Digital Media convention
Mardan
17 September 2026 Time 2:00 PM
Al-Hamra Wedding Hall Jail Rod Mardan
Digital Media cell JUI Mardan
Chief Guest Engr Zia Ur Rehman ( Coordinator JUI Pakistan )
Chief Guest
Sadaaqat Khan ( Coordinator JUI KPK )
@Sadaqatkhan_95@ziaurrehman76
زبان قائد، مرجع خلق
گزشتہ ایک گھنٹے سے ٹوئٹر دیکھ رہا ہوں اور مسلسل اوپر نیچے کر رہا ہوں، لیکن ہر طرف مولانا فضل الرحمن صاحب کی آواز میں پڑھے گئے فیض احمد فیض کے اشعار ہی نظر آ رہے ہیں۔
اشعار اپنی جگہ کمال ہیں۔ فیض احمد فیض نے جس درد دل کو لفظوں میں ڈھالا ہے، وہ سونے کے پانی سے لکھنے کے قابل ہے۔ مگر ہمارے قائد نے جس انداز، لہجے اور کیفیت کے ساتھ انہیں پڑھا ہے، اس نے کلام کی تاثیر کو اور بڑھا دیا ہے۔
فیض صاحب نے جب یہ کلام لکھا تھا، تب بھی اس میں اپنی جگہ بڑی تاثیر تھی، لیکن اسے وہ پذیرائی نہیں ملی جو ہمارے قائد نے اپنے منفرد انداز میں پڑھ کر دلا دی۔ جو کلام ایک خاص حلقے تک محدود سمجھا جاتا تھا، آج پورے پاکستان میں چھوٹے سے لے کر بڑے تک ہر عمر کے لوگوں کی زبان پر گونج رہا ہے۔
قائد جمعیت کی آواز میں فیض کے الفاظ نے ایک نئی کیفیت پیدا کی ہے اور یہی کیفیت اب سوشل میڈیا پر نمایاں ہے۔ اپنے تو اپنے، غیر بھی اس پر بات کر رہے ہیں، ویڈیوز بنا رہے ہیں اور مولانا صاحب کو داد دے رہے ہیں۔ بعض متعصب اور لبرل مزاج صحافی تنقید بھی کر رہے ہیں، مگر ان کی تنقید بھی اسے مزید نمایاں کرنے کا سبب بن رہی ہے۔
اور یہی تو ہمارے قائد کی خاص بات ہے۔ مولانا فضل الرحمن صاحب کی زبان سے کوئی لفظ نکلے، کوئی بات ہو، کوئی شعر ہو یا کوئی کلام، وہ لوگوں کے لیے مرجع بن جاتا ہے۔ ان کی زبان سے نکلی ہوئی بات صرف بات نہیں رہتی، لوگوں کی توجہ حاصل کرتی ہے، زیر بحث آتی ہے اور دیکھتے ہی دیکھتے ٹرینڈ بن جاتی ہے۔
آج فیض کے یہ اشعار جس طرح عام لوگوں سے لے کر اہل قلم تک پہنچے ہیں، وہ اس بات کا ثبوت ہیں کہ ایک موثر آواز کسی خوبصورت کلام کو کتنی دور تک پہنچا سکتی ہے۔
یہ فیض کے الفاظ تھے، مگر آج ان کی گونج قائد جمعیت کی آواز کے ساتھ سنائی دے رہی ہے۔
#ابن_صدیق
#رہبر_ملت_مولانا
#ہم_فرعونیت_کے_منکر
#ملک_عوام_کا_ہے
#تنخواہ_دار_مالک
#بدامنی_کا_حساب_دو
#رہبرـــ ملت ـــ مولانا
#ہم ـــ فرعونیت ـــ کے ـــ منکر
#ملک ـــ عوام ـــ کا ـــ ہے
#تنخواہ ـــ دار ـــ مالک
#بدامنی ـــ کا ـــ حساب ـــ دو
قائد کا خطاب دلائل سے بھرپور
اگر ھمت ہے تو دلیل سے جواب دیں
مولانا کل بھی اینٹی اسٹبلشمنٹ تھے اور آج بھی اپنے کردار کے ساتھ کھڑے ہیں اس سے فرق نہیں پڑتا کہ کل ن لیگ اور پیپل پارٹی اچکزئ وغیرہ مولانا کے سائے میں کھڑے تھے اور آج پی ٹی آئ مولانا کے سائے میں کھڑی ہے ——— مولانا کل بھی اپنے اصول پر قائم تھے کل جو موقف تھا آج بھی وہی موقف ہے —— سو یہاں اگر قابل طنز و تنقید ہے تو سائیڈ بدلنے والے لوگ نہ کہ مولانا فضل الرحمن صاحب !
مولانا دانشمندی اور استقامت کا نام ہے
#جےیوآئی_ورکرزکنونشن_پشاور
ہم پاکستان کی مضبوط دفاعی قوت کے قائل ہیں، لیکن ہم سیاست میں ان کی مداخلت کو مسترد کرتے ہیں۔ اس سے ہمارا اتفاق نہیں ہے۔
ہمارے ملک میں جو قانون سازیاں ہوتی ہیں، ابھی تازہ قانون سازی ہوئی ہے، جس میں اس تیزی کے ساتھ قانون سازی کی گئی ہے کہ بعد میں جب ہم نے اس کا مطالعہ کیا تو وہاں بحث ہوئی نہ، میرے خیال میں حزبِ اختلاف کی جماعتوں نے بھی اس کو باریکی سے نہیں دیکھا۔ لیکن جو اس کی شکل سامنے آ رہی ہے، اس سے اندازہ لگ رہا ہے کہ یہ قانون سازی آئین کی بھی خلاف ہے، آئین سے متصادم ہے۔
یہ بھی کہا گیا ہے اس میں کہ یہ قانون، جس میں فوج کے اندر کے نئے انتظام اور ان کے اختیارات کا ذکر کیا گیا ہے، اس میں وزیراعظم کے انتظامی اختیارات، جو ان اداروں میں ہونے چاہئیں، چاہے بری فوج کے اندر ہو، چاہے فضائیہ کے اندر ہو، چاہے بحریہ کے اندر، وہ بھی وہاں ایک شخص کے اندر مرکوز کر دیے گئے۔
اور پھر یہ قانون تمام قوانین پر بالاتر ہوگا، یعنی اگر کسی قانون کا اس قانون سے تصادم ہوگا تو وہ غیر مؤثر ہو جائے گا۔ اب پہلے غیر مؤثر تو بناؤ نا! غیر مؤثر بھی نہیں بنایا، وہ اپنی جگہ پر موجود ہیں، وہ دفعات بھی موجود ہیں اپنی جگہ پر، اور نیا قانون لا کر کہہ دیا گیا ہے کہ اگر کوئی بھی دفعہ اور شق اس قانون سے متصادم ہوگی تو غیر مؤثر ہوگی۔ لیکن اب تک اس کی نہ نشاندہی کی گئی ہے، نہ اس کو غیر مؤثر کیا گیا، نہ اس پر ترمیم کی گئی۔
آپ بتائیں کہ یہ ایک قانونی تضاد ہے یا نہیں؟ اور یہ قانون سب پر بالاتر ہوگا۔ اب پتہ نہیں، یہ تو قانون دان جانے کہ کیا قانون کی دنیا میں اس طرح کی کوئی گنجائش ہے یا نہیں، لیکن میں آئین کے حوالے سے جانتا ہوں کہ جس زمانے میں پارلیمنٹ میں یہ بات آئی کہ قرآن و سنت سپریم لا ہونے چاہئیں اور بالاتر قانون ہونا چاہیے، قرآن و سنت کو، تو سپریم کورٹ کے چیف جسٹس جناب نسیم حسن شاہ مرحوم نے یہ فیصلہ دیا کہ نہیں، آئین کی تمام دفعات برابر ہیں اور کوئی ایک دفعہ بھی دوسرے دفعہ پر بالادست نہیں ہو سکتی۔
شریعت کے حوالے سے تو تمام دفعات آئین کے برابر ہیں، لیکن اسٹیبلشمنٹ اور مقتدرہ کو طاقت اور اختیارات کا ارتکاز، اور پھر تمام قوانین پر اس کی بالادستی، اس کے لیے قانون سازی ہو گئی۔
پاکستان اس لیے بنا تھا؟ آپ اپنے ادارے کے اندر انتظامی تبدیلیاں لائیں، اس سے ہمارا کوئی جھگڑا نہیں۔ آپ آرمی چیف بھی ہو، آپ چیف آف ڈیفنس فورسز بھی ہو، آپ فیلڈ مارشل بھی ہو، اس سے ہمارا کوئی سروکار نہیں۔ لیکن وہ اختیارات جو پارلیمنٹ کے ہونے چاہئیں، وہ مقتدرہ کے اندر ایک فرد کو دے دیے گئے ہیں۔
اب اس کا اختیار اپنی بری افواج پر بھی، فضائیہ پر بھی اور بحریہ پر بھی تسلط کر دیا گیا ہے، اور وہ تمام اختیارات رکھے گا؛ کسی کو برخاست کرنے کا، کسی کی ملازمت میں اضافہ کرنے کا، کسی کے استعفے کو منظور کرنا، نہ کرنا، تمام اختیارات اس کو دے دیے گئے ہیں، جبکہ یہ کنٹرول، یہ کمانڈ، یہ وفاقی حکومت کا ہوا کرتا تھا، اور وفاقی حکومت نے اپنے اختیار ان کے حوالے کر دیے ہیں۔
اور پھر آگے کہتے ہیں کہ اگر کسی قانون سازی کی ضرورت ہوگی تو وفاقی حکومت کرے گی۔ یعنی اس میں پارلیمنٹ کو بھی نکال دیا گیا ہے۔ تو قانون سازی اور اس حوالے سے آئین میں ترمیم اور تبدیلی اور اس قسم کی چیزیں، وہ بھی حکومت کے حوالے کر دی گئی ہیں، کیونکہ حکومت کو اپنے راستے پہ لانا اور بوٹ کے نیچے دبانا ان کے لیے شاید آسان ہے۔
ہم چیزوں پر اختلاف کر رہے ہیں، ہم اصولی اختلاف کر رہے ہیں۔ ہم کسی کو گالی تو نہیں دے رہے، کسی کے ساتھ جھگڑا تو نہیں ہے ہمارا۔ لیکن اگر ہم پارلیمنٹ کے اندر ہیں تو ہمیں پارلیمنٹ کے اندر تو اس پر میں مزید بھی کام کرنا چاہتا ہوں، اور اسی وجہ سے میں لیڈر آف اپوزیشن کے دفتر میں گیا اور میں نے ان کو سمجھایا کہ اگر ہم اس طرح بکھرے بکھرے نظر آئیں گے اور پارلیمنٹ کے اندر بھی ہماری کوئی مشترکہ حکمتِ عملی نہیں ہوگی تو پھر یہ سب کچھ ہوتا رہے گا۔
امیر جےیوآئی مولانا فضل الرحمان کا پشاور میں ورکرز کنونشن سے خطاب، 23 اگست 2026
ہمارا صوبہ ، حضرت، آپ لوگ اسلام آباد میں بیٹھے ہوئے ہیں۔ شاید آپ حضرات کو یہاں پر ادراک نہ ہو یا لاہور میں بیٹھے ہوئے لوگوں کو اتنا ادراک نہ ہو کہ دریائے سندھ کے مغربی کنارے پر اس وقت کوئی رِٹ نہیں ہے۔
لکی مروت ہو، بنوں ہو، ٹانک ہو، وہاں پولیس کا چین آف کمانڈ ٹوٹ چکا ہے۔ وہاں پولیس نے کمیٹیاں بنا دی ہیں۔ پولیس نے ناکہ بندیاں کی ہوئی ہیں، راستے روکے ہوئے ہیں۔
وہ نہ DPO کے آرڈر کو تسلیم کرتے ہیں، نہ DIG کے آرڈر کو تسلیم کرتے ہیں، نہ IG کے آرڈر کو تسلیم کرتے ہیں اور مکمل طور پر انہوں نے خود اپنا کمانڈ بنا لیا ہے۔ اور کمیٹی کا سربراہ جو کہتا ہے، اسی طرح ہوتا ہے۔
تو اس طریقے سے ابھی جو ہنگو میں واقعات ہوئے ہیں، پورا کمپاؤنڈ، جتنا بھی تھا پولیس کا، وہ طالبان نے گھیرے میں لے لیا۔ پھر انہوں نے علماء کرام سے درخواست کی کہ آپ سے کچھ ہو سکے تو آپ ان لوگوں سے بات کریں۔ پھر علاقے کے علماء کرام گئے وہاں پر اور انہوں نے ان سے بات کی اور ان سے کہا کہ ہم ان سپاہیوں، پولیس والوں کو آزاد کریں گے، لیکن ان کو اسلحہ چھوڑنا پڑے گا اور ہم اس کی ویڈیو بھی بنائیں گے۔
اور DPO نے کہا، ٹھیک ہے، ہمیں دونوں باتیں منظور ہیں۔ پھر اگلے روز پتا چلا کہ چھ بندے ابھی بھی ان کے پاس ہیں۔ پھر علماء کرام سے درخواست کی کہ اب ان کو بھی چھڑوائیں۔ پھر علماء کرام اس کے پیچھے گئے اور انہوں نے چھ بندوں کو چھوڑا۔ اس طرح چھوڑا کہ ایک ایک پولیس والے کو گلے بھی ملے اور دس دس ہزار روپے بھی دیتے رہے وہ۔ وہ دس دس ہزار روپے بھی دیتے رہے۔
یہ تو آپ کی پولیس کی حالت ہو گئی وہاں پر ۔ اس وقت کرم، اورکزئی کے علاقے، وہاں پر تو اب کچھ بھی نہیں رہا جی۔ تو یہ سارا پشتون علاقہ ہے اور اس پشتون علاقے میں اور خیبر پختونخوا میں تو بالکل ہی رِٹ ختم ہو چکی ہے۔
حضرت، آپ ہماری بات مانیں، یا تو یہ ہے کہ ہم عمداً اس کی اجازت دے رہے ہیں ، یا کوئی ڈیپ ایسی انڈر اسٹینڈنگ ہے کہیں جو پبلک کو نظر نہیں آ رہی ہے۔ اور یہ سارا کچھ کیوں ہو رہا ہے جی؟
بلوچ علاقوں میں، حضرت، آپ چلتن کو عبور کریں تو اس سے آگے چاغی تک ہو یا آپ مستونگ اور خضدار تک جائیں، آج صرف شہروں کو بچانے کے لیے میں آپ کو بتانا چاہتا ہوں، صرف شہروں کو بچانے کے لیے شہروں کے گرد کھدائی کی گئی ہے اور اس کے اندر فوج نے مورچے سنبھال لیے ہیں اور وہاں پر ایکوئپمنٹس لے جا رہے ہیں، تاکہ صرف شہر بچ سکے، ضلعی ہیڈکوارٹر بچ سکے، تحصیل ہیڈکوارٹر بچ سکے، باقی میدان، دیہات وغیرہ وہ ان کے حوالے ہیں۔
تو اس سنگینی کو آخر کیوں ایڈریس نہیں کیا جا رہا؟ اور اگر میں یہ بات کرتا ہوں تو مجھے کیوں مجرم کہا جا رہا ہے؟
صحافی چلے جائیں، عالمی انسانی حقوق کی تنظیمیں آ جائیں، باہر سے وہ چلے جائیں ان علاقوں میں، دودھ کا دودھ، پانی کا پانی ہو جائے گا۔
اس صورتِ حال میں جبکہ آپ کے گھر میں آگ لگی ہوئی ہے اور بھائی جو ہیں وہ آپس میں بیٹھ کر اس گھر میں، جس میں آگ لگی ہے، آؤ ذرا اس گھر کو کیسے تقسیم کریں۔ یہ کوئی معقول بات ہے؟
آپ نے آگ بجھانی ہے یا آپ نے گھروں کو تقسیم کرنا ہے؟ تو صوبے بنانے کے بعد بھی ایسی ہی صورتِ حال تقریباً ہے۔
امیر جےیوآئی مولانا فضل الرحمان کی پارلیمنٹ ہاوس میں صحافیوں سے گفتگو
اسلام آباد میں سفارتخانۂ افغانستان کے زیر اہتمام یوم فتح کی پانچویں سالگرہ کی تقریب۔
امیر جےیوآئی مولانا فضل الرحمان کی شرکت/ خطاب
نہایت قابلِ قدر جناب سردار احمد خان شکیب صاحب، سفیرِ امارتِ اسلامیہ افغانستان!
افغانستان کے فتحِ مبین کے پانچ سال مکمل ہونے پر اس تقریب کا اہتمام کیا گیا ہے۔ تمام شرکائے عظام کو دل کی گہرائیوں سے سلام پیش کرتا ہوں۔
محترم سفیر صاحب نے جس پُرخلوص انداز کے ساتھ افغانستان، اس کے ہمسایہ ممالک اور خطے کے ممالک کے ساتھ بہتر تعلقات کے جن جذبات کا اظہار کیا ہے، میں اس کی صدبصد تائید کرتا ہوں اور اپنی طرف سے، پاکستان کی طرف سے اور پاکستان کے عوام کی طرف سے اس خیرسگالی کا جواب دوہری خیرسگالی کے ساتھ پیش کرنا چاہتا ہوں۔
ہمارے تاریخی رشتے، مذہبی رشتے، ثقافتی رشتے اس بات کے متقاضی ہیں کہ ہم دو مضبوط اور پُرامن پڑوسیوں کی طرح اپنا مستقبل طے کریں، ایک نیا مستقبل، اور نئے مستقبل کی مستحکم بنیادیں تلاش کریں۔
مجھے یقین ہے کہ پاکستان افغانستان کا سہارا ہوگا اور افغانستان پاکستان کا سہارا ہوگا۔
آسیا یک پیکرِ آب و گل است
ملتِ افغان در آں پیکر دل است
از کشادِ او کشادِ آسیا
از فسادِ او فسادِ آسیا
علامہ اقبال نے افغانستان کی جغرافیائی حیثیت کا جو نقشہ کھینچا تھا، میں سمجھتا ہوں کہ قیامِ پاکستان کے بعد پاکستان بھی آج جغرافیائی اعتبار سے ایک پل کی حیثیت رکھتا ہے۔
مغرب و مشرق کو قریب کرنا، مشرقِ وسطیٰ ہو، وسطِ ایشیا ہو، مشرقی ایشیا ہو، جنوبِ ایشیا ہو، اس کے لیے آج جغرافیائی طور پر افغانستان اور پاکستان مل کر مشترکہ پل کا کردار ادا کر سکتے ہیں۔
لہٰذا دونوں مملکتوں کو، امارتِ اسلامیہ کو بھی اور اسلامی جمہوریۂ پاکستان کو بھی، اس حوالے سے خطے کی جو جغرافیائی اہمیت ہے، اس کا ادراک کرنا ہوگا اور اس ادراک کی اہمیت کو سمجھ کر ہمیں ایک مشترکہ مستقبل طے کرنا ہوگا، ایک مستقبل، ایک وحدت، اور میں سمجھتا ہوں کہ یہ پوری اسلامی دنیا کے لیے ایک رہنما قدم ہوگا جو ساری اسلامی دنیا کو ایک وحدت پر مجتمع کر سکے گا۔
ہم تو ہمیشہ سے اس بات کے خواہش مند رہے ہیں اور یہ نظریہ رکھتے ہیں کہ مسلمان امتِ واحدہ ہے۔ ہم ایک اسلامی بلاک کے قیام کے حامی ہیں اور اس جانب اگر پاکستان، سعودی عرب، ترکیہ اور ایران پیش رفت کرتے ہیں تو وقت کے ساتھ ساتھ دوسری اسلامی دنیا بھی اس میں شریک ہو سکتی ہے، اس کا ہم سفر بن سکتی ہے، اور وقت اس بات کا تقاضا کر رہا ہے کہ اب ہم عالمی قوتوں پر اپنا انحصار کم کر دیں، بلکہ اپنا انحصار ختم کر دیں اور اپنی قوت کو یکجا کر کے خود اپنے وجود پر انحصار کریں اور اللہ کی ذات کی طرف متوجہ ہو کر ایک امتِ واحدہ بن جائیں۔
آج کے اس اجتماع سے میرے خیال میں ہمارے ملک کے انتہائی اہم لوگ یہاں جمع ہیں اور یہ ہم سب کی آواز ہے، اور میں اپنے وطن کی طرف سے، اپنے ملک کے عوام کی طرف سے، یہاں کے مسلمانوں کی طرف سے افغانستان کے اپنے بھائیوں کو اس اسٹیج سے یہ پیغام دینا چاہتا ہوں، اللہ تعالیٰ ہمیں اس پر عمل درآمد کے لیے صلاحیت عطا فرمائے اور اس کے درمیان جو رکاوٹیں ہیں، ان تمام رکاوٹوں کو، جس طرح کہ جناب سفیر صاحب نے فرمایا، ہم مکالمے، تفاہم، بات چیت اور گفتگو کے ذریعے سے ان مشکلات کو بڑے سلیقے کے ساتھ ختم کر سکتے ہیں۔
اور میرے خیال میں ان مشکلات کو دور کرنے میں کوئی اختلاف موجود نہیں ہے۔ دونوں طرف سے یہ خواہش ہے کہ یہ مشکلات دور ہوں اور ہم ایک پڑوسی ملک ہی نہیں، بلکہ باقاعدہ پڑوسی اور برادر اسلامی ملک کی طرح ایک جان بن کر دنیا کے سامنے اپنا آپ پیش کر سکیں، تو ہمیں اس کا مصداق بن جانا چاہیے کہ دونوں طرف سے آگ برابر لگی ہوئی ہے۔
اللہ تعالیٰ توفیق عطا فرمائے۔
میں بہت شکر گزار ہوں، آپ نے مجھے کچھ گفتگو کرنے کا موقع دیا، جو کہ میں سمجھتا ہوں، مجھے کچھ علم نہیں تھا کہ مجھے کوئی بات بھی کرنی ہے، لیکن اس موقع پر جو اللہ تعالیٰ نے میرے دل میں ڈالا، گفتگو کی۔ میں سمجھتا ہوں کہ اللہ اس بات پر گواہ ہے کہ ہم افغانستان اور پاکستان کے درمیان یک جان ہونے کی خواہش رکھتے ہیں اور ان شاء اللہ ہم یک جان ہو کر ہی اپنا مستقبل متعین کریں گے۔
جمعیت علمائے اسلام محض ایک سیاسی جماعت نہیں بلکہ ملک میں ایک مؤثر عوامی و سیاسی تحریک ہے۔ قائد جمعیت نے واضح کیا کہ موجودہ حالات میں عوام کی آواز، آئین کی بالادستی اور جمہوری اصولوں کے تحفظ کے لیے سیاسی جدوجہد جاری رہے گی۔۔۔
قائد جمعیت حضرت مولانا فضل الرحمٰن صاحب کی کوئٹہ میں پریس کانفرنس۔
#MaulanaInQuetta #صوبےنہیں_امن_دو #عوامی_قوت_جمعیت #آئین_کےمحافظ_مولانا #نااہل_حکمران_مفلوج_نظام
ملکی حالات سے عوام کی توجہ ہٹانے کے لیے نئے شوشے چھوڑنے کے بجائے قومی مسائل پر سنجیدہ غور کیا جائے۔ ملک کو مزید تقسیم نہیں، قومی اتفاقِ رائے، امن اور ایک واضح سمت کی ضرورت ہے۔
قائد جمعیت مولانا فضل الرحمٰن صاحب کی کوئٹہ میں پریس کانفرنس
#MaulanaInQuetta#صوبےنہیں_امن_دو
#عوامی_قوت_جمعیت
#آئین_کےمحافظ_مولانا
#نااہل_حکمران_مفلوج_نظام