سابق لیجنڈری اسپنر مشتاق احمد نے محمد رضوان کی کردار سازی اور اخلاق کا ایک ایسا ایمان افروز واقعہ بیان کیا ہے جس نے سب کو دنگ کر دیا ہے۔ مشتاق احمد کا کہنا ہے کہ بنگلہ دیش کے خلاف ٹیسٹ سیریز کے دوران گراؤنڈ میں لٹن داس اور رضوان کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ ہوا، جس میں زیادہ غلطی بھی لٹن داس کی ہی تھی۔ لیکن رات ہوتے ہی رضوان خود چل کر لٹن داس کے ہوٹل کے کمرے میں معذرت کے لیے پہنچ گیا۔ جب میچ کے بعد مشتاق احمد نے پوچھا، تو رضوان کا جواب تھا: "لٹن غیر مسلم ہے، مجھے یہ ڈر ستانے لگا تھا کہ کہیں میری کسی تلخ بات کی وجہ سے اس کا دل اسلام سے بدظن نہ ہو جائے۔" جس انسان کا دل مخالف کھلاڑی کی ہدایت کی فکر سے لبریز ہو اور جو اپنے حق پر ہوتے ہوئے بھی عاجزی دکھائے، اس پر کسی غلط سرگرمی کا الزام لگانا سراسر ناانصافی ہے۔ ایسے سچے اور بے ضرر انسانوں کو گرانے والے خود گر جاتے ہیں، لیکن رضوان کی عاجزی اسے ہمیشہ سرخرو رکھتی ہے
#MushtaqAhmad
جب شیطان نے بندوں کو گمراہ کرنے کی قسم کھائی تو اللہ پاک نے تین قسمیں کھا کر کیا ارشاد فرمایا؟!
پیارے بندوں کے ساتھ رب کی اتنی محبت 🥹💚
مولانا عباد اللہ صاحب
محمد رضوان کے ہاں تین بیٹیوں کے بعد بیٹے کی پیدائش، نام محمد عمر رکھا
محمد رضوان کی بیٹے کے لیے خوبصورت خواہش سوشل میڈیا پر توجہ کا مرکز بن گئی
پاکستانی کرکٹر محمد رضوان سے منسوب ایک بیان سوشل میڈیا پر گردش کر رہا ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ تین بیٹیوں کے بعد بیٹے کی پیدائش پر انہوں نے اپنے بیٹے کا نام محمد عمر رکھا ہے۔ وائرل بیان کے مطابق محمد رضوان نے خواہش ظاہر کی کہ ان کا بیٹا بڑا ہو کر عالمِ دین بنے، دینِ اسلام کی خدمت کرے اور ایک نیک و صالح مسلمان کی حیثیت سے زندگی گزارے۔
بیان میں یہ بھی ذکر کیا گیا ہے کہ بیٹے کی پیدائش کے موقع پر مقامی علماء، قریبی عزیز و اقارب اور دوستوں نے تقریب میں شرکت کی۔
اولاد اللہ تعالیٰ کی عظیم نعمت ہے اور بیٹی ہو یا بیٹا، ہر اولاد والدین کے لیے اللہ کی طرف سے ایک خوبصورت عطیہ ہے۔ ہر والدین کی یہ خواہش قابلِ احترام ہے کہ ان کی اولاد نیک، صالح، باکردار اور دین و انسانیت کی خدمت کرنے والی بنے۔ اللہ تعالیٰ محمد رضوان کے بیٹے کو صحت، ایمان، نیکی اور علمِ دین سے نوازے اور اسے اپنے والدین کے لیے آنکھوں کی ٹھنڈک بنائے۔ آمین۔
ڈسکلیمر: محمد رضوان سے منسوب مذکورہ بیان اور تقریب سے متعلق تفصیلات سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی معلومات کی بنیاد پر بیان کی گئی ہیں۔ باضابطہ تصدیق سامنے آنے تک اسے حتمی خبر کے طور پر نہ لیا جائے۔
فرق ملاحظہ کریں !!!
ایک طرف جمعیت کی قیادت، سادگی سے زخمیوں کی عیادت اور عوام سے ملاقات ،
دوسری طرف گورنر کا پروٹوکول اور عام مریضوں کو وارڈ سے منتقل کرنے کی شکایات۔
عوامی نمائندگی کا اصل انداز کون سا ہونا چاہیے؟
الحمدللہ، فخر ہے اپنی قیادت پر 💯❤
اختلاف کریں، مگر اخلاق کا دامن نہ چھوڑیں
شکایت ہے تو جماعتی نظام کے ذریعے بات کریں، سوشل میڈیا کو بدتمیزی اور بدتہذیبی کا میدان نہ بنائیں۔
قائد جمعیت حضرت مولانا فضل الرحمٰن مدظلہ کا ڈیجیٹل میڈیا ورکرز کے نام اہم پیغام
قائد محترم کا یہ پیغام ہم میں سے ہر اُس شخص کے لیے ہے جو اپنی دانست میں سوشل میڈیا پر بدتہذیبی کے فروغ کو جماعت کی خدمت سمجھتا ہے۔
شائستگی ہمارا شعار ہے، یہ ہمیں ورثے میں ملی ہے۔
آئیے عہد کریں کہ تہذیب، شائستگی اور اخلاقی حدود کے اندر رہتے ہوئے مخالفین کو جواب دیں گے، دلیل کو اپنا ہتھیار بنائیں گے اور ہر ایسے معاملے کو سوشل میڈیا کی زینت بنانے سے گریز کریں گے جو ہماری جماعت، قیادت یا کارکنان کے لیے خفت کا باعث بن سکتا ہو۔
ہمیں یہ بھی طے کرنا ہوگا کہ ایسی ہر پوسٹ اور ایسے ہر طرزِ عمل کی حوصلہ شکنی کریں گے جو سوشل میڈیا کے فورم پر جماعت کی بدنامی کا باعث بنتا ہو۔
مخالفت بھی اخلاقی حدود اور دلیل کے دائرے میں ہی خوبصورت لگتی ہے۔
ہم اختلاف کریں گے، سوال بھی اٹھائیں گے، جواب بھی دیں گے؛ مگر تہذیب، شائستگی، دلیل اور جماعتی نظم و ضبط کی پاسداری کے ساتھ۔
ان شاء اللہ، ہماری زبان بھی ہماری جماعت کی ترجمانی کرے گی اور ہمارا سوشل میڈیا کردار بھی ہماری تربیت اور شائستگی کا آئینہ دار ہوگا۔
#سمیع_سواتی
#یوم_شہادت_مولانامحمدحنیف
اختلاف کریں مگر اخلاق کا دامن نہ چھوڑیں
شکایت ہے تو جماعتی نظام کے ذریعے بات کریں
سوشل میڈیا کو بدتمیزی کا میدان نہ بنائیں
مولانا فضل الرحمٰن کا ڈیجیٹل میڈیا ورکرز کے نام پیغام
🚨 RIZWAN FACING POTENTIAL LIFE BAN. 🚨
- Mohammad Rizwan could face severe action, potentially including a life ban, if he does not cooperate with the ongoing NCCIA investigation.
- He is currently barred from international, domestic and league cricket.
ایمبولینس پر بھی فائرنگ ہونے لگی،
ہسپتالوں اور انسانی جانوں کا بھی احترام نہیں
یہ کیسی جنگ ہے جس میں سب پس رہے ہیں؟
مرکزی ڈیجیٹل میڈیا ہیڈ انجینئر ضیاء الرحمٰن صاحب کی اہم گفتگو @ziaurrehman76
پی سی بی نے اپنے ہی ہیرو محمد رضوان پر پابندیوں کی ایسی جھڑی لگا دی ہے جو کسی کھلے ظلم سے کم نہیں۔ بغیر کسی ٹھوس ثبوت کے انہیں بین الاقوامی، ڈومیسٹک اور لیگ کرکٹ سے مکمل طور پر باہر کر دیا گیا ہے۔ وہ ملک سے باہر سفر نہیں کر سکتے، یہاں تک کہ عمرے کی سعادت، این سی اے میں پریکٹس اور میڈیا سے بات کرنے پر بھی پابندی عائد ہے۔ حالات اس قدر تنگ کر دیے گئے ہیں کہ 9 بڑی کمپنیوں نے بھی ان سے اپنے معاہدے ختم کر لیے ہیں۔ آخر ان کا جرم کیا ہے؟ صرف یہ کہ وہ پرچی سلیکشن اور جوئے کی کمپنیوں کی سپانسرشپ جیسے غلط کاموں پر ڈٹ کر سوال اٹھاتے ہیں۔
وہ چاپلوسی کے بجائے سچی اور کھری بات منہ پر کرنے کے عادی ہیں۔
ان کا سب سے بڑا "قصور" شاید یہ ہے کہ وہ کرکٹ کے ساتھ ساتھ ساتھی کھلاڑیوں کو دین کی دعوت دیتے ہیں، نماز کی تلقین کرتے ہیں اور انہیں کسی بھی غلط کام کا حصہ بننے سے روکتے ہیں۔ لیکن یاد رکھیں، جب کسی سچے اور عاجز انسان پر بغیر جرم کے اتنی سختیاں کی جائیں تو آسمان والا کبھی خاموش نہیں رہتا۔ ان شاء اللہ سازشوں کے یہ جال بہت جلد بے نقاب ہوں گے اور اللہ تعالیٰ رضوان کو اس کڑے امتحان میں ضرور سرخرو کرے گا۔