قرآن کی ایک سورت ایسی ہے جو تب آتی ہے جب آپ تھک کر ٹوٹنے لگتے ہیں۔ جب آپ کو محسوس ہوتا ہے کہ ذمہ داریوں، فکروں اور حالات کا وزن آپ کے سینے کو بھینچ رہا ہے۔ یہ سورت اُن لمحات کے لیے ہے جب انسان کو لگتا ہے کہ اب اس سے مزید ایک قدم بھی نہیں چلا جائے گا۔
وہ بوجھ جس نے کمر جھکا دی تھی
اللہ تعالیٰ اپنے محبوب ﷺ سے مخاطب ہو کر فرماتا ہے:
وَوَضَعْنَا عَنكَ وِزْرَكَ۔ الَّذِي أَنقَضَ ظَهْرَكَ
"اور ہم نے تم سے تمہارا وہ بوجھ اتار دیا، جس نے تمہاری کمر توڑ دی تھی۔"
سوچیے! کائنات کا خالق تسلیم کر رہا ہے کہ ہاں، بوجھ اتنا تھا کہ اس نے کمر جھکا دی تھی۔ اللہ آپ کی تکلیف سے بے خبر نہیں ہے۔ وہ جانتا ہے کہ جس آزمائش سے آپ گزر رہے ہیں، وہ کتنی بھاری ہے۔ وہ آپ کی ہمت کی داد دیتا ہے، آپ کو ملامت نہیں کرتا۔
سینے کی کشادگی کا وعدہ
اللہ نے حل کیا دیا؟ کوئی مادی خزانہ نہیں، بلکہ فرمایا:
أَلَمْ نَشْرَحْ لَكَ صَدْرَكَ
"کیا ہم نے آپ کا سینہ نہیں کھول دیا؟"
جب حالات نہیں بدلتے، تو اللہ "سینہ کھول" دیتا ہے۔ وہ آپ کے اندر اتنی وسعت اور اتنا حوصلہ پیدا کر دیتا ہے کہ وہی پہاڑ جیسا بوجھ آپ کو روئی کے گالے جیسا لگنے لگتا ہے۔ سکون باہر کے حالات سے نہیں، اندر کی کیفیت سے آتا ہے۔
تنگی کے ساتھ ہی آسانی ہے
پھر وہ آیت آتی ہے جو کائنات کا اٹل قانون ہے:
فَإِنَّ مَع�� الْعُسْرِ يُسْرًا۔ إِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًا
"پس یقیناً تنگی کے ساتھ آسانی ہے، بے شک تنگی کے ساتھ ہی آسانی ہے۔"
اللہ نے یہ نہیں کہا کہ تنگی کے بعد آسانی آئے گی، بلکہ فرمایا تنگی کے ساتھ ہے۔ یعنی جس وقت آپ تکلیف میں ہیں، اسی وقت اللہ نے آسانی کا بیج بھی بو دیا ہے۔ وہ آپ کے ساتھ ہی ہے، بس تھوڑا صبر اور تھوڑا سا یقین چاہیے۔
اب کیا کریں؟
جب سب کچھ بکھر رہا ہو، تو اللہ ایک راستہ دکھاتا ہے:
فَإِذَا فَرَغْتَ فَانصَبْ۔ وَإِلَىٰ رَبِّكَ فَارْغَب
"پس جب آپ فارغ ہوں تو عبادت میں محنت کریں، اور اپنے رب ہی کی طرف دل لگائیں۔"
لوگوں سے امیدیں لگانا چھوڑ دیں، دنیا کے فیصلوں کا انتظار کرنا چھوڑ دیں۔ اپنی کمر سیدھی کریں، مصلہ بچھائیں اور سارا حال اُسے سنا دیں۔ جس نے بوجھ کا احساس دلایا ہے، وہی اسے اتارنے کا ہنر بھی جانتا ہے۔
دعاؤں کی منتظر
ڈی آئی خان : جے یو آئی سربراہ مولانا فضل الرحمان کی گفتگو
افغانستان کی تاریخ میں پاکستان دوست عنصر امارت اسلامیہ کی صورت میں موجود ہے : مولانا فضل الرحمان
ملا عمر ؒ کے دور میں بھی جب انقلاب آیا تو پاکستان نے ان کو تسلیم کیا : جے یو آئی سرپراہ
مجھے امارت اسلامیہ کی جانب سے دعوت ملی کہ دونوں ممالک کے درمیان معاملات پر باہمی گفتگو ہو:مولانا فضل الرحمان
ہم نے دورے کے ایجنڈے پر ریاست کو اعتماد میں لیا : مولانا فضل الرحمان
ہمارے دورہ میں دو طرفہ تعلقات اور مختلف شعبہ جات میں باہمی مواقع پر گفتگو دوہ کا ایجنڈا تھا: مولانا فضل الرحمان
نائب وزیر اعظم ملا عبدالکبیر کے ساتھ پہلی ملاقات ہوئی، انہوں نے پاکستان کے لئے نیک خواہشات کا اظہار کیا : مولانا فضل الرحمان
وزیر اعظم سمیت تمام ذمہ داروں سے ملاقات میں دوطرفہ تعلقات کے حوالے سے مثبت ر��یے دیکھنے کو ملے : مولانا فضل الرحمان
انہوں نے کچھ واقعات کی جانب اشارہ بھی کیا جس سے تلخی پیدا ہوئی لیکن وہ ان مسائل کو حل کرنے کے لئے مثبتہ رویہ کے حامل تھے: جے یو آئی سربراہ
سب اہم بات یہ تھی کہ عسکریت پسندوں کی وجہ سے جو پاکستان کو نقصان ہوا ہے اس کا ہمیں ادراک ہے: مولانا فضل الرحمان
اس کے لئے باہمی اتفاق کے ساتھ طویل المدت اسٹریٹجی بناکر مسئلے کو حل کیا جا سکتا ہے : مولانا فضل الرحمان
ایران کو کارروائی سے پہلے پاکستان کو آگاہ کرنا چاہیے تھا، ایران کو کارروائی کے بجائے پاکستان سے مدد مانگنی چاہیے تھی، تاہم اب پاک ایران معاملے پر مثبت اقدامات کی ضرورت ہے۔ مولانا فضل الرحمان
کشیدگی کی ابتداء ایران نےکی ہے، ایران کے معاملے پر پاکستان کو بھی جوابی احتجاج ریکارڈ کرانا پڑا۔ مولانا فضل الرحمان
مغرب میں یہودی لابی اب بھی بانی پی ٹی آئی کو سپورٹ کر رہی ہے، مغرب کی نوکری کرو لیکن پاکستان کے مفادات تو نہ بیچو، جھوٹ بولتے ہیں کہ یہ پاکستان کےلیےکھڑا ہے، یہ پاکستان کے خلاف کھڑا ہے۔ مولانا فضل الرحمان
جے یو آئی سربراہ مولانا فضل الرحمان سے
افغانستان کے نائب وزیر اعظم مولوی عبدالکبیر کی کابینہ اراکین کے ہمراہ ملاقات۔
دونوں اسلامی ممالک میں مشترکات ہیں ۔مولانا فضل الرحمان
مسائل کو بات چیت کے ذریعے حل کیا جانا چاہیے۔مولانا فضل الرحمان
دونوں ملکوں کو مختلف شعبوں میں باہمی تعاون پر بات کرنی چاہیے ۔ مولانا فضل الرحمان
افغان مہاجرین کو ملک بدر کرنے کے فیصلے کی حمایت نہیں کی ۔مولانا فضل الرحمان
پاکستان اور افغانستان کے مفادات مشترک ہیں ۔مولانا فضل الرحمان
ہمارا مقصد موجودہ تعلقات کو دونوں ممالک کی مشترکات میں استعمال کرنا ہے۔مولانا فضل الرحمان
مولوی عبدالکبیر نے جے یو آئی سربراہ مولانا فضل الرحمن اور ان کے وفد کا کابل آمد کا خیرمقدم کیا ۔
انہوں نے امید ظاہر کی کہ ان کا دورہ کابل افغانستان اور پاکستان کے درمیان تعلقات کو مضبوط بنانے اور غلط فہمیوں کو دور کرنے میں کارگر ثابت ہوگا۔
مولوی عبدالکبیر نے افغان مہاجرین کے ساتھ حسن سلوک اور سوویت مخالف جہاد کے دوران افغانوں کی مدد پر پاکستان کا شکریہ ادا کیا ۔
مولانا فضل الرحمان اور ان کا وفد کو یقین دلاتے ہیں کہ وہ خطے میں امن و استحکام چاہتے ہیں ۔مولوی عبدالکبیر
کسی کو افغانستان کی سرزمین کسی کے خلاف استعمال کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔مولوی عبدالکبیر
امارت اسلامیہ تمام ہمسایہ ممالک بالخصوص اسلامی جمہوریہ پاکستان سے باہمی احترام کی بنیاد پر اچھے تعلقات چاہتی ہے۔ مولوی عبدالکبیر
امارت اسلامیہ یقین دلاتی ہے کہ افغانستان کی سرزمین سے کسی کو کوئی نہیں ہوگا ۔مولوی عبدالکبیر
میڈیا کے دعووں اور پروپیگنڈے کے بجائے حقائق پر بات کرنا بہتر ہے۔ مولوی عبدالکبیر
افغان مہ��جرین کو ضروری سہولیات فراہم کی جائیں۔مولوی عبدالکبیر
امارت اسلامیہ افغانستان کے وزیر خارجہ مولوی امیر خان متقی نے وفد کا خیرمقدم کیا ۔
وزیر خارجہ نے افغانستان کی اقتصادی، سیاسی اور سیکورٹی صورتحال بارے وفد کو بریفنگ دی۔
دوطرفہ اراکین وفد نے دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کی بحالی اور مسائل کے حل پر زور دیا۔
ملاقات میں مولانا عبدالواسع ، مولانا صلاح الدین ایوبی شریک تھے
ملاقات میں شیخ الحدیث مولانا محمد ادریس ، مولانا امداد اللہ، مولانا عطاء الحق درویش، مولانا جمال الدین ، مولانا عبدالرشید ، ڈاکٹر عتیق الرحمٰن شریک تھے
حافظ صاحب کچھ نظر کرم اس طرف بھی فرمائیں
👇👇
یہ ہے صحتمند دودھ۔
احتیاط کریں، دودھ خود اور صرف باڑھے سے لیں.
الله غارت کرے ان لوگوں کو جو کیمیکل لوگوں کو پلا رہے ہیں اور وصولی پوری پوری کر رہے ہیں
جو جماعتی ساتھی عرصہ دراز سے ٹوئیٹر استعمال کر رہے ہیں انکے فالورز ابھی تک 15.2K سے بھی کم ہیں وہ جلدی سے 💫ریٹویٹ 🔁 کر کے مجھے فالو کیجئے اور اپنے اکاؤنٹ کو مینشن کریں , تاکہ ان سب کو پروموٹ کیا جا سکے۔۔۔۔۔