The difference between those who have everything and those with nothing in this world is heartbreaking 💔
Source: ferdychildrenfoundation1 on IG / Writer: Ian
@muneebfaruqpak@asmashirazi بھائی اپ تو بولیں گے، بلکہ آپ ہی تو بولیں گے
ایک ہی گروپ کی ہو ایک دوسرے کو سپورٹ کرتے ہو اور مل ملا کے حاکم وقت کو سپورٹ کرتے ہو،
@asmashirazi With due respect, Mam, does journalistic ethics mean standin with those in power? I’ve rarely seen you standin with the oppressd as u do with the ruling side,journalism shd question the powerful, not accommodate thm, principles should remain the same regardless of who rules.
@Waqarkhan یہی فرق کافی ہے مطیع اللہ جان اور عاصمہ صاحبہ کے بیچ،ایک ہر دور کے حاکم کے ساتھ کھڑا رہا،جبکہ دوسرا ہر دور میں طاقتوروں سے سوال کرتا رہا۔ مطیع اللہ کو مقبول بیانیے کا پیروکار کہنے سے پہلے یہ ضرور سوچیے کہ کون اپنے اصولوں کے ساتھ کھڑا ہے اور کون حاکم وقت کے ساتھ، صحافی یا درباری؟
@Waqarkhan متیع اللہ جان کی اصل پہچان یہی ہے کہ طاقتور کوئی بھی ہو، سوال کرنا نہیں چھوڑتے۔ صحافت مقبول بیانیے کا نام نہیں، اقتدار کے سامنے سچ بولنے کا نام ہے۔ عاصمہ شیرازی صاحبہ سمیت ہر صحافی کو ایک ہی معیار پر پرکھنا چاہیے: اصول یا مصلحت؟
متیع اللہ جان کی اصل پہچان یہی ہے کہ طاقتور کوئی بھی ہو، سوال کرنا نہیں چھوڑتے۔ صحافت مقبول بیانیے کا نام نہیں، اقتدار کے سامنے سچ بولنے کا نام ہے۔ عاصمہ شیرازی صاحبہ سمیت ہر صحافی کو ایک ہی معیار پر پرکھنا چاہیے: اصول یا مصلحت؟
#MatiullahJan@Matiullahjan919@asmashirazi
@asmashirazi میڈم وہ مقبول بیانیہ کی طرف ہیں، تو آپ ہر دور کہ حاکم کی طرف , اس حساب سے آپ کہ زیادہ امکانات ہیں کہ اپ کو نوازا جائے گا، مطیع اللہ جان کی ہر دور کہ حاکم سے نہیں بنتی اور اپ کی سب کے ساتھ بنتی ہے سوائے پی ٹی ائی کہ، یہی سچ کافی ہے یہ جاننے کے لیے کہ کون صحافت کرہا ہے اور کون۔۔؟
@fawadchaudhry سندھ میں جن کے نام ایک ایکڑ بھی نہیں تھا ان کے پاس بھی ابھی ہزاروں ایکڑ زمین ہے، صرف پچھلے 18 سال کا ریکارڈ چیک کر لیں جیالوں کا تو سمجھ ائے گی کہ اصل جاگیردار تو سندھ میں رہتے ہیں
@fawadchaudhry بس المیہ یہی ہے افسوس یہی ہے کہ اس جیسے پشت در پشت نا اہل لوگوں کو بھی ہمارے اوپر مسلط کیا گیا ہے پچھلی 18 سالوں سے، ایک فری ��ینڈ فیئر الیکشن کی م��ر ہیں ہے، بس ہمیں ریاست سے یہی شکوہ ہے باقی تو سب چھوڑو ایک شفاف الیکشن تک نہیں کروا سکتے
Horrifying footage appears to show police firing directly at PTI protesters, leaving civilians wounded. Why? Demanding the release of their elected political leader and standing by democracy.
Those responsible for ordering and carrying out this brutality must be held accountable. Relentless bloodshed and fearmongering from Asim Munir’s petrified regime. Scared people often lash out with the most cruel brutality, and that’s what we’re seeing here. A man terrified to lose power, and terrified of his own people’s will.
The world must watch and take action. We absolutely must take a united stand against tyranny and evil.
وہ کہتے ہیں ناں کہ ایک تصویر ایک ھزار الفاظ کے مضمون برابر ہوتی ہے۔ A picture is worth a thousand words
وزیر اعظم کا عہدہ تو پہلے ہی بے وقعت ہو چکا مگر اب صدرِ ممککت اور ایوان صدر کے عہدے کی اوقات یہ ہو گئی ہے کہ ایک شخص آستینیں چڑھا کر صدرِ مملکت اور سپریم کمانڈر آف آرمڈ فورسز کو اُسکے دستخطوں کی جگہ دکھا رہا ہے۔ ایوان صدر اور صدرِ مملکت کے آس پاس لوگوں کا کوئی ڈریس کوڈ یا یا ڈیکورم نہیں۔ کیا ہمارے وزیر داخلہ کسی دوسرے ملک کے سربراہ کے پاس ایسے آستینیں چڑھا کر جا سکتے ہیں؟ ویڈیو دیکھ کر یوں لگ رہا تھا کہ جیسے دستخط نہ ہونے کی صورت میں قانون کا دایاں لمبا ہاتھ حرکت میں آئے گا۔ شاید اسی لیئے مرکزی دھارے والے میڈیا کو وہ ویڈیو چلانے سے روکا بھی گیا تھا۔ اُس ویڈیو اور اس تصویر میں یہ لگ رہا تھا کہ زرداری صاحب کو ایڈوائس شھباز شریف نہیں محسن نقوی دے رہے ہیں۔ معلوم نہیں نقوی صاحب وزیر اعظم سے کون کون سی فائلوں پر ایسے ہی آست��نیں چڑھا کر اور پاس کھڑے ہو کر دستخط کراتے ہونگے ؟
مگر ایسا تب ہوتا ہے جب آصف زرداری جیسا سیاستدان خود کو صدرِ مملکت سے زیادہ پیپلز پارٹی کا چیئرمین سمجھتا ہے۔ کچھ دن پہلے وزیر داخلہ صاحب نے ن لیگ کے صدر شھباز شریف کی موجودگی میں بھی منتخب نمائندوں کی دفتروں میں عدم دستیابی کے بارے لیکچر دیا تھا جس پر وزیر اعظم شھباز شریف نے تالیاں بھی بجائی تھی۔
مجبوراً ہمیں یہ کرنا پڑا ۰۰۰۰ ویر داخلہ محسن نقوی
مجبوری؟
جی ہاں مجبوری تھی کہ ہم عمران خان سے ایک ملاقات نہیں کرا
سکتے تھے اور اس لئیے صوبے کے عوام کا مینڈیٹ چوری کرنا پڑا