یہ ہیں صدف طفیل اور ریٹائرڈ میجر طفیل احمد۔ یہ دونوں نوسرباز ٹھگ ہیں۔ یہ لوگوں کو سرکاری نوکری کا لالچ دے کر ان سے پیسے وصول کرتے ہیں اور اس کے بعد روپوش ہو جاتے ہیں۔
خاص طور پر لاہور اسلام آباد چکوال کے لوگ ان کا شکار ہیں۔ اس ٹوئیٹ کو وائرل کیجیے۔ سلسلہ جاری ہے۔
یہ ہیں صدف طفیل اور ریٹائرڈ میجر طفیل احمد۔ یہ دونوں نوسرباز ٹھگ ہیں۔ یہ لوگوں کو سرکاری نوکری کا لالچ دے کر ان سے پیسے وصول کرتے ہیں اور اس کے بعد روپوش ہو جاتے ہیں۔
خاص طور پر لاہور اسلام آباد چکوال کے لوگ ان کا شکار ہیں۔ اس ٹوئیٹ کو وائرل کیجیے۔ سلسلہ جاری ہے۔
یہ ہیں صدف طفیل اور ریٹائرڈ میجر طفیل احمد۔ یہ دونوں نوسرباز ٹھگ ہیں۔ یہ لوگوں کو سرکاری نوکری کا لالچ دے کر ان سے پیسے وصول کرتے ہیں اور اس کے بعد روپوش ہو جاتے ہیں۔
خاص طور پر لاہور اسلام آباد چکوال کے لوگ ان کا شکار ہیں۔ اس ٹوئیٹ کو وائرل کیجیے۔ سلسلہ جاری ہے۔
یہ لوگ کوئی مستقل ٹھکانا نہیں رہتے۔ یہ لوگ اپنا ٹھکانا بدلتے رہتے ہیں۔ یہ خود کو کسٹم ثیکس ایف آئی اے وغیرہ کے ڈائریکٹر بتا کر لوگوں سے پیسہ مارتے ہیں اور پھر ٹھکانا بدل لیتے ہیں۔
یہ خود کو سیاستدانوں کے دوست بتا کر ہیرا پھیری کرتے ہیں۔
@ShamaJunejo@g0dhrawala@Adnanyousafzaai کیرغیزستان میں بجلی 1.3 سوم پاکستانی روپے میں 4 رپے پر کلو واٹ فی گھنٹہ ہے کیرغیزستان اور پاکستان میں بجلی کی ترسیل کا معاہدہ ہوا جسے CASA1000 کہا جاتا ہے نالائق حکومت اسکو آج تک پورا نہیں کر سکی
شہباز حکومت کا ڈاکٹر عافیہ صدیقی کیلئے خود رہائی کی کوششیں کرنا تو دور کی بات،ڈاکٹر فوزیہ صدیقی کا اپنی بہن کیلئے جاری عدالتی کوششوں کو بھی شہباز شریف بند کرنا چاہتا ہے،
سپریم کورٹ آف پاکستان میں شہباز حکومت کا اسلام آباد ہائیکورٹ میں ڈاکٹرعافیہ رہائی کیس کی سماعت ختم کرنے کی دائر حکومتی رٹ پٹیشن شرمناک ہے،یہ فوری طور پر واپس لی جائے،اور قوم کی بیٹی کی رہائی کے لیے وفاقی حکومت ریاستی سطح پر کردار ادا کرے۔
حکمرانوں کی دور اندیشی کو سلام، وہ جانتے ہیں کہ اصل خوشی پیسے میں نہیں بلکہ کم وسائل میں گزارا کرنے کے فن میں ہے۔ اسی لئے حکومت تنخواہ دار طبقے کو اس فن میں طاق کرتی چلی جا رہی ہے۔