وادی کالام کی مہوڈھنڈ جھیل پر یہ میرا سیٹ اپ ہے۔ بنیادی سہولیات سے آراستہ اور صاف ستھرے ماحول کے ساتھ برفباری انجوائے کرنے کے لیے بہترین جگہ ہے۔ میں اس کی مارکیٹنگ کے ایکسپرٹ ہائر کرنے کی طاقت نہیں رکھتا۔ خود ہی مارکیٹنگ اور منیجمنٹ کرلیتا ہوں۔ کیا آپ میری مدد کرسکتے ہیں؟
یہ وڈیو خان صاحب نے ہمیں ایک گروپ میں بھیجی اس نوٹ کے ساتھ: "ایک اچھا سبق ہماری قوم کے لئے"
آپ سب نے یہ apply کیا ہے، اب اپنے ان دوستوں کو بھیجیں جو ابھی تک ناانصافی کے خلاف نہیں بول رہے، کافی ضروری ہے اس پر آواز اٹھانا۔
#خان_کی_طاقت_عوام
Translation credits: @Rohmasoofi
گئے وقتوں میں اخروٹ کے درخت کی لکڑی سے منبر بنائے جاتے تھے کیوں کہ اس کی لکڑی مضبوط اور پائیدار ہوتی ہے۔ اس پھل دار درخت کا سایہ بھی کافی گھنا ہوتا ہے ۔
دوسری طرف چنار کا درخت ہے جس سے پرانے زمانے میں دار (پھانسی گھاٹ) بنائے جاتے تھے۔ اس درخت پہ کوئی پھل نہیں لگتا اور نہ ہی خاصوں میں اس کا شمار ہوتا ہے ۔
ایران کے مشہور ترک نژاد شاعر شہریارؔ نے ان دو درختوں کی آپسی بحث کو کیا ہی خوب شعری صنف میں ڈھالا ہے:
گفت با طعنه منبری به چنار:
سرفرازی چی میکنی؟ بی بار
منبر نے طعنہ بھرے لہجے میں چنار کے درخت سے کہا:
اے بے پھل کے درخت! کس زعم میں اپنی گردن اکڑائے کھڑے ہو؟
نه مگر ننگی ھر درختی تُو؟
کز شما ساختند چوبی دار؟
تمھیں نہیں لگتا کہ درختوں کی برادری میں تم باعث ننگ و بد نامی ہو ؟
کہ تم سے صرف پھانسی گھاٹ ہی بنائے جاتے ہیں.
پس بر آشفت آن درختِ دلیر
رُو به منبر چنین نمود اخطار گفت
اس دلیر درخت کو بہت غصہ آیا، اس نے منبر کی جانب اپنا رخ موڑ کے کہا،
گر منبرِ تُو فائدہ داشت
کارِ مردم نه می کشید به دار
اگر تمہارے منبر اتنے ہی فائدہ مند ہوتے تو لوگوں کو پھانسی سے جھولنے کی نوبت ہی نہ آتی.
حکایات دل نشین فارسی
سوز رومی