��نوبی پنجاب کو سیلاب کے مستقل خطرات سے محفوظ بنانے کے لیے جلال پور پیروالا، نوراجہ بھٹہ اور چندربھان فلڈ بند کلیدی حفاظتی منصوبوں پر ہنگامی بنیادوں پر کام جاری ہے۔ ماضی کے تلخ تجربات اور سیلاب کی تاریخ کو مدنظر رکھتے ہوئے روایتی اقدامات کے بجائے اب پیشگی اور پائیدار حکمتِ عملی اپنائی جا رہی ہے۔ اس سلسلے میں دریاؤں کے حفاظتی پشتوں کو مزید مضبوط کرنے، حساس ترین دیہی و شہری علاقوں کی قبل از وقت ناکہ بندی کرنے اور اہم ترین انفراسٹرکچر کو مستحکم بنانے پر پوری توجہ مرکوز ہے۔
بنیادی مقصد یہ ہے کہ کسی بھی ناگہانی صورتحال میں قیمتی انسانی جانوں، مقامی آبادیوں کے گھروں�� وسیع زرعی اراضی اور عوام کے روزگار کو ہر ممکن تحفظ فراہم کیا جا سکے۔ ماضی کی خامیوں کو دور کر کے جدید خطوط پر کی جانے والی یہ تیاریاں پنجاب کو موسمیاتی تبدیلیوں اور قدرتی آفات کے سامنے پہلے سے کہیں زیادہ مضبوط، محفوظ اور بااختیار بنائیں گی۔انشاءاللہ
مولانا صاحب، تنخواہ تو آپ بھی عوام کے ٹیکس سے لیتے ہیں۔قوم کو بتائیے،اس کے بدلے آپ نے کیا خدمت انجام دی؟جان قربان کرنا تو بہت دور کی بات۔
وطن کےشہداء پر قوم اشکبار ہے۔ یہ بیان نہ صرف غیرذمہ دارانہ بلکہ ان کے اہلِ خانہ کےزخموں پر نمک چھڑکنے کے مترادف ہے!
مولانا فضل الرحمان ایک کہنہ مشق سیاست دان اور ممتاز مذہبی رہنما ہیں، اس لیے ان سے الفاظ کے انتخاب میں زیادہ ذمہ داری کی توقع کی جاتی ہے۔ فوجی جوانوں کی وطن کے لیے قربانی کو ان کی تنخواہ سے جوڑنا نہ صرف غیرمنصفانہ ہے بلکہ شہداء اور ان کے خاندانوں کی دل آزاری کے مترادف ہے۔ کوئی شخص محض تنخواہ کے لیے اپنی جان نہیں دیتا۔ جان کی قربانی کے پیچھے کسی نظریے، عقیدے، فرض اور وطن سے گہری وابستگی ہوتی ہے۔ آپ حالات و واقعات یا طریقہ کار سے اختلاف کر سکتے ہیں، مگر اس نظریے، وابستگ��، محبت اور قربانی کی توہین نہیں کر سکتے۔
ایسے وقت میں، جب دہشت گردی کے خلاف جنگ جاری ہے اور ماؤں کے جوان بیٹے (بشمول افواج پاکستان، دیگر قانون نافذ کرنے والے ادارے اور سب سے بڑھ کر ہمارے سویلینز) روز قومی پرچم میں لپٹ کر واپس آ رہے ہیں، ان کی قربانی کو تنخواہ کا نتیجہ قرار دینا سیاسی تنقید نہیں بلکہ اخلاقی بے حسی ہے۔ مولانا صاحب نے صرف ایک ادارے کو نہیں، ہزاروں شہداء، زخمیوں، بیواؤں، یتیم بچوں اور سوگوار والدین کے جذبات کو مجروح کیا ہے۔
فی دوکاندار نے 60000 روپے دیے ہیں اپنی جیب سے لوگوں نے بنایا ہے کیونکہ ادھر میری بھی شاپ ہے مینے بھی 60000 روپے دیے ہیں جو نہی دیتا تھا دوکان سیل کر دیتی تھی انتظامیہ اور پبلکسٹی مریم نواز اپنی کر رہی
مجھے ان ممبر قومی اسمبلی کا نام نہیں پتہ لیکن اس نے زبردست بات ٹیلیکام قانون پاس ہونے کے بعد پہلا موبائل فون ٹاور وزیر موصوفہ سزا فاطمہ خواجہ وزیر اعظم خواجہ آصف اور باقی تمام ممبران قومی اسمبلی اور سینٹ انکے گھر کی چھت پر لگنے چاہئیں
پھر انہیں اس قانون کی سمجھ آۓ گی
راتب خور ، خرام خور ، درباریوں کے منہ پر وزیر قانون نے مکمل کالک مل دی ہے وزیر قانون نے تسلیم کیا ہے کہ ٹیلی کام بل کی کچھ شقوں میں مسلہ موجود تھا
اب آپ سوچیں یہ سرکاری دسترخوان سے ہڈیاں چننے والے عوام کے حق پر کیسے ڈاکہ مروا رہے تھے
رنگے ہاتھوں پکڑے گے ہیں دیکھ لیجئے اپنی ایک بوٹی کے لیے یہ دوسروں کی پوری گائے کٹوا دیتے ہیں
"موبائل بیلنس سے ناجائز/خفیہ کٹوتیوں پر ٹیلی کام کمپنیوں پر 2 کروڑفی صارف جرمانہ ہوگا" ۔۔۔. یہ بل بھی پاس کروایاجا��ے."
---
مجھے @miandawoodadv صاحب سےبہت سی باتوں پر اختلاف ہے،لیکن اس بل کی بات کرکےانہوں نےہم سب کےجذبات کی ترجمانی کی ہے.
آپ یہ کلپ سنیں.
��ئل سستا ہونے سے کمپنیوں کو 104 ارب
کا نقصان کمپنیوں نے وزیرِ پیٹرولیم کو خط لکھ کر یہ سب تو بتا دیا
مگر یہ نہیں بتایا پیٹرول مہنگا کر کے ہم نے کمائی کتنی کی
دوغلے منافقو۔۔۔۔؟؟
یہ سلمٰی بٹ ہے
پنجاب اسمبلی کی خیراتی سیٹ والی MPA.
اسکو آلو ٹماٹر پیاز اور سبزیوں کے زیادہ ریٹس سے الرجی ہے۔
لیکن میڈم سلمٰی LPG کو لے کر نابینا ہے۔ اس کو 308 روپے کلو والی ایل پی جی 500 روپے کلو فروخت ہوتی بلکل بھی نظر نہیں آتی۔😎
@pakistanipeeeps
احتساب سے بچنے کے لئے:
حکومت DISCO کی نجکاری کے لیے 18-20% گارنٹی شدہ منافع اور جان بوجھ کر غیر ملکی خریداروں کو لا رہی ہے - کارکردگی کے لیے نہیں، بلکہ معاہدوں کو بین الاقوامی ثالثی کی شقوں میں لپیٹنے کے لیے تاکہ پاکستانی عوام انہیں کبھی چیلنج نہ کر سکے۔
سادیہ خالد صاحبہ نے ٹیلی کام قانون بارے جو پوسٹ کی قانون بارے اردو میں تفصیل لکھی یہ اس ٹویٹ کا حصہ ہے میں نے جو ریڈ ہائی لائٹ کیا ہے یہ حصہ پڑھیں کہ اگر آپ تیس دن تک جواب نہی دیتے تو اسے آپ کی ہاں سمجھتے اسے معاہدہ سمجھا جائے گا اگر آپ اعتراض کریں گے یا انکار کریں گے تو معاملہ حکومت کے پاس جائے گا یہاں وہ پانچ کروڈ جرمانے والی شق بھی ایکٹو ہو جائے گی
اس سے آپ خود فیصلہ کریں کہ قانون کیا ہے اور عام بندے کے لئے بیٹھے بیٹھے کیا عذاب لا سکتا ہے آپ کے انکار کو انکار تسلیم نہی کیا جائے گا
آپ سوچیں متعلقہ سیکٹری کانٹریکٹ پر ہے اور مشرف کے ایک قریبی ساتھی جرنیل کا بیٹا بھی وہی جرنیل جنہوں نے نواز شریف کو نکال کر مارشل لا لگایا تھا
ہم جیسوں کی ایک ٹویٹ بھی لڑ جاتی جبکہ جنہوں نے ان کو رگڑے لگائے وہ آج بھی شریک اقتدار ہیں
متنازع ٹیلی کام بل کس نے تیار کیا، ٹیلی کام کمپنیوں کے سابق ملازم نے جسے موجودہ حکومت نے سیکٹری وزارت آئی ٹی وی ٹیلی کام تعینات کیا
؟
ٹیلی کام کمپنیوں کو سابق وفاقی وزیر آئی ٹی وی ٹیلی کام اور موجودہ مشیر وزیر اعلیٰ پنجاب انوشہ رحمن اور ان کے خاوند کیا فوائد پہنچانے، نادرا کے متوازی پاکستانی قوم کا ڈیٹا بنانے میں کیا مدد کی، انکی تحقیقات ھونی چاہیئے، این سی سی آئی اے کی تفتیش کو قوم کے سامنے پیش کیا جانا چاہئے۔
کیا ٹیلی کام کمپنیوں کا حکومت میں اتنا اثر و رسوخ ہے کہ انہوں نے اپنے ایک ملازم کو وفاقی سیکرٹری لگوا لیا؟
موجودہ حکومت کے کئی وزیر باقاعدہ جھوٹی خبر دیتے پکڑے گے ہیں پنجاب کے وی آئی پی جہاز بارے جھوٹ بولا گیا وہ جو داتا دربار پر ماں بیٹی مری اس پر باقاعدہ ثابت شدہ جھوٹی معلومات دی گئی کیا ان پر پیکا لگا ؟ یا پی��ا میں لکھا کہ حکومت والوں پر نہی لگے گا ؟
میری مسلم لیگ ن کی وفاقی اور پنجاب کی فرح گوگیوں اور گوگوں سے مئودبانہ درخواست ہے کہ اپنی سوشل میڈیا ٹیم میں کم از کم MA پاس افراد بھرتی کریں اور ان کی تنخواہیں بھی اب 25 ہزار سے بڑھا دیں۔۔۔ اگر یہ نہیں کر سکتے تو کم از کم اپنی سوشل میڈیا ٹیم کے میٹرک اور ایف پاس ملازمین کا نالج اپ ڈیٹ کرائیں، ریفریشر کورس کرائیں کیونکہ ان بیچاروں کو بنیادی بات ہی نہیں پتہ کہ پنجاب میں اٹارنی جنرل کا عہدہ ہوتا ہی نہیں ہے۔۔ بیچارے گزشتہ چار پانچ ماہ سے غلط پوسٹیں ہی کری جا رہے ہیں میرے بارے۔۔۔
اچھا نہیں لگتا کہ آپ نامعلوم اکائونٹس چلانے والوں پر سرکاری خزانہ بھی لٹائیں اور انہیں آتا جاتا بھی کچھ نہ ہو۔۔۔۔
😂😂😂😂😂😂
اخلاقی طور پر ان تمام صحافیوں اور سوشل میڈیا ایکٹیوسٹس کو فرنٹ فٹ پر آ کر اعلان کرنا چاہیئے کہ وہ ٹیلی کام کمپنیوں کو اسی متنازع PTA بل کی دفعات کے تناظر میں اپنی جائیداد کرایہ پر دینے کیلئے تیار ہیں تاکہ بل کے حق میں انکی نیک نیتی حقیقی طور پر ثابت ہو سکے۔
آئو نہ ذرا سامنے
😂😂😂😂😂😂😂
کسی نے بل پڑھنے کی زحمت تک نہیں کی، پھر ہم انہیں تنخواہیں کیوں دیتے ہیں؟؟
ائی ٹی کمیٹی جس نے سب سے پہلے ب منظور کیا، پھر 340 نیشنل اسمبلی ممبران سے پاس ہوا۔ بل کے تحت ٹیلی کمپنیاں کہیں بھی اپنا ٹاور زبردستی لگا سکتی ہیں اور انکار پر مالک کو پانچ کروڑ جرمانہ ہوگا۔