہیں، بلکہ مذہبی بغض اور ذہنی اندھے پن کی انتہا ہے
"میرے کزن کے بیٹے سراج ولد حاصل سکنہ پسنی کو لاپتہ کرنے کے بعد اس کی لاش پھینک کر مجھے بطور سیاسی کارکن واضح پیغام دیا گیا۔ کزن کے بیٹے کی تدفین کے دوران دوسرے کزن کے بیٹے جلال کریم بخش کو بھی اٹھا لیا گیا۔ آخر سیکیورٹی ادارے مجھ سے کیا چاہتے ہیں؟ ظلم جبر سے مسائل حل نہیں ہوتے بلکہ نفرت میں اضافہ ہوتا ہے۔" ایم پی اے مولانا ہدایت الرحمان بلوچ، سربراہ حق دو تحریک گوادر
خالدہ آج سے پندرہ برس قبل ہمارے گھر کام کرتی تھی ، پھر موٹاپے اور جگر کے عارضے میں مبتلا ہوئی تو کام چھوڑ دیا
*اب صرف ہر عید پہ عیدی وغیرہ لینے آتی ہے ۔ اس کے حصے کا گوشت میں فریز کردیتی ہوں* *دوسرے یا تیسرے روز آ کر لے جاتی ہے ۔*
پچھلے سال آئی تو ہاتھ میں گوشت کا شاپر تھا ۔ کپڑے بھیگے ہوئے تھے ، آستینوں اور شلوار کے پائنچوں سے ایسا لگ رہا تھا کہ کوئی دھونے دھلانے والا کام کرکے آئی ہے۔
میں نے پہلے اسے کھانا دیا اور پوچھا کپڑے کیوں گیلے ہیں ، کیا برتن یا کپڑے دھو کر آ رہی ہو؟ گھر تو تمہارا کافی دور ہے۔
بولی : نہیں ، اسی گلی میں ایک گھر سے گوشت لینے گئی ، وہ بھی ہر سال میرے لیے رکھتے ہیں ، باجی نے کہا گیراج دھلوا دو ، سارا گیراج اور ریمپ دھویا ، وائپر لگایا ، پھر کچھ برتن پڑے تھے ، انہوں نے کہا وہ دھو دو ، برتن بھی دھوئے پھر ۔۔۔ بس اسی میں سارے کپڑے گیلے ہوگئے ۔
*اوہ اچھا ! چلو کوئی بات نہیں ، ان کی بھی مدد ہوگئی اور تمہارے بھی کچھ پیسے بن گئے ۔*
*پیسے تو نہیں جی، یہ گوشت ہی دیا* *ہے انہوں نے ۔ اس نے شاپر آگے کرکے دکھایا ۔*
*تو کیا کام کراونے کے پیسے نہیں دیے* ؟
نہیں جی ، کہہ رہی تھیں یہ تمہارے لیے زیادہ سا گوشت رکھ دیا تھا ، یہ لیتی جانا ۔
کچھ دیر بعد وہ اپنا گوشت کا پیکٹ لے کر چلی گئی۔
*اور میں سوچ رہی تھی کہ کیا صدقہ خیرات کی مد میں بھی دوسروں سے کام کروا لیتے ہیں ؟*
یہ قربانی کا گوشت اللہ کی راہ میں دینا تھا تو اس غریب سے اتنا کام کروا کے کیوں دیا ؟
اگر کام کروایا تو اس کا معاوضہ الگ بنتا تھا کہ قربانی کا گوشت تو بطور اجرت بھی قصائی کو نہیں دے سکتے ۔
اسی دن پتا چلا کہ انہوں نے دو بکرے اور ایک گائے قربان کی ہے ، جن کی قیمت شاید لاکھوں میں بنتی ہے مگر اس حق دار کو اس کے کام کے بدلے پانچ سو دینے کی توفیق نہ ہوئی ، قربانی کی چند بوٹیوں پہ سارا گھر دھلوا لیا ۔
ایک ایسی بھی خاتون ہیں جن کو میں قریب سے جانتی ہوں ، ان کو ان کی نند امریکہ سے زکوٰۃ اور صدقات میں اچھی خاصی رقم بھیجا کرتی تھیں کہ یہ ایک دو سفید پوش گھرانوں میں تقسیم کردیا کریں ، وہ جس خاتون کو رقم دیتی پہلے اس سے گھر کا سارا کام کرواتی ، حتی کہ سردیوں میں قالینیں تک دھلواتی اور معاوضے کے طور پر نند کے زکوٰۃ کے پیسوں سے دے کر احسان چڑھا دیتی اور سوچتی کہ ثواب بھی مل گیا ۔ میں نے ذاتی طور پر بھی اس خاتون کو سمجھایا مگر وہ باز نہ آئی ، کہنے لگی میرا تو مفت ان لوگوں کو پیسے دینے کو جی نہیں چاہتا ۔۔۔۔ تو میں نے معاملہ خدا پر چھوڑ دیا ۔
لیکن میں نے ایسے سخی لوگ بھی دیکھے ہیں جو تھوڑے سے کام پر زیادہ معاوضہ دے کر اللہ کو خوش کردیتے ہیں اور ان جیسے بھی ۔۔۔ اور ایسے لوگ بھی ہیں جو کسی کا حق مار کر لاکھوں کے بیل اور بکرے قربان کرکے سمجھتے ہیں ثواب مل گیا ۔
کسی کے ساتھ حقوق کے معاملے میں زیادتی ، ایک ایسا بوجھ ہے جو تاعمر کندھوں سے نہیں اترے گا۔ یہ قرض ہے جس کا ادا کرنا ضروری ہے ۔
آپ لاکھ قربانیاں ، زکوٰۃ ، صدقات اور خیرات دیں ۔۔۔ کسی محنت کش کی محنت دبا لی ۔۔۔ تو سب ضائع ہوگیا ۔
*کھونٹے سے چاہے کتنے بڑے بڑے جانور باندھ لیں ، خدا کے ہاں گوشت اور خون تھوڑی پہنچتا ہے ۔۔۔ بات تو آپ کے معاملات پہ آ کر رکتی ہے* ۔
تحریر،،آصفہ عنبرین قاضی
اگر 29 اپریل 2026 کو عالمی مارکیٹ میں خام تیل تقریباً 119 ڈالر فی بیرل تھا اور پاکستان میں پیٹرول 393 روپے فی لیٹر تھا، جبکہ اب خام تیل تقریباً 84 ڈالر فی بیرل تک گرچکا ہے مگر قیمت صرف 381 روپے ہوئی ہے، تو حساب کچھ یوں بنتا ہے
عالمی مارکیٹ میں کمی
119 → 84 ڈالر
یعنی تقریباً 29% کمی
پاکستان میں پیٹرول
393 → 381 روپے
یعنی صرف 12 روپے کمی
تقریباً 3% کمی
یعنی عالمی مارکیٹ میں تیل تقریباً ایک تہائی سستا ہوگیا،
مگر عوام کو صرف معمولی ریلیف ملا۔
لیکن عام آدمی کے نقطۂ نظر سے دیکھا جائے تو
فرق واضح ہے
عالمی منڈی میں 35 ڈالر فی بیرل کمی
مگر پمپ پر صرف 12 روپے ریلیف۔
اسی لیے لوگ سوال اٹھاتے ہیں کہ جب اضافہ فوراً منتقل ہوجاتا ہے تو کمی پوری طرح کیوں نہیں پہنچتی۔
اور اُنکا یہ سوال جائز ہے۔
*کیا آپ لیلۃ القدر اور یومِ عرفہ کے درمیان فرق جانتے ہیں؟*
لیلۃ القدر میں: ہر چیز نازل ہوتی ہے۔
قرآن نازل ہوا۔
فرشتے نازل ہوتے ہیں۔
تقدیر نازل ہوتی ہے۔
رحمت آسمانوں سے برسنے لگتی ہے۔
لیکن یومِ عرفہ ایک بالکل مختلف دن ہے۔
کیونکہ اس دن فرشتے نہیں اترتے…
بلکہ انسان اللہ کی طرف اٹھتے ہیں۔
یہ قیامت کے دن کی جھلک پیش کرتا ہے؛
لاکھوں لوگ سادہ لباس میں، آسمان کے نیچے کھڑے، رحمت کی بھیک مانگتے ہوئے۔
لیلۃ القدر میں اللہ اس کی صحیح رات کو مخفی رکھتا ہے۔
وہ چاہتا ہے کہ تم اسے تلاش کرو، رمضان کے آخری عشرے کی بھوک اور عبادت میں۔
یہ اس شخص کو اجر دیتی ہے جو مسلسل تلاش کرتا رہتا ہے۔
اور یومِ عرفہ کے بارے میں، اللہ سب کو اس کا صحیح دن بتا دیتا ہے۔
وہ ٹوٹے دل والوں، تھکے ہوئے لوگوں، اور بوجھ تلے دبے انسانوں کو دعوت دیتا ہے کہ سب ایک ہی وقت میں حاضر ہوں، ایک ایسی رحمت کے لیے جس کے دروازے سب کے لیے کھلے ہیں۔
اور ایک اور فرق ہے جسے اکثر لوگ نہیں سمجھتے۔
لیلۃ القدر کا تعلق وحی کے آغاز سے ہے۔
“اقْرَأْ” — “پڑھو”
اور عرفہ کا تعلق تکمیل سے ہے۔
“آج میں نے تمہارے لیے تمہارا دین مکمل کر دیا…” (5:3)
ایک دن اسلام کے نور کا آغاز تھا۔
اور دوسرے نے اسے مکمل کر دیا۔
ایک رات تمہاری تقدیر بدل سکتی ہے۔
اور ایک دن تمہارے گناہوں کو مٹا سکتا ہے اور تمہیں بابرکت لوگوں میں شامل کر سکتا ہے۔
سب سے بڑی رحمت یہ ہے کہ اللہ نے یہ دونوں دن اس امت کو عطا فرمائے۔
یا اللہ، ہم سب کو ان دنوں کو پانے اور ان سے فائدہ اٹھانے کی توفیق عطا فرما۔۔
2016 میں عالمی تیل کی قیمت 40 ڈالر تھی، اور ڈالر کا ریٹ نواز شریف کو تقریباً 98 روپے ملا۔ تو مطلب نواز شریف تقریباً 27 روپے فی لیٹر کے حساب سے تیل لے کر عوام کو 65 روپے میں دے رہا تھا۔
کچھ بے غیرت بار بار 65 کا حساب دیتے ان کو اصل حقیقت بتاؤ کہ وہ خود عالمی مارکیٹ سے 27 روپے پر خرید رہا تھا۔ اس وقت جو اسد عمر نے بات کی تھی۔ وہ درست تھی ۔ لیکن کچھ بد بخت جاہل نسل کے لوگ اسد عمر پر بکواس کرتے۔
2022 میں عالمی تیل کی قیمت 115 ڈالر تھی، اور ڈالر کا ریٹ عمران خان کو تقریباً 125 روپے ملا۔ لیکن اگر ڈالر کی وہ قیمت شمار کی جائے جو اُس وقت تقریباً 180 روپے تک جا چکی تھی، تو مطلب عمران خان تقریباً 150 روپے فی لیٹر کے حساب سے تیل لے کر عوام کو تقریباً اسی قیمت پر دے رہا تھا۔
اور 2026 میں اس وقت عالمی تیل کی قیمت تقریباً 95 ڈالر ہے، جبکہ ڈالر کا ریٹ شہباز شریف کو تقریباً 180 روپے ملا۔ لیکن اگر آج کے دن کے ڈالر ریٹ، یعنی تقریباً 280 روپے، کو حساب میں لیا جائے تو مطلب شہباز شریف تقریباً 170 روپے فی لیٹر کے حساب سے تیل لے کر عوام کو 400 روپے کے قریب دے رہا ہے۔ یعنی ایک لیٹر پٹرول پر تقریباً 200 روپے سے بھی اوپر ٹیکس لیا جا رہا ہے۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ جب ملک تباہ و برباد ہو جائے اور عوام مہنگائی میں پس رہی ہو، تب بھی عوام کی کھال سے ایک لیٹر پر 200 روپے سے زیادہ ٹیکس وصول کیا جا رہا ہے۔ اور جب اس پر ن لیگ اور پیپلز پارٹی کے سپورٹرز کو شرم دلاؤ تو الٹا وہ ہم پر ہی چڑھ دوڑتے ہیں اور عمران خان پر بکواس شروع کر دیتے ہیں
کوئی پڑھا لکھا ن لیک یا پی پی کا سپورٹر دلیل سے جواب دے گا کہ جب سازش سے حکومت لی فوج کے مدد سے تو ملک کو کتنا آگے لے گئے؟؟
تین سال میں تین سو دورے کر لیے۔ جہازوں کا کرایہ، ہوٹلوں کے بل، وفد کے خرچے، سب قوم کے خزانے سے گیا۔
واپسی پر کیا لائے
نہ ایک ڈالر کی سرمایہ کاری، نہ ایک فیکٹری کا وعدہ، نہ کسی ملک کا بھروسہ۔
دنیا جانتی ہے کہ چوروں پر کوئی اعتماد نہیں کرتا۔ جو قوم کا پیسہ لوٹ کر باہر رکھیں، ان کے ساتھ ہاتھ کون ملائے؟
یہ دورے قوم کے لیے نہیں تھے۔
یہ صرف تصویریں بنوانے میڈیا میں سرخیاں لگوانے اور اپنی کرسی بچانے کے لیے تھے۔
یہ عمران خان سے مقابلہ کرنے چلے ہیں۔ وہ شخص خالی ہاتھ جاتا تھا نمل یونیورسٹی اور کینسر ہسپتال کے لیے اربوں لے کر واپس آتا تھا۔ وہ ٹیلی تھون کرتا تھا تو ایک گھنٹے میں پانچ ارب جمع کر کے دکھاتا تھا۔
(بابا مسعود انور)
# نیکیوں کا عشرہ: اللہ کے ہاں دوسرے کوئی اور ایام نہیں جن میں کئے گئے نیک اعمال، ذوالحجہ کے ابتدائی 10 دنوں میں کی گئی نیکیوں سے زیادہ محبوب ہوں۔صحابہ کرام نے پوچھا: جہاد فی سبیل للہ بھی نہیں؟ آپ نے فرمایا: ہاں جہاد فی سبیل للہ بھی نہیں۔۔۔سوائے اس جہاد کے+
سائفر، اس کی پردہ پوشی، اور اس کے نتائج
ڈراپ سائٹ نیوز نے ایک دستاویز شائع کی ہے، اور دعویٰ کیا ہے کہ یہ 7 مارچ 2022 کا اصل سائفر ہے جو ایک فوجی ذریعے سے حاصل ہوا۔ دنیا اب سمجھتی ہے کہ یہی وہ ناقابلِ تردید ثبوت ہے۔ آئیے، یہیں سے اس کی گرہ کھولتے ہیں۔
پاکستان کے اسٹیبلشمنٹ نے چار سال تک اسے دبایا، لوگوں پر اس کے حوالے سے مقدمات قائم کیے، اور یہ دعویٰ کیا کہ ایسا کوئی سائفر موجود ہی نہیں تھا۔ حقیقت پاکستان کے اندر سے نہیں، بلکہ ایک امریکی تحقیقاتی ادارے کے ذریعے دنیا کے سامنے آئی۔ صرف یہی حقیقت بذاتِ خود ایک فردِ جرم ہے۔
ڈونلڈ لو نے پاکستان کے سفیر سے صاف الفاظ میں کہا: "واشنگٹن میں سب کچھ معاف کر دیا جائے گا"، اگر وزیرِاعظم
@ImranKhanPTI
کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک کامیاب ہو جاتی ہے، اور ساتھ ہی خبردار کیا کہ اگر ایسا نہ ہوا تو پاکستان تنہائی کا شکار ہوگا۔ یہ سفارت کاری نہیں تھی۔ یہ ایک دھمکی تھی، جو ایک خود مختار ریاست کے سفیر کو دی گئی۔ قومی سلامتی کمیٹی نے اپنی دو اجلاسوں میں واضح طور پر کہا کہ یہ پاکستان کے اندرونی معاملات میں ناقابلِ قبول اور کھلی مداخلت ہے، اور حکومت نے برحق سفارتی احتجاج (ڈیمارش) جاری کیا۔
مئی 2022 میں، میں نے بطور صدر، چیف جسٹس عمرعطا بندیال صاحب کو باضابطہ طور پر خط لکھا، جس میں جوڈیشل کمیشن کے قیام، کھلی سماعتوں، مکمل تحقیقات، اور حقیقت کو ریکارڈ پر لانے کا مطالبہ کیا۔ یہ خط تمام اخبارات میں شائع ہوا۔ (براہِ کرم مندرجہ ذیل خط کا اردو ترجمہ پڑھیں، اس کے ہر لفظ میں اس نوعیت کے عالمی معاملات میں تاریخی وزن ہے۔)
چیف جسٹس نے وہ خط وصول کیا۔ کوئی تبصرہ نہیں کیا۔ کوئی قدم نہیں اٹھایا۔ عدلیہ کی خاموشی اداروں کے آگے ھتھیار ڈالنے کا آغاز تھا۔ اگر وہ کمیشن تشکیل دے دیا جاتا، تو یہ سوالات حلف کے تحت جواب طلب ہوتے: سائفر کس نے وصول کیا؟ اس پر کس نے عمل کیا؟ کس نے اندرونِ ملک غیر ملکی اشارے کو سہولت فراہم کی؟ اور پاکستانی ریاست کے کن اداروں نے ایک منتخب وزیرِاعظم کو ہٹانے میں تعاون کیا؟
پاکستان کو حقیقت معلوم ہو جاتی۔ وہ شخص جس نے قوم کو خبردار کیا تھا، اسے جھوٹے مقدمات میں قید نہ کیا جاتا جو اسی دستاویز سے جنم لیئے، جس کی تحقیقات سے ریاست نے انکار کر دیا تھا۔ اس کے بجائے، قوم کو تباہی کے مسلسل چارسال ملے۔
صرف ایک حکومت نہیں بدلی گئی، بلکہ جمہوریت کو ٹکڑے ٹکڑے کر کے ختم کیا گیا، ہر سطح پر مکمل ادارہ جاتی سازش کے ساتھ اسے منہدم کیا گیا۔ پارلیمان کو "بدبودار مفادات کا ایوان" بنا دیا گیا۔ پاکستان کی تاریخ میں سب سے بڑے عوامی مینڈیٹ کی حامل تحریکِ انصاف سے اس کا انتخابی نشان چھین لیا گیا، اس کی نشستیں عدالتی حکم کے ذریعے ڈھٹائی سے دوسروں کو دے دی گئیں، صرف اس لیے کہ 17 نشستوں والی جماعت کو جعلی دو تہائی اکثریت دی جا سکے۔
تحریکِ انصاف کے کارکنان پر فوجی عدالتوں میں مقدمات چلائے گئے۔ اس کے ووٹرز کو حقِ رائے دہی سے محروم کیا گیا۔ اس کے قائد کو قید کر دیا گیا — انہی الزامات پر جو اسی دستاویز سے پیدا ہوئے جسکا ریاست نے جائزہ لینے سے انکار کر دیا تھا۔ 26ویں اور 27ویں ترامیم جبر کے ذریعے منظور کروائی گئیں، جنہوں نے عدلیہ کو انتظامیہ کی لونڈی، اور حقوق کی محافظ کے بجائے غاصبانہ اقتدار کے استحکام کا ایک آلہ بنا دیا۔
اب انسانی نقصان کا حساب کریں۔ ہماری 44 فیصد آبادی خطِِ غربت سے نیچے زندگی گزار رہی ہے، یعنی دس کروڑ پچاس لاکھ افراد — جو 2019 کے مقابلے میں دو کروڑ زیادہ ہیں۔ حقیقی آمدنی تباہ آدھی رہ گئی ہے۔بجلی اور پیٹرول آسمان سے بات کر رہے ہیں۔ مہنگائی اور بے روزگاری عروج پر ہیں۔بمشکل تین فیصد کی جی ڈی پی کا اضافہ آبادی کے اضافے کے ساتھ قدم نہیں ملا سکتی، نئے مزدوروں کو روزگار دینا تو دور کی بات ہے۔ دہشت گردی اپنی بلند ترین سطح پر ہے۔ سرمایہ آ نہیں رہا، بلکہ جا رہا ہے۔ دو کروڑ بیس لاکھ نوجوان نہ کام کر رہے ہیں اور نہ تعلیم حاصل کر رہے ہیں، جبکہ ڈھائی کروڑ بچے اسکولوں سے باہر ہیں۔ سمت بالکل واضح ہے: پاکستان کہیں زیادہ تیزی سے غریب ہو رہا ہے۔
یہ صرف اعداد و شمار نہیں ہیں۔ یہ وہ بچے ہیں جو بھوکے پیٹ سوتے ہیں۔ یہ وہ نوجوان ہیں جو کشتیوں میں ڈوبتے ہوئے ان ساحلوں کی طرف جا رہے ہیں جو شاید انہیں مار ڈالیں، کیونکہ ان کا اپنا ملک انہیں دھکیل رہا ہے۔ یہ وہ مائیں ہیں جو دوا اور روٹی کے درمیان انتخاب کرنے پر مجبور ہیں۔ ان تمام انسانوں کی حالت اپریل 2022 کے اس فیصلے کا براہِ راست، قابلِ سراغ، فرانزک نتیجہ ہے، جس میں پاکستانی عوام کے جمہوری مینڈیٹ کو سبوتاژ کیا گیا۔ یہ کوئی قدرتی آفت نہیں۔ یہ ایک سازش کی قیمت ہے، جس کے تمام شریکِ جرم عوام کے سامنے برہنہ کھڑے ہیں۔
ڈونلڈ لو نے دھمکی دی۔ اس نے حکومت نہیں گرائی۔ پاکستانیوں نے ایک پاکستانی حکومت گرائی۔ جنرل باجوہ وردی میں۔ کچھ لوگ عدالتی جبّوں میں۔ کچھ "دستار" میں۔ بدعنوان سیاستدان۔ اور ایسے جنہوں نے دبئی میں قوم کے لوٹے ہوئے خزانوں کے رجیم چینج کے لیئے منھ کھول دیئے۔ ان سب نے عوام اور اس آئین کے تحفظ کے بجائے، ایک غیر ملکی اشارے کو ترجیح دی۔ مجرم صرف بیرونی نہیں تھے، اندرونی بھی تھے۔ یہ بات صاف اور ہمیشہ کے لیے ریکارڈ پر رہنی چاہیے۔
جو لوگ کہتے ہیں، "یہ ماضی کی بات ہے، آگے بڑھیں"، میں ان سے کہتا ہوں: قانون کی حکمرانی کے بغیر سرمایہ کاری نہیں آ سکتی۔ آزاد عدلیہ کے بغیر قانون کی حکمرانی نہیں ہو سکتی۔ اور ایسی عدلیہ، جس کی بنیاد زیادہ تر بدعنوان ججوں پر ہو، کبھی آزاد نہیں بن سکتی۔ آگے بڑھنے کا راستہ حقیقت کے درمیان سے گزرتا ہے، اس کے باہر سے نہیں۔
پاکستان کی معاشی تباہی، اس کا ادارہ جاتی زوال، مکمل کرپشن، قومی دیمک جو سب کچھ کھا رہی ہیں، ان میں سے کوئی بھی خدا کا فعل نہیں بلکہ اعمال کا نتیجہ ہے۔ یہ ایک مجرمانہ رجیم چینج کا براہِ راست اور قابلِ سراغ نتیجہ، جسے باہر سے سہولت دی گئی اور اندر سے اس پر عمل درامد کیا گیا۔
جیسا کہ سائفر کے مندرجات اب عوام کے سامنے رپورٹ ہوئے ہیں، ریکارڈ واضح ہے۔ یہی غاصب اب بھی اقتدار میں ہیں اور میرے ملک کی تباہی کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔ آگے بڑھنے کا واحد معقول اور منصفانہ راستہ بالکل واضح ہے:
اب پیچھا چھوڑو، اور میرے لوگوں کو جینے دو۔
مجھے اس قوم سے غداری کرنے والوں کے لیے اقبال کا حوالہ دیتے ہوئے تکلیف ہوتی ہے، مگر یہ شعر لازوال ہے۔
جعفر از بنگال و صادق از دکن
ننگِ آدم، ننگِ دیں، ننگِ وطن
سائفر بول چکا ہے۔ اب پاکستان کو بولنا ہوگا۔ 🇵🇰