اللہ پہ توکل اور بھروسے کی عظیم الشان دعا
حَسْبِيَ اللَّهُ لَا إِلَٰهَ إِلَّا هُوَ ۖ عَلَيْهِ تَوَكَّلْتُ ۖ وَهُوَ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ
میرے لئے اللہ کافی ہےاُس کے سوا کوئی معبود نہیں اُسی پر میں نے بھروسہ کیا ہے، اور وہی عرشِ عظیم کا مالک ہے
سورۃ التوبۃ ۔ ۱۲۹
#اردو_زبان
شان سادات
سلطان محمود غزنوی نے اک بار دربار لگایا . دربار میں ہزاروں افراد شریک تھے جن میں اولیاء قطب اور ابدال بھی تھے سلطان محمود نے سب کو مخاطب کر کے کہا کوئ شخص مجھے حضرت خضر علیہ السلام کی زیارت کرا سکتا ہے..
سب خاموش رہے دربار میں بیٹھا اک غریب دیہاتی کھڑا ہوا اور کہا میں زیارت کرا سکتا ہوں .سلطان نے شرائط پوچھی تو عرض کرنے لگا 6 ماہ دریا کے کنارے چلا کاٹنا ہو گا لیکن میں اک غریب آدمی ہوں میرے گھر کا خرچا آپ کو اٹھانا ہو گا ........
سلطان نے شرط منظور کر لی اس شخص کو چلا کے لیے بھج دیا گیا اور گھر کا خرچا بادشاہ کے ذمے ہو گیا.....
6 ماہ گزرنے کے بعد سلطان نے اس شخص کو دربار میں حاضر کیا اور پوچھا تو دیہاتی کہنے لگا حضور کچھ وظائف الٹے ہو گئے لہٰذا 6 ماہ امزید لگیں گے ....
مزید 6 ماہ گزرنے کے بعد سلطان محمود نے پھر دربار کیا اور دربار میں ہزاروں افراد شریک تھے......... اس شخص کو کو دربار میں حاضر کیا گیا اور بادشاہ نے پوچھا میرے کام کا کیا ہوا....
یہ بات سن کے دیہاتی کہنے لگا بادشاہ سلامت کہاں میں گنہگار اور کہاں خضر علیہ السلام میں نے آپ سے جھوٹ بولا .... میرے گھر کا خرچا پورا نہیں ہو رہا تھا بچے بھوک مر رہے تھے اس لیے ایسا کرنے پر مجبور ہوا.....
سلطان محمود غزنوی نے اپنے اک وزیر کو کھڑا کیا اور پوچھا اس شخص کی سزا کیا ہے . وزیر نے کہا سر اس شخص نے بادشاہ کے ساتھ جھوٹ بولا لہٰذا اس کا گلا کاٹ دیا جائے . دربار میں اک نورانی چہرے والے بزرگ تشریف فرما تھے کہنے لگے بادشاہ سلامت اس وزیر نے بالکل ٹھیک کہا .....
بادشاہ نے دوسرے وزیر سے پوچھا آپ بتاو اس نے کہا سر اس شخص نے بادشاہ کے ساتھ فراڈ کیا ہے اس کا گلا نا کاٹو بلکہ اسے کتوں کے آگے ڈالا جائے تاکہ یہ زلیل ہو کہ مرے اسے مرنے میں کچھ وقت تو لگے دربار میں بیٹھے اسی نورانی چہرے والے بزرگ نے کہا بادشاہ صاحب یہ وزیر بالکل ٹھیک کہہ رہا ہے ..........
سلطان محمود غزنوی نے اگلے وزیر ایاز محمود سے پوچھا آپ کیا کہتے ہو ایاز نے کہا سر آپ کی بادشاہی سے اک سال اک غریب کے بچے پلتے رہے آپ کے خزانے میں کوئ کمی نہیں آی .اور نہ ہی اس کے جھوٹ سے آپ کی شان میں کوئ فرق پڑا اگر میری بات مانو اسے معاف کر دو ........اگر اسے قتل کر دیا تو اس کے بچے بھوک مر جائیں گے .....ایاز کی یہ بات سن کر محفل میں بیٹھا وہی نورانی چہرے والا بابا کہنے لگا .... ایاز بالکل ٹھیک کہہ رہا ہے ......
سلطان محمود غزنوی نے اس بابا کو بلایا اور پوچھا آپ نے ہر وزیر کے فیصلے کو درست کہا اس کی وجہ مجھے سمجھائ جائے...
بابا کہنے لگا بادشاہ سلامت پہلے نمبر پر جس وزیر نے کہا اس کا گلا کاٹا جائے وہ قوم کا قصائ ہے اور قصائ کا کام ہے گلے کاٹنا اس نے اپنا خاندانی رنگ دکھایا غلطی اس کی نہیں آپ کی ہے کے آپ نے اک قصائ کو وزیر بنا لیا........
دوسرا جس نے کہا اسے کتوں کے آگے ڈالا جائے اُس وزیر کا والد بادشاہوں کے کتے نہلاتا ہے کتوں سے شکار کھیلتا ہے اس کا کام ہی کتوں کا شکار ہے تو اس نے اپنے خاندان کا تعارف کرایا آپ کی غلطی یے کہہ ایسے شخص کو وزارت دی جہاں ایسے لوگ وزیر ہوں وہاں لوگوں نے بھوک تو مرنا ہے ..
اور تیسرا ایاز نے جو فیصلہ کیا تو سلطان محمود سنو ایاز سیّد زادہ ہے سیّد کی شان یہ ہے کہ سیّد اپنا سارا خاندان کربلا میں ذبح کرا دیتا یے مگر بدلا لینے کا کبھی نہیں سوچتا .....سلطان محمود اپنی کرسی سے کھڑا ہو جاتا اور ایاز کو مخاطب کر کہ کہتا ہے ایاز تم نے آج تک مجھے کیوں نہیں بتایا کہ تم سیّد ہو......
ایاز کہتا ہے آج تک کسی کو اس بات کا علم نہ تھا کہ ایاز سیّد ہے لیکن آج بابا جی نے میرا راز کھولا آج میں بھی راز کھول دیتا ہوں سنو اے بادشاہ سلامت اور درباریو یہ بابا کوئ عام ہستی نہیں یہی حضرت خضر علیہ السلام ہیں.....
بیدم یہی پانچ تو ہیں مقصودِ کائنات
زھراؑ,حسینؓ,حسنؓ,مصطفٰیﷺ و علیؓ
﷽
قل هو ﷲ أحدﷲ الصمدلم يلد ولم يولدولم يكن له كفوا أحد .
﷽
قل أعوذ برب الفلقمن شر ما خلقومن شر غاسق إذا وقبومن شر النفاثات في العقدومن شر حاسد إذا حسد .
﷽
قل أعوذ برب الناسملك الناس إله الناسمن شر الوسواس الخناس الذي يوسوس في صدور الناسمن الجنة والناس .
لا حول و لا قوة الا بالله*_
اللہ کے سوا کوئی طاقت اور قوت نہیں
یہ الفاظ صرف ایک دعا نہیں بلکہ ایک
عقیدہ ہیں ایک عمل اور ایک شعور کہ آپ کی
ہر حالت ہر تبدیلی ہر قوت اور ہر عمل کا اصل ماخذ اللہ ہے
*یہ کب پڑھیں؟*
• جب آپ کو لگے یہ کام میرے بس سے باہر ہے
• جب آپ تعریف سے غرور میں پڑنے لگیں
• جب آپ خود کو تنہا محسوس کریں
• جب ذمہ داریاں بڑھ جائیں اور وقت کم لگے
• جب دل تھک جائے اور ہمت ختم ہونے لگے
• جب آپ بدلنا چاہیں مگر وسائل نہ ہوں
• جب بری عادتیں چھوڑ کر نیک بننے کا ارادہ کریں
• جب کام شروع کرنے سے پہلے ڈر محسوس ہو
• جب لوگ آپ سے بہتر لگیں اور موازنہ دل دکھائے
• جب آپ سوچیں میں کچھ نہیں کر سکتا/سکتی
• جب آپ social anxiety محسوس کریں
• جب رات کو کروٹ لیں
• جب مؤذن (حی علی الصلاۃ اور حی علی الفلاح) کہے
• نماز کے بعد اذکار میں
اسی وقت زبان سے نکالیے
*لا حول و لا قوة الا بالله*
اور اللہ پر توکل کیجیے
*مفہوم*
• *حول* کا مطلب ہے: ایک حال سے دوسرے حال میں تبدیلی
• *قوة* کا مطلب ہے: عمل، ارادہ، ہمت، طاقت
یعنی: نہ آپ کسی حال سے دوسرے حال میں خود جا سکتے ہیں نہ کسی عمل میں قوت رکھتے ہیں یہ سب کچھ صرف اللہ کی توفیق سے ہوتا ہے
اسی لیے جب نیکی کی طرف بڑھیں کہیے یہ میری نہیں اللہ کی توفیق تھی جب برائی سے بچیں کہیے یہ میرے ارادے سے نہیں اللہ کی مدد سے تھا
روزمرہ لمحوں میں ذکر کا موقع بنائیں
• جب کوئی نیا کام شروع کریں
• جب دل کہے یہ میرے بس کا نہیں
• جب سستی، خوف، یا الجھن آئے
• انتظار کے لمحوں میں: لفٹ، گاڑی، قطار، کھانے کا انتظار
• فارغ وقت میں، بطور ورد
ایک تسبیح روزانہ پڑھیں:
(لا حول و لا قوة الا بالله)
*فوائد اور فضائل*
• جنت کے خزانوں میں سے ایک خزانہ ہے (مسند احمد)
• سوشل اینگزائٹی، پریشانی خوف اور تھکن کا علاج ہے
• توکل اور تواضع پیدا کرتا ہے
• بڑے فیصلے، چیلنجز، اور خطرناک مواقع پر دل کو مضبوط کرتا ہے (ابن قیم: بادشاہوں کے دربار میں جانے جیسی صورتحال میں حیران کن اثر ہے)
• عقیدۂ توحید اور اللہ پر مکمل انحصار سکھاتا ہے
• نیکی کی طرف رغبت اور غرور سے بچاتا ہے
*یہ دعا آپ کو سکھاتی ہے:*
• عاجزی
• توکل
• نیکی کی طلب
• شکر اور صبر
• کامیابی پر اعتدال
اے اللہ! نیک تبدیلی کی توفیق دے کامیابی پر عاجزی
ناکامی پر صبر اور ہر حال میں اپنا ذکر نصیب فرما أمین
اور ہم نے لقمان کو دانائی عطا کی تھی، (اور اُن سے کہا تھا) کہ اللہ کا شکر کرتے رہو۔ اور جو کوئی اللہ کا شکر اَدا کرتا ہے، وہ خود اپنے فائدے کے لئے شکر کرتا ہے، اور اگر کوئی ناشکری کرے تو اللہ بڑا بے نیاز ہے، بذاتِ خود قابلِ تعریف۔
﴿سورۃ لقمان ، ۱۲﴾
قالَ النبی ﷺ:
"میری ساری امت جنت میں داخل ہوگی سوائے اُن کے جنہوں نے انکار کیا."
صحابہ نے پوچھا: یا رسول الله! انکار کون کرے گا؟ آپﷺ نے فرمایا: "جس نے میری اطاعت کی وہ جنت میں داخل ہوگا، اور جس نے میری نافرمانی کی تو بیشک اُس نے انکار کیا."
بخاری 7280
(مشکوٰۃ 143)
سیدنا ابو سعید خدریؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺنے ہمیں عصر کے بعد غروب آفتاب کے قریب تک خطبہ ارشاد فرمایا، اور جب سورج غروب ہونے کے قریب پہنچا تو فرمایا:
گزری ہوئی مدتِ دنیا اور باقی مدت دنیا کی مثال ایسے ہی ہے جیسے گزرے ہوئے دن کے مقابلہ میں دن کاباقی حصہ۔
(مسند احمد، ۱۱۰۸۶)