Today marks one year to horrific state-sanctioned murder of our innocent supporter Zille Shah (Ali Bilal), who was brutally killed for exercising his right to peaceful protest.
Despite his autopsy showing brutal torture on 26 different parts of his body including his skull, lungs and his private parts, the case hasn’t been investigated, and the culprits remain at large— showing the plight of our justice system.
We, once again, demand a transparent probe into this horrific killing.
جن کو ہمارے الفاظ سے تکلیف ہوئی کیا اُن کو بشرٰہ بی بی پر عدت کیس بنانے پر بھی تکلیف ہوئی کیا علمیہ خان ، عظمہ خان، نورین خانم پر پانی پھکنا اور روڈ پر گھسیٹا پورے خاندان پر ظلم کرتے ہوئی بھی تکلیف ہوتی ہے
”جدوجہد عبادت ہے اور حقیقی آزادی کی جدوجہد کے لیے میں شہادت کے لیے بھی تیار ہوں!
اس وقت پاکستان صرف ”عاصم لأ“ پر چل رہا ہے۔ یہاں صرف لکھے لکھائے فیصلے پڑھ کر سنائے جا رہے ہیں۔ پچھلے تین سال کے بےبنیاد فیصلوں اور سزاؤں کی طرح توشہ خانہ 2 کا فیصلہ بھی میرے لیے کوئی نئی بات نہیں۔ یہ فیصلہ بھی جج نے بغیر کسی ثبوت اور قانونی تقاضے پورے کیے بغیر ہی جلدبازی میں سنا دیا- ہمیں یا ہمارے وکلأ تک کو نہیں سنا گیا-
مجھے اور میری اہلیہ کو مسلسل قید تنہائی میں رکھ کر ذہنی اذیت کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ ہماری کتابوں، ٹی وی اور ملاقات سب پر پابندی ہے۔ جیل میں ہر قیدی ٹی وی دیکھ سکتا ہے لیکن مجھ پر اور بشریٰ بی بی پر ٹی وی دیکھنے تک کی بھی پابندی لگا دی گئی ہے۔ میرے خاندان کی جانب سے جو کتابیں بھیجی جاتی ہیں وہ جیل حکام کی طرف سے روک لی جاتی ہیں۔ ہمیں کئی کئی ہفتے مسلسل قید تنہائی میں رکھا جاتا ہے، یہ غیر انسانی سلوک ہے لیکن یہ سب ظلم و بربریت مجھے میرے عزم سے پیچھے نہیں ہٹا سکتا۔
ہماری روایات نہیں کہ عورتوں اور بچوں پر ظلم کیا جائے۔ ہمارے دین میں تو دوران جنگ بھی خواتین کو بخش دیا جاتا ہے مگر یہاں محض سیاسی اختلاف پر خواتین پر ظلم ڈھائے جا رہے ہیں۔ میری بہنوں اور دیگر خواتین کے ساتھ اڈیالہ جیل کے باہر جو بدسلوکی اور ظلم ہو رہا ہے اس پر مجھے شدید دکھ اور افسوس ہے۔ یہ جو سلوک بشرٰی بی بی، ڈاکٹر یاسمین، ماہرنگ بلوچ اور دیگر خواتین کے ساتھ کیا جا رہا ہے، وہ اسلامی روایات اور اخلاقیات کے برعکس ہے۔ میری اہلیہ بشریٰ بی بی کو صرف مجھ سے بغض میں قید تنہائی میں ڈالا ہوا ہے حالانکہ ان کا تو سیاست سے کوئی تعلق بھی نہیں تھا۔ وہ ایک گھریلو خاتون ہیں۔
فوج میری ہے اور پاکستان قوم کی ہے- جب میں عاصم منیر پر تنقید کرتا ہوں تو وہ ایک شخص پر تنقید ہے، جیسے ماضی کے ڈکٹیٹرز پر بھی ہوتی آئی ہے۔ عاصم منیر نہ تو کسی عوامی ریفرنڈم کے تحت ملک پر بیٹھا ہے، نہ عوامی ووٹ کے ذریعے آیا ہے۔ جیل میں میرے ساتھ جو کچھ بھی ہو رہا ہے، ایک کرنل کے کہنے پر ہو رہا ہے جو عاصم منیر کے احکامات مانتا ہے۔
پاکستان میں قانون کی بالادستی کا جنازہ اٹھ چکا ہے۔ 2007 میں جیسے پی سی او ججز نے ڈکٹیٹر کا ساتھ دے کر عدلیہ کا تقدس پامال کیا ان کی کوئی عزت نہیں، اور جنھوں نے ڈکٹیٹر کے خلاف مزاحمت کی وہ قوم کے ہیرو تھے۔ ایسے ہی آج کل جو ججز اس نظام کے خلاف مزاحمت کر رہے ہیں وہ ہمارے ہیروز ہیں۔ جو جج کٹھ پتلی بن کر ان کے اشاروں پر ناچ رہے ہیں وہ بے ضمیر ہیں اور مشرف دور کے پی سی او ججز کے ہی برابر ہیں۔
قانون کی بالادستی اور آئین کی بحالی کی جدوجہد کے لیے انصاف لائرز فارم اور وکلأ کا فرنٹ فٹ پر آنا ناگزیر ہے۔ انصاف کا نظام ہی عوام کو تحفظ دے سکتا ہے۔ اس کے علاوہ نہ کوئی معاشی ترقی ممکن ہے نہ ہی اخلاقی۔
مجھے سلمان صفدر اور ان کی ٹیم پر اعتماد ہے اور میں نے انہیں ہدایت کی ہے کہ بوگس فیصلوں کے
خلاف اسلام آباد ہائی کورٹ میں اپیل کریں۔
سہیل آفریدی کو پیغام دیتا ہوں کہ سٹریٹ موومنٹ کی تیاری پکڑیں۔ پوری قوم کو اپنے حقوق کے لیے اٹھنا ہو گا-
جدوجہد عبادت ہے اور میں پاکستان کی حقیقی آزادی کی جدوجہد کے لیے شہادت کے لیے بھی تیار ہوں!“
ناحق قید میں سابق وزیراعظم پاکستان عمران خان کی اڈیالہ جیل میں ملٹری سٹائل ٹرائل کے فیصلے کے بعد اپنے وکلأ سے گفتگو (20 دسمبر، 2025)
🚨🚨🚨 بریکنگ نیوز
پاکستان اور پورے ایشیا کے سب سے بڑے وکیل بیرسٹر سلمان اکرم راجہ نے پاکستان بار کونسل الیکشن جیت لیا
یہ جیت تحریک انصاف اور عمران خان کی جیت ہے❤️
ڈکی بھائی کی دوران حراست بنائی گئی ویڈیو نے کئی سوالات کھڑے کر دیے
کیا تفتیش کے دوران ملزم کو صحافیوں یا یوٹیوبرز کے سامنے پیش کیا جا سکتا ہے ؟ رہنمائی درکار ہے
ن لیگ اپنی پوری سیاست میں ایسا ایک ورکر دکھا دے جو ان کے لیڈر یا نظریہ کے لیئے اس حد تک ڈٹ جائے ؛ اس سے پہلے زمان پارک کی شیلنگ میں بھی ایک ورکر ایسے ہی ڈٹا ہوا تھا.
حامد میر وہ کام کر گیا جو کوئی نا کر سکا 👏👏
حامد میر نے جیو ٹی وی پر نواز شریف کی وہ ویڈیوں چلا دی جس میں نواز نے انڈین چینل کو ارمی کیخلاف بیان دیا تھا ۔
کیا نوازشریف سیکورٹی رسک نہیں ہے؟؟
کیا ملک کی بدنامی نہیں ہوئی؟
جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس اطہر منہلہ کا استعفی کا فیصلہ دلیرانہ اور خوش آئند ہے۔ ایسے دور میں جہاں ضمیروں کے سودے عام ہوں ، آزادی کے بجائے غلامی کے طوق فخر سے پہنے جائیں ، وہاں اِن جج صاحبان کا آئین اور اصولوں کی خاطر عہدوں اور مراعات کو ٹھکرانا تازہ ہوا کا جھونکا ہے۔
ایسے دستور کو صبح بے نور کو
میں نہیں مانتا میں نہیں جانتا
ایک ایک بندے کا پتہ ہے کتنے ووٹ لیے ہیں، اللہ کا نام لے کر تقریر شروع کرتے ہیں، جب 1400 کو ایک لاکھ 40 ہزار لکھا جا رہا تھا تب اللہ یاد نہیں آیا؟ جس کے جتنے کم ووٹ ہیں اتنے زور سے چھاتی پر ہاتھ مارتا ہے کہ ہمارا مینڈیٹ۔ اسامہ غیاث میلہ