مولانا فضل الرحمان وہ باتیں کررہے ہیں جو آجکل کوئی نہیں کرتا ۔ مولانا کے اُٹھائے گئے نکات وزن رکھتے ہیں ۔ اہم بات یہ ہے کہ مولانا کی دلیری کے پیچھے کیا محرک ہے ؟ محرک کے بارے میں کھوج اپنی جگہ مولانا کی نپی تلی بات اور ذمہ دار سیاست کو سلام
یہ افغانستان کا شہر ہرات ہے جس میں عالمی معیار کا شاپنگ پلازہ گذشتہ ھفتے مکمل ہوا ہے ۔ بقول اقوام متحد اس ملک کو کھانے کے لالے پڑے ہوئے ۔ عالمی طاقتیں یہ جھوٹ ملا عمر کے زمانے سے بولتی چلی آئی ہیں ۔ جس اسلامی قوت نے امریکہ سمیت 48 ملکوں کو شکست دی تھی اس سے نفرت تو لازم ہے
بلوچستان کی پوری حکومت وزیراعلی سمیت،پوری اسمبلی،ریاستی ادارے، خضدار کی ایک معصوم لڑکی اسماء جتک کو تحفظ نہیں دے سکتے؟ ان کی والد کو شہید کیا گیا۔یہ سرکارہے یا جھوٹوں کی ایک منڈی ہیں؟
صرف دعوے ، وعدے، نعرے ، عملی کار کردگی کچھ نہیں۔
مولانا فضل الرحمن نے اسٹیبلشمنٹ کو انہی کی زبان میں جواب دے کر قومی سیاست کی حرکیات بدل دی ہیں۔ مولانا اُن لوگوں میں شامل نہیں جو ہوا کا رخ دیکھ کر اپنا راستہ بدل لیتے ہیں؛ وہ شاہین کی مانند ہمیشہ طاقت کے بہتے دھارے کے مخالف سمت پرو��ز کرنے کے عادی ہیں۔
وہ برصغیر کے جن علماء کی سیاسی روایت کے وارث ہیں، اُنہوں نے کبھی طاغوت کے سامنے سرِ تسلیم خم نہیں کیا۔ علماء کرام گزشتہ سو برس سے برطانیہ، روس اور امریکہ کے سیاسی غلبے کے خلاف مزاحمت کرتے آ رہے ہیں۔ اب جبکہ برطانیہ کے بعد روسی سوشلزم اور امریکہ سرمایا دارانہ نظام بھی شکست کھا کر اس خطے سے نکل چکے ہیں، تو علماء کرام مقامی غاصبوں کے خلاف آخری مزاحمتی معرکہ لڑ رہے ہیں۔
قوم کو چاہیے کہ علماء کرام کا ساتھ دے، کیونکہ یہ ملک یہود و نصاریٰ کے ذہنی غلاموں کے لیے تخلیق نہیں ہوا، بلکہ یہ برصغیر میں محمد عربیؐ کے غلاموں کی وراثت ہے۔
@Alikhanyzai بہن چود کل سوات میں جو دھماکہ ہوا تھا تو وہو لوگ امن کے خاطر نکلے تھی وہو کیسے سہولتکار بن گئ میر ا ایک خواہش کے کبھی اللہ اپ لوگوں کو یئ دن دیکھائی
علی امین گنڈاپور کا والد اٹک سازش کیس میں فوج سے نکالا گیا، وہ اپنے بارے میں کیا کہیں گا کہ میں کس کا بیٹا ہوں؟ ان کے دادا کو انگریزوں کی غلامی میں اعزازی مجسٹریٹی ملی تھی، وہ میرے دادا کے بارے میں کیا بات کریں گے؟
جے یو آئی رہنما اور ڈیجیٹل میڈیا کوآرڈینیٹر ضیاء الرحمن کا سابق وزیر اعلی خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور پر ایک اور وار
جمعیت علماء اسلام اور قائد جمعیت مولانا فضل الرحمن صاحب نے اول دن سے ھی ھائبرڈ نظام، ملکی امن وامان اور معیشت کی زبوں حالی پرجو تحریک شروع کی تھی اور جو قصور میں اپنے معراج پر پہنچی ا�� مین اصلی اور نقلی #نا_اہل_حکمران کو کھل کر للکارا گیا اور ان سے مطالبہ کیا گیا کہ #مہنگائی_کا_حساب_دو ۔ ان سے کھل کر کہا گیا کہ آپ نے ھمیں امن اور تحفظ دینا تھا اور آپ اس کے آئینی و قانونی زمہ دار ھیں آپ کیسے ھم سے لشکر بنا کے لڑنے کا کہہ سکتے ھیں یہ آئینی اور قانونی بات ان کو بہت ناگوار گزری انہوں نے باقاعدہ منظم منصوبے کے تحت پاکستان کے قومی خزانے اور عوام کے ٹیل�� کے پیسے سے تنخواہ دار اور غلام سیاستدانوں، صحافیوں درباری صاحبان جبہ ودستاراور اور پیڈ چینلز کو مولانا صاحب کے خلاف میدان میں اتارا، کردار کشی کی گئی گالیاں دی گئیں دشنام طرازی کی گئی لیکن جمعیت علماء اسلام کے کارکنوں بالخصؤص ڈیجیٹل میڈیا کے ابابیل میدان میں آئے #لبیک_مولانا کا نعرہ لگایا میدان میں ڈٹ گئے اور دنیا کو بتادیا کہ ھم #مولانا_کے_سنگ کھڑے ھیں اور کھڑے رہیں گے انشاءاللہ، اور اپنے جذبہ ایمانی جرات اور ھمت سے ان تنخواہ داروں کو سر کے بل کھڑا کردیا۔
آپ کی اس ھمت جرات شجاعت کو دونوں ھاتھوں سے سلیوٹ اور خراج تحسین۔ ❤️♥️👏🫡🫡
#ابابیلوں_کا_شکریہ