جس طرح کی طِبی دہشت گردی عمران خان کے ساتھ کی گئی، اور اس پر جیسے ان کے ذاتی معالجین اور فیملی کے بغیر جو عسکری رپورٹس میڈیا پر چلائی گئیں اس سے مزید تشویش ناک صورت حال جنم لے رہی ہے۔ عمران خان اس وقت ریاست کی تحویل میں ہیں جہاں مسلسل اُن کی زندگی سے کھیلا جا رہا ہے۔ آخر کس چیز کو چھپایا جا رہا ہے؟
کنٹرولڈ چیک اپ، کنٹرولڈ انفارمیشن، کنٹرولڈ میڈیا ۔ جس سے زندگی کو خطرہ ہے، جن کی وجہ سے اس نہج پر پہنچے ان ہی کی بات پر یقین کیا جائے؟
اس سے قبل عمران خان پر وزیرآباد میں قاتلانہ حملہ کروایا گیا ان کو گولیاں لگیں، اللہ نے اُن کی زندگی کی حفاظت کی لیکن اس وقت بھی بیانیے بنائے گئے، لمحوں میں آئی ایس آئی نے میڈیا کو ویڈیو بیانات بھجوانا شروع کر دئیے۔
فوجی قیادت کے کہنے پر آئی ایس آئی نے ایک افغانی کو خان صاحب کو مارنے کا ٹاسک دیا، جب میں نے پریس کانفرنس میں اس سازش کا پردہ فاش کیا تو آئی ایس آئی اسلام آباد سیکٹر نے پریس کلب میں ایک افغانی کی پریس کانفرنس رکھوائی اور شام کو پرائم ٹائم ٹی وی پروگرام میں بیانیے کے لیے بھجوایا گیا۔ میں نے کسی کا نام نہیں لیا تھا، مگر یہ جانتے تھے کس کا ذکر ہورہا ہے۔
صوابی میں ہیلی کاپٹر گرانے کا پلان اکسپوز ہوا جس کے لیے ڈبل ایجنٹ ہائیر کیا گیا تھا، جو بعد میں مارا گیا۔ اس کے بعد ہیلی کاپٹر میں غلط فیول بھروایا گیا اور رپورٹ آج تک سامنے نہ آسکی۔ اٹھارہ مارچ کو ڈیتھ ٹریپ بچھایا گیا اور جب ناکام ہوا تو پولیس افسر کو گالیاں دی گئیں کہ عمران خان کیسے بچ کر نکل گیا۔اس کے علاوہ متعدد کوششیں ہوئیں۔
گزشتہ تین سال سے عمران خان جیل میں ہیں اور مسلسل ان کی صحت کے ساتھ مذاق کیا جا رہا ہے۔ عسکری خبریں چلوانے والا میڈیا یہ کیوں بُھول رہا ہے کہ آپ پاکستان کے سب سے عظیم بیٹے عمران خان کی زندگی سے کھیلنے میں حصہ دار بن رہے ہو؟ عمران خان کی صحت کے حوالے سے سوال اٹھانے کو سیاست کا نام کیسے دیا جا سکتا ہے؟ کیوں ان کے ڈاکٹرز سے ملاقات نہیں ہو رہی؟ کیوں ان کی فیملی سے ملاقات نہیں ہو رہی؟ کیوں انہیں ہسپتال نہیں منتقل کیا جا رہا؟
آخر ایسا کیا گیا ہے جس کو چھپایا جا رہا ہے؟
ہاں خان صاحب نے جب جیل میں عاصم لاء اور ذہنی مریض کا ذکر کیا تو عاصم منیر نے سب کے سامنے کہا کہ عاصم لاء ہے تو ہے، اب بتاتا ہوں عاصم لاء اور ذہنی مریض کیا ہوتا ہے۔
اسی غصے میں ڈی چوک میں خون ریزی کا اقبال جرم کرتے ہوئے یہ بھی کہا کہ بتایا تھا سنگجانی سے آگے مت بڑھو، کیا اکھاڑ لیا صرف ہم سے لوگ ہی مروائے نا۔ ”پھر کوشش کریں اسلام آباد آنے کی، اس دفعہ اٹک پل پر کھڑے ہوکر ماریں گے، ویسے بھی ڈی چوک میں مروا تو دئیے“۔
تو کیا اس غصے میں ہی کچھ ایسا کیا گیا ہے، جس کو چھپایا جا رہا ہے؟
We have been informed that my father, Imran Khan, has lost most of the vision in his right eye, with reports indicating only 15% eyesight remains. This is the direct consequence of 922 days of solitary confinement, medical neglect (denied blood tests) and the deliberate denial of proper treatment in jail.
The responsibility lies squarely with the regime in power, the Army Chief and the puppets enabling this cruelty. This physical deterioration is happening under their orders, their watch and their responsibility. They have manipulated and warped the justice system in order to keep my father in solitary confinement.
My brother and I are still being denied visas to see our father as his health deteriorates. History will record this injustice.
We urge human rights bodies, legal institutions and democratic nations to confront this persecution and ensure those responsible face consequences.
آرٹیکل کہتا ہے "it is over" تمہارا کھیل ختم ہو گیا ہے Boomers
یہ Boomers اس جنریشن کو کہتے ہیں جو لوگ 1947 سے 1964 تک پیدا ہوئے ، 1965 سے 1980 تک پیدا لوگوں کو جنریشن X کہتے ہیں 1981 سے 1996 تک پیدا لوگوں کو جنریشن Y کہتے ہیں اور 1997 سے 2013 تک پیدا لوگوں کو جنریشن Z کہتے ہیں اور 2014 سے آج تک پیدا ہونے والوں کو جنریشن Alpha کہتے ہیں جنریشن Y کی تعداد ساڑھے چار کروڑ جبکہ جنریشن Z کی تعداد ساڑھے 12 کروڑ ہے یہ دو جنریشن Y اور Z بہت خطرناک ہیں یہ پاکستان کی ابادی کا 50 فیصد سے زیادہ ہیں باقی جنریشن Alpha ملا کر 70 سے 80 فیصد لوگ بنتے ہیں یہ ہی پاکستان کے مستقبل کا فیصلہ کریں گے اور یہ سب عمران خان کے ووٹرز ہیں ۔
عمران ریاض خان
صرف 1 منٹ اور 57 سیکنڈ میں یہ نوجوان وہ سب کچھ خاک میں ملا دیتا ہے جو قمر باجوہ، عاصم منیر، نواز شریف، زرداری، شہباز شریف، مریم، بلاول، فضل الرحمان، پاکستان آرمی، آئی ایس آئی، ایم آئی، ایف آئی اے، رینجرز، ایف سی، جعلی عدلیہ، جعلی پارلیمنٹ، جعلی حکومت اور جعلی میڈیا نے عمران خان پر پھینکا تھا۔
وَتُعِزُّ مَن تَشَاءُ وَتُذِلُّ مَن تَشَاءُ۔
اور ہم باجوہ، منیر اور ان کے تمام ساتھیوں کو سزائے موت پاتے ہوئے دیکھیں گے۔
الحمدللہ۔ الٰہی آمین۔
@ImranKhanPTI@PTIofficial@Aleema_KhanPK@OfficialDGISPR
”جدوجہد عبادت ہے اور حقیقی آزادی کی جدوجہد کے لیے میں شہادت کے لیے بھی تیار ہوں!
اس وقت پاکستان صرف ”عاصم لأ“ پر چل رہا ہے۔ یہاں صرف لکھے لکھائے فیصلے پڑھ کر سنائے جا رہے ہیں۔ پچھلے تین سال کے بےبنیاد فیصلوں اور سزاؤں کی طرح توشہ خانہ 2 کا فیصلہ بھی میرے لیے کوئی نئی بات نہیں۔ یہ فیصلہ بھی جج نے بغیر کسی ثبوت اور قانونی تقاضے پورے کیے بغیر ہی جلدبازی میں سنا دیا- ہمیں یا ہمارے وکلأ تک کو نہیں سنا گیا-
مجھے اور میری اہلیہ کو مسلسل قید تنہائی میں رکھ کر ذہنی اذیت کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ ہماری کتابوں، ٹی وی اور ملاقات سب پر پابندی ہے۔ جیل میں ہر قیدی ٹی وی دیکھ سکتا ہے لیکن مجھ پر اور بشریٰ بی بی پر ٹی وی دیکھنے تک کی بھی پابندی لگا دی گئی ہے۔ میرے خاندان کی جانب سے جو کتابیں بھیجی جاتی ہیں وہ جیل حکام کی طرف سے روک لی جاتی ہیں۔ ہمیں کئی کئی ہفتے مسلسل قید تنہائی میں رکھا جاتا ہے، یہ غیر انسانی سلوک ہے لیکن یہ سب ظلم و بربریت مجھے میرے عزم سے پیچھے نہیں ہٹا سکتا۔
ہماری روایات نہیں کہ عورتوں اور بچوں پر ظلم کیا جائے۔ ہمارے دین میں تو دوران جنگ بھی خواتین کو بخش دیا جاتا ہے مگر یہاں محض سیاسی اختلاف پر خواتین پر ظلم ڈھائے جا رہے ہیں۔ میری بہنوں اور دیگر خواتین کے ساتھ اڈیالہ جیل کے باہر جو بدسلوکی اور ظلم ہو رہا ہے اس پر مجھے شدید دکھ اور افسوس ہے۔ یہ جو سلوک بشرٰی بی بی، ڈاکٹر یاسمین، ماہرنگ بلوچ اور دیگر خواتین کے ساتھ کیا جا رہا ہے، وہ اسلامی روایات اور اخلاقیات کے برعکس ہے۔ میری اہلیہ بشریٰ بی بی کو صرف مجھ سے بغض میں قید تنہائی میں ڈالا ہوا ہے حالانکہ ان کا تو سیاست سے کوئی تعلق بھی نہیں تھا۔ وہ ایک گھریلو خاتون ہیں۔
فوج میری ہے اور پاکستان قوم کی ہے- جب میں عاصم منیر پر تنقید کرتا ہوں تو وہ ایک شخص پر تنقید ہے، جیسے ماضی کے ڈکٹیٹرز پر بھی ہوتی آئی ہے۔ عاصم منیر نہ تو کسی عوامی ریفرنڈم کے تحت ملک پر بیٹھا ہے، نہ عوامی ووٹ کے ذریعے آیا ہے۔ جیل میں میرے ساتھ جو کچھ بھی ہو رہا ہے، ایک کرنل کے کہنے پر ہو رہا ہے جو عاصم منیر کے احکامات مانتا ہے۔
پاکستان میں قانون کی بالادستی کا جنازہ اٹھ چکا ہے۔ 2007 میں جیسے پی سی او ججز نے ڈکٹیٹر کا ساتھ دے کر عدلیہ کا تقدس پامال کیا ان کی کوئی عزت نہیں، اور جنھوں نے ڈکٹیٹر کے خلاف مزاحمت کی وہ قوم کے ہیرو تھے۔ ایسے ہی آج کل جو ججز اس نظام کے خلاف مزاحمت کر رہے ہیں وہ ہمارے ہیروز ہیں۔ جو جج کٹھ پتلی بن کر ان کے اشاروں پر ناچ رہے ہیں وہ بے ضمیر ہیں اور مشرف دور کے پی سی او ججز کے ہی برابر ہیں۔
قانون کی بالادستی اور آئین کی بحالی کی جدوجہد کے لیے انصاف لائرز فارم اور وکلأ کا فرنٹ فٹ پر آنا ناگزیر ہے۔ انصاف کا نظام ہی عوام کو تحفظ دے سکتا ہے۔ اس کے علاوہ نہ کوئی معاشی ترقی ممکن ہے نہ ہی اخلاقی۔
مجھے سلمان صفدر اور ان کی ٹیم پر اعتماد ہے اور میں نے انہیں ہدایت کی ہے کہ بوگس فیصلوں کے
خلاف اسلام آباد ہائی کورٹ میں اپیل کریں۔
سہیل آفریدی کو پیغام دیتا ہوں کہ سٹریٹ موومنٹ کی تیاری پکڑیں۔ پوری قوم کو اپنے حقوق کے لیے اٹھنا ہو گا-
جدوجہد عبادت ہے اور میں پاکستان کی حقیقی آزادی کی جدوجہد کے لیے شہادت کے لیے بھی تیار ہوں!“
ناحق قید میں سابق وزیراعظم پاکستان عمران خان کی اڈیالہ جیل میں ملٹری سٹائل ٹرائل کے فیصلے کے بعد اپنے وکلأ سے گفتگو (20 دسمبر، 2025)
Sky's lead world presenter @SkyYaldaHakim has spoken to Imran Khan's sons, who described the conditions of their father's prison in Pakistan.
The former prime minister has been in prison since his arrest in August 2023 on corruption charges.
🔗 https://t.co/IjfNNgiDDV
پریس کانفرنس شروع ہونے سے پہلے مشورہ دیا تھا کہ تھوڑے سے کپڑے پہن کر آئیے گا۔ یہ پریس کانفرنس ایک ۱۹ ویں گریڈ کے افسر کی کم اور محلے کے کسی اوباش نوجوان کی تھڑے پر بیٹھی لفاظی جھاڑنا زیادہ لگ رہی تھی۔ چند مفید مشورے اور گزارشات۔
#GetWellSoonDG#NationLovesImranKhan
رات اتر چکی ہے۔ میرے پسندیدہ شمال سے پہنچنے والی ٹھنڈک اڈیالہ جیل کے اس سیل کو یخ کیے ہوئے ہے۔ سترہ دن ہوگئے ہیں میری کوئی ملاقات نہیں آئی۔ گزشتہ دو سال سے یہ پابندیاں اور یہ سختیاں میری زندگی کا معمول ہیں۔ ان کامطمع نظر واضح ہے۔ میں جھک جاؤں۔ میں ڈر جاؤں۔ میں وہ ہوجاؤں جو میں ہوں ہی نہیں۔ میں وہ کیسے ہوجاؤں جو میرے خمیر میں ہی نہیں۔ مجھے ڈرا ہوا دیکھنا ان کا خواب رہ جائے گا۔
جب انسان تنہا ہوتا ہے تو سوچتا ہے۔ بہت سوچتا ہے۔ میں بھی سوچتا ہوں۔ ایسی خلوت مجھے اپنی تہتر سالہ زندگی میں پہلی دفعہ میسر آئی ہے۔ ہر طرح کے خیالات میرے دماغ میں لپکتے ہیں۔ وسوسے ، خدشے ، امیدیں سب۔ اگر کبھی مایوسی میرے خیالات کے دروازے پر دستک دے تو میں ہمیشہ خود سے پوچھتا ہوں آج جہاں کھڑے ہو اس کی بجائے تمہیں کہاں ہونا چاہیے تھا؟ میرا دماغ ، میری سوچ ، میرا ضمیر مجھے پلٹ کر جواب دیتا ہے میں جہاں ہوں مجھے یہیں ہونا تھا۔ کیونکہ میں اپنے نظریے اور اپنے اصولوں پر چٹان کی طرح کھڑا ہوں۔
جو پیامبر مجھے کسی کے حکم پر ملنے آتے ہیں وہ مجھے بتاتے ہیں کہ میری عمر بہت زیادہ ہوگئی ہے۔ میرے پاس وقت بہت کم بچا ہے۔ مجھے کوئی رستہ نکالنا چاہیے۔ پھر وہ مجھے نکلنے کے جتنے بھی دروازے بتاتے ہیں وہ میرے قد سے چھوٹے ہیں۔ ان سے باہر نکلنے کے لیے مجھے سر جھکا کر گزرنا ہوگا۔ میں اونچے دروازوں سے سر اٹھا کر نکلوں گا۔ میں کھڑکیوں سے نکلنے کا عادی نہیں ہوں۔ میں مر جاؤں گا یزید کی بیعت نہیں کروں گا۔
میرے لیے جو تکلیف کا باعث ہے وہ میرے لوگ ہیں۔ انکی حالت زار ہے۔ اس ملک کی معاشی بدحالی ہے۔ پینتالیس فیصد انتہائی غریب آبادی ہے۔ وہ لوگ جن سے ہیلتھ کارڈز چھن گئے۔ جن سے پناہ گاہیں اور لنگر خانے چھن گئے۔ جن سے احساس چھن گیا۔ جنکو گھروں سے بے گھر کیا جارہا ہے۔ جنکے دیہات میں فوجی آپریشن ہوتا ہے۔ جنکے روزگار کے مواقع محدود ہورہے ہیں۔ جنکی سانسیں بند کی جارہی ہیں۔ جنکو نہ انصاف میسر ہے نہ معاشرتی انصاف۔ میں اپنی زندگی کی اذیت ان لوگوں کی اذیتوں کے خاتمے کے لیے برداشت کررہا ہوں۔ میں اپنے لیے نہیں اپنے ملک کے لیے کھڑا ہوں۔
میں نے اس ملک کی اشرافیہ کو بھی بہت قریب سے دیکھا، میں نے اس ملک کے انتہائی غریب لوگوں سے بھی رابطے میں رہا۔ قدم قدم پر مکاریاں اور دھوکے میرے سامنے آئے بار بار میرے اعتماد اور میرے اعتبار کو ٹھیس پہنچی۔ میں نے ڈرے ہوئے لوگ بھی دیکھے۔ میں نے ڈٹے ہوئے لوگ بھی دیکھے۔ میں نے بدترین تنقید بھی سہی۔ مجھے خوشامد اور چاپلوسی کی بھی دور سے بو آجاتی ہے۔ مجھے جھکاتے جھکاتے وہ جو ذہنی مریض بن چکا ہے ایسا ڈرا ہوا اور بزدل شخص میں نے اپنی زندگی میں نہیں دیکھا۔
اگر جبر اور ظلم سے استحکام آنا ہوتا تو آچکا ہوتا۔ اگر ملکی ترقی آئینی ترامیم کی مرہون منت ہوتی تو پاکستان دنیا کا سب سے ترقی یافتہ ملک ہوتا۔ اگر تماشے کی کٹھ پتلیوں میں روح نہیں پھونکی جاسکتی تو کٹھ پتلی حکومتیں بھی معاشرے میں زندگی کی روح نہیں پھونک سکتیں۔ ہر گزرتا دن ان کی ناکامیوں پر مہر لگاتا جارہا ہے اور ہر گزرتی شب مجھے استقامت بخشتی جارہی ہے۔ میری ملاقات سترہ دن تو کیا ستر سال کے لیے بھی بند کردی جائی تو میں اپنے موقف سے ایک انچ بھی پیچھے نہیں ہٹوں گا۔
بذبان شاعر جناب حبیب جالب صاحب
دیپ جس کا محلات ہی میں جلے
چند لوگوں کی خوشیوں کو لے کر چلے
وہ جو سائے میں ہر مصلحت کے پلے
ایسے دستور کو صبح بے نور کو
میں نہیں مانتا میں نہیں جانتا
#ایسے_دستور_کو_میں_نہیں_مانتا#راستہ_ایک_آزادی_یا_موت
“The large turnout of the people at Charsadda, Khyber, and Karak Jalsas indicate an increasing public awareness and a shared commitment to protecting their rights. I extend my appreciation to all the organizers for successfully continuing the public outreach campaign in an exemplary manner.
Pakistan Tehreek-e-Insaf, in collaboration with the Tehreek Tahaffuz-e-Aaeen-e-Pakistan (Movement for the Protection of Pakistan’s Constitution), must now accelerate the struggle for true freedom.
The continued delay in issuing notifications for Mahmood Khan Achakzai and Allama Raja Nasir Abbas as Leaders of the Opposition is deeply concerning. I demand that they be immediately notified as Leaders of the Opposition in the Senate and the National Assembly, respectively.
Today once again, in defiance of Islamabad High Court orders, my lawyers, family, and the Chief Minister of Khyber Pakhtunkhwa were denied permission to meet me and were turned away. This is not only a blatant violation of fundamental human rights but also a clear contempt of court. The hearings of the unfounded cases against me are nearing conclusion, after which I will likely be placed in solitary confinement once again.
I direct all party workers and senior lawyers to immediately approach the superior judiciary and file petitions against this open contempt of court. Likewise, regarding the delaying tactics being used in the Al-Qadir Trust case, I instruct that legal action be taken, and a hearing date must be secured before leaving the court premises.
I direct Chief Minister Khyber Pakhtunkhwa Sohail Afridi to establish a compact, need-based cabinet. The selection of ministers is entirely his prerogative, as I have proposed no names.
To avoid any confusion or miscommunication, all instructions and correspondence concerning the party matters shall be conveyed solely through the Secretary General, Salman Akram Raja.
Lastly, I wish to make it clear that Ahmad Chattha and Bilal Ejaz are my long-standing and loyal companions. They have stood by me with unwavering loyalty and made tremendous sacrifices. I have not issued any orders for their removal.”
Former Prime Minister Imran Khan’s message from Adiala Jail, conveyed through his sister - October 28, 2025
بلآخر آج فوج کے ترجمان ڈی جی آئی ایس پی آر نے اقبال جرم کر لیا کہ پختونخواہ میں جان بوجھ کر دہشت گردوں کو جگہ دی گئی۔ اس اقبالی بیان کے بعد فوج کی موجودہ اور سابق قیادت بشمول پروپیگنڈا سیل آئی ایس پی آر کو ہمارے ہر شہری اور جوان کی شہادت کی وجہ بننے پر سخت سے سخت سزا دینی چاہئے۔
اکتوبر ۲۰۲۱ میں فوجی قیادت کی جانب سے بہت کوشش کی گئی کہ اپنے پیش کیے، مذاکرات کے نام پر آبادکاری کے منصوبے کی منظوری لی جائے اور نئی جنگ کی خواہش کا سارا ملبہ عمران خان پر ڈال دیا جائے لیکن ہم نے دلائل سے بات کی اور وزیراعظم نے آپ کا منصوبہ مسترد کردیا۔
رجیم چینج کے اگلے مہینے پی ڈی ایم کو اس منصوبے پر بریفنگ دی گئی، وینٹی لیٹرحکومت کی بحث کی مجال۔ حکومتی وزراء بشمول وزیر داخلہ نے باہر آ کر اس منصوبے کے حق میں ٹویٹس کیے، بیانات دیے اور عسکری سرپرستی میں افغانستان وفد بھیجا گیا۔
⁃وفد کی خبر ملتے ہی پانچ سوال کیے کہ ۸۰ شہدا کی قربانی دینے کے بعد پھر کیوں امن برباد کر رہے ہیں؟ کس مینڈیٹ کے تحت اس وفد کو بھیجا گیا کیا بات چیت ہو رہی ہے؟ وغیرہ۔
⁃اگست ۲۰۲۲ میں افغانستان سے ان کو لانے کا سلسلہ شروع ہوتا ہے میں آواز اٹھاتا ہوں، ڈی جے صاحب آپ کا ہی ادارہ فون کرکے کہتا ہے ”stay out of it“ جواب دیا کہ ۸۰ ہزار شہدا کے بعد اپنا امن تباہ نہیں ہونے دوں گا۔آج جس طرح انسانی جانوں پر آپ بیانیہ بنا رہے تھے بالکل اسی طرح آپ کے ادارے نے پریس ریلیز جاری کی کہ دہشت گردی کی واپسی کی خبر جھوٹ ہے، وزیر داخلہ نے بھی اس کو پروپیگنڈا قرار دیا۔
⁃میں نے عوامی تحریک چلائی، مجھے آپ ہی کے ادارے نے فون کیا کہ ۴۸ گھنٹے دیجئے واپس چلے جائیں گے اور حیران کن طور پر آپ کے زیر سایہ وہ سوات سے نکل گئے۔
⁃دیر کے پہاڑوں تک پہنچے تھے کہ میں نے پھر احتجاج کی کال دی پھر آئی ایس پی آر اور آئی ایس آئی کا فون آیا کہ سوات سے نکل تو گئے ہیں اب ملک کے ٹھیکدار تو نہ بنو۔لیکن میں امن کا ٹھیکدار بنا اور آخری بندہ نکالنے تک سڑکوں پر رہا۔ امن قائم ہوگیا میری زندگی عذاب بنا دی گئی، یہ بھی تفصیلاً بتا چکا ہوں۔
⁃پھر دوبارہ کوشش کی گئی اور اس دفعہ ساتھ ہی ان کو پھیلایا بھی جانے لگا، جیسے آج ہو رہا ہے۔ آئی ایس آئی، ایم آئی، آئی ایس پی آر اکٹھے مجھے ریاست دشمن قرار دیتے ہوئے کہہ رہے تھے کہ میں جھوٹ بول رہا ہوں۔
⁃طالبان غصہ آپ غصہ۔۔ وہ اس لیے غصہ کہ آپ نے ان کو لانے اور آباد کرنے کا وعدہ کر رکھا تھا۔ آپ اس لیے غصہ کہ ریاست تو ہم ہیں، ہم نے نئی جنگ کا فیصلہ کیا ہے تو یہ کون ہے راستے میں رکاوٹ بننے والا؟ منت کی جھولی پھیلا کر التجا کی کہ نہ کریں یہ، ہمارے اپنے لوگ اس کا ایندھن بنیں گے ہمارے جوان شہید ہوں گے لیکن ”آپ” نہیں مانے۔۔!
⁃پھر ہم نے پنڈی میں مظاہرے کی کال دی اور وہ دیکھتے ہی آپ نے ان کو گاڑیوں میں بٹھا کر واپس بھجوایا اور اس عزم کا اعادہ کیا کہ اس دفعہ لائیں گے لیکن پہلے آپ کو ٹھکانے لگائیں گے۔ اسی عزم کا اظہار آپ کے بھائیوں نے بھی کیا کہ برف پگھلے گی تو آئیں گے اور پہلے آپ کا بندوبست کریں گے۔ ۲۴ اپریل ۲۰۲۳ کو سوات سی سی ڈی تھانے پر حملہ کرنے والے اسی مقصد سے آئے تھے، میں نہیں ملا تو تھانے پر حملہ کردیا۔
⁃واضح تھا کہ اب جنوبی اضلاع سے ان کو لایا جائے گا لہذا میں نے وہاں امن تحریک کی کال دی اور اس کے اگلے ہی روز مجھے زندہ یا مردہ پکڑنے کا حکم صادر ہوا،تب تک ۹ مئی کا فالس فلیگ نہیں ہوا تھا تو آپ کو میں کس جرم میں مطلوب تھا؟
⁃نگران حکومت میں جنوبی اضلاع سے ان کو آباد کرنے کا سلسلہ شروع ہوا ان کو مقامی آبادی کے بیچوں بیچ لا کر بسایا گیا۔
⁃ابھی سیلاب کے دنوں میں جب قوم سیلاب سے نمٹنے میں مصروف تھی ان کو باجوڑ سے کاٹلنگ اور دیر سوات کے پہاڑوں پر پہنچانے کا بھی کام بخوبی نبھایا جا رہا تھا۔آئی ایس آئی مقامی انتظامیہ کو ان کے روٹس بتا کر اس رات اپنے دفتر یا پولیس اسٹیشن کی لائٹس بند کرکے نہ نکلنے کا حکم دیتی رہی۔
تفصیلات بہت ہیں کیا کیا بتاؤں آپ کی آج کی حواس باختہ گفتگو سے بیرونی طاقتوں سے کی گئیں کمٹمنٹس کا دباؤ اور طاقت کو طول دینے کے لیے ان کمیٹمنٹس کی جلد از جلد تکمیل کی جھنجھلاہٹ تو واضح ہے۔ پھر تم جنازوں پر جذباتی بیانیے بناو، جھوٹ بولو، مگرمچھ کے آنسو بہاؤ مگر یہ میری قوم تمہاری حوس کی بھینٹ چڑھتے چڑھتے تھک چکی ہے۔ یہ میرے لوگ تمہاری طاقت کو دوام دینے کے لیے بہت بلی چڑ چکے۔ میرے ہر پاکستانی شہری، ہر جوان کا خون تمہارے ہاتھوں پر ہے، مزید ہم غریبوں کے بچے تمہاری جنگوں کا ایندھن کیوں بنیں؟
جن قدموں سے لے کر آئے ہو، ان ہی پیروں واپس بھجوا دو۔ جیسے پھیلایا ہے ویسے سمیٹ بھی لو۔
بہت ہوگئی یہ اداکاریاں تمہاری ریاکاریاں!
ہمارے والد نے اس ملک کے لیے سب کچھ قربان کر دیا – اپنی راحت، سکون اور سلامتی چھوڑ کر پاکستان کے مستقبل کی خاطر جدوجہد کی۔
آج وہ خاموش کر دیے گئے ہیں، اذیت میں ہیں، قید میں ہیں اور ہم سے مکمل طور پر جدا کر دیے گئے ہیں۔ جب سے ہمیں شعور آیا، انہوں نے مجھے اور میرے بھائی کو سکھایا کہ کرپٹ حکومت کتنی تباہ کن ہو سکتی ہے۔ آج انہیں اسی جرم کا الزام دیا جانا ایک سفاک اور ناقابلِ برداشت ستم ظریفی ہے۔