سلمان ؓسے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ایک آدمی نے کہا:
*الحمدللہ کثیرا*
( اللہ کے لئے بہت زیادہ تعریفات ہوں ) فرشتے کو لکھنا بھاری محسوس ہوا تو اس نے اس بارے میں اپنے رب عزوجل سے رجوع کیا۔ تو اس سے کہا گیا: اسے اسی طرح لکھو جس طرح میرے بندے نے کہا: بہت زیادہ
سلسلة الصحيحة -٢٨٦٨ -صحیح
بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم
اِنَّاۤ اَرْسَلْنٰكَ بِالْحَقِّ بَشِیْرًا وَّ نَذِیْرًاۙ-وَّ لَا تُسْــٴَـلُ عَنْ اَصْحٰبِ الْجَحِیْمِ
اے حبیب!بیشک ہم نے تمہیں حق کےساتھ خوشخبری دینے والا اور ڈرکی خبریں دینے والا بنا کربھیجا اور آپ سے جہنمیوں کےبارے میں سوال نہیں کیاجائے گا
البقرہ 119
عالم از پرتو نور محمد است
ہرچہ میبینی ز آن نور است
یہ ساری کائنات حضور کے نور کا پرتو ہے
جو کچھ بھی نظر آتاہے وہ اسی نور جلوہ گر ہے
صلی اللہ علیہ والہ وصلم
۔۔۔
مولانا رومی
اور اپنے رَبّ کا صبح و شام ذکر کیا کرو، اپنے دِل میں بھی، عاجزی اور خوف کے (جذبات کے) ساتھ، اور زبان سے بھی، آواز بہت بلند کئے بغیر! اور اُن لوگوں میں شامل نہ ہوجانا جو غفلت میں پڑے ہوئے ہیں۔
﴿سورۃ الاعراف، ۲۰۵﴾
ابومسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس نے سورۃ البقرہ کی دو آخری آیتیں رات میں پڑھ لیں وہ اسے ہر آفت سے بچانے کے لیے کافی ہو جائیں گی۔
(صحیح بخاری ۵۰۰۹)